دفاع صحابہ ؓ کے محاذپرمولانامحمدنافع ؒ کی خدمات…ایک جائزہ (محمد جہان یعقوب)

دفاع صحابہ ؓ کے محاذپرمولانامحمدنافع ؒ کی خدمات…ایک جائزہ

محمد جہان یعقوب (شمارہ 478)

ایک اور نابغہ روزگار شخصیت حضرت مولانا محمد نافعؒ بھی اِنتقال کرگئے۔ آپ کا اِنتقال فیصل آباد کے ہسپتال میں30؍ دِسمبر 2014ئ؁ کی شب سوا دَس بجے ہوا۔ماشاء اللہ آ پ ؒ نے تقریباً سو سال عمر پائی۔ آخر وقت تک دل و دماغ، حافظہ، علوم کا استحضار حیرت انگیز طور پر برابر کام کررہا تھا۔ایسے بزرگوں کی وَفات پر جنابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشاد ’’یَرْفَعُ اللّٰہُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَائ‘‘ کی عملی تصویر تو ذہن میں پھر سے تازَہ ہوجاتی ہے۔

چنیوٹ جامعہ آبادکے مغربی جانب ’’محمدی شریف‘‘ کے نام سے ایک گاؤںہے۔ یہاں ایک بزرگ عالم دِین حضرت مولانا عبد الغفور صاحبؒ ؒ کوتقریباًایک صدی قبل اللہ رَبُّ العزت نے تین صاحب زادے عطافرمائے، اُنھوں نے اپنے سب سے چھوٹے صاحب زادے کانام ’’محمد نافع‘‘ رکھا،اس کاپس منظرمیں بڑادل چسپ ہے،آپ بھی ملاحظہ فرمائیے!           ٰیہ1914ء کی بات ہے ،مولانا عبد الغفور ؒ سفر حج کی سعادَت کے لیے مکہ مکرمہ پہنچے،مناسک حج کی ادائیگی سے فراغت کے بعد مدینۃ الرسول کی زِیارَت کا شوق دِل میں انگڑائیاں لینے لگا، یہ وہ دور تھا جب یہ سفر بذرِیعہ اُونٹ قطع کیا جاتا تھا، اس کے لیے جب کو شش کی گئی تو ’’نافع‘‘ نامی شتر بان سے اُجرت پر سوارِی کا اُونٹ دَستیاب ہوا، شتربان اتنا شریف النفس اور عالی اخلاق انسان تھا کہ مولانا عبد الغفور ؒ  نے شتر بان کا یہ خوب صورَت نامم دماغ کے دَرِیچے میں ایک پیاری سی نیت کر کے محفوظ کرلیا، سفرحج سے واپسی کے ایک ہی سال بعدجب ان کے گھر ایک نومولو دنے آنکھ کھولی توانھوں نے اس نو مولود کے لیے اُس مدنی شتربان کے نام پر اِسم ’’نافع‘‘ کا اِنتخاب کیااور تبریکاً ساتھ اسم گرامی ’’محمد‘‘ کو لگا کر پو را نام ’’محمد نافع ‘‘ رَکھا۔

 حضرت مولانامحمدنافع ؒ اپنے اساتذہ کی طرح دین کے ہرشعبے میں پیش پیش رہے ،تاہم رد رفض ان کاحاص موضوع رہا،اسی حوالے سے  ان کی خدمات کاایک سرسری جائزہ ہمارموضوع تحریرہے۔ا س تلخ حقیقت سے مجال انکارنہیں کہ رافضیت نے دین اسلام کو بہت نقصان پہنچایا، کلام اللہ کو نامکمل باور کرایا، حضراتِ صحابہؓ پر تبرا کیا، ختم نبوت کو زک پہنچانے کی کوشش کی، غرض تاریخ اسلام کو مسخ کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا۔ لیکن پہلے دِن سے اللہ کے نیک بندے سینہ سپر ہوکر میدان میں اُترے اور ہر محاذ پر حقیقت کو اُمت مسلمہ کے سامنے واضح کیا، قرآنِ کریم کی تفاسیر لکھیں، سیرت پر دستاویزیں تیار کیں، ختم نبوت کے عقیدہ کو تقریروں اور تحریروں میں واضح کیا، حضراتِ صحابہؓ کے حالاتِ زندگی پر کئی کئی جلدیں لکھ ڈالیں۔لیکن یہ سارا کام بہت ہی سلجھے ہوئے انداز میں کیا گیا،چنانچہ مولانا عبد الشکور لکھنویؒ، مولانا سیّد نور الحسن شاہ بخاریؒ، مولانا دوست محمد قریشیؒ، مولانا قاضی مظہر حسینؒ، مولانا محمد سرفراز خان صفدر،علامہ محمد عبد الستار تونسویؒ جیسے متاخرین کے ساتھ ساتھ مورخ اسلام حضرت مولاناابوریحان علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شہید،علامہ علی شیرحیدری شہیداورمولانامحمداعظم طارق شہیدؒ ایسے حضرات کی ایک لمبی فہرست ہے جنہوں نے سلجھے ہوئے انداز اور بہت ہی شائستہ طریقہ سے حضراتِ صحابہؓ کی سیرت کو بیان کر کے رافضیت کے تار و پود بکھیر کر رکھ دئیے۔

حضرت مولانا محمد نافعؒ نے 33۱۹؁ء میں قرآنِ کریم حفظ مکمل کیا، اس کے بعد اِبتدائی دِینی کتب کی تعلیم سے فراغت کے بعدحضرت مولانا محمد نافعؒ نے عالم اِسلام کی مایۂ ناز یونیورسٹی دَارُالعلوم دِیوبند میں دَاخلہ لیا اور دورۂ حدیث مکمل کیا، دورۂ حدیث میںحضرت مولانا محمد نافعؒ نے شیخ الادب اعزاز العلماء حضرت مو لا نا محمد اعزاز علی صاحبؒ، جامع المعقول والمنقول حضرت مو لا نا محمد اِبراہیم بلیاویؒ اور مفتی اعظم حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ سے اِستفادَہ کیا۔فراغت کے بعد محمدی شریف کے مقامی اِدارہ ’’جامعہ محمدی ‘‘ میں سلسلۂ تدرِیس شروع کیا۔حضرت مولانا محمد نافعؒ  ؒ نے دارالعلوم دیوبند سے سندفراغت حاصل کرنے کے بعدتدریس کے ساتھ ساتھ تنظیم اہل سنت والجماعت ،جس کے رہنماؤں میں مولانا نور الحسن بخاریؒ، مولانا دوست محمد قریشیؒ اور علامہ عبد الستار تونسویؒ شامل ہیں،کے پلیٹ فارم سے رد رفض پر کام شروع کیا، تنظیم کا ہفت روزہ الدعوہ نکلتا تھا اس میں ’’تحقیقاتِ نافعہ‘‘ کے عنوان سے مختلف موضوعات پر مضامین لکھنے شروع کیے، آپ کے استاذ مولانا احمد شاہ بخاریؒ ماہنامہ الفاروق کے نام سے ایک رسالہ نکالتے تھے اس کے لیے بھی کئی مضامین لکھے۔ آپ کے مضامین نے بہت جلد قارئین میں ایک حلقہ پیدا کرلیا۔حضرت مولانا محمد نافعؒ ایک بزرگ، متبحر اور نکتہ رَس عالم دِین تھے، آپ نے پوری عمر عظمت صحابہ رِضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے کام کیا، اعتدال میں اپنی مثال آپ تھے، حضرت مولانا محمد نافعؒ کی تصانیف معلومات کا خزانہ ہیں، مولانا محمد نافعؒ نے جس جس موضوع پر قلم اُٹھایا، دِیانت دارِی کی بات ہے کہ اُس کا حق ادَا کردِیا۔

انھوں نے اپنی پوری زندگی گمنامی میں جھنگ کے ایک چھوٹے سے دیہات میں گزار گئے، لیکن دنیا کے راحت و آرام کے حصول کی کبھی تمنا نہیں کی، ایسی حالت میں جہاں دنیا کی کوئی خاص سہولت بھی میسر نہ تھی، حضراتِ صحابہؓ کی سیرت پر دسیوں کتابیں لکھیں، اور اُمت کے سامنے پیش کرنے کے لیے ’’مشاجراتِ صحابہؓ‘‘ کے مسئلہ کو منتخب کیا جہاں قلم کی جولانیاں دِکھاتے ہوئے بہت سوں کی ٹانگیں پھسل گئی ہیں اور کئی اہل قلم راہِ اعتدال سے بھٹک گئے ہیں، لیکن حضرت مولاناؒ نے ایسے آسان انداز میں اعتدال کے ساتھ اہل سنت والجماعت کے مؤقف کو پیش کیا کہ اہل علم عش عش کر اٹھے۔ علمی دُنیا اُنہیں اہل سنت والجماعت کے علمی ترجمان اور صحابہ کرامؓ کے ناموس و وقار کے تحفظ کی علامت کے طور پر جانتی ہے۔ حضرتؒ کی پہچان دِفاعِ صحابہ ؓ کے مسئلے پر اُن کا وہ تحقیقی قلم ہے جس سے مجموعی طورپر ہزاروں صفحات پر مشتمل حضرتؒ کی متعدد کتب منصہ شہود پر آکر قبولِ خا ص و عام حاصل کر چکی ہیں۔وہ اِمام اہل سنت حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒکے اُس علمی قافلہ کے فرد تھے، جنہوں نے اہل سنت والجماعت کے عقائد کے فروغ و تحفظ اور حضراتِ صحابہ کرام واہل بیت عظام رضی اللہ عنہم کی حیات و خدمات کی اِشاعت اور اُن کے بارے میں معاندین کی طرف سے مختلف ادوَار میں پھیلائے جانے والے اعتراضات اور شکوک و شبہات کے جواب و دِفاع میں مسلسل جدوجہد کی ہے۔حضرتؒ نے اس موضوع پرنہایت عرق رَیزی سے کام کیا، تاریخی رِوَایات کی چھان بین کے لیے قرآن و حدیث کی بہترین چھننی لگائی، رِوَایات کے کذب و صدق کی جانچ پڑتال کے لیے اِنصاف کا ترازو قائم کیا اور رِوَایات کے رطب و یابس کو الگ کرنے کے لیے معتدل ومعقول معیار قائم کیا۔ جس کی گواہی ہر وہ شخص دی گا جس نے کبھی تلاشِ حق میں حضرتؒ کی بارگاہِ علم پر حاضری دِی ہو۔حضرتؒ کی دِفاعِ صحابہؓ کی منجملہ تصانیف میں سے ایک، ’’رحماء بینہم ‘‘ نامی کتاب ہے، جو اپنے موضو ع پرایک منفرد انوکھی اوربے مثال و لازوَال کتاب ہے۔ حضرتؒ کے علمی ذوق کا اندازَہ اس سے لگایاجاسکتا ہے کہ کتاب کا نام ہی مصنف کا دعویٰ ہے اورپو ری کتاب کے سینکڑوں صفحات اسی دعویٰ کی دَلیل ہیں۔ان کی کتب میں دَرج شدہ دَلائل ٹھوس، حوالے صحیح اور مطابقی ہیں اُن کی تحقیق انیق سے اندازَہ ہو تا ہے کہ وہ رَیت کے ذَرّات میں سے سونا الگ کر نا جا نتے ہیں، انھوں نے مقامِ صحابہؓ اور مقامِ اہل بیتؓ کی وَضاحت کر کے نہ صرف مسلک حقہ کو وَاضح کیا ہے بلکہ رَوَافض کے اعتراضات اور شکوک شبہات کااِستیصال بھی کیا ہے، مولاناؒ کی تصنیفات رَوَافض کے نظریات پر ضربِ کارِی ہیں۔ اُنھوں نے اپنی متعدد تالیفات کے ذَرِیعے سے حضرات صحابہ کرامؓ کے حقیقی سیرت و کردار کو مستحکم علمی اور تارِیخی دَلائل کے ساتھ وَاضح فرمایا۔ جن اِنصاف نا آشنا حلقوں نے ان حضرات پر طرح طرح کے اعتراضات وارِد کیے ہیں اُن کا شافی اور اِطمینان بخش جواب دِیا اور حضراتِ صحابہ کرامؓ کے دَرمیان جو علمی اور سیاسی اِختلافات پیش آئے، اُن کے حقیقی اسباب کی دِل نشین وَضاحت فرمائی۔

وقت کے ابن حجرشیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی،شیخ الحدیث و نائب رَئیس جامعہ دَارُ العلوم کراچی،نے ان کی ایک کتاب پران الفاظ میں تبصرہ فرمایا:’’سیرتِ حضرت معاویہؓ‘‘ میں حضرت مولانا محمد نافع صاحب نے حضرت معاویہؓ کی سیرت کے حقیقی روشن پہلوؤں کو مضبوط دَلائل کے ساتھ اُجاگر کیا ہے۔ حضرت معاویہؓ اُن صحابہ کرامؓ میں سے ہیں جن کے خلاف اعتراضات و مطاعن کے ترکش سے کوئی تیر بچا کر نہیں رکھا گیا۔ قابل تعریف بات یہ ہے کہ مولانا محمد نافع صاحب کا اندازِ بیان مناظرانہ اور جارحانہ نہیں ہے بلکہ باوَقار اور دِل نشین ہے اور سنجیدہ علمی تحقیق کی بنیاد پر پورا اُترتا ہے۔‘‘ (مقدمہ سیرت حضرت معاویہؓ)

اپنے دورکے امام المحققین حضرت مولانا محمد عبدالستارتونسویؒ نے فرمایا:’’بندہ نے ان کی اکثر کتب مثلاًرحماء بینہم، حدیث ثقلین، بناتِ اربعہؓ، سیرتِ حضرت علی المرتضیٰؓ، سیرتِ حضرت امیر معاویہؓ وغیرہ دیکھیں اور ابھی اُن کی نئی تالیف فوائد نافعہ ہر دو جلدوں کو تقریباً اکثر مقامات سے دیکھا ہے، ما شاء اللہ موصوف نے اہل سنت کی ترجمانی کا حق ادَا کردِیا ہے، بحمداللہ میری دَیرینہ آرزُو پو ری ہو گئی ہے، بلا مبالغہ عرض ہے کہ عدیم الفرصت ہو نے کی وجہ سے خود ایسی جامع کتاب نہیں لکھ سکتا‘‘۔

یہ تومشتے نمونہ ازخروارے دواقتباسات ہیں،ورنہ ان کی علمی وتحقیقی شان کے تمام اکابر و اصاغرقائل تھے،جس کاایک واضح ثبوت یہ بھی ہے کہ ان کی تحریرکردہ کتابیں ہرمحقق عالم ومناظرکی مطالعے کی میزکی زینت نظرآتی ہیں۔حیات امیرمعاویہ ؓ پرکتابچے کی تالیف کے دوران بندہ کوبھی ان کی کتابوں سے استفادہ کرنے کاموقع ملااوربلامبالغہ کئی مشکل عقدے حضرت کی کتابوں کی ورق گردانی سے چٹکی بجاتے حل ہوگئے۔اللہ انھیں اہنی طرف سے اس کابہترین بدلہ عنایت فرمائے۔آمین۔

 حضرت ؒ کی ایک نمایاں خصوصیت کثرتِ مطالعہ تھی،حضرت کثیر المطالعہ بھی تھے اور سریع المطالعہ ۔حضرت ؒ بلاشبہ اللہ یعالیٰ کے اعلیٰ پائے کے ولی تھے۔حضرتؒ کی بنیادی اور اِمتیازی خصوصیت ان کی سادگی تھی۔ حضرتؒ کے ایک معتقد حضرتؒ کی سادگی کا نقشہ کھینچتے ہوئے رَقمطراز ہیں ’’میں جب جھنگ میں ایڈیشنل ڈائیریکٹرلوکل گورنمنٹ کے عہدے پر تعینات تھا تو اکثرمحمدی شریف جایا کرتا تھا لائبریری کی چوکی پرایک دُبلے پتلے بزرگ بیٹھے دِکھائی دیتے تھے جن کے اِرد گرد کتابوں کا انبار لگا ہو تاتھا، ایک طرف اسٹیل کی چائے دَانی اور مٹی کی ایک پیالی پڑی ہو تی تھی اور وَہی اُن کی کل متاع تھی اوراسی سامان کو وہ نعمت غیر مترقبہ سمجھتے تھے‘‘۔

اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کواپنی بارگاہ میں شرف قبول عطافرماتے ہوئے ان کافیض تاقیام قیامت برقراررکھے اوراہل سنت کوان کامطالعہ کرکے اہل رفض وباطل کی دسیسہ کاریوں کامنہ توڑجواب دینے اورناواقف ونادان عوام کالانعام کے ایمان کی رفض وباطل کی کالی بھیڑوں اورزہریلی سنڈیوں سے حفاظت کرنے کی توفیق عطافرمائے۔

٭…٭…٭