Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

انسان کامل کا خلق عظیم۔۲ (مولانا عبدالنعیم)

انسان کامل کا خلق عظیم۔۲

مولانا عبدالنعیم (شمارہ 477)

ایک مرتبہ رؤسائے قریش نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا مقابلہ کرنے کی تدابیرسوچنے کے لیے مجلس مشاورت منعقد کی ،اسمیں ایک معمر مشرک نضربن حارث نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ محمد تمھارے سامنے بچے سے جوان ہوا ،وہ تم میں زیادہ  پسندیدہ اطوار رکھنے والا قول وفعل کا سچا اور امانت دار تھا ،اب اسکے بالوں میں سفیدی آگئی ہے اور اسنے تمھارے سامنے یہ باتیں پیش کی ہیں  تو تم جواب میں کہتے ہو کہ وہ ساحر اور جادو گر ہے ،مجنون ہے شاعر ہے ،خدا کی قسم میں نے محمد ﷺ کی باتیں سنی ہیں اسمیں کوئی ایسی بات نہیں جو تم کہ رہے ہو(ابن ہشام)حضرت جابربن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ مجھے ایک یہودی کا قرض دینا تھا کجھوروں کی فصل پر قرض دینے کا وعدہ تھا لیکن اس سال میرے نخلستان کی فصل اچھی نہ تھی ۔یہودی نے باغ میں آکر قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تومیں اس سے اگلی فصل کی مہلت مانگی مگر وہ ادائیگی پر اڑا رہا ،میں نے حضوراقدس ﷺ کیم خدمت میں حاضر ہوکر سارا معاملہ عرض کیا۔آپ ﷺ نے اسے بہت سمجھایا کہ مہلت دے دے مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔اسپر آپ ﷺ کجھوروں کے جھنڈ میں آکر کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ اللہ کا نام لے کر پھل اتارو،پھل اتارا گیا تواتنی کجھوریں اتریں کہ یہودی کا قرض ادا کرنے بعد بھی کجھوریں بچ گئیں(بخاری)

حسن معیشت:منصب نبوت پر فائز ہونے سے پہلے رسول اللہ ﷺ کا ذریعہ معاش تجارت تھا ۔صغرسنی میں اجرت پربھیڑ بکریاں چرانے کا کام کیا ،ہجرت کے بعد مدینہ پہنچے تو تبلیغ رسالت کے علاوہ حضورﷺ مسلمانوں کے رئیس حکومت قاضی،امیرعساکر،اور معلم کی حیثیت سے اپنے اوقات صرف کرنے لگے،لہذاحصول معاش کی طرف توجہ نہ دے سکنے کے باعث کچھ عرصہ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مہمان رہے۔بیت المال سے جو وقتی چندوں صدقات،زکوٰۃ،خراج،اور مال غنیمت کی صورت میں اکٹھا ہوتا اپنی ذات یا اپنے اہل و عیال پرایک ذرہ بھی صرف نہیں فرماتے تھے۔وہ سارے کا سارا مال روز کے روز عام مسلمانوں میں اور مسکین میں تقسیم کردیا کرتے تھے۔

معاش کی کیفیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ حضور ﷺ بس اتنا اور اس قدر اہتمام فرماتے جوآپ کی اور اہل بیت کی اشد ضرورت کے لیے کافی ہو ۔اس سے زیادہ آپ ﷺ نے زیادہ نہ خواہش کی نہ کوشش کی۔جودوسخا کایہ عالم تھا کہاس قلیل معاش میں سے بھی اکثر انفاق فی سبیل اللہ فرماتے اور اپنی ضروریات سے اس حد تک قطع نظر کرلیتے کہ بسا اوقات فاقوں کی نوبت آجاتی(بخاری ومسلم)

یااللہ ہم سب مسلمانوں کو اپنے پیارے پیغمبراور آخری نبی جناب محمد ﷺ کی سیرت طیبہ کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی توفیق دے،اور ہمیں ہر معاملہ میں آپﷺ کی کامل اتباع نصیب فرمائے۔آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor