Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عورتوں پر احسان عظیم ( محمد طاہر تنولی )

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عورتوں پر احسان عظیم

 محمد طاہر تنولی  (شمارہ 686)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت اُن تما م لوگوں کے لیے تھی جو حفاظت و اِعانت کے محتاج تھے۔

ان میں سر فہرست خواتین تھیں۔ عورت اپنی طبعی نزاکت، جسمانی ساخت اور حیاتیاتی وظیفہ کے باعث ہمیشہ ظلم اور زیادتی کا شکار رہی ہے۔ جاہلی معاشروں میں نہ صرف اس کے حقوق پامال کیے گئے بلکہ اسے ظالمانہ ہوس کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ عرب معاشرہ میں کوئی استثناء نہ تھا، ان کے ہاں بیوی، باندی، اور بیٹی کی حیثیت سے عورت کا جو مرتبہ تھا، وہ کوئی مخفی امر نہیں ہے۔ عربوں کے ہاں غیرت کا تصور عورت کی حفاظت کے حوالے سے تھا تو لوٹ مار اور جنگ وجدل کی صورت میں عورت ہی نشانہ بنتی تھی۔ خود ساختہ ضابطوں کے باعث عورت پابندیوں میں جکڑی ہوئی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے طرز عمل اور تعلیمات سے نہ صرف اس کی حفاظت کی بلکہ اس کا مرتبہ بھی بلند کیا۔

ماؤں کے احترام اور بیٹیوں سے شفقت کے حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی دستوری اہمیت کا حامل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ عُقُوْقَ الْاُمَّھَاتِ وَمَنْعَ وَھَاتِ وَوَاْدَالْبَنَاتِ

اللہ تعالیٰ نے یقیناً تم پر ماؤں کی نافرمانی، ان سے مطلوبہ چیزوں سے انکار،  بے جامطالبہ اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا حرام ٹھہرایا ۔

اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچیوں سے شفقت کے سلسلے میں فرمایا:

جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی حتیٰ کے وہ بالغ ہوگئیں وہ اور میں قیامت کے روز اس طرح آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو مِلادیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے حقوق کے بارے میں واضح ہدایات فرمائیں۔ عورتوں پر معاشی ومعاشرتی نا انصافیوں کی روک تھام کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی جنگ میں مقتولہ عورت کی خبر ملی تو سخت ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔

ایک روایت میںہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقتولہ عورت کی خبر پر فرمایا:

 مَاکَانَتْ ھَذِہٖ لِتُقَا تِلْ

یہ تو لڑنے کے لیے نہیں تھی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سپہ سالار خالد بن ولید  ؓ کو کہلابھیجا:

’’لاَیَقْتُلَنَّ اِمْرَأۃً وَلاَعَسِیْفًا‘‘

عورت اور اجیر کو ہر گز قتل نہ کرو۔ (انسان کاملؐ  ص ۶۱۵)

اسلام نے عوتوںکوکتنی ترقی دی؟ کیسا بلند مقام عطاکیا؟ قرآن کریم کی لاتعداد آیتوں اور بے شمار احادیث سے اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اسلام نے پوری دنیا کے سامنے حقوق نسواںکاایسا حسین تصور پیش کیا اور عورتوں کے تئیں وہ نظریات اپنائے کہ اپنے تو اپنے غیر بھی اس مثبت ومساوی نظام عمل پر عش عش کراٹھے اور یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ اسلام ہی دراصل حقوق نسواں کا علم بردار اور عدل ومساوات کاحقیقی ضامن ہے۔

 اسلام نے ہی عورت کو تمام معاشی، معاشرتی اور اخلاقی حقوق دیئے جن کا تصور قبل از اسلام ماورائے عقل تھا۔ اسلام نے طبقہ نسواں کو وہ حقوق عطا کئے جو اس سے پہلے اس طبقہ کو پوری انسانی تاریخ میں نصیب نہیں ہوئے تھے۔ عورت کو جو تکریم اور عزت اسلام نے دی وہ مغربی معاشرے اور دوسرے مذاہب اسے کبھی نہ دے سکے ۔

اسلام سراسر عدل وانصاف کا اور خیر و رحمت کا مذہب ہے اور اسلام فطری مذہب ہے وہ حقوق کا ضامن ہے، اسلام نے جو عورت کو مقام دیا ہے وہ دنیا کے کسی مذہب نے نہیں دیا ہے لیکن ہر چیز کے لیے اللہ تعالی نے جو ضابطہ ونظام رکھا ہے اگر اس ضابطہ ونظام سے اس چیز کو ہٹا دیا جائے تو اس فائدہ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس میں شر ہی شر ہو گا فتنہ وفساد ہوگا ۔اللہ رب العزت نے پانچ انگلیاں برابر اور ایک جیسی نہیں بنائیں اگر کوئی مساوات کا دعوے دار کہے کہ یہ سرا سر نا انصافی ہے ہم سب کو برابر کریں گے بھلا بتاؤ اس کا انجام کیا ہوگا۔

چلنے کے لیے اللہ نے پاؤں بنائے ہیں کوئی مساوات کا دعوے دار کہے کہ ہمیشہ پاؤں کے بل ہی چلنا یہ سرا سر نا انصافی ہے، اب ہم بجائے پاؤں سے چلنے کے سر کے بل چلیں گے بتاؤ اس کا انجام کیا ہوگا۔

اسی طرح مرد وعورت کی ساخت و جسم کی بناوٹ ایک جیسی نہیں اسی طرح ان کے وظائف وذمہ داریاں بھی ایک جیسی نہیں اگر ایک جیسی ذمہ داریاں وفرائض ہوتے تو جسم کی بناوٹ بھی ایک جیسی ہوتی تو جس طرح ایک جسم کے مختلف حصوں کے الگ الگ کام وفرائض ہیں مگر ان کو چھوڑ کر ان سے دوسرے کام لیے جائیں تو جسم کا نظام تباہ وبرباد ہوجائے گا۔

اسی طرح مرد و زن کے علیحدہ علیحدہ فرائض وذمہ داریاں ہیں اگر ان میں ردوبدل کیا جائے گا تو انسانی نظام تباہ وبرباد ہوجائے گا کیونکہ قانون فطرت کی مخالفت ہوگی۔

صدافسوس! کہ آج کی مغربی نام نہاد جدید اور ترقی یافتہ تہذیب و ثقافت نے صرف اپنی شہوانی تسکین کی خاطر عورت کا دو پٹہ اُتارا، اسے بے پردہ کیا، اس کی عزت و نامو س کوداغدار کیا اور جانوروں جیسی زندگی پر لاکھڑا کیا اور پھر اس کو بے بس ومجبور کرکے خود دور ہوگئے، یہ تحفہ ہے بے دینی وگمراہی کی زندگی کا۔ اگر عورتوں پر آسانی اس مغربی تہذیب کا مقصد ہے تو چاہئے تھا کہ ان کا بوجھ کم کرتے مگر ظالموں کے بس میں یہ تو ہونہیں سکتا تو اپنا بوجھ بھی اُلٹا اسی عورت پر ڈال دیا بلکہ اپنا دامن چھڑالیا کہ ہماری ذمہ داری کفالت کی ختم ہوجائے وہ خود کمائے ہم صرف اس سے اپنی تسکین حاصل کریں اور پھر اس کو  لاوارث چھوڑدیں۔

اور دوسری طرف ہم قربان جائیں اس پاکیزہ معاشرہ پر جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم لائے کہ مردوں کو قابو کیا گیا اور ان پر ذمہ داری ڈالی گئی اور ذمہ داری نہ نبھانے پر سزائیں بتائی گئیں۔

جن پتھروں کو عطاکی تھیں ہم نے دھڑکنیں

انہیں زبان ملی تو ہم پر ہی برس پڑے

اس لیے عورتوں کو چاہئے کہ مغرب کے پُرفریب نعروں میں نہ آئیں بلکہ اسلام کے پاکیزہ احکامات پر عمل کریں ورنہ کہیں ان کا بھی وہی حشر نہ ہو جو آج یورپ کی تہذیب میں عورت کا ہورہاہے۔

میں نے دیکھا ہے فیشن میں اُلجھ کر تُو نے

اپنے اسلاف کی عظمت کے کفن بیچ دیئے

نئی تہذیب کی بے روح بہاروں کے عوض

اپنی تہذیب کے شاداب چمن بیچ دیئے

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor