Bismillah

671

۲۸ربیع الاول تا۴ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۷تا۱۳دسمبر۲۰۱۸ء

قرابت رسول کا احترام، محبت و مودت لازم (پروفیسر ابو طلحہ عثمان)

قرابت رسول کا احترام، محبت و مودت لازم

پروفیسر ابو طلحہ عثمان (شمارہ 621)

خاندان رسول ، آل رسول، ازواج رسول، اہل بیت رسول رضی اللہ عنہم بلکہ جملہ اقربائے رسول کا احترام اور ان کی محبت و مودت واجب ہے۔ اس وجوب کا حکم از خود نبی پاک ﷺ نے نہیں فرمایا اور اپنے طور پر خود رب محمد نے بھی نہیں فرمایا۔ کتاب قدیم، قرآن کریم میں اللہ نے مقدس آیت نازل فرمائی۔اپنے محبوب رسول علیہ السلام کو حکم دیا ’’ اے نبی آپ کہہ دیجئے ‘‘ میں تم سے اپنی تبلیغ و دعوت کا بدلہ نہیں مانگتا مگر ( نادانو!) میری قرابت داری کا تو خیال کرو ( القرآن)

میں تمہارا قرابت دار ہوں ۔ سوچو آخر میں کیوں دن رات تمہاری ہدایت کے لئے سرگرداں ہوں۔ میں تو اللہ کا رسول، اس کی رسالت کا امین ہوں۔ میں نے تمہارے اندر ایک عمر گزاری ہے۔ میرے کردار پر، میری شرافت  و دیانت پر، میری امانت و صداقت پر انگلی تو رکھو؟اگر میری جوانی بے داغ بلکہ لائق تقلید ہے تو میری پختہ عمر میں دھبہ کیسے آ سکتا ہے تم خود سوچو، میں تمہارا قرابت دار ہی تو ہوں۔ میری عزت تمہاری عزت، میری پریشانی تمہاری پریشانی، میری محبت و مودت تمہاری محبت و مودت ہے۔

اے میرے عزیز دارو! اے میری قرابت دارو! اے اہل مکہ! اے قریش و غیر قریش! اے مکہ اور قرب و جوار والو! تم تو دین ابراہیمی کے دعوے دار ہو، عیسیٰ روح اللہ چند صدیاں پہلے ہی دعوت حق لائے تھے تو وہ میری بشارت بھی سنا گئے تھے۔ ان سے پہلے موسیٰ کلیم اللہ آئے تھے۔ وہ اللہ کی کتاب تورات لائے تھے۔ ان کی کتاب ماننے والے موجود ہیں۔ بیت  المقدس کے اہل کتاب تو میرے فاروق کی آمد کے منتظر ہیں۔ انہوں نے خزانوں کی چابیاں سنبھال رکھی ہیں کہ کب میرا فاروق اعظم وہاں پہنچے اور وہ تمام خزانے ان کے سپرد کر دیں…

اے میرے عزیزو! اے قریشیو! میری قرابت کا خیال کر لو۔ دور نہ جاؤ، تمہارے پڑوس میں ہی، تمہارے قریشی خاندانوںہی کا عالم کتب سماویہ، تورات و انجیل کا ماہر خاندان بنی اسد کا ورقہ بن نوفل بن اسد موجود ہے۔ اسی سے تصدیق مانگو لو

اے آل غالب! کچھ تو میری قرابت کا سوچو، میں تم سے مال نہیں مانگتا، میں تم سے بدلہ نہیں مانگتا۔ کوئی مادی فائدہ میرا مطمح نظر نہیں۔ میں تو تمہاری فلاح تمہاری نجات کا خواہشمند ہوں۔

اے نضر کی اولاد، اے فہر کی اولاد، تم شریف النسب ہو، تم پر کبھی کسی باطل نے حکمرانی کا نہیں سوچا، تم آل اسماعیل ہو، تم اولاد ابراہیم ہو،ان دونوں نبیوں نے مجھے اللہ سے مانگا تھا اور اگر تم بھی لا الہ الا اللہ پڑھ لو تو دونوں جہانوں کی کامیابی و کامرانی تمہارا نصیب ہو گی۔ تم میرے صحابہ بنو گے تو یقین کر لو۔تمہی وہ خوش نصیب لوگ ہو گے جن کو ہمارے باپ ہمارے دادا جان حضرت ابراہیم ؑنے تعمیر کعبہ کے مقدس موقع پر اللہ سے مانگا تھا اور دوسرے مقدس نبی حضرت اسماعیل نے اس دعا پر آمین کہی تھی۔

ہاں میں تمہارا قرابت دار ہوں… میں نے اپنی بعثت سے پہلے ایک طویل عرصہ تمہارے اندر گزارا ہے کیا تم عقل و فہم سے کام نہیں لو گے۔

نبی مکرم  اہل مکہ او رمن حولہا کو قرابت داری کا واسطہ دیتے رہے۔ پھر ایک وقت آیا دس ہزار قدوسیوں کے ہمراہ ( تورات و انجیل کی پیش گوئیوں کے عین مطابق ) محمد رسول اللہ فاران کی چوٹیوں سے اتر کر بلد امین میں داخل ہوئے۔ مکہ فتح ہوا۔ تمام اہل مکہ داخل اسلام ہوئے۔ البتہ جن کے نصیب میں ہدایت نہیں تھی مکہ ان سے پاک ہو گیا۔ وہ حرم مکہ سے دور ، کہیں دور چلے گئے۔ وہ کہاں اور کب ہلاک ہو کر وقود نار بنے۔یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ جو نہیں بھاگے وہ مولفۃ القلوب بن گئے، ان کے دلوں میں نبی اور آل نبی ، اصحاب نبی کی محبت ڈال دی گئی۔ وہ لاتثریب علیکم الیوم کا  یوسفی اعزاز پا گئے۔ محمد کریم کے پہلے ہی اہل قرابت تھے اور قریب ہو گئے۔ فان آمنو بمثل ما امنتم بہ کا قرآنی تمغہ امتیاز پا گئے۔ اب اس تمغہ امتیاز والوں کی محبت اور مودت تمام امت پر فرض و واجب ہے۔

اللہ کے حکم پر نبی کا اعلان ’’الا المودۃ فی القربیٰ ‘‘ تا قیام قیامت گونجتا رہے گا۔ نبی کے صحابہ ، نبی کی ازواج و آل کی محبت و مودت واجب ہے۔ اس واجب کی ادائیگی کے بغیر آخرت کی کامیابی، داخلہ جنت محال ہے۔

تنبیہ! نبی پاک ﷺ کے مشرک رشتہ دار ، کفار قریش اور وہ تمام عزیز جو اسلام میں داخل نہ ہوئے۔ اس آیت پاک کی رو سے ان کی حرمت اور تعظیم بھی واجب ہے۔ ایک حدیث کے مطابق نبی پاک نے ابولہب کی بیٹی کی شکایت پر علی الاعلان اس کے باپ کو برا کہنے سے منع کیا تھا۔ ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا تھا کہ کفر پر مرنے والے اہل مکہ کو برا کہنے سے ان کے اسلام قبول کرنے والے عزیزوں کو تکلیف ہوتی ہے لہذا تم ایسا کرنے سے احتراز کرو…

دوسری طرف آیت پاک کا تقاضا ہے کہ ’’الاقرب فالاقرب ‘‘…

جو جتنا قریبی عزیز ہے اس کی اتنی ہی حرمت و عزت، محبت و مودت واجب ہے۔ اس میں تقابل کی ضرورت بلکہ گنجائش بھی نہیں۔ ہر ایک اہل قربیٰ کا حق ہے۔ صاحب رسالت و نبوت ﷺ کی ذات مقدس کے بعد قربیٰ میں اہل بیت گھر والیاں، ازواج مطہرات کا حق ہے کہ جن کے بارے میں فرمایا ’’ لستن کاحد من النسائ‘‘ … دنیا کی کوئی عورت تمہارا مقابلہ نہیںکرسکتی۔ تم سب کی جنت کی ملکہ ہو، آج کی بولی میں ’’فرسٹ لیڈیز ‘‘ ۔ انکے بعد بنات و ابنائے نبی سیدہ زینب، سیدہ رقیہ، سیدہ فاطمہ اورسیدہ ام کلثوم ہیں بیٹوں میں قاسم، طاہر ، طیب اور ابراہیم ہیں۔ یہ سب جنت کے شہزادے اور شہزادیاں ہیں۔ بعثت نبوی کے بعد صحابہ و صحابیات، اول مومنین ومومنات… سابقون الاولون ہیں…چاروں بنات نبوی کی شادیاں ہوئیں۔ سیدہ ام کلثوم کو چھوڑ کر باقی تینوں بنات طیبات کی اولادیں ہوئیں…سیدہ رقیہ اور سیدہ فاطمہ کے بیٹے سادات بنی رقیہ اور سادات بنی فاطمہ کہلاتے…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online