Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

’’سوری‘‘ (وحید اللہ زیاد)

’’سوری‘‘

وحید اللہ زیاد (شمارہ 688)

ہمارے ہاں قریب کی مسجد میں کینیا سے تعلق رکھنے والی تبلیغی جماعت آئی ہوئی ہے۔ آج دوپہر ان میں سے ایک صاحب حجامہ کرانے کی غرض سے تشریف لائے۔ پشتو سے وہ نابلد تھے، عربی سے ہم بے خبر۔

کچھ عجیب قسم کے اِشاروں سے وہ ہمیں یہ سمجھانے میں کامیاب ہوئے کہ "انگلش آتی ہے؟" ہماری تو باچھیں کِھل گئیں، گو کہ انگلش میں بھی ہم گئے گذرے واقع ہوئے ہیں لیکن پھر بھی آقا غلام کے سدا بہار رشتے کی بدولت کچھ نہ کچھ شُد بُد تو رکھتے ہی ہیں، اور ویسے بھی ہمارا عقیدہ ہے کہ "زبانِ حاکم"  سے بالکل کورے رہنا، آدابِ محکومی کے سراسر منافی ہے۔

 نام شاید حبیب اللہ تھا ان کا، اب اس سے یہ پوچھنا تھا کہ کھانا کھایا تو نہیں؟ ذہن پر زور ڈال کر اس حوالے سے فقط لفظ "فوڈ"  اور "ایٹ" ہی ہم برآمد کر سکے اور ساتھ میں پیٹ پر بھی ہاتھ پھیرا، تو وہ ہمارا مدعا آسانی سے سمجھ پایا، جس کے جواب سے ہمیں بھی یہ سمجھنے میں کوئی دِقت پیش نہیں آئی کہ حضرت کھانا تناول فرما چکے ہیں۔

 اب باری پھر ہماری تھی۔ ہم نے سر کو دائیں سے بائیں ہلا کر افسوس کے اِظہار کیلئے اپنی مادری زبان میں  "چت چت چت"  کیا تو وہ بلا کا ذہین آدمی سمجھ گیا کہ کچھ گڑ بڑ ہو گئی ہے۔ پریشان ہو کر اس نے پوچھا:

"وٹز دا پرابلم؟"

سب سے بڑی پرابلم تو اس وقت یہ تھی کہ اسے کیسے سمجھایا جائے کہ بھرے پیٹ سے حجامہ نہیں ہو سکتا، کھانے کے چار گھنٹے بعد ہی حجامہ ہو سکے گا۔

 یہ مرحلہ بھی ہم نے کچھ دِقت سے حل کر ہی لیا۔ چار کیلئے "فور" اور گھنٹوں کیلئے "ہورز" جیسے الفاظ تو ہم نے چٹکی بجاتے بول دیئے، اب لفظ "بعد" کیلئے ہم کچھ کشمکش میں پڑ گئے، ہم نے چربی پگھلانے والے ایک اشتہار میں موٹے اور پتلے شخص کی تصویر میں دیکھا تو تھا کہ ایک پر "بیفور" اور دوسرے پر "آفٹر" درج تھا، لیکن اس وقت کوشش کے باوجود یہ یاد نہ آیا کہ ان میں سے "پہلا" کونسا ہے اور "بعد" کونسا۔ کچھ سوچ بچار کے بعد ہم نے لفظ "بیفور" پر کلک کیا اور یہ دیکھ کر تو ہم حیران رہ گئے کہ ہمارا جواب بالکل ٹھیک تھا، کیونکہ اس نے بہت زور سے سر کو اِثبات میں ہلایا اور ساتھ میں کچھ ہنس بھی رہا تھا، شاید ہماری "انگریزی دانی"  سے متاثر ہو گیا۔ (خدا غرور سے بچائے)

اب جب وہ سمجھ گیا کہ اس وقت حجامہ نہیں ہو سکتا تو رخصت ہونے لگا، ہمیں کہاں یہ گوارا تھا کہ اللہ کے راستے کا ایک مہمان جو اتنی دور سے آیا ہو، وہ بغیر کچھ کھائے پئے چلا جائے۔ نا بابا نا،  ہم نے صلح ماری کہ ٹھہر جائیے، چائے تو پی لیجیے۔ وہ ایک دَم بیٹھ گیا۔ (شائد ان کے ہاں جھوٹ موٹ کے تکلفات میں پڑنے کا رواج نہیں ہے)

اب چائے پر گپ شروع ہوئی، پہلا سوال ہی جغرافیے کے حوالے سے تھا، پوچھا، مردان سے اَفغانستان کتنا دور ہے؟

ہم بغیر اشاروں کے ہی سمجھ گئے اور بتایا کہ "قریب 160 کلومیٹر" ہم لفظ "قریب" کیلئے بھی انگریزی لا سکتے تھے لیکن پھر خیال آیا کہ ایک مسلمان کو عربی زبان سے اتنا بھی قطع تعلق نہیں رہنا چاہیے۔

اگلا سوال کچھ مشکل تو تھا لیکن قابلیت کے ہاں مشکل کہاں ٹھہر سکتی ہے، ہم سمجھ گئے کہ موصوف جاننا چاہ رہے ہیں کہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ کون سا ہے۔ اس کا بھی ہم نے یک لفظی جواب دیا "پنجاب"

پتہ نہیں اسے کیا سوجھی کہ لفظ پنجاب سے اسے نواز شریف کی یاد ستانے لگی، کہنے لگا کہ وہ کہاں کے ہیں؟ جواب دیا "پنجاب"  بھلے آدمی نے زرداری کا بھی نام سنا تھا (شکر ہے صرف نام سنا تھا) اس کے بارے میں بھی وہی سوال، جواب "سندھ" ۔ اب تو سیاست کی پٹری پر ہی چڑھ گئے۔ مولانا فضل الرحمن اور کچھ دوسرے بڑے لیڈروں کا ڈیٹا حاصل کرنے کے بعد موصوف کی تان جناب عمران خان کے اوپڑ ٹوٹ گئی کہ وہ پختون خواہ میں کہاں کے ہیں؟ ہمیں پھر کچھ زیادہ انگریزی بولنی پڑی۔ اسے بتایا کہ "ہی نوٹ فرام کے پی کے، ہی بلونگ ٹو سٹی آف پنجاب میانوالی اینڈ ہی آلسو پنجابی"  ایک سانس میں اتنی زیادہ انگلش بولنے کے بعد جلدی سے چائے کا ایک گھونٹ پیا کیونکہ انگلش سے جبڑوں میں درد سا شروع ہو گیا (سکول کے زمانے سے ہی یہ شکایت ہے ہمیں) لیکن وہ حضرت تو مان ہی نہیں رہا تھا، بس نو نو کرتا رہا۔ کچھ مزید الفاظ بھی ادا کر دیئے لیکن وہ ہمارے سر کے عین اوپر سے گذر گئے۔ بالآخر ادھر ادھر کے اشاروں سے حضرت ہمیں سمجھانے میں کامیاب ہو گئے کہ عمران کے ساتھ جب لفظ "خان"  لکھا ہوا ہے تو پھر پشتون کیوں نہیں ہے، یہ تو چیٹنگ ہے۔ ان کا سوال کافی معقول اور وزنی تھا لیکن ہم اپنے وزیراعظم کی شان میں لفظ چیٹنگ پر کچھ چڑ سے گئے، وہ بھی جہاندیدہ آدمی تھا موقعے کی نزاکت کو محسوس کر کے چائے کی آدھی پیالی چھوڑ کر اُٹھ گئے اور رخصت ہوتے ہوئے کہنے لگا کہ کل ان شاء اللہ پھر آؤںگا۔

ہم نے بھی ارادہ کر رکھا ہے کہ کل بھی اگر سیاست پر بات نکلی تو جہاں ہم لاجواب ہونگے وہی زیادہ چُبھا کے حجامہ کٹ لگائیں گے اور اگر وہ اس پر بگڑ جاتا ہے تو ہماری انگریزی کس کام کی، جھٹ سے کہہ دیں گے "سوری"....

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor