Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مسجد اقصیٰ کی مکانی تقسیم کی سازش (ملاقات ۔ محد فیض اللہ جاوید)

مسجد اقصیٰ کی مکانی تقسیم کی سازش

ملاقات ۔ محد فیض اللہ جاوید (شمارہ 689)

اسرائیل مسجد اقصیٰ کی مکانی تقسیم کی اپنی سازش میں آہستہ آہستہ آگے آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ اسی ناپاک سازش کی ایک کڑی رواں ماہ مسجد اقصیٰ  کے باب الرحمۃ کو بند کرنا اور وہاں موجود فلسطینیوں پر تشدد کرنا شامل ہے۔باب الرحمۃ مسجد اقصیٰ کے جنوب میں باب الاسباط اور مشرقی دیوار سے ۲۰۰ میٹر دور ہے۔ پرانے بیت المقدس کی مشرقی دیوار کا حصہ سمجھے جانے والے اس مقام کو فنِ تعمیر کی بھی ایک تاریخی یادگار سمجھا جاتا ہے۔ باب الرحمۃ مسجد اقصیٰ کے پرانے دروازوں میں سے ایک ہے۔ اسے خلافت بنو امیہ کے دور میں تعمیر کیا گیا اور اس کے بانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے عبدالمالک بن مروان کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔باب الرحمۃ ایک عظیم باب ہے جس کی اونچائی ۱۱ اعشاریہ ۵ میٹر ہے۔ اس تک پہنچنے کے لیے مسجد اقصیٰ کے اندر سے ایک سیڑھی جاتی ہے۔ اس دروازے کے دو پاٹ ہیں اور ان دونوں کے درمیان پتھر کا ایک ستون قائم ہے۔

مسجد اقصیٰ کے تاریخی دروازے باب الرحمۃ کے کئی اور نام بھی ہیں۔ ان میں سے باب توما، باب الحکم، باب القضا اور فرنگی اور مغربی باب الذھبی کا نام دیتے ہیں جبکہ اسے باب الرحم اور باب التوبہ بھی کہا جاتا ہے۔ باب الرحم کے سامنے دو جلیل القدر صحابہ کرام حضرت شدَّاد بن اَوس اور حضرت عُبادۃ بن صامت الخزرعی رضی اللہ عنہما بھی آسودۂ خاک ہیں۔ مسجد اقصیٰ کی مغربی سمت میں داخل ہوتے ہی باب الرحمۃ کی عمارت آتی ہے۔ یہ جگہ ذکر اذکار، نماز، دعاؤں، اور دیگر عبادات کے لیے مختص ہے۔ امام غزالیؒ جب بیت المقدس میں کچھ عرصہ قیام پذیر ہوئے تو انہوں نے اسی جگہ اِقامت اختیار کی تھی۔ وہ مسجد اقصیٰ میں تدریس کے فرائض انجام دیتے اور انہوں نے اپنی کتاب ’’احیاء العلوم‘‘ کا بیشتر حصہ مسجد اقصیٰ میں تصنیف کیا۔

۱۹۹۲ میں اسلامک کلچرل کمیٹی قائم ہوئی تو اس کا دفتر دعوتی سرگرمیوں کے لیے باب الرحمۃ ہی کو مختص کیا گیا۔ ۲۰۰۳ میں صہیونی ریاست نے اس کمیٹی پر پاپندی عائد کر دی تھی۔ باب الرحمۃ صرف دروازہ ہی نہیں بلکہ اس عمارت میں ایک بڑا ہال، ایک لائبریری اور دیگر دفاتر بھی ہیں۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصیٰ کا باب الرحمۃ اس وقت صہیونی ریاست کے آہنی قبضے میں ہے، جس کی وجہ سے فلسطینی مسلمان ایک بڑے سانحے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وہ سانحہ مسجد اقصیٰ کے وسط میں یہودی عبادت خانے کے قیام کی سازش ہے۔ صہیونی ریاست نے اس عبادت خانے کیلیے باب الرحمۃ ہی کا نام تجویز کیا ہوا ہے۔مسجد اقصیٰ کے اندرونی حصے اور باب الرحمۃ کے باہر ۱۲ ہزار میٹر کا رقبہ قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ اس جگہ سے گزرنے والے کسی بھی فلسطینی کو حراست میں لے لیا جاتا ہے۔ قبلۂ اول کی بنیادوں کے اندر کھدائی کی جارہی ہے۔ مسجد اقصیٰ کے اطراف میں اب تک ایسے ۱۹۰ عبادت خانے بنائے جاچکے ہیں۔

مسجداقصیٰ پر یہودی تسلط کی سازشوں کے تسلسل کی ایک نئی کڑی قبلہ اول کے تاریخی دروازے ’’باب الرحمۃ‘‘ بھی شامل ہے۔ جو اس وقت صہیونی ریاست کی طرف سے ایک نیا نشانہ بنایا گیا ہے۔

کچھ روز قبل قابض صہیونی ریاستی فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور دیگر اداروں کے اہلکاروں نے ’’باب الرحمۃ‘‘ کو تالے لگانے کے بعد وہاں پر موجود نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں بے دردی اور بے رحمی کے ساتھ مقدس مقام میں گھسیٹا گیا۔ اس سارے اشتعال انگیز اور دہشت گردانہ واقعہ کا مقصد مسجد اقصیٰ کی زمانی اور مکانی تقسیم کی راہ ہموار کرنا اور مسلمانوں کے قبلہ اول کو یہودیت میں تبدیل کرنا ہے۔ فلسطینی محکمہ اوقاف کے حکام کا کہنا ہے کہ صہیونی افواج نے باب الرحمہ کو خاردار تاریں لگا کر بند کر دیا اور اس کی مشرقی سمت میں قبلہ اول تک رسائی روک دی گئی۔فلسطینی محکمہ اوقاف کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی فوج نے باب الرحمۃ کو تالے لگائے اور اندر موجود فلسطینوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ باہر کھڑے فلسطینیوں پر لاٹھی چارج کیا گیا اور ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی جس کے نتیجے میں کئی فلسطینی زخمی ہوگئے۔ قابض فوج نے متعدد فلسطینیوںکو حراست میں بھی لے لیا۔ مسجد اقصیٰ کے امور کے تجزیہ نگار رضوان عمرو نے مرکز اطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج باب الرحمۃ کے حوالے سے جو بھی کھیل کھیل رہی ہے اس کا اصل مقصد مسجد اقصیٰ کی مکانی تقسیم کی سازش کو آگے بڑھانا ہے۔

مسجداقصیٰ کے دفاع کے لیے کام کرنے والی ترکی کی ایک تنظیم نے القدس اور مسجد اقصیٰ میں ترک شہریوں پر اسرائیلی پابندیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایک منصوبے کے تحت القدس میں فلسطینی باشندوں کو پابندیوں کا ہدف بنا رہا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی حکومت کی طرف سے القدس میں آنے والے ترک باشنوں کو منصوبے کے تحت نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مسجد اقصیٰ میں صرف ترکی کے شہریوں پر اپنا قومی پرچم لہرانے پر پابندی ہے۔ القدس کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم ’’براق‘‘ کے چیئرمین آدم بن حیات نے کہا کہ اسرائیل کی القدس میں پابندیوں کا خاص طور پر ترک شہری ہدف ہیں۔ اگر کوئی ترک شہری القدس یا مسجداقصیٰ میں ترکی کا پرچم لہراتا ہے تو اسے حراست میں لے لیا جاتا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب انقرہ میں قائم اسرائیلی سفارت خانے کی طرف سے القدس میں ترک زائرین پر پابندیاں عائد کیے جانے کی تردید کی ہے۔ اسرائیلی فوج کے مسجد اقصیٰ پر حملے کے بعد القدس شہر کے کئی مقامات پر فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصیٰ سے متصل عیسویہ ٹاؤن میں اسرائیلی فوج اور فلسطینی شہریوں کے درمیان ہونی والی جھڑپون میں متعدد فلسطینی زخمی ہوگئے۔ عیسویہ میں فلسطینی شہریوں نے قبلہ اول کے دفاع میں ایک ریلی نکالی جس میں فلسطینیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ قابض فوج نے فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی جس سے متعدد شہری زخمی ہوگئے۔ گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ پر چڑھائی کر کے وہاں پر موجود فلسطینی نمازیوں پر وحشیانہ تشدد کیا، جس کے نتیجے میں ۲۰ فلسطینی زخمی اور ۱۹ کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ صہیونی فوج کی اس وحشیانہ اشتعال انگیزی کے خلاف پورا فلسطین سراپا احتجاج ہے، اور عالم اسلام سے اپنا کردار اداء کرنے کا متمنی ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor