Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

اسلام میں عورت کا مقام اور اُس کاکردار (شاہین احمد)

اسلام میں عورت کا مقام اور اُس کاکردار

شاہین احمد (شمارہ 636)

اللہ تعالیٰ نے عورت کو خالصتاً کائنات کے حسن کے لیے محبت کا مکمل نمونہ بنا کر زمین پر بھیجا ہے۔ اس کی ہر صورت، ہر روپ محبت کے قابل اور تقدس کی ارفع صورت ہے۔ وہ بیٹی، بیوی، ماں اور عورت سب شکلوں میں اعلیٰ ترین مراتب کی حقدار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو جس مقام ومرتبہ اور صلاحیتوں سے نوازا ہے اس کے باعث معاشرے اور قوموں کی تعمیر میں عورت کو اساس و بنیاد کا درجہ حاصل ہے۔ جس طرح ہر چیز کی بقا کا دارومدار اُس کی بنیاد پر ہوتا ہے اُسی طرح یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ قومیں مائوں کی گود میں پلتی ہیں۔

اسلام سے پہلے زمانۂ جاہلیت میں تمام دنیا کی اقوام میں یہ دستور جاری تھا کہ عورت کی حیثیت گھریلو استعمال کی اشیاء سے زیادہ نہ تھی، چوپائوں کی طرح اس کی خرید و فروخت ہوتی تھی، یہاں تک کہ یورپ کے وہ ممالک جو آج کل دنیا کے سب سے متمدن ملک سمجھے جاتے ہیں، ان میں بعض لوگ اس حد کو پہنچے ہوئے تھے کہ عورت کے انسان ہونے کو بھی تسلیم نہ کرتے تھے۔عورت کے لیے نہ دین و مذہب میں کوئی حصہ تھا، نہ اس کو عبادت کے قابل سمجھا جاتاتھا، عام طور پر باپ کے لیے لڑکی کا قتل بلکہ زندہ درگور کر دینا جائز سمجھا جاتا تھا۔ الغرض پوری دنیا اور اس میں بسنے والے تمام اقوام و مذاہب نے عورت کے ساتھ یہ برتائو کیا ہوا تھا کہ جس کو سُن کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

قربان جائیے! رحمۃ للعالمین ﷺ اور آپﷺ کے لائے ہوئے دینِ حق پر… جس نے دنیا کی آنکھیں کھولیں، انسان کو انسان کی قدر کرنا سکھلایا، عدل و انصاف کا قانون جاری کیا، عورتوں کے حقوق مردوں پر ایسے لازم کئے جیسے عورتوں پر مردوں کے حقوق ہیں، اس کو آزاد اور خود مختار بنایا۔وہ اپنی جان و مال کی ایسی ہی مالک قرار دی گئی جیسے مر۔ اس کے اموال میں کسی مرد کو بغیر اس کی رضاء و اجازت کے کسی تصرف کا کوئی حق نہیں۔ اپنے رشتہ داروں کی میراث میں اس کو بھی ایسے ہی حصہ ملتا ہے جیسا کہ لڑکوں کو،معاملات و معاشرت میں اس کو شامل کیاگیا، اس پر خرچ کرنے اور اس کے راضی رکھنے کو شریعت محمدیہ ﷺ نے ایک عبادت قرار دیا۔ عورت کو اس کے حقوقِ مناسبہ نہ دینا ظلم و جور اور قساوت و شقاوت تھی جس کو اسلام نے مٹادیا۔

اسلام نے عورت کی ساری حیثیتوں کی وضاحت کی اور وہ تمام اخلاقی و قانونی تحفظات مہیا کئے جو دنیا کے کسی مذہب نے عورت کے لئے نہیں کئے۔ چند مقامات کو چھوڑ کر باقی تمام امور میں برابر بلکہ کئی جگہ برتری کے حقوق دئیے اور عبادات میں خاص طور پر شریک کیا اور ثواب اور اجر میں برابری کی بنیاد پر عنایات و عطایات کا حقدار ٹھہرایا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے:

’’اور عورتوں کا حق (مردوں پر)  ایسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے اور اللہ غالب (اور) صاحب حکمت ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ:۲۲۸)

جیسے مرد کے حقوق عورت کے ذمہ ہیں ویسے ہی عورت کے حقوق بھی مرد کے ذمہ ہیں اور کیوں نہ ہوتے جب خلقت دونوں کی ایک رکھی گئی اور خلقت و پیدائش کا گواہ کوئی دوسرا نہیں، خود خالقِ کائنات ہے۔ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیویاں تم ہی میں سے پیدا کیں۔‘‘ یعنی اس کی فطرت تمہاری فطرت، اس کی خلقت تمہاری خلقت ہے۔ تمہیں اگر مال و دولت کی طلب ہے تو وہ بھی اس سے بے نیاز نہیں رکھی گئی، تم اگر اپنی راحت و آسائش کے بھوکے ہو تو اس کا جسم بھی خشکی اور تھکن کے اثرات قبول کرنے والا بنایا گیا ہے۔ تمہیں غصہ آتا ہے تو وہ بھی بے حس نہیں پیدا کی گئی ہے۔ تم اگر اپنی جاہ و عزت کے طالب ہو تو وہ بھی اپنی توہین و رسوائی سے خوش نہیں ہو سکتی۔ تم اگر حکومت چاہتے ہو تو وہ بھی غلامی کے لئے پیدا نہیں ہوئی۔ ’’الغرض بھوک پیاس، گرمی سردی، سختی نرمی، رنج اور خوشی کا احساس اس کو بھی ہوگا، چوٹ لگے گی تو اس کا جسم بھی دکھے گا، اس کے بھی دل کو تکلیف پہنچے گی تو غیرت و خودداری اس کی بھی تڑپ اٹھے گی۔ الغرض تمام انسانوں کی، مرد ہوں یا عورتیں اصل ایک ہی ہے۔ ایک ہی جوڑے سے مردوں اور عورتوں کی نسلیں چلی ہیں۔‘‘

نبی کریمﷺ نے فرمایا ’’میں تم کو عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی خاص طور پر وصیت کرتا ہوں۔‘‘

حضور نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں قیامت کے دن سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھولوں گا تو دیکھوں گا کہ ایک عورت مجھ سے بھی پہلے اندر جانا چاہتی ہے، میں اس سے پوچھوں گا کہ تو کون ہے؟ وہ کہے گی کہ میں ایک بیوہ عورت ہوں جس کے چندیتیم بچے تھے۔ (ابو دائود)

عورت کی ایک عظیم الشان ذمہ داری جو فطرتاً اُس کے سپرد ہے وہ گھریلو کام کاج اور اولاد کی تربیت ہے۔ آج سے چودہ سو سال پہلے رسول اللہ ﷺ نے تربیت کے وہ اصول بتائے جن پر عمل پیرا ہو کر مائوں نے بچوں کی ایسی تربیت کی جو اسلام کا مطلوب تھا۔ مائیں ہی اپنے بچوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ اور اسلام کی محبت پیدا کرکے اُس کی خوشی و غم، جینا مرنا سب اسلام کے لیے بنا دیتی ہیں۔ابن عمر، ابن عباس، ابن زیبر رضی اللہ عنہم اسی تربیت کا نتیجہ ہیں۔

ایک مسلمان کے لیے ایمان سے بڑھ کر قیمتی اور کوئی چیز نہیں ہوتی، یہی ایمان سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہماے سامنے ایک مؤمنہ عورت کو مثال بنا کر پیش کیا ہے:

’’اور مؤمنوں کے لیے (ایک) مثال (تو) فرعون کی بیوی کی بیان فرمائی کہ اس نے اللہ تعالیٰ سے التجاء کی کہ اے میرے پروردگار میرے لیے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا اور بچا نکال مجھ کو فرعون سے اور اس کے کام سے اور بچا نکال مجھ کو ظالم لوگوں سے۔‘‘ (سورۃ التحریم:۱۱)

یہ مثال فرعون کی بیوی حضرت آسیہ بنت مزاحم کی ہے۔ جس وقت موسیٰ علیہ السلام جادوگروں کے مقابلے میں کامیاب ہوئے اور جادوگر مسلمان ہوئے تو حضرت آسیہ نے اپنے ایمان کا اظہار کر دیا۔  فرعون نے اُن کے لیے سخت سزا تجویز کی اور اُن کے ہاتھوںپیروں میں میخیں گاڑ دیں کہ حرکت نہ کر سکیں اور سینے پر بھاری پتھر رکھ دیا تھا۔ اس حالت میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دُعا کی جو اس آیت میں مذکور ہے۔اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہی اُن کو جنت کاگھر دکھلا دیا۔ حدیث شریف میں نبی کریم ﷺ نے اُن کے کامل ہونے کا اعلان فرمایا ہے۔ ایسے مضبوط ایمان کی مالک تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو حضرت آسیہ کے ایمان کی مثال دی۔

نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ تمام دنیا کی عورتوں میں سب سے اچھی چار عورتیں ہیں، ایک حضرت مریم، دوسری حضرت آسیہ (فرعون کی بیوی)، تیسری حضرت خدیجہؓ، چوتھی حضرت فاطمہؓ۔

نبوت کا بوجھ جب حضور نبی کریم ﷺ کے کندھوں پر ڈالا گیا تو دنیا میں سب سے پہلے تسلی دینے والی آپ کی بیوی حضرت خدیجہؓ  تھیں۔ حضور اکرم ﷺ کو جب کافروں کے برتائو سے پریشانی ہوتی تو آپ ان سے آکر بیان فرماتے، یہ کوئی تسلی کی بات کہہ دیتیں تو حضور ﷺ کی پریشانی جاتی رہتی۔ (حالانکہ آنحضرت ﷺ نبی تھے مگر پھر بھی حضرت خدیجہؓ کی مخلصانہ تسلی نفع دیتی تھی۔)

امہات المؤمنین اور صحابیاتؓ کا امت پر یہ بھی احسان ہے کہ دین کا ایک بڑا اہم حصہ ہم تک اُنہیں کے ذریعے سے پہنچا۔ صحابہ کرامؓ، امہات المؤمنینؓ سے حضور نبی کریم ﷺ کی گھریلو زندگی کے متعلق دریافت فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ اتنی بڑی عالمہ تھیں کہ بڑے بڑے صحابیؓاُن سے مسائل پوچھا کرتے تھے۔ صحابیاتؓ کے بعد بھی امت میں عالمات اور محدثات کی ایک طویل فہرست ملتی ہے۔

مسلمان عورتوں کا دین کے دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں بھی بہت اہم کردار تھا۔ 

غزوۂ خیبر میں شریک ہونے والی عورتوں سے حضورﷺ نے دریافت فرمایا کس کی اجازت سے آئیں؟ ان عورتوں نے عرض کیا کہ ہم سوت کات کر اس سے خدا کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی اعانت کرتی ہیں، زخمیوں کے علاج کا سامان ساتھ رکھتی ہیں، تیر اٹھا کر دینا، ستو گھول کر فوجیوں کو پلانا، زخمیوں کو مدینہ منورہ پہنچانا، فوج کا کھانا پکانا، شہداء کے لیے قبریں کھودنا۔ گویا یہ خدمات بتا کر آنحضور ﷺ کی اجازت حاصل کر لی۔

حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں نکل جانے والوں کی عورتوں کا درجہ بقیہ مسلمانوں کے لیے ایسا ہے جیسے ان کی مائیں۔

اسلام نے جہاں عورت کو اُس کا صحیح مقام و مرتبہ عطا فرمایا وہاں اُسے بہت سے اعزازات سے بھی نوازا۔ جس طرح سب سے پہلے اسلام کے دامنِ رحمت سے وابستہ  ہونے کا اعزاز ایک معزز خاتون حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حاصل ہوا اسی طرح اسلام کے گلشن کی آبیاری کے لئے سب سے پہلے ایک عورت نے ہی اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔جی ہاں! اسلام کی سب سے پہلی شہیدہ حضرت سمیہ بنت خباط رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں جنہوں نے راہ حق میں اپنی جان کی قربانی پیش کی۔آپؓ حضرت عمار بن یاسر ؓ کی والدہ اور حضرت یاسرؓ کی زوجہ تھیں جنہوں نے خود بھی اسلام کی خاطر تکلیفیں اُٹھاتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔ 

حضرت سمیہؓ کا اسلام قبول کرنے والوں میں ساتواں نمبر ہے۔ قبول اسلام کے ساتھ ہی ان کے جذبۂ ایمانی کو طرح طرح سے آزمایا گیا لیکن جان کا خوف بھی ان کے جذبۂ ایمان کو شکست نہ دے سکا۔ کفار کو جب پتا چلا تو انہوں نے حضرت سمیہؓ  کو اسلام سے پھیرنے کے لئے ہر حربہ آزمایا،   تشدد اور اذیت کا سلسلہ دن بدن بڑھتا رہا ۔ روایت میں مذکور ہے کہ انہیں گرم کنکریوں پر لٹایا جاتا، لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں کھڑا کر دیا جاتا لیکن تشنہ لبوں پر محبت ِ رسول ﷺ کے پھول کھلتے رہے اور پائے استقلال میں ذرہ بھی لغزش نہ آئی۔ عورت تو نازک آبگینوں کا نام ہے جو ذرا سی ٹھیس سے ٹوٹ جاتے ہیں لیکن آفرین ہے حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی استقامت پر کہ آپ اس بڑھاپے اور جسمانی ضعف اور کمزوری کے باوجود ایمان کا حصار آہنی بن گئیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جب حضرت عمارؓ اور ان کے والد اور والدہ کے پاس سے گزر ہوتا جن کو کفار کی طرف سے مکہ کی شدید گرمی میں وادی ابطح میں عذاب دیا جا رہا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: ’’اے آلِ یاسر! صبر کرو، جنت تمہارا انتظار کر رہی ہے۔‘‘  حضرت سمیہؓ  کو اسلام لانے کی پاداش میں طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائی گئیں لیکن  (اقرار اسلام کے سوا) ہر چیز کا انکار کیا حتیٰ کہ آپؓ کو شہید کر دیا گیا۔ ’’روایت میں ہے کہ ابو جہل نے ان کے جسم کے نازک حصے پر برچھی کا وار کیا جس سے وہ شہید ہو گئیں۔‘‘ اس طرح  آپ ؓ کو اسلام کی پہلی شہیدہ خاتون ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

اگر حضرت سمیہ ؓ جیسی باہمت اور اسلام کے جذبے سے سرشار خاتون کی زندگی پر غور کریں تو آج کی مسلمان عورت سوچ، مزاج، مقصدِ حیات اور طرزِ زندگی میں یکسر مختلف نظر آئے گی۔ایسے موقع پر ضرورت ہے کہ ہم اپنے ماضی کی طرف جھانکیں اور اس سے سبق حاصل کرنے کی کوشش کریں۔آج بھی مسلمان مائوں اور مسلمان بیویوں کو چاہییے کہ وہ حضرت سمیہ ؓ کی استقامت  اور اللہ اور رسول ﷺ سے والہانہ عقیدت و محبت کو اپنے لئے مشعلِ راہ بنائیں کیونکہ اسی طرح وہ نہ صرف کلمۂ حق کی سربلندی میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں بلکہ اُخروی کامیابی بھی حاصل کر سکتی ہیں۔

اسلام کی تاریخ عزیمت کی داستانوں اور قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ چشم عبرت ہو تو ان میں سے ہر داستان بذاتِ خود اسلام کی حقانیت کی دلیل ہے اور حق کے متلاشیوں کو غور و فکر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔امت کی گود کبھی اہل عزیمت سے خالی نہیں ہوتی، آج بھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی جیسی ہماری بہنیں وقت کے فرعونوں کے ظلم و ستم کے سامنے آہنی دیوار بن کر جہاں ہمارے ایمان کو تقویت دے رہی ہیں وہاں ہمیں ایک بھولا ہوا سبق بھی یاد دلا رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو  جانثارانِ اسلام کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online