Bismillah

656

۲۸ذوالقعدہ تا ۴ ذوالحجہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۷تا۳۰اگست۲۰۱۸ء

معاشی تفکرات و اندیشے اور ان کا علاج (رضوان چوہان)

معاشی تفکرات و اندیشے اور ان کا علاج

رضوان چوہان (شمارہ 642)

دنیا میں برپا ہنگاموں، معاملات اور مسائل پر غور و فکر کیا جائے تو یہ ہر جہت میں بے شمار ہیں، سیاسی، مذہبی، معاشی، نسلی، تہذیبی، سماجی، انتظامی، نظریاتی اور اخلاقی مسائل لیکن ایک معاملہ اور ہنگامہ ایسا ہے کہ انسان تا حیات اسی ہنگامے کے پیچھے سرگرداں رہتا ہے اور مرتے دم تک یہ ہنگامہ انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتا یہاں تک کہ موت ہی انسان کو اس معاملے سے آزاد کرواتی ہے اور اس ہنگامے کا نام ہے "فکر معاش"، حیات انسانی کو جتنا زبوں و خوار یہ معاملہ کرتا ہے شاید کوئی اور معاملہ ہو جس کی انسانی زندگی پر اس سے زیادہ اثر انگیزی ہو غرض یہ کہ فکر معاش اور طلب معاش نے ہر رنگ نسل مذہب اور طبقے کو خوب کس کے جکڑ رکھا ہے ہر قسم کا فکر و فلسفہ اس فکر کے آگے ڈھیر ہو جاتا ہے کہتے ہیں کہ بھوکے کے کوئی اصول نہیں ہوتے کوئی نظریات نہیں ہوتے کیوں کہ اس کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا معاملہ پیٹ کی آگ بھجانا ہوتا ہے اپنے اہل و عیال کو کھلانا ہوتا ہے، بے شک ایک حد تک یہ بات ٹھیک ہے لیکن یہ بات مکمل درست نہیں ہے آئیے اس معاملے کا جائزہ لیتے ہیں.

ڈیفنس کراچی میں ایک پروجیکٹ کی تعمیر کے دوران میری ایک متمول کاروباری شخص سے اچھی علیک سلیک ہو گئی کچھ عرصے بعد انہیں شدید پریشان دیکھا معلوم کرنے پر انہوں نے بتایا کہ کاروبار ڈوب رہا ہے اور دوسرا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا کہ کیا کروں ؟ میں نے کہا کہ فکر کیوں کرتے ہیں اللہ مالک ہے اگر یہ بڑا کاروبار نہ رہا تو کوئی چھوٹا کاروبار کر لیجئے گا خدا نے دنیا میں بے شمار حیلے وسیلے اور اسباب رکھے ہیں کوئی دکانداری کر لیجئے گا، وہ صاحب فرمانے لگے کہ میرا اور میری فیملی کا ایک اسٹیٹس ہے لاکھوں کا ماہانہ خرچہ ہے وہ کیسے کم کروں گا اور دکانداری کر کے لوگوں کو کیا منہ دکھاؤں گا کہ اتنا بڑا کاروباری دکانداری کر رہا؟ آپ یقین کیجئے کہ اسی دن میں نے سمجھ لیا کہ لیونگ اسٹیٹس کبھی اوپر نہیں لے جانا چاہیے کہ خدا نہ خواستہ زیادہ آمدنی والے کسی کام کے زوال پر معمول کے کام اور ان سے ملنے والی آمدنی (عموما ایک لوئر مڈل کلاس کی رینج) انسان کو اتنی حقیر محسوس ہو کہ وہ حقائق کو اپنانے کے بجائے اپنے آپ کو تباہ کرنے پر تل جائے غرض یہ کہ میں نے اسی دن سے ڈیفنس میں لگنے والی ملٹی نیشنل ریسٹورنٹس کے کھانوں کی عادت ترک کر دی اور بعض دوسری آسائشوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی جس کا آگے جا کر پیش آنے والے مشکل حالات میں مجھے بہت فائدہ ہوا اور تکالیف اور مشقتیں بھی ہمت اور صبر کو سرنگوں نہ کر سکیں بفضل الہی، بعد ازاں پیش آنے والے مشکل حالات میں خدا نے دل میں ڈال دیا اور دل نے عزم کر لیا کہ انتہائی کم ضروریات زندگی پر بھی گزارہ کر لوں گا اور جب تک کوئی راستہ نہیں بن جاتا کوئی بھی کام کروں گا اور اپنے کچھ چھوٹے موٹے اثاثے ہرگز نہ بیچوں گا کہ بوقت ضرورت کاروبار کے لئے کچھ اسباب موجود ہوں بس یہ ارادہ قائم ہوتے ہی دل کو چین و سکون حاصل ہو گیا ان حالات میں مجھے سب سے زیادہ حوصلہ دینے والے میرے کفایت شعار والدین تھے والد صاحب مرحوم تو اللہ والے تھے کسی قسم کی خواہشات اور آسائشات کے قیدی نہ تھے اور ماشااللہ سے والدہ کی قناعت، صبر و شکر اور سمجھداری نے میرے لئے تپتی دھوپ میں سائبان مہیا کیا اور پھر اللہ والوں کی صحبت نے میری تمام مشکلیں (مشکلات کی تفصیل مناسب نہیں) آسان کردیں پھر میرے ایک اللہ والے دوست نے اس وقت مجھے بڑی فکری اور روحانی امداد دی جب میں نے اس کے معاملات دیکھے کہ بال بچوں والا ہوتے ہوے انتہائی کم آمدنی اور مشکلات کے باوجود نوکری محض اس بات پر چھوڑ دی کہ اس کے سیٹھ صاحب کوئی جعلی پروڈکٹ فروخت کرنا چاہتے تھے اور میرے دوست نے اپنے سیٹھ کو کہا کہ میں گاہک کو ضرور بتاؤں گا کہ یہ جعلی ہے بہر حال اس اللہ والے بندے نے مجھے کہا کہ رضوان فاقوں سے مر جانا آسان ہے لیکن جہنم کی آگ برداشت کرنے کی طاقت نہیں پورے دو مہینے اس شخص نے انتہائی شدید مشکل میں گزارے اس کی یہ استقامت اپنی آنکھوں سے دیکھ کر مجھے بھی زبردست طاقت مل گئی اور کسی بھی قسم کے تفکرات اور اندیشے بالکل کافور ہو گئے اور اللہ کے فضل سے کوشش اور جدوجہد کا دامن بھی نہ چھوڑا.

ہر انسان زندگی میں سرد و گرم حالات دیکھتا ہے بس خود کو ان میں ڈھالنے کی ہمت پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے استقامت اور صبر کے ساتھ مشکلات کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے لیونگ اسٹیٹس کو لات مارنی پڑتی ہے خواہشات کو فنا کرنا پڑتا ہے اور ضروریات کو پست سے پست کرنا ہوتا ہے بڑے کاروبار سے چھوٹا کاروبار کرنا پڑتا ہے یا نوکری جانے پر مزدوری کرنی پڑتی ہے اور بلا کسی شرم و جھجھک کے ٹھیلہ لگانا ہوتا ہے اور اس میں گھر والوں کا ساتھ اشد ضروری ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو بڑی صلاحیتیں دی ہیں اور اس کے دل کو اتنی طاقت دی ہے کہ اگر اس کے دل کی طاقت و قوت اللہ کے فضل و کرم سے بحال ہو جائے تو وہ قیامتوں کا سامنا کر سکتا ہے معاشی مسائل اور تفکرات تو کوئی شے نہیں ہیں اور خدا نہ خواستہ اگر دل میں خدا نہ ہو  خدا سے کوئی تعلق نہ ہو تو پھر یہ ہوتا ہے ۔

خلاصہ یہ کہ خواہشات اور آسائشات انسان کی دشمن ہیں چاہے وہ امیر ہو یا غریب اگر ہمارا کمزور معاشی طبقہ بھی غور کرے تو ان سے بھی کم تر زندگی گزارنے والے دنیا میں موجود ہیں افریقہ کے بعض ممالک میں روزانہ کی اجرت پاکستانی پچاس روپے ہیں اور وہاں پورا خاندان بس 2 وقت ابلے ہوے آلو کھا کر گزارہ کرتا ہے، دوسری بات زیادہ آمدنی پر آسائشیں مت اختیار کریں کہ پھر ان کی عادت آہستہ آہستہ ضرورت بن جاتی ہے پھر زیادہ اخراجات انسان کو اور زیادہ مستقبل کے اندیشوں کا قیدی بناتے ہیں ہر وقت تفکرات کے سائے رہتے ہیں جو انسان کو جائز ناجائز سے بھی بے پرواہ کرتے ہیں اور سکون قلب کو بھی تباہ کر دیتے ہیں بل کہ زیادہ آمدنی ہو تو اپنی ذات سے زیادہ اسے کار خیر میں خرچ کیجئے اور اپنے دل کو پاکیزہ کر کے خدا کا قرب حاصل کیجئے کہ جس نے مال کی محبت کو دل سے نکالا اس کے دل میں خدا ضرور آجائے گا اللہ والوں کا کہنا ہے کہ زیادہ آمدنی پر آپ کا اختیار نہیں لیکن اخراجات پر آپ کا اختیار ضرور ہے اور اگر مشکل وقت ہو تو خدا پر ایمان رکھنے والے کے لئے سب سے بڑی دولت قناعت ہے کہ وہ انسان کے دل کو عجیب قسم کی بادشاہت عطا کر جاتی ہے کہ انسان ہر فکر ہر غم اور ہر اندیشے سے آزاد ہو جاتا ہے ہر وہ غریب اور پریشان حال بادشاہ ہے جسے دووقت کی سوکھی روٹی کھا کر بھی صبر و شکر حاصل ہو، کسی بزرگ نے کہا تھا کہ بادشاہوں کو ہمارے دل کے سکون کا علم ہو جائے تو وہ اپنے تاج و تخت کو لات مار دیں اور عقل مند جانتے ہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم بادشاہ ہوتے ہیں لیکن کم عقل ان پر رشک کرتے ہیں.

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online