Bismillah

656

۲۸ذوالقعدہ تا ۴ ذوالحجہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۷تا۳۰اگست۲۰۱۸ء

عظیم لوگ (بنت ڈاکٹر سیف الرحمن شہید)

عظیم لوگ

بنت ڈاکٹر سیف الرحمن شہید (شمارہ 643)

اس دنیا میں کچھ لوگ بہت عظیم ہوتے ہیں اور دِل چاہتا ہے ہم بھی اسی طرح عظیم بنیں ، اور یہ لوگ صرف زندگی میں ہی عظیم نہیںہوتے بلکہ موت کے بعد بھی ان کی عظمت کا چرچارہتا ہے، چنانچہ جب یہ عظیم لوگ ہمارے درمیان بھی نہیں رہتے تو بھی اپنی محبتیں، اپنی یادیں، اپنا خلوص چھوڑجاتے ہیں، اور صدیوں تک لوگوں کے دِلوں میں نقش رہ جاتے ہیں۔ وہ اپنے قلم اور سچے جذبوں سے ہمارے لئے بہت کارآمد باتیں لکھ جاتے ہیں۔ انمول لوگ ہوتے ہیں جو بسا اوقات گمنام ضرور ہوتے ہیں مگر ایسی شمع روشن کر جاتے ہیں کہ برسوں لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔ ہم ان سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں کو جب پڑھتے ہیں تو ہمیں ایک احساس ملتا ہے، دوسروں کو سمجھنے کا، دوسروں کے غم پڑھنے کا، دوسروں کو خوشی دینے کا۔

 جی ہاں یہاں میں ایک عظیم انمول انسان کا ذکر کرتی ہوں جب بھی ان کی تحریریں پڑھتی ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بس ہمارے لئے لکھی گئی ہیں انمول اقوال، انمول باتیں۔ اللہ تعالیٰ شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کے درجات بلند کرے کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

شیخ سعدی فرما گئے کہ ’’رزق کی کمی اور زیادتی دنوں ہی برائی کی طرف لے جاتی ہیں‘‘ بے شک ٹھیک فرما گئے۔رزق کی زیادتی کی پہلی وجہ کیا ہے کہ انسان میں سب سے پہلے ٖغرور جنم لیتا ہے اور غرور دل سے دوسروںکو احساس نکال دیتا ہے۔ غرور ہمیں انسانی اور خونی رشتوں کو بھی بھلا دیتا ہے۔ اس کے دماغ پہ دولت کا ایک پردہ چھا جاتا ہے وہ یہ نہیں سوچتا ہے کہ میرے آس پاس لوگ کیسی زندگی گزار رہے ہیں۔ضرورت مندوں کو اس وقت کس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ تک نہیں جانتا کہ میں غرور کر کے پستی کی طرف جا رہا ہوں، زیادہ دولت ہونے کی وجہ سے وہ خود کو دوسروں سے بڑا سمجھنے لگتا ہے اور یہاں تک کہ وہ دوسروں کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا دولت کی اتنی محبت بڑھ جاتی ہے کہ وہی انسان زکوۃ دینے سے کترانے لگتا ہے اس کا دل کہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مال اکھٹا کروں اور وہ اس ہوس میں دن رات لگ جاتا ہے، اپنی عبادات اسے بھول کر رہ جاتی ہیں اس کے دل سے زیادہ دولت ہونے کی وجہ سے دوسروں کے لئے احساس ہمدردی ختم ہو جاتی ہے۔

 محسوس یوںہوتا ہے کہ شیخ سعدی ؒ ہمارے لئے یہ اقوال کہہ گئے ہوں کیونکہ آج ہمارا یہی حال ہے زیادہ سے زیادہ مال اکھٹا کرنے کی ہوس میں ہم اتنا مشغول ہو گئے ہیں کہ ہم ان لوگوں کو بھول گئے ہیں جنہیں ہماری ضرورت ہوتی ہے۔ سبھی دولت کی زیادتی میں مصروف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم برائی کی طرف جا رہے ہیں۔ دولت کی زیادتی، بے شک ہمیں برائی کی طرف ہی تو لے جا رہی ہے۔ کچھ پتا نہیں دولت حلال کی ہے یا حرام کی۔ کچھ پتہ نہیں کہ کہاں سے آئی؟ کہاں جا رہی ہے؟ اور کہاںپہ لگائی جا رہی ہے۔ ہزاروں سوالات کبھی ہم نے دولت اکھٹی کرتے وقت سوچے نہیں نا؟

’’ رزق کی کمی بھی برائی کی طرف لے جاتی ہے‘‘

یعنی رزق کی کمی ، دولت کی کمی کا رونا رونے والے بھی بہت مل جائیں گے۔ اور اس کی وجہ سے برائیوں کے طرف جانے والے بھی۔ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ ہے کہ جب تک برے حالات ان پہ خود آ نہ جائیں تب تک دوسرے لوگوں کو بری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ اگر امیروں میںتھوڑا احساس ہم دردی و غم خواری پیدا ہو جائے تو ان میں غرور ختم ہو جائے۔ وہ کبھی بھی دولت کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔ تو اس سے معاشرے کی کتنی ہی برائیاں جنم لینے سے پہلے ہی جڑ سے ختم ہو جائینگی، آج رزق کی اگر زیادتی ہو تو بھی ناشکری اور اگر کمی ہو تو ناشکری۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ انسان کسی حال میں خوش رہ ہی نہیں سکتا اگر زیادہ مال دولت موجود ہو تو بھی فتنہ ہے اور کمی کی صورت میں بھی فتنہ ہے۔ لوگوں میں وہ پہلے والا صبر نہیں ہے ۔ مال و دولت کو بڑھا لیتے ہیں جب سکون میسر نہیں آتا تو ایک ٹھنڈی آہ بھر کے کہتے ہیں کہ کاش دنیا اتنی دولت مند نہ ہوتی؟ ادھر غریب بے چارہ ٹھنڈی آہ بھر کے کہتا ہے کہ کاش میرے پاس اتنی دنیا دولت ہوتی ہے، لیکن ہمارے معاشرے کا مسئلہ کیا ہے؟ دوسروں کو نہ سمجھنا۔ اب یہاں غریب اور امیر کی ایک ہی حالت ہے دونوں ایک ہی غم میں مبتلا ہیں اور وہ غم کیا ہے؟ ( دولت مندی)۔

اللہ تعالی کی عطاء کردہ یہ زندگی ہمارے لیئے بہترین تحفہ ہے لیکن ہم اپنی زندگی کو دولت کی نظر کر دیتے ہیں آجکل نوجوان بوڑھے بچے تمام لوگوں کا ایک ہی مسئلہ ہے، کمانا اور کماتے رہنا۔ حال کو چھوڑ کر مستقبل کا سوچنا، زیادہ سے زیادہ پیسے کمانا تاکہ ہمارے بچے خوش رہ سکیں لیکن اس دنیا سے رخصت ہوتے ہی بچے یہ تک بھول جاتے ہیں کہ یہ تمام دولت کتنی محنت سے کمائی گئی ہے اورپھر والدین کے حقوق بھی بھلا دیتے ہیں ۔ 

سچ یہ ہے کہ عظیم لوگ وہ نہیں جن کے پاس مال و دولت کے انبار ہوں، بلکہ عظیم وہ ہیں جو رب تعالیٰ کے فرماں بردار اور اس کی مخلوق پر شفیق ومہربان ہوتے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online