Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سانحہ پشاور …انسانی تاریخ کا المنا ک سانحہ (فکر و نظر۔ قاری محمد حنیف جالندھری)

سانحہ پشاور …انسانی تاریخ کا المنا ک سانحہ

فکر و نظر۔ قاری محمد حنیف جالندھری (شمارہ 476)

سانحہ پشاور پاکستانی تاریخ کا ہی نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا المناک ،افسوسناک اور د ل سوز سانحہ ہے ۔جس وقت یہ سانحہ پیش آیا اس وقت میں مکہ مکرمہ میں تھا ۔اس افسوسناک سانحہ کی خبر سن کر دل پارہ پارہ ہو گیا ،معصوم بچوں ،ان کی روتی بلکتی ماؤں ،ان کے سوگوار والدین اور ان کے غم وحزن میں ڈوبے رشتہ داروں اور خاص طور پر وطن عزیز پاکستان کے خونی حالات کے بارے میں سوچ سوچ کر دل خون کے آنسو رونے لگتا ،اس کیفیت میں حرم شریف میں حاضر ہوتا ،رب ذوالجلال کی بارگاہ میں دامن پھیلا کر اپنے وطن کے شہداء اور اس وطن کے استحکام وسلامتی کے لیے دعائیں کرتا رہا،صرف میں ہی نہیں حرمین شریفین کے ائمہ سے لے کر ہر کلمہ گو نے اس سانحے میں شہید ہونے والوں کے لیے دعائیں کیں ۔ اللہ رب العزت انہیں شرف قبولیت عطا فرمائیں ۔آمین

 سانحہ پشاور کے فوراً بعد پاکستان میں وفاق المدارس کے قائدین اور اکابر علماء کرام سے رابطہ کیا ۔واقعے کی بعد کی صورتحال پر اکابر سے مشاورت ہوئی اور فوری طور پر وفاق المدارس کی قیادت کی طرف سے کئی اقدامات اٹھائے گئے ۔

(1)پشاور اور گرد ونواح کے مدارس دینیہ کے ذمہ داران اور مساجد کے ائمہ وخطباء کو پابند کیا گیا کہ وہ شہداء کی تجہیز وتکفین ،ان کے لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی اور تعزیت ومعاونت کا اہتما م کریں۔

(2)اس کے ساتھ ساتھ فوری طور پر وفاق المدارس کے قائدین کی طرف سے اس سانحے کے حوالے سے مشترکہ مذمتی اور تعزیتی اخباری بیان جاری کیا گیا ، وفاق المدارس کے صدر شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان و نائب صدر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر اور وفاق المدارس کے بزرگ رہنماء مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی اور راقم الحرو ف کی طرف سے الگ الگ بیانا ت بھی جاری کئے گئے ،اگلے دن اسلام آباد میں ہنگامی پریس کا نفرنس کی گئی ، ان تمام بیانات اور پریس کانفرنس میں اس سانحہ کو قومی اور ملی سانحہ قراردیا گیا ،اس کے ذمہ داران کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کی گئی اور واضح کیا گیا کہ بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والوں کا اسلام تو کجا انسانیت سے بھی کوئی تعلق واسطہ نہیں تاہم اس با ت کا بھی واضح طور پر اعلان کیا گیا کہ سانحہ پشاور کی آڑ میں دینِ اسلام ،مذہبی طبقے اور خاص طور پر مدارس دینیہ کے بارے میں جھوٹے اور بے بنیا دپروپیگنڈے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی ۔پریس کانفرنس کے دوران 19 دسمبر2014 ء جمعہ المبارک کو یومِ دعا کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا ۔

(3) ملک بھر کی تمام مساجد کے ائمہ وخطباء کووفاق المدارس کی طرف سے ہدایا ت جاری کی گئیں کہ وہ جمعہ کے خطبا ت میں سانحہ پشاور کو موضوع بنائیں اور نمازِ جمعہ کے بعد سانحہ پشاور کے شہداء کے درجات کی بلندی ،زخمیوں کی صحتیابی ،شہداء کے ورثاء کے لیے صبرِ جمیل اور وطن عزیز پاکستان کی سلامتی واستحکام اور پاکستان دشمنوں کی ہلاکت وبربادی کے لیے دعاؤں کا اہتمام کریں۔

(4)اگلے روز یعنی ہفتے کو ملک بھر کے ہزاروں مدارس کے لاکھوں طلبہ وطالبات نے پشاو ر میں شہید ہونے والے اپنے بھائیوں کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور دعاؤں کا اہتمام کیا۔

(5) ان کے ساتھ اظہا ریکجہتی کے لیے بعض مقامات پر علامتی مظاہرے بھی کیے گئے ۔

لیکن بدقسمتی سے ان تمام سرگرمیوں خاص طور پر احتجاجی مظاہروں کو اتنی بھی کوریج نہیں دی گئی جتنی سول سوسائٹی کے نام پر جمع ہونے والے دس بارہ مرد وزن کو دی جاتی ہے اس پر سوائے افسوس کے اظہار کے اور کیا کیا جا سکتا ہے اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک صورتحال اس وقت پیش آئی جب اس سانحہ کی آڑ میں دینِ اسلام ، مذہبی طبقے اور خاص طور پر مدارس دینیہ کو بدترین الزام تراشی اور جھوٹے پروپیگنڈے کا سامنا کر نا پڑا ۔ہم یہاں یہ امر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ سطور بالا میں سانحہ پشاور پر وفاق المدارس کے جس طرز عمل اور ردعمل کا تذکرہ کیا گیا اسی قسم کے ردعمل کا اظہار ہم ہر سانحے کے بعد کرتے چلے آئے ہیں ۔ہم جب پیچھے پلٹ کر دیکھتے ہیں تو ہمیں قریب کے دو عشرے بالخصوص سانحات اور لہو سے بھر ے ہوئے نظر آتے ہیں ، کتنے نامی گرامی علماء کرام کو لہو میں نہلایا گیا ،کتنے بے گناہ بچے ڈرون حملوں کا نشانہ بنے ،کس طر ح باجوڑکے مدرسہ سے اسی (80 )سے زائد نعشیں اٹھانی پڑیں ،کس طرح لال مسجد لہو لہو ہوئی ،کس طرح دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی کا حادثہ ہو ا،جامعہ احسن العلوم ،بنوری ٹاؤن اور جامعہ بنوریہ کے اساتذہ وطلبہ کو کس بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا ۔ہم ہر سانحے کے بعد اسی طرح دعائیں اور مذمتیں کرتے رہے اور ہر انگلی اس کے باوجود مدارس دینیہ اور مذہبی قیادت کی طرف ہی اٹھتی رہی۔(حالیہ سانحہ کے بعد جس طرح مدارس دینیہ کو ہدف تنقید بنایا گیا اس پر الگ کالم میں وفاق المدارس کا موقف پیش کیا جائے گا انشااللہ )

سوال یہ ہے کہ مذہب تو دنیا میں ہمیشہ سے ہے ،مدارس دینیہ اورڈاڑھی پگڑی کا وجود تو قیام پاکستان سے پہلے بھی تھا اور بعد میں بھی رہا لیکن کبھی ڈاڑھی پگڑی یا مسجد ومدرسہ دہشت گردی کا سبب نہیں بنے۔ یہ گزشتہ دوعشروں کے دوران جو پاک وطن میں لہو بہہ رہا ہے اور مسلسل بہہ رہا ہے اس پر ہمیں ٹھنڈے دل ودماغ سے سوچنا تو ہو گا کہ آخر یہ سب کیوں ہو ا؟وفاق المدار س کے قائدین اور مذہبی رہنماؤں کے لیے زیادہ اذیت ناک امر یہ ہے کہ جس طرح ملک کے سیکولر انتہاپسند شہید وں میں بھی تقسیم وتفریق کرتے ہیں ،ایک بچے کو اپنا بچہ کہتے اور دوسرے بچے کے لہو کو ارزاں خیا ل کرتے ہیں ،ایک حادثے پر تو آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں اور دوسرے پر ٹس سے مس نہیں ہوتے ،ایک طرف وہ تشدد اور قتل وغارتگری کے پرچارک ہوتے ہیں اور دوسری طر ف امن کی فاختائیں اڑاتے پھرتے ہیں لیکن وفاق المدارس کے رہنماؤں اور وطنِ عزیز کے جید علما ء کرام نے ہمیشہ بلا تفریق ہر ظلم وزیادتی کی مذمت کی ،ہر قسم کی دہشت گردی سے برأت کا اظہار کیا ،ہر سانحے پر سوگوار ہوئے ،ہر موقع پر متحارب گروپوں کو جنگ بندی کا درس دیا اور ہر موقع پر دہشت گردی کے حقیقی اسباب وعوامل کی نشاندہی کر کے ان کی تلافی کی فکر کی اور آئندہ بھی ایسے ہی کرتے رہیں گے ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز میں محض وقتی اجلاسوں ،لفظی مباحثوں ،الزام تراشیوں اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں سے کچھ بھی نہیں ہو گا بلکہ پوری سنجیدگی اور فکر مندی کے ساتھ سب کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور اس وقت وطن عزیز جن وجوہات سے لہو لہو ہے انہیں دور کرنا ہو گا ۔اللہ رب العزت اس پاک وطن کو شش جہات سے اپنے حفظ وامان میں رکھیں۔ آمین

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor