Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

انسان کامل کا خلق عظیم (مولانا عبدالنعیم)

انسان کامل کا خلق عظیم

مولانا عبدالنعیم (شمارہ 476)

حضوراقدس ﷺ نبوت ورسالت کے منصب پر فائزہونے سے پہلے بھی اخلاق حسنہ کا بہترین نمونہ تھے اور یہی وجہ تھی کہ آ  پ ؑ اہل مکہ میں صادق اور امین کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔والدہ محترمہ کی رحلت کے بعدآپ ؑ کے دادا عبدالمطلب نے آپکی پرورش کا ذمہ لیا۔وہ اپنے یتیم پوتے سے بے حد محبت کرتے تھے،جب تک وہ نہ آتا قبیلہ بنو ہاشم کے شیخ اپنے لیے کھانے کا دسترخوان بچھانے کی اجازت نہ دیتے۔روایت ہے کہ عبدالمطلب جو قریش کے رئیس اعظم تھے کعبے کی دیوار کے سائے میں مسند لگا کر بیٹھتے تھے،مسندکے اردگردفرش بچھادیاجاتا تھااورعبدالمطلب کے بیٹے باپ کی مسند کے قریب زمین پر بیٹھا کرتے اور بزرگ خاندان کے احترام کے پیش نظرمسند کے فرش پر قدم رکھنا سوء ادب خیال کرتے ۔لیکن چھ سال کا پوتادادا کے پاس جاکر مسندپر جا بیٹھتا،اور عبدالمطلب اسکی پیٹھ پراپنا دست شفقت پھیرتے اور اسے دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے ۔اگر کوئی چچا تقاضائے ادب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس در یتیم کو فرش مسند سے اتارنے کی خاطراپنے پاس بلاتاتوعبدالمطلب فرماتے ’’نہیں میرے بیٹے کو میرے پاس ہی بیٹھنے دو خدا کی قسم اس کی شان بہت بلند ہے‘‘۔آپؑ غیرمعمولی طورپرخوش اخلاق واطوار کے مالک تھے اور یہی وجہ تھی کہ خاندان کے سبھی افراد آپؑ کوغیر معمولی محبت کی نگاہ سے دیکھتے اورخاندان کی قابل فخر متاع تصور کرتے تھے۔بیس برس کی عمر میں آپ ؑمظلوموں کی داد رسی کے اس معاہدے میں شامل ہوئے جوحلف الفضول کے نام سے موسوم ہے اور جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس عمر تک پہچتے وقت آپ مکہ کی سوسائٹی میں اخلاق حسنہ اور حس انصاف رکھنے والے اصحاب میں شمار کیے جاتے تھے۔پچیس برس کی عمر تک پہچتے وقت آپ ؑ کے حسن اخلاق اورحسن معاملت کے چرچے مکہ بھر میں بلند ہونے لگے اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ انہی اوصاف سے متأثر ہوکر آپ ؑ کے عقد زوجیت میں آئیں ۔پینتیس برس کی عمر میں آپ ؑ نے حجراسوداس جگہ پر نصب کرنے کی سعادت حاصل کی اور قبائل قریش کو خوفناک خانہ جنگی میں مبتلا ہونے سے بچایا۔یہ واقعہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ منصب نبوت پر فائز ہونے سے پہلے آپؑ اپنی قوم کے لوگوں میں بہت معززومحترم تھے۔

حسن ملاقات:رسول اللہ ﷺ ہر ملنے والے کو خندہ پیشانی کیساتھ سلام کہتے اور اس میں سبقت فرماتے تھے۔آپ ؑ صحابہ کرام ؓ کو بھی تاکید فرماتے کہ ایک دوسرے سے ملو تو سلام کہو اورمصافحہ کرو تاکہ باہمی محبت واخلاص بڑھے۔ترمذی اور ابوداؤد شریف میں حدیث موجود ہے حضرت ابو امامہ ؓ راوی ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ’’تم میں سے اللہ کے نزدیک وہ شخص افضل ہے جوسلام کرنے میں پہل کرتا ہے۔بیہقی میں حضرت واثلہ بن الخطاب سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے ایک شخص آیا ،آپ اسے جگہ دینے کے لیے ایک طرف سرک گئے ۔اس شخص نے کہا ’’یا رسول اللہ ‘‘آپ نے کیوں تکلیف فرمائی ؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان کا حق یہ ہے کہ جب اسکا بھائی ملاقات کے لیے آئے تواسے جگہ دینے کے لیے خود سرک جائے۔

حسن خلق:حضرت انس بن مالک ؓ نے بیان کیا ہے کہ میں نے دس برس رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی اور اسی دوران آپؑ نے کبھی بھی مجھے اف تک نہ کہا اورنہ کبھی یہ کہا کہ کہ تم نے فلاں کام کیو ں نہیں کیا ۔آپ ﷺ تمام لوگوں میں بہترین خلق کے مالک تھے(بخاری ومسلم)

حضرت علی ؓ اپنے بیٹے حسین ؓ کو بتا رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں ہر بیٹھنے والاہرشخص یہ خیال کرتا تھا کہ رسول خدا کے نزدیک سب سے زیادہ میں ہی مکرم ہوں۔آپ ؑہر ایک کی بات بڑے تحمل سے سنتے ،ہرشخص کی حاجت براری کرتے۔آپ ؑ کی کشادہ روئی اورخوش خلقی نے لوگوں کا احاطہ کرلیا تھااور آپ ؑ سب لوگوں کے باپ بن گئے تھے اور سب لوگ آپ ؑ کے نزدیک حق میں برابر تھے۔(کتاب الشفا)

حسن شفقت:حضوراقدس ﷺ بچوں،عورتوںاور عاجزوضرورت مندلوگوں پر بے حد شفقت فرماتے۔ایک صحابی راوی ہیں کہ ایک بار میں ڈھیلے(پتھر)مارمار کر کھجوریں گرارہا تھاکہ لوگ مجھے پکڑ کر آپ ؑ کی خدمت میں لے گئے۔آپؑ نے پوچھا کہ تم کجھوروں پر پتھر کیوں مار رہے تھے  میں نے کہا کہ کجھوریں کھانے کے لیے ۔آپؑ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا ،دعا دی اور پھرفرمایا پتھر اور ڈھیلے نہ مارا کرو زمیں پر جو کجھوریں گری ہوئی ہوں انہیں اٹھا کر کھالیا کرو(ابوداؤد)زید بن حارثہ ؓ  آپ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے ،آپ زید کے ننھے بیٹے اسامہ سے بہت پیار کرتے اور اسکی ناک اپنے ہاتھ سے صاف کردیتے۔آپ ؓ فرماتے اسامہ لڑکی ہوتی تو میں اسکو زیور پہناتا۔(بخاری ومسلم)حضوراقدس ﷺ ہر لڑائی کے موقع پر کفار کے بچوں اور عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہرجان ا،للہ کی فطرت پر پیدا ہوتی ہے۔

عیادت وتعزیت:رسول اکرم ﷺ کی عادت میں شامل تھا کہ کوئی شخص بیمار ہوتا تو اسکی عیادت کرتے اور کوئی شخص فوت ہوجاتا تو اسکی نماز جنازہ میں شریک ہوتے اور پسماندگان سے تعزیت کرتے۔رسول اللہ ﷺ عبدللہ بن ثابت ؓ کی بیمار پرسی کے لیے تشریف لے گئے ۔انہیں عالم نزع میں دیکھ کرفرمایا افسوس ابوالربیع تمھارے معاملے میں ہم اب بے بس ہیں ۔یہ سن کر گھر کی عورتیں چیخنے چلانے لگیں،صحابہ ؓ نے انہیں رونے سے منع کرنا چاہا توآپ ؑ نے فرمایا کہ اب رونے دوالبتہ مرنے کے بعد نوحہ نہیں کرنا چاہیے۔وفات کے بعد عبداللہ بن ثابت کی بیٹی نے عرض کیا کہ میرے ابا شہادت کا درجہ حاصل کرنے کے خواہش مند تھے اور انہوں نے اس نیت سے جہاد کا سامان بھی تیار کرلیا تھا ۔آپؑ نے فرمایا کہ انہیں اپنی نیت کا ثواب مل گیا (ابوداؤد)

مہمان نوازی :قریش اور عربوں کی ایک خصوصیت مہمان نوازی تھی اور رسول اللہ ﷺ اس میں بھی سب سے ممتاز تھے ۔ایک بار ایک غفاری آپ ؑ کا مہمان بن کر آیا ،کاشانہ نبوت میں اس وقت صرف بکری کا دودھ تھا  اسکے سوا اور کوئی چیزکھانے یا کھلانے کے لیے نہیں تھی ۔رسول اکرم ﷺ نے وہ دودھ مہمان کو پلادیا ،آپ ﷺ اور آپکے اہل خانہ اس رات فاقے سے رہے اس سے پچھلی رات بھی فاقہ سے گزری تھی۔بارگاہ نبوت میں کثرت سے باہر کے مہمان آتے تھے ۔فتح مکہ کے بعدتو اطراف سے قبائل کے وفود جوق در جوق آنے لگے ۔کچھ مہمان مسجد نبوی میں ٹہرائے جاتے ۔اسکے علاوہ رملہ نامی ایک صحابیہ اور ام شریک نامی ایک انصاریہ کا گھربارگاہ نبوت کا مستقل مہمان خانہ تھا جہاں باہر سے آ‘ئے ہوئے مہمان ٹھہرتے اور انکی خاطر مدارات کا اعلیٰ انتظام کیا جاتا تھا۔اسی طرح نجران کے عیسائیوں کا ایک وفدآپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوااورآپ ﷺنے انکی خوب مہمان نوازی کی۔

صبروتحمل:مکہ میں کفاراور مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کو طرح طرح کی ایذائیں دیں لیکن آپ ﷺ نے ہر موقع پرصبروتحمل سے کام لیا ۔ہرقسم کی سختیوں کو صبروتحمل سے برداشت کیا ۔کتب سیر میں بیشمار واقعات موجود ہیں۔عقبہ بن ابی معیط نے ابو جہل کے کہنے پر اونٹ کا اوجھ غلاظت سمیت آپ ﷺ کی پیٹھ پر رکھ دیاجبکہ آپ ؑ خانہ کعبہ میں خدائے واحد کے سامنے سجدہ ریز تھے۔نہ آپ نے عقبہ سے کچھ کہا اورنہ ابو جہل سے تعرض کیا ۔حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی عالم تھا رسول ﷺ نے اس سے کچھ درہم قرض پر لے رکھے تھے۔یہودی نے قرض کی ادئیگی کاتقاضا کیا ۔آپ ﷺ نے فرمایا اس وقت تو میرے پاس کچھ نہیںکہ میں تیرا قرض ادا کرسکوں۔یہودہی نے کہا کہ میں آپ کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گاجب میرا قرض ادا نہیں کردیں گے۔آپ ﷺ نے وہیں ظہر،عصر،مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں ۔آپ کے چند ساتھی جو وہاں جمع ہوگئے تھے انہوں نے یہودی کو ڈرانے کی کوشش کی ،جب حضور اقدس ﷺ کو پتہ چلا توآپ ﷺ نے سختی سے منع کیا اورارشاد فرمایا کہ اللہ نے مجھے منع کررکھا ہے کہ عہد والے شخص پریا کسی اور پر ظلم کروں،چنانچہ آپﷺ رات بھر وہاں بیٹھے رہے۔صبح ہوئی تو یہودی نے کلمہ شہادت پڑھا اور مسلمان ہوگیا اور کہنے لگا کہ میں اپنا آدھا مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں ،یارسول اللہ میں نے آپ سے سختی اس وجہ سے کی کہ تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ تورات میں جو آپ کی تعریف اور توصیف بیان ہوئی ہے آپ اس پر پورا اترتے ہیں یا نہیں ۔اور وہ صفت یہ ہے کہ اللہ کا آخری رسول محمدبن عبداللہ ہے ،نہ وہ سخت دل اور نہ بازاروں میں چلا چلا کر بولنے والا اور نہ ہی بے ہودہ گوہ۔اب میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے ما سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک آپ اللہ کے آخری رسول ہیں ،یہ مال حاضر ہے آپ اسے اللہ کے حکم  کے مطابق خرچ کردیں ،وہ یہودی بہت زیادہ مالدار تھا ۔

تحفے لینا اورتحفے دینا:رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ کہ آپس میں تحفے دو اور محبت بڑھاؤ،خود رسول ﷺ صحابہ ؓ کو کثرت سے تحائف دیا کرتے تھے،اور جو تحائف آپکی خدمت میں پیش کیے جاتے تھے انہیں خندہ پیشانی سے قبول کر لیتے،یمن کے بادشاہ ذی یزن نے ایک قیمتی حلہ،جو چھیاسٹھ اونٹ دے کر خریدا گیا تھا،حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں بطور گفٹ بھیجا ،جواب میں آپ ﷺ نے بھی اسے ایک حلہ تحفے میں دیا جو آپ ؑ نے بیس اونٹوں کے عوض خریدا تھا (ابوداؤد)صحابہ کرام ؓ اکثر خوردونوش کی اشیا ء رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ہدیہ کے طورپر بھیجتے  جنہیں آپ ﷺ قبول فرماتے اور خود بھی اپنے دسترخوان کے کھانے صحابہ ؓ کو ہدیہ فرماتے جسے وہ اپنے لیے باعث فخر وبرکت خیال کرتے۔حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تحفہ قبول فرماتے اور اسکا صلہ دیا کرتے تھے۔(بخاری)

حسن معاملہ:اچھے اخلاق اور عمدہ کردار کی اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ انسان معاملات کے حوالے سے صاف وشفاف ہو کسی پر ظلم یا زیادتی نہ کرے اور جو وعدہ کرے اسے پورا کر کے دکھائے۔رسالت و نبوت کے منصب پر مامور ہونے سے پہلے حضرت محمدﷺ اتنے دیانتدار اور خوش معاملہ تھے کہ اہل مکہ نے آپ کو صادق الامین کا لقب دے رکھا تھا،آپ ﷺ کی جان کے دشمن بھی یہ کہا کرتے تھے کہ ہم نے کبھی آپ کو جھوٹ بولتے نہیں دیکھا ،ایک مرتبہ رسول خدا ﷺ نے ایک شخص سے کچھ کجھوریں قرض لیں  چند روز بعد وہ آیا تو آپ ﷺ نے ایک انصاری صحابی سے فرمایا اسکا قرض چکا دو ،مگر جو کھجوریں اس انصاری صحابی قرض خواہ کو دیں  اسنے یہ کہ کر لینے سے انکار کردیا کہ میری کجھوریں اس سے زیادہ اچھی تھیں۔انصاری نے کہا کہ تم رسول اللہ ﷺ کی دی ہوئی کجھوریں لینے سے انکار کر رہے ہو ،یہ بے ادبی ہے اسنے جواب دیا کہ میں عدل کی امید رسول اللہ ﷺ سے نہ رکھوں تو کس سے رکھوں ۔یہ سن کر حضوراقدس ﷺ کی آنکھوں سے آنسوں نکل آئے ،آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ سچ کہتا ہے ۔ اسے اسکی پسند کی کجھوریں دلوائی گئیں ۔ (مسنداحمدبن حنبل)             (جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor