Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ہماری نمازیں (وحید اللہ زیاد)

ہماری نمازیں

وحید اللہ زیاد (شمارہ 689)

عصر کو مسجد جاتے ہوئے ایک صاحب بڑے تپاک سے ملے، حال احوال پوچھا، کچھ دوستوں کی خیر و عافیت دریافت کی۔ ہم نے بھی ہر جواب کے ساتھ کچھ دانت نکال کے دکھائے اور چلتے بنے۔ پورے راستے میں سوچ رہا تھا کہ یہ بندہ آخر تھا کون؟ وضو کرتے ہوئے بھی یہی سوچ، نماز میں کچھ منٹ باقی تھے، لوگ نفل پڑھ رہے اور ہماری سوچ کی سوئی اسی بندے پہ اٹکی ہوئی تھی کہ بندہ آخر تھا کون۔

اقامت شروع ہوئی..اللہ اکبر..قد قامت الصلاۃ..مگر ہم سے بندہ دریافت نہ ہو سکا۔ جماعت کھڑی ہو گئی..اللہ اکبر..سب نے نماز کی نیت باندھ لی، ہم نے بھی باندھ لیا..سبحانک اللہم وبحمدک..زبان پر ثنا جاری تھا جبکہ ذہن پر سوار تھا وہی بندۂ خدا، ابھی "غیرک" تک نہیں پہنچے تھے کہ یاد آیا اچھا یہ تو وہ فلاں بندہ تھا، یعنی پہلی رکعت کے شروع کے حصے میں ہی ہماری مراد بَر آئی....

باقی کے تین رکعتوں میں بھی ہم نے بہت سے ادھورے کام نمٹائے مثلاً......دوسری رکعت میں ہم نے یہ طے کیا کہ کل موٹر سائیکل کی ٹیوننگ کس مستری سے کروانی ہے، پرانے والا مستری اب خود کام کو ہاتھ نہیں لگاتا بس شاگردوں پر ہی چلاتے رہتے ہیں تو اس کے پاس جانے کا فائدہ؟ اور ہاں موبائل کے بیٹری کو رات سے ہی فل کر کے جانا ہے کیونکہ "مستری خانے" میں انتظار کرتے کرتے ٹائم بڑا ضائع ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

تیسری رکعت میں بجلی کی صورتحال پر سوچ و بچار ہوئی کہ ابھی تو گرمیاں آئی بھی نہیں اور لوڈ شیڈنگ کا یہ حال ہے، کیا تدارک کیا جائے۔ والدہ کے حکم کے مطابق جرنیٹر ٹھیک کرا لوں یا بیگم کی مان کر سولر لگوا لوں؟ لیکن سولر سسٹم مہنگا بہت ہے اور پھر بیگم کے ماننے والوں کو دنیا اچھی نظروں سے بھی نہیں دیکھتے تو کیوں خود کو بدنام کرتا پھروں اور پھر اس کے قدموں تلے جنت بھی تو نہیں..اللہ اکبر..او ہو اتنی جلدی رکعت ختم ہو گئی......

ایک تو یہ امام لوگ پتہ نہیں کیسے جلدی جلدی تلاوت کر لیتے ہیں، تجوید کا لحاظ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔

 نماز کے بعد ہم نے سبزی منڈی بھی جانا تھا سو چوتھی رکعت میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ ادھورا چھوڑ کر پیاز آلو کے بارے میں سوچتے رہے..جب ٹماٹر اتنے مہنگے ہیں تو کیوں خریدیں، پرانے زمانے میں لوگ ٹماٹر کے بغیر بھی جیتے تھے..پیاز اگر سستے ہوئے تو پوری دڑی لینی چاہئے..... سبزی میں کئی دن ہوئے کریلے نہیں کھائے، چلو آج لے آتے ہیں.....آلو، ہاں بچوں کو چپس پسند ہے دو کلو وہ بھی..... لیموں؟ بھاؤ مناسب ہوا تو ٹھیک ورنہ چھوڑ دیں گے، ویسے بھی طبیب لوگ کھٹی چیزوں کے "مضمرات" پر کافی سیر حاصل گفتگو کر چکے ہیں..بھنڈی، ہاں فقط آدھا کلو یا رہنے دیں اسکی جگہ گوشت خرید لیں گے، قیمت ایک جیسی تو ہے..شلغم دو کلو..مٹر، ایک کلو..اللہ اکبر..سمع اللہ لمن حمدہ..دونوں سجدوں کے درمیان ہم لسٹ پر نظر ثانی کر کے اس بات کو یقینی بنا رہے تھے کہ کچھ رہ تو نہیں گیا..... اللہ اکبر..التحیات للہ..اب فائنل راونڈ میں بجٹ پر غور شروع..بھنڈی کے چالیس پلس پیاز کے ایک سو بیس..آلو کے ہوئے پچاس جبکہ کریلے کچھ ہلکے کوالٹی کے ساٹھ..انک حمید مجید.. مٹر، گوشت کے اتنے..ٹوٹل ہوئے..السلام علیکم و رحمۃ اللہ..بجٹ کو جمع کئے بنا ہم نے اِمام صاحب کے ساتھ سلام پھیرا، دائیں طرف سلام پھیرتے وقت کندھے پر براجمان مکرم فرشتے کو بھی ہم نے کن انکھیوں سے دیکھا، ہم نے محسوس کیا کہ معزز فرشتے کو ہمارا سلام ایک آنکھ نہ بھایا اور وہ ہم سے منہ موڑ کے بیٹھا ہے اور بزبان حال کہہ رہے ہیں..دھت تیری..نماز کی..یہ ہے تیری عبادت؟

 پھر ہم نے آنکھیں بند کئے، خضوع و خشوع کے ساتھ دعا میں مصروف ہوئے، رزق میں برکت، اولاد کی کثرت، زوجین میں محبت اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخلے کے اَلفاظ زبان پر جاری تھے کہ دھب سے کسی نے منہ پر کوئی چیز دے مارا، غور کر کے دیکھا تو  گندے کپڑے کا ایک پوٹلی گود میں پڑی تھی، کوئی چیز تہہ در تہہ اس میں لپٹی ہوئی تھی لیکن بہت ہی شکستہ حالت میں، معلوم ہوا ہمیں ہماری نماز لوٹا دی گئی...

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor