Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بہن عافیہ صدیقی پر مظالم (محمد الطاف)

بہن عافیہ صدیقی پر مظالم

محمد الطاف (شمارہ 478)

بسا اوقات لکھنے کے لئے الفاظ کم پڑتے ہیں اور بسااوقات صورتحال کی صحیح عکاسی کے لئے محاورے معدوم ہوجا تے ہیں۔لکھنے والے انسان ہی تو ہوتے ہیں ان پر قارئین سے بھی زیادہ اچھا اور برا اثر مرتب ہوتا ہے اسی لئے لکھنے والوں کا دماغ تو ٹھیک رہتا ہے مگر دل ساتھ چھوڑجاتا ہے۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر امریکی انٹراگیشن سینٹروں میں تشدد اور مظالم کی کہانیوں نے اہلیان کشمیر کو ہمیشہ رنج والم میں مبتلا کردیا ہے۔مشرف کی ہمدردی رکھنے والے ایک حقیر اور معمولی سے طبقے کو بھی اس کے کارناموں نے توبہ کرنے پر مجبور کردیا ہے۔اکثر کشمیری جیلوں کے اندر کے مظالم کی کہانیوں کااثر بہت جلد ’’ذاتی طور‘‘پرمحسوس کرتے ہیں۔جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کشمیر میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جن کو عارضی یا مستقل حراستی مراکز میں تشدد کا نشانہ نہ بنایا گیا ہو اسی لئے کوئی بھی جیل کہانی کشمیریوں کو اپنی ہی کہانی معلوم ہوتی ہے۔

 بہن عافیہ صدیقی کا معاملہ اس لئے مختلف ہے کیونکہ اس کو مشرف جیسے ظالم شخص نے امریکیوں کے حوالے صرف اس لئے کیا تھاکہ وہ ’’اسلام پسند ‘‘تعلیم یافتہ خاتون تھی۔امریکہ تاریخ انسانیت کا سب سے بڑاطاقتور دہشت گرد ملک ہے لہذا کمزور قوموں کو اس کی اطاعت چاروناچار کرنی پڑتی ہے۔پاکستان اتنا بھی کمزور ملک نہیں تھا جیسا کہ اب تک مشرف اینڈ کمپنی اس کا دعویٰ کرتی رہتی ہے حالانکہ امریکا اور نیٹو کے مقابلے میں نہتے افغان طالبان نے ان کی طاقت کا بھرم توڑ ڈالا۔پھر حد یہ کہ امریکہ سے تعاون کرنے میں مشرف اور اس کے ہمنوا اخلاقیات اور انسانی ہمدردی سے بھی سے خالی ہو چکے تھے۔ملاضعیف کی حوالگی تاریخ انسانیت کے ماتھے پر کلنک ہے اور پاکستان بلند بانگ اسلام پسندی کے دعوؤں کے باوجود بھی اس داغ کو اپنے ماتھے سے نہیں مٹا سکتا ہے پھر بھی یہ عافیہ کے مقابلے میں ایک مردمجاہد کی حوالگی تھی جنہیں بعد میں رہا بھی کردیا گیا۔ البتہ افسوس پاکستان کے حکمرانوں ،سیاست دانوں ،مذہبی لیڈروں ،دانشوروں اور صحافیوں کے آج کے رویہ پر ہو رہا ہے کہ اب ڈاکٹر عافیہ صدیقی نہ لاپتہ ہے نہ ہی کسی افغان حراستی مرکز، میں تو پھر مجرمانہ خاموشی چہ معنی دارد! !

سوشل میڈیا پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے چندروز قبل پروفیسر ضیاالرحمان صاحب کا شائع شدہ وہ مضمون اپ لوڈ کیا ہے جس میں پروفیسر صاحب نے بگرام جیل میں قید ایک قیدی کی زبانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر ڈھائے جانے والے مظالم کی چھوٹی سی جھلک پیش کی ہے۔

پروفیسر صاحب لکھتے ہیں کہ ’’میں ایک سال قبل جب افغانستان کے صوبہ پروان گیا تو وہاں بگرام جیل کے ایک قیدی سے ملاقات ہوئی تھی۔55سالہ افغان بزرگ سہراب خان نے پانچ سال بگرام جیل میں جرم بے گناہی کی سزا کاٹی ہے۔گفتگو کے دوران سہراب خان نے اپنی گرفتاری اور قید کے واقعات کا ذکر کرتے ہو ئے بتایا کہ ایک خصوصی سیل میں پاکستان کی شہری عافیہ صدیقی کو بھی 2003ء میں لا کر بند کیا گیا تھا۔ جو پوری جیل میں واحد خاتون قیدی تھی۔اس نے بتایا کہ مختلف مواقع پر اس کی چار مرتبہ عافیہ صدیقی سے مختصر ملاقاتیں ہوئیں اور اس نے انھیں دلاسا دیا تھا۔

سہراب نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ سی آئی اے کے سلوک کی کچھ باتیں بتائیں تو میرے دماغ کی نسیں کھنچ گئیں اور میرا بلڈ پریشر خطرناک حد تک بڑھ گیا۔اخبارات اور ٹی وی چینلز ،تجزیوں ،تبصروں ،کالموں ،تحقیقاتی رپورٹس اور فیچرز میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے متعلق بہت کچھ پڑھا تھا ،لیکن آج ایک ایسے انسان کے منہ سے عافیہ صدیقی کے ساتھ بگرام جیل میں پیش آنے والے واقعات سن رہا تھا جو ان سب کا عینی شاہد تھا۔کئی باتیں سن کر میری آنکھیں نم ہوئیں اور کئی باتوں نے میری روح کو گھائل کردیا۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ان حالات سے دوچار کرنے والا کوئی پرایا نہیں تھا ،بلکہ اپنا ہی حکمران تھا،جو خود کو بڑے فخر کے ساتھ ’’سید‘‘ بھی کہتا ہے۔چند ٹکوں کی خاطر ڈاکٹر عافیہ سمیت ایک ہزار کے قریب مسلمانوں کا امریکہ کے ہاتھ سوادا کرنے والے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ڈاکٹر عافیہ سے متعلق میرے ایک سوال کا جواب دیتے ہو ئے سہراب خان نے بتایا کہ 2005ء میں امریکا سے کچھ فوجی آئے تھے ،جو عافیہ صدیقی کو ہیلی کاپٹر پر کہیں لے گئے۔تین دن بعد جب اس کو واپس لایا گیا تو وہ اپنے قدموں نہیں بلکہ اسٹریچر پر تھی۔ہمیں پتا چلا کہ اس کو کراچی سے آگے کھلے بین الاقوامی سمندر میں کھڑے امریکن بحری بیڑے پر لے جایا گیا تھا جہاں معلومات لینے کے لیے اس پر بدترین تشدد کیا گیا۔رات کے سناٹے میں اس کی درد ناک چیخیں سن کر قیدی روتے تھے۔

سہراب نے ایک اور آنکھوں دیکھا واقعہ سناتے ہو ئے کہا ’’ایک دفعہ عافیہ بلند آواز سے قرآن کریم کی تلاوت کر رہی تھی۔ایک امریکن فوجی عورت نے اسے تلاوت سے منع کیا لیکن اس نے تلاوت جاری رکھی۔غصہ میں آکر اس فوجی عورت نے عافیہ صدیقی کو ایک کرسی پر بٹھا کر اس کے دونوں ہاتھ پیچھے کی طرف باندھ دیے اور پھر اس بد بخت عورت نے زبردستی عافیہ کا منہ کھول شراب ڈالی۔اس فوجی عورت کی شرمناک حرکت پر تمام قیدیوں نے شام کے کھانے کی ہڑتال کردی۔اس بات کا جب جیل کے ایک سینئر افسر کو پتا چلا تو اس نے اس فوجی عورت کو بگرام جیل سے ٹرانسفر کرنے کا اعلان کردیا،جس کے بعد قیدیوں نے ہڑتال ختم کی۔

سہراب خان کی زبانی یہ واقعہ سن کر مجھے اپنے آنسوؤں پر اختیار نہ رہا۔اس نے بتایا کہ جنوری کی سخت سردی میں ایک دن صبح سویرے عافیہ صدیقی کو جیل کے درمیان میں موجود گراؤنڈ میں لایا گیا۔عافیہ کے جسم پر قیدیوں کی سنگل وردی تھی جبکہ اس کے پاؤں ننگے تھے ،جن میں زنجیریں تھیں۔اس کے پاس کھڑے تمام سی آئی اے اہلکاروں نے لانگ بوٹ ،موٹے کوٹ اور سر پر گرم ٹوپیاں پہن رکھی تھیں۔سہراب خان نے بتایا کہ گراؤنڈہماری بارک کے سامنے تھا۔ ہم سب قیدی پریشان ہو گئے کہ معلوم نہیں یہ ظالم ہماری بہن کے ساتھ کیا ظلم کرنے والے ہیں۔سہراب نے بتایا کہ اس وقت تک سورج نہیں نکلا تھا اور ہر طرف دھند چھائی ہوئی تھی،جس وجہ سے گرم کپڑوں اور بیرک کی چاردیواری کے باوجود سردی سے ہمارے جسم بری طرح ٹھٹھر رہے تھے۔اتنی خوفناک سردی میں ہماری آنکھوں کے سامنے دو امریکی فوجیوں نے ٹھنڈے پانی کی بھری بالٹیاں لاکر عافیہ کے سر پر اْلٹ دیں ،جس سے اس کے منہ سے اذیت اور کرب بھری چیخیں نکلیں۔اس کے بعد ایک فوجی نے ان کی کمر پر بندوق کا بٹ مارتے ہوئے گراؤنڈ کا چکر لگانے کا حکم دیا۔وہ مشکل سے کھڑی ہو کر دو قدم چلی ،پھر پیروں میں پڑی زنجیر کی وجہ سے زمین پر گر گئی۔سہراب نے بتایا کہ اس دن دو گھنٹے تک وہ ظالم امریکی وحشی فوجی درندے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ یہ ظلم کرتے رہے اور ہم بے بسی کے ساتھ سلاخوں کے پیچھے سے یہ المناک منظر دیکھتے رہے۔

بلاشبہہ یہ سب پڑھ کر ہر ایک آنکھ اشکبار ہو تی ہے اس لیے کہ یہ کہانی صلیبی جنگوں میں گرفتار کسی مجاہد بہن کی سات سو سال پرانی کہانی نہیں ہے۔

خیر یہ تو امریکی دہشت گردی کی تاریخ کاایک شرمناک باب جس سے مسلمان قیامت تک فراموش نہیں کر سکتے ہیں بلکہ قیامت کے بعدبھی محشر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جھوٹے دعویداروں کو اللہ تعالیٰ کے ہاں جرائم پر پوچھ گچھ ہوگی اورتوبہ نہ کرنے کے نتیجے میں رسواکن سزا بھی ملے گی۔البتہ اب سوال یہ نہیں ہے کہ امریکہ نے کب کیا کیا ؟اس لیے کہ وہ ’’طاقتور اور پاگل‘‘ دہشت گرد ملک ہے جس کے ہاں’’ قوانین احترام و حرمتِ جان‘‘ صرف اپنے گوروں کے لیے ہوتے ہیں کسی اور کے لیے نہیں۔ یہاں سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کیا کرتا ہے جس کی سرزمین پر عافیہ صدیقی نے جنم لیا ہے ؟وہ حکمران کیا کرتے ہیں جن کے دن رات ’’اسلامی جمہوری پاکستان‘‘کے نعروں میں گزر جاتے ہیں ،وہ عمران خان کیا کرتا ہے جس کو شہرت ہی اسی مسئلے کو پیش کرنے کے نتیجے میں ملی تھی اور پھر معنی خیز چپ سادھ لی ؟ وہ مذہبی جماعتیں کیا کرتی ہیں جو کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے نام پرملین مارچوں کا انعقاد کر کے بظاہر ایک ہی رات میں ان خطوں کو آزاد کرنے کے خواب دیکھتی ہیں ؟وہ دور کی بہنوں پر تلملا اٹھنے کے تماشے کرنے کے بجائے اپنی اس بہن کی رہائی کے لیے کوئی بندوبست کیوں نہیں کرتے ہیں جس کی دردناک داستان پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ باب کا اضافہ کر چکی ہے۔جس قوم کے حکمران ڈر پوک ہوں ، لیڈرامریکی پناہ اور ڈالروں پر جینے کے عادی ہوں اور علماء امریکی سفارتکاروں کی ملاقات اور شاباشی کو’’ معراج حیات‘‘سمجھتے ہوں وہ ملک کس طرح اپنی آزادی برقرار رکھ سکتا ہے۔پاکستانی سرزمین پر آکرسابق امریکی ایڈوکیٹ جرنل یہاں تک کہدے کہ اگر عافیہ کے مسئلے کو پاکستان کے حکمران سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کریں تو وہ صرف چوبیس گھنٹے میں رہا ہو سکتی ہے تو آخر کون سے رکاوٹ ہے جو عافیہ کے معاملے میں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دیتی ہے سوائے اس کے کہ اگر عافیہ رہا ہو گئی توچندسیاہ کار جرنیلوں،بیروکریٹوں اور سیاست دانوں کے چہروں پر پڑا شرافت کا شیطانی نقاب الٹ سکتا ہے لہذا بہتر یہ ہے کہ عافیہ کو موت کے منہ میں ہی چھوڑدو وہ مر جائے گی تو خلاصی۔مگر یہ سیاہ کار یہ بھول جاتے ہیں کہ عافیہ کو پیدا کرنے والا رب کمزور نہیں ہے نہ ہی امت کی دعائیں اور کوششیں ان شااللہ ضائع ہوں گی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor