Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

فلسطینی مرابطہ کا انٹرویو (محمد رشید)

فلسطینی مرابطہ کا انٹرویو

محمد رشید (شمارہ 692)

رِباط کہتے ہیں: اسلامی سرحدات اور اسلامی مقدسات کی حفاظت کے لیے پہرے داری کو، اور پھر اگر وہ پہرے داری کرنے والا مرد ہوتے تو اسے ’’مرابط‘‘ اور اگر مسلمان خاتون ہو تو اسے ’’مرابطہ‘‘ کہتے ہیں۔

اس وقت اسلامی مقدسات میں سے بیت المقدس وہ مظلوم مقام ہے جس پر صہیونیوں کی جارحیت اورجابرانہ تسلط قائم ہے اور اسی جابرانہ تسلط کے باوجودفلسطین کے مسلمان مرد و خواتین اپنے جان و مال کو داؤ پر لگا کر وہاں اسلامی شعائر زندہ کیے ہوئے ہیں۔

انہی خوش قسمت مرابطین میں ایک مرابطہ زینت عمرو ہیں، انہوں نے مسئلہ فلسطین کے ہی سلسلے میں ملائشیا کا سفر کیا اور وہاں جن خیالات کا اظہار کیا، اس کی ایک جھلک مرکز اطلاعات فلسطین نے پیش کی ہے، جسے ہم ایک انٹرویو کی شکل میں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔

سوال: صہیونی اسرائیلی ریاست کے عزائم کیا ہیں؟ اور آپ کو ان سے کس چیزکی توقع ہے؟

مرابطہ زینت عمرو: صہیونی اسرائیلی ریاست القدس کو یہودیت کے رنگ میں رنگنے اور وہاں اپنا مکمل تسلط جمانے کے لیے ہرحربہ استعمال کررہی ہے۔ بلکہ ان صہیونیوںنے القدس پر قبضہ مضبوط بنانے کے لیے اپنے تمام وسائل جھونک دیے ہیں۔اور ہم اس صہیونی ریاست سے القدس اور مسجد اقصیٰ المبارک کے حوالے سے وحشت اور بربریت کے سوا اور کسی چیز کی توقع نہیں رکھتے۔ اسرائیل کی تمام ریاستی مشینری، اس کے سیکیورٹی اور اقتصادی ادارے القدس کو خالص یہودیوں کا شہر بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔

سوال: اسرائیلی ریاست القدس پر قبضہ جمانے کے لیے کیا کررہی ہے؟

مرابطہ زینت عمرو: صہیونی ریاست کی طرف سے بیت المقدس کے فلسطینی باشندوں کو وہاں سے نقل مکانی کے لیے سخت دبائو کا سامنا ہے۔ القدس سے فلسطینیوںکو نکال باہر کرنا بھی شہرکو یہودیانے اور اس کی املاک پرقبضے کی سازشوں کا حصہ ہے۔ آنے والے وقت میں بیت المقدس کے فلسطینی باشندوں پر اسرائیل مزید دبائو ڈالے گا۔ اسرائیل موجودہ حالات کو القدس اور مسجد اقصیٰ پر اپنی بالادستی کے قیام کے لیے انتہائی موزوں خیال کرتا ہے اور یہودی ریاست کے خواب کی تعبیر کے لیے مناسب موقع سمجھتا ہے۔

سوال : کیا اسرائیل کو عرب اور دیگر مسلم ممالک سے کوئی خوف نہیںہے جو وہ یہ سب کچھ دھڑلے سے کر رہا ہے؟

جواب: اسرائیل کو اندازہ ہے کہ عرب اور مسلمان حکمرانوںکو القدس اور مسجد اقصیٰ سے کوئی سروکار نہیں رہا ہے۔ وہ اپنے اپنے مدار میں گردش کرتے ہیں اور (ان میں سے کوئی تو)اسرائیل کے ساتھ دوستی کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں فلسطینیوں پر مظالم کی کوئی پرواہ نہیں۔ اس وقت اسرائیلی ریاست کے جرائم کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں رہا ہے۔

سوال: فلسطینی کے باہمی اختلافات پر آپ کی کیا رائے ہے؟

مرابطہ زینت عمرو: فلسطینی قوتوں میں پائے جانے والے اختلافات کو قوم کے لیے زہرقاتل ہیں۔ فلسطینیوں کی باہمی رسا کشی سے اسرائیل فائدہ اٹھا کر اپنے نسل پرستانہ منصوبوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔ جب تک ہم ایک دوسرے کا دست وباز بن کر اسرائیل کے مقابل نہیں کھڑے ہوں گے، دشمن ہم پر دبائو ڈالتا اور ہمارے تصور سے بھی بڑھ کر تشدد کا استعمال کرے گا۔

سوال: فلسطینی مسلمانوں کا بیت المقدس سے کتنا والہانہ تعلق ہے؟

مرابطہ زینت عمرو: حقیقت یہ ہے کہ فلسطینی باشندوں کا قبلہ اول  بیت المقدس کے ساتھ جو مضبوط تعلق اور مسلسل ربط ہے ، وہ اس مقدس مقام کے دفاع میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔بلکہ فلسطینیوں کے قبلہ اول کے ساتھ ربط و تعلق کی بدولت مسجد اقصیٰ کو یہودیانے کی صہیونی سازشی پروگرام کو ناکامی کا سامنا ہے۔

فلسطینی مسلمانوں کی طرف سے مسجد اقصیٰ میں جگہ جگہ علمی مجالس کے ذریعے صہیونی ریاست کے قبلہ اول پر قبضے کے پروگرام کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔اسی لیے اسرائیل جب یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے پروگرام کو ناکامی کا سامنا ہے تو وہ القدس میں موجود علمی اور تدریسی عمل پر حملہ کرتا ہے۔

سوال: اسرائیلی خطرے کو کس نظر سے دیکھتی ہیں؟

مرابطہ زینت عمرو: ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اس وقت پورا بیت المقدس خطرے سے دوچار ہے۔ صہیونی سازشوں سے بیت المقدس، اس کے تمام فلسطینی باشندے، ،مرابطین سب اس وقت دبائو کا شکار ہیں، اور زخموں،غموں، مشکلات، فقر اور دیگر مشکلات کا شکار ہیں۔

اس وقت بیت المقدس میں بسنے والے فلسطینیوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ القدس میں رہنے والے فلسطینیوں کا سب سے بڑا مسئلہ تلاشِ معاش ،اپنے مکانات کومسماری سے بچانا، گرفتاری، شہر بدری اور ہجرت سے بچنا ہے۔

 صہیونی دشمن نے بیت المقدس میں زندگی کے تمامم شعبوں کے خلاف جنگ مسلط کررکھی ہے۔ مقامی فلسطینی آبادی کو اپنی ذاتی اور نجی مشکلات میں الجھا دیا گیا ہے تاکہ انہیں قبلہ اول سے تعلق اور تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کی فرصت ہی نہ ملے مگر ان تمام مشکلات کے باوجود مرابطین نے قبلہ اول کے تحفظ کا عزم کر رکھا ہے۔

سوال : اس وقت مرابطینِ القدس کس حالت میں ہیں؟

مرابطہ زینت عمرو: بیت المقدس کے فلسطینی مسلسل صہیونیوں کی آندھی اور طوفان کی زد میں ہیں۔ انہیں مسلسل گرفتاریوں اور تشدد کا سامنا ہے۔ ان کی نقل وحرکت پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔ اب اس سے آگے بڑھ کر ان پرتشدد، تذلیل، گرفتاریوں، بے دخلی جیسے جرائم کا سامنا ہے۔ خاص طورپر مسجد اقصیٰ سے محبت کرنے والوں کے لیے یہ سب کچھ بہت مشکل ہے۔ مرابطین اور ان کے اہل خانہ کو علاج کی سہولت سے محروم کردیاجاتا ہے۔اگر ہم اپنے حقوق کے حصول کے لیے کوئی کوشش کرتے ہیں تو القدس میں ہمارے وجود کو ختم کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ اس طرح اسرائیل ہماری جڑوں کو اُکھاڑ رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے القدس میں موجود ہمارے مکان کو مسمار کرنے کا نوٹس بھی جاری کیا ہوا ہے۔

سوال: آپ مستقبل کیسا دیکھتی ہیں؟

مرابطہ زینت عمرو: ہم اس وقت اگرچہ کڑے وقت سے گذر رہے ہیں مگر اس مشکل بحران سے جلد نکل جائیں گے۔ ہم سے اللہ نے جو وعدہ کیاہے وہ جلد پورا ہوگا۔ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor