Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

رمضان المبارک کی آمد اور ہماری ذمہ داریاں ( امیر افضل اعوان)

رمضان المبارک کی آمد اور ہماری ذمہ داریاں

 امیر افضل اعوان (شمارہ 692)

  دنیا کی حرص و ہوس نے ہماری آنکھوں پر گویا پٹی سی باندھ رکھی ہے، واضح اسلامی حکامات کے باوجود ہم خالق کائنات کی طرف سے اپنے دنیا میں بھجوائے جانے کے مقاصد کو بھی فراموش کئے بیٹھے ہیںاور وسائل وسہولیات پر تسلط جمانے کی مروجہ دنیاوی سوچ نے ہمیںسوچنے سمجھنے کی صلاحت سے یکسر محروم کردیا ہے، یہ امر بھی ہمارے سامنے ہے کہ دنیا میں آنے والے ہر ذی روح نے آخراس دار فانی کو چھوڑ جانا ہے اور آخرت کے لئے بجز ہمارے اعمال کوئی بھی چیز ہمارے ساتھ نہیں جائے گی، اس کے باوجود ہم اپنے ہاتھوں اپنے پیاروں کو سپرد خاک کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ بس اس نے ہی جانا تھا ہمیں تو ابھی بہت ٹائم دنیا میں ہی رہنا ہے، غلطیوں پہ معافی مانگ لی جائے گی، خطائوں کی توبہ ہوجائے گی ابھی ہمیں بہت کچھ کرنا ہے، یہ سوچ ہی تمام برائیوں کی جڑ بن چکی ہے کیوں کہ اس طرح ہم اپنی اصلاح کی جانب توجہ ہی نہیں دیتے ، دنیاکی دلدل میں اور زیادہ دھنستے چلے جاتے ہیں، زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرلینے کی دھن میں ہم کتنے لوگوں کی حق تلفی کرتے ہیں یا کتنوں کے حقوق غصب کرتے ہیں ہمیں کچھ خبر نہیں ہوتی اور بلا آخر در توبہ بند ہوجاتا ہے ، ہمارے دنیا سے رخصت کا وقت آتے ہوئے کچھ پتا ہی نہیں چلتا اور نہ ہی توبہ کی مہلت ملتی ہے۔ 

 ویسے تو ہر مذہبی تہوار کے موقع پر ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان برپا کر دیا جاتا ہے لیکن اس سال گراں فروشی کا یہ عالم ہے کہ ابھی رمضان شروع بھی نہیں ہوا اور روز مرہ کے استعمال کی اشیا ئے خورد و نوش کی قیمتیں 20 سے 25 فیصد تک بڑھا دی گئی ہیں ،ایک عام اور متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ یہ سوچ کے پریشان ہو رہے ہیں کہ ابھی سے مہنگائی کا یہ عالم ہے تو رمضان المبارک میں غریبوں کے ساتھ کیا ہوگا ۔ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ مغربی دنیا میں غیر مسلم ممالک نہ صرف اپنے بلکہ اقلیتوں کے مذہبی تہواروں پر بھی اپنی عوام کی آسانی اور سہولت کیلئے تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں، لیکن بدقسمتی کہیں یا لمحہ فکریہ ! اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والی مملکت خدادادپاکستان میں عوام کیلئے ماہ رمضان ہو یا عیدین یا پھر کوئی اور تہوار ہر موقع پر مہنگائی میں اضافہ کر کے مسائل  پیدا کر دیئے جاتے ہیں ۔ بازاروں ، مارکیٹو ں میں ہر چیز غریبوں کی پہنچ سے دور کر دی جاتی ہے متوسط طبقہ کیلئے  کی قوت خرید بھی جواب دے  چکی  ہے اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے ذمہ دار ارباب اختیار اپنے فرائض سے غافل ہوچکے  ہیں۔

 دوسری جانب نچلی سطح پر عوام کو روز مرہ کی سہولیات کی آسان طریقے سے فراہمی یقینی بنانے کیلئے قائم کی جانی والی کمیٹیاں اور ٹاسک فورسز اپنا کام ٹھیک طریقے سے نہیں کر رہی  ۔ایک  بڑا المیہ یہ  بھی  ہے کہ ہمارے تاجر بھائی بھی مسلم معاشرے کا عکس پیش نہیں کرتے حالانکہ اللہ نے انہیں خوب نواز رکھا ہوتا ہے لیکن وہ بھی اسلامی طرز تجارت کی بجائے موقع غنیمت جانتے ہوئے اپنے مسلمان بھائیوں کو لوٹنے کیلئے ماہ رمضان کی مناسبت سے مطلوبہ اجناس و اشیائے خودو نوش کا ذخیرہ وسیع پیمانے پر کرنا شروع کر دیتے ہیں، یہ بھی ایک افسوسناک امر ہے۔

 ہر سال کی طرح اس ماہ رمضان کی آمد کے پیش نظر بھی عوام موجودہ حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں ،   نئی حکومت سے عوام کو جو امیدیں وابستہ تھیں کسی ایک پر بھی عمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا الٹا ان کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ابھی سے ضلعی حکومتوں کو مہنگائی پر قابو پانے کیلئے سخت اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کرے اور پرائس کنٹرول کمیٹیو ں کو فعال بنا کر عوام کی قوت خرید کو مدنظر رکھتے ہوئے بازاروں اور مارکیٹوں میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کا تعین کر کے کم از کم رمضان المبارک میں تو عوام کو کچھ ریلیف فراہم کیا جائے تا کہ معاشی طور پر کمزور مسلمان بھی اس ماہ مقدس کے فیوض و برکات سے مستفید ہو سکیں اور خوش اسلوبی سے ماہ مقدس کی عبادات کا لطف اٹھا سکیں۔

 دعا ہے کہ ہم سب کو اس ماہ مقدس کا احترام کرنے اور اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہو۔ آمین

٭…٭…٭

 اور معاشرہ میں مروجہ اس غلط سوچ کا خاتمہ ممکن ہوسکے، ہم اس ماہ مقدس کی اہمیت، برکت اور فضیلت کو نظر انداز کرتے ہوئے محض دنیوی و عارضی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے کس طرح خسارے کا سودا کرتے ہیں ، اسلام ہمیں دوسروں کے کام آنے اور ان کی مشکلات کے خاتمہ کا درس دیتا ہے مگر ہم اس کے برعکس دوسروں کے لئے مسائل بڑھا کر اپنی دنیا و آخرت برباد کررہے ہی، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سیرت طیبہ سے راہنمائی لیتے ہوئے اپنا قبلہ درست کریں اور ماہ رمضان کی حرمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے دوسرں کے مسائل میں اضافہ کا باعث بننے کی بجائے اپنے قول و فعل کا تضاد دور کریں، یقینا جب تک گراں فروشی ، زخیرہ اندوزی اور مارکیٹ میں کسی چیز کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ناجائز منافع کمانے کی تیزی سے پروان چڑہتی سوچ ختم نہیں ہوجاتی حالات کی مثبت تبدیلی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا ممکن نہیں ہوگا اور اس کے لئے ہمیں صرف حکومت وقت پر ہی انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ انفرادی و اجتماعی سطح پر بحیثیت مسلمان اپنے فرائض بھی ادا کرنا چاہئے ورنہ یاد رہے کہ معاشرتی مسائل میں اضافہ کا باعث بن کر ہم خود اپنی عاقبت خراب کررہے ہیںجو کہ سراسر خسارے کا سودا ہے۔

  بدقسمتی سے آج ہم آئے روز نت نئے عذابوں کا شکار ہونے کے باوجود اپنا قبلہ درست نہیں کر رہے، ہمارا ملک قدرتی معدنیات غرض یہ کہ ہر قسم کی نعمتوں سے مالا مال  ہے لیکن ہم  دن بدن تباہی کی طرف جا رہے ہیں، ہر طرف نفسا نفسی کا دور ہے، کسی کی جان محفوظ ہے نہ ہی مال ، جھوٹ ، ریاکاری، بغض، حسد،  لوٹ مار، ظلم و بربریت، سودی نظام کے تحت کاروباری معاملات ، ناجائز منافع خوری، کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ  غرض یہ کہ آج ہم ان تمام گناہوں کے مرتکب ہو رہے ہیں جن کی وجہ سے پہلی قوموں پر اللہ کے عذاب نازل ہوتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم توبہ استغفار کرنے کی بجائے تما م مسائل اور مصائب کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرا کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں جو کسی بھی طرح درست نہیں ہماری  حکمرانوں سمیت  پوری پاکستانی قوم سے درخواست ہے کہ اجتماعی طور پر اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کیلئے اللہ کی بارگاہ میں عاجزی و انکساری اور خلوص نیت کے ساتھ دعا کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ عاجزی ، انکساری اور سچے دل سے کی جانے والی دعاکو خوش ہو کر قبول فرماتاہے ،یہی ایک ایسا عمل ہے جس کی بدولت ہم عذابوں سے چھٹکارہ پا سکتے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor