بی جے پی کے عزائم سامنے آگئے (سہیل احمد)

بی جے پی کے عزائم سامنے آگئے

سہیل احمد (شمارہ 477)

آج سے تقریباً آٹھ سو بائیس سال قبل مرد مجاہد سلطان شہاب الدین غوری نے اپنی ایک لاکھ 20 ہزار کی فوج کی مدد سے ترائن کے میدان میں پرتھوی راج کو جسے تقریباً 150 کے قریب راجوں مہاراجوں کی فوج کی حمایت حاصل تھی کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا تھا۔ پرتھوی راج کی فوج کو تین ہزار ہاتھیوں کی فوج کے ہر اول دستے کی بھی حمایت حاصل تھی ، ہاتھیوں کی اتنی بڑی فوج کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اسکے باوجود سلطان شہاب الدین غوری نے اپنے سے کئی گناہ زیادہ فوج کو عبرتناک شکست دی ، پرتھوی راج گرفتار ہونے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ اس سے پہلے سلطان محمود غزنوی جو کہ بت شکنی کے طور پر تاریخ میں پہچانے جاتے ہیں نے 1021میں لاہور اور 1027 میں سومنات کو فتح کر کے ہندؤں کو وہ زخم پہنچائے تھے جو ایک ہزار سال گزرنے کے باوجود انہیں ہضم نہیں ہو رہے ۔

مسلمان حکمرانوں جنہوں نے ہندوستان پر ایک ہزار سال تک حکومت کی میں سے کسی حکمران نے بھی ہندؤں کو زبردستی مسلمان بنانے کی کوشش نہیں کی۔اور نہ ہی انہوں نے مذہبی آزادی پر کوئی قد غن لگائی ، اگر انہوں نے دعوت و تبلیغ کا کام کیا ہوتا تو آج ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں نہ ہوتے لیکن اسکے باوجود سیکولرملک کہلوانے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوری حکومت ہونے کے دعویدار ہندوستان میں آج اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو زبر دستی ہندو بنانے کی مہم زورو شور سے جاری ہے۔

 بھارتی حکمران جماعت بی جے پی اسکی حلیف جماعت راشٹر یہ سیوک سنگھ (RSS) دیگر ہندو کٹر جماعتوں کی حمایت حاصل ہے نے نو مسلموں کو دوبارہ ہندو بنانے کے لئے اپنی مہم تیز کر دی ہے۔ درسی کتب میں ہندو مذہب کا مواد زبر دستی مسلمانوں کو پڑھایا جا رہا ہے۔حکمران جماعتوں نے گھر واپسی مہم کے نام سے شدھی کا عمل شروع کر رکھا ہے۔جن پر اربوں روپے کی رقوم کمزور اور غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں اور عیسائیوں کو راشن ، ڈومیسائل ، نوکری ، تعلیم کاجھانسا اور دباؤ دیکر انہیں ہندو مت اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔کئی مفلوک الحال نو مسلموں کو فی کس دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرنے پر 25000کی آفر کی جا رہی ہے۔ بی جے پی کی حکومت نے اسلام قبول کرنے والے نومسلموں کو دوبارہ ہندو بنانے کی مہم کے لئے 10ارب روپے کی رقم مختص کی ہے، اسکے علاوہ بھارتی دہشت گرد جماعتیں بجرنگ دل، دھرم جگ رنگ، راشتڑیہ، سیوک سنگھ بھاری رقوم کے ساتھ ساتھ قتل و اغوا کی دھمکیوں کے ذریعے بھی اپنی مہم جاری رکھے ہو ئے ہیں۔ علی گڑہ کے علاقے میں ہندو مجسٹریٹ کو مسلمانوں کے سخت دباؤ کے بعد ایسی ہی ایک تقریب کو منسوخ کرنا پڑا، جسمیں نو مسلم ممسلمانوں کے سا تھ ساتھ دیگر اقلیتوں کو ہندو بنانے کا پروگرام تھا۔ آگرہ کے تاریخی شہر میں بھی مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانے کی کو شش کرنے والے ایک ہندو کشور کمار نے اقبال جرم کے بعد اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا۔بھارتی پالیمنٹ میں بھی اپوزیشن جماعتیں حکومت کی اس مہم سازی کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں۔ لیکن معلوم ایسا ہوتا ہے کہ بی جے پی جیسی انتہا پسند جماعت اپنے منشورکو عملی جامہ پہنانے پر بضد ہے۔ وہ مسلمانوں کو خصوصاً جنہوں نے ایک ہزار سال تک ہندوستان میں اپنی حکمرانی کے دوران انہین مکمل مذہبی آزادی دی، خلاف شرع ہندو لڑکیوں سے شادیاں تک کیں، ہندووانہ رسومات اور بدعات کو پروان چڑھایا۔بی جے پی کے حکمران مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ دور حکومت کا بدلہ چکانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔

  انکے اس متعصبانہ اور مسلم کش اقدامات کے خلاف بابری مسجد ایکشن کمیٹی مراد آباد کے صدر مولانا سعید احمد نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہماری مسجدوں ، گھروں ، کاروبار اور مذہب کو حکومت نے تحفظ فراہم نہ کیا تو یہ اس بات کا عندیہ ہے کہ مسلمان اپنے تحفظ کے لئے ہتھیار اٹھا لیں، مولانا کے مطابق موجودہ سال کے گیارہ ماہ میں اتر پردیش کے صوبوں میں 600مسلم کش فسادات کروائے گئے جسمیں مسلمانوں کا شدید جانی و مالی نقصان ہوا، انہوں نے کہا کہ اگر ایک صوبے میں یہ حال ہے تو پورے ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی کیا حالت ہوگی اندازہ لگالیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے اندر ایک لاوا پک رہا ہے، جو کبھی بھی پھٹ سکتا ہے جسکی تمام تر ذمہ داری بی جے پی اور اسکی حلیف جماعتوں پر ہوگی۔ بھارتی علمائے کرام نے بھی 25دسمبر کو UPکی حکومت کے خلاف احتجاجی مارچ کا انعقاد کیا۔ ہندوستان جہاں پہلے ہی 300سے زائد  علیحدگی پسند تحاریک چل رہی ہیں  نے اگر ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمان جنکی ہندوستان میں تعداد 30کرور کے قریب ہے کے خلاف جارحانہ، مذہبی منافرت اور متعصبانہ کاروائیوں کو نقیل نہ ڈالی تو وہ دن دور نہیں کہ دنیا کی دوسری بڑی آبادی والا ملک کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے۔ہندوستان کے پڑوسی افغانستان جہان پہلے ہی نیٹو کی  28ملکوں کی فوجوں نے بری طرح شکست کھانے کے بعد اپنا بوریا بسترا سمیٹ کر فرار کا راستہ اختیار کیا ہے۔ جبکہ امریکہ بھی فرار کا راستہ ڈھونڈ رہا ہے میں وہ دن دور نہیں جب وہاں حقیقی مجاہدین طالبان کی حکومت ہوگی اور وہ بھی اپنے ہندوستان کے مسلمان بھائیوں کی ہر ممکن مدد کریں گے ۔ہندوستان کی موجودہ حکومت کی کاروائیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آ بیل مجھے مار والی کہاو ت پر عمل پیرا ہے اور ہمارے نبیﷺ کی اس پیشن گوئی کو پورا کرنے کے لئے تمام تر ماحول بنا رہے ہیں، جسمیں ہمارے نبی ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے ’’ ہندوستان کو مجاہدین فتح کریں گے اور وہاں کے حکمرانوں کو بیڑیاں ڈال کر لایا جائے گا۔ ہندوستان جو اندرونی طور پر پاکستان کی طرح بے پناہ مسائل کا شکار ہے جن میں بے روزگاری، غربت، علیحدگی پسند تحاریک، سیاسی عدم استحکام، کرپشن وغیرہ قابل ذکر ہیں کو چاہئے کہ وہ اپنی ایک ارب تیس کروڑ کی آبادی کو بنیادی ضروریات زندگی کی سہولیات مہیا کرنے کے لئے اپنے تمام تر وسائل کو استعمال کرے۔ اسنے ایک طرف افغانستان میں اپنے قو نصل خانوں کے لئے پاکستان میں تخریبی کاروائیوں کا آغاز کر رکھا ہے۔ آرمی پبلک سکول میں کی جانے والی دہشت گردی کی واردات میں بھی جسمیں 130کے قریب نوجوان طالبعلم اور اساتذہ شہید ہو گئے میں بھی وہ ملوث ہے اور دوسری جانب افغانستان میں بھی اسکا کردار مجاہدین طالبان مخالف ہے اگر اسنے اپنی جارحانہ اور ظالمانہ پالیسی کو تبدیل نہ کیا تو اسکے حصے بخرے ہونے میں جو چند سال با قی ہیں وہ سمٹ کر کم ہو جائیں گے ۔ پاکستان کے حکمرانوں کو بھی چاہئے کہ وہ ہندوستان سے پینگیں بڑھانے کے بجائے کھل کر انکی مسلم کش پالیسیوں کے خلاف عملی کام کریں۔

٭…٭…٭