Bismillah

655

۲۱تا۲۷ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۰تا۶ااگست۲۰۱۸ء

رمضان… چند مفید گزارشات

رمضان… چند مفید گزارشات

(شمارہ 644)

ہو سکتا ہے جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں ہم رمضان شریف جیسے مقدس اور عظیم الشان مہینہ میں داخل ہو چکے ہوں۔ایک ایسا مہینہ جس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں،جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں،سرکش شیاطین جکڑدئیے جاتے ہیں، نیکیوں کا اجروثواب بڑھادیاجاتاہے، جس کی ہررات میں اعلان ہوتا ہے’’اے خیر کے متلاشی !آگے بڑھ… جس کی ایک رات ہزار مہینوں سے افضل ہے ، جواس کے خیرسے محروم رہا وہ واقعی محروم ہے۔ روزہ ، تلاوت ِقرآن، صدقات وخیرات ، قیام اوردعا واستغفار پرمشتمل نیکیوں کے اس موسم بہار کی آمد آمد ہے۔

 پہلی بات تو یہ مدنظر رکھنی چاہیے، جب ہمارے گھروںمیں کسی ہردلعزیز مہمان کی آمد ہوتی ہے تواپنے گھروں کوسجاتے ہیں،اس کی زینت وزیبائش کرتے ہیں،چہرے پر خوشیاں مچل رہی ہوتی ہیں،دل باغ باغ ہوتاہے اورمہمان کے لیے اپنی آنکھیں فرش راہ کیے ہوتے ہیں۔ کیارمضان کی آمد پر ہم اپنے دل میں یہ کیفیت پارہے ہیں؟….

اللہ والے رمضان المبارک کاچھ مہینہ پہلے سے انتظار کرتے تھے ، مشہور تابعی معلی بن فضل رمضان المبارک کے بارے میں صحابہ کرام کے اشتیاق کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ چھ ماہ پہلے سے یہ دعا کرتے تھے کہ ’’اے اللہ ! ہمیں ماہِ رمضان کی سعادت نصیب فرما‘‘۔ پھر جب رمضان کا مہینہ گذرجاتا تو بقیہ چھ ماہ دعا کرتے ’’اے اللہ!جن اعمال کی تونے توفیق دی وہ قبول بھی فرمالے ‘‘۔

دوسری بات یہ سوچنی چاہیے کہ کتنے لوگ جو گذشتہ سال ہمارے ساتھ روزے میں شریک تھے۔ آج قبرمیں مدفون ہیں،کتنے چہرے جنہیں ہم نے گذشتہ سال رمضان میں صحیح سلامت دیکھاتھا‘آج بسترِ مرگ پر پڑے موت وحیات کے بیچ ہچکولے کھارہے ہیں۔ کیاخبرکہ آنے والا رمضان ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو ، اس لیے آنے والے مہینے کا خیروخوبی سے استقبال کریں،ہمارے اوپر طلوع ہونے والارمضان کا چاند خیروبرکت کاچاند ہو،اسے دیکھ کر ہمارا دل جذبہ اشتیاق سے امڈ آئے، ہماری زبان گویاہو: اللھم ا ھلہ علینا بالا من والایمان والسلامۃ والاسلام ربی وربک اللہ ’’۔

 اس کے بعد ماہ مبارک کی آمد سے پہلے پہلے اس کے مقام ،اس کی عظمت، اس کی فضیلت،اس کے مقصد اوراس کے پیغام کو اپنے ذہن میں تازہ کریں تاکہ اس کی برکات سے بھرپور فائدہ اٹھاسکیں اوراس بات کا پختہ ارادہ کریں کہ ہم اس ماہ مبارک میں اپنے اندر تقوی کی صفت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے جو روزہ کا ماحصل ہے۔

ان معمولات کی تحدید کرلیںجو حقوق اللہ سے متعلق ہیں ،ان معمولات کی بھی تحدید کرلیں جو حقوق العباد سے متعلق ہیں،پھر ان معمولات کی بھی فہرست بنالیں جنہیں رمضان المبارک میں ادا کرنے ہیں، اگرآپ کے ساتھ ڈیوٹی کے تقاضے ہیںاورعبادت کے لیے خودکوبالکلیہ فارغ نہیں کرسکتے تو پھر یہ دیکھیں کہ کن کن کاموں کورمضان کی خاطر چھوڑ سکتے ہیں اور کن کن مصروفیات کو مو خرکر سکتے ہیں۔اگر فہرست نہیں بنا سکتے تو کم از کم ذہن میں ایک خاکہ ضرور تیار کر لیں۔

 اس ماہ مبارک میں ہم اپنی زندگی ،صحت اورجوانی میں فرصت کو غنیمت جانیں،اپنے سارے گناہوں سے سچی توبہ کریں،واجبات ومستحبات کی ادائیگی اورمنہیات ومکروہات سے اجتناب کرنے کا خود کو عادی بنائیں۔

 پنج وقتہ نمازوں بالخصوص نمازِفجر کی باجماعت ادائیگی کو اپنے اوپر لازم کرلیں۔جن پر زکوۃ اورحج فرض ہے اور اس کی ادائیگی میں غفلت برت رہے ہیں،وہ یہ فیصلہ کریں کہ پہلی فرصت میںحج اداکریں گے اور اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے غریبوں اورمسکینوں کا حق ادا کریں گے۔

جولوگ محرمات کا ارتکاب کرکے اللہ کی غیرت کو چیلنج کررہے ہیں،بدکاری،شراب نوشی ، ناجائز کاروبار،سودی لین دین جیسے جرائم میں ملوث ہیں وہ توبہ کرکے عزم کریں کہ وہ ان جرائم سے بالکل دورہوجائیں گے اورپھر عمربھر ان کے قریب نہ ہوں گے۔

قرآن کریم کی تلاوت کا ایک چارٹ بنائیں،ہرفرض نماز کے بعد چند آیات کی تلاوت مع ترجمہ کا معمول بنالیں کہ آنے والا مہینہ قرآن کا مہینہ ہے جس کے لیے ابھی سے تیاری کرنی ہے۔اسکے علاوہ کوشش کریں کہ مرد حضرات اپنا زیادہ وقت مسجد جیسے متبرک ماحول میں گزاریں۔

معاشرتی روابط اورحقوق پر خاص طورسے دھیان دیں ،کسی کا کوئی قرض یا دعوی ہے تو اسے فوراً چکادیں اور معاملے کا تصفیہ کرلیں،بروزقیامت وہ شخص بڑا بدنصیب اور مفلس ہوگا جو نماز، روزے اور زکوۃ کے ساتھ آئے گا لیکن اس کے اوپر لوگوں کی طرف سے دعوو ں کا ایک انبار ہوگا ،کسی کو مارا ہوگا، کسی کو گالی دی ہوگی،کسی کی بے عزتی کی ہوگی،لہذا اس کی ایک ایک نیکیاں لے لے کر دعویداروں کو دے دی جائیں گی ،جب اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی اوردعویدار باقی رہ جائیں گے تو دعویداروں کے گناہ ان کے سروں پر تھوپ دئیے جائیں گے پھر انہیں جہنم رسید کردیاجائے گا۔

اس لیے رمضان کی آمد سے قبل معاشرتی روابط کو مستحکم کرلیں،اوریہ عزم مصمم کرلیں کہ آپ اپنی زبان کی حفاظت کریں گے ،گالی، گلوچ ،بدکلامی اورچغل خوری سے دور رہیں گے ،نیکی اور بھلائی کے کاموں میں پیش پیش رہیں گے اورکسی انسان کو ایذا نہ پہنچائیں گے۔

رات کے سہہ پہر میں قیام اللیل کی عادت ڈالیں، کیونکہ یہ رات کا وہ حصہ ہے جس میں اللہ تعالی سمائے دنیا پر (اپنے شایانِ شان) نزول فرماکر اعلان کرتے ہیں: ’’ہے کوئی دعا کرنے والا کہ ہم اس کی دعا قبول کریں ،ہے کوئی سوال کرنے والا کہ ہم اس کے سوال کو پورا کریں، ہے کوئی اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرنے والا کہ ہم اس کے گناہوں کو معاف کردیں۔ ‘‘ (بخاری ومسلم)۔

 واقعہ یہ ہے کہ شب میں اللہ کے خوف سے آنسوو ں کا ٹپکنااوربدن پر لرزہ طاری ہوجاناایک طرف خوشنودی رب کا بہترین ذریعہ ہے تو دوسری طرف کمال شخصیت کا راز بھی ہے ،آہ سحرگاہی کے بغیر نہ کبھی شخصیتیں بنی ہیںنہ بنیں گی، علامہ اقبال نے کہاتھا:

عطار ہو،رومی ہو،رازی ہو، غزالی ہو    

کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحرگاہی

اس ماہ مبارک میں اپنے سلوک او رکردار پر دھیان دیں،اپنے آپ کو حسن اخلاق کا پیکر بنائیں، رذائل اخلاق سے دوری اختیار کریں،اخلاق وآداب پر مشتمل کتابوں کا مطالعہ کریں اوراچھے اخلاق کے حامل لوگوں کے پاس بیٹھ کر ان کی خوبیاں اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔

اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا عادی بنائیں کہ رمضان مواسات وغم خواری کا مہینہ ہے ،ہمارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم  یوںبھی سخی تھے۔ تاہم رمضان مبارک میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ا ورفیاض بن جاتے تھے۔ اس لیے اللہ پاک نے جس قدربھی دے رکھا ہے اس میں سے غرباء و مساکین کے لیے ضرور نکالیں، اورحسب استطاعت  روزہ داروں کو افطار بھی کرائیں کہ اس کا اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا خود روزہ رکھنے کا (ترمذی )۔

اس کے علاوہ رمضان مبارک میں صدقات، عطیات  اور خیرات کا سلسلہ بھی جاری رکھیں۔ اور اللہ کے اس خاص مہینے میں انفاق فی سبیل اللہ کا مبارک عمل تیز سے تیز تر کر دیں۔ رمضان مبارک چونکہ قرآن اور جہاد کا مہینہ ہے، اس لئے جہاد فی سبیل اللہ اور مجاہدین کی ہر قسم کی مدد کریں انہیں افرادی قوت کے ساتھ ساتھ مالی معاونت سے بھی نوازیے، اس میں ہمارا اپنا ہی فائدہ اور دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ اور آخرت میں ذخیرہ اجر کا باعث ہے۔

اس ماہ مبارک میں دعوت الی اللہ کے لیے خود کو تیار کریں،اس مقصد کے لیے ممکنہ وسائل کو کام میں لائیں،کیونکہ اس ماہ مبارک میں انسانی طبیعت میں فطری طور پر قبول حق کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے ،جن غیرمسلموں سے آپ متعارف ہیں کم ازکم ان تک اسلام کا پیغام ضرورپہنچائیں،انہیں تعارف اسلام پر مبنی دعوتی لٹریچرز لاکر دیں،اوراپنے بھائیوں اور نیزاہل خانہ کی اصلاح اور ان کی روحانی تربیت کی طرف پوری توجہ مبذول کریں۔

اوریہ جذبہ پیدا کرنے کے لیے بہت مفیدہوگا کہ رمضان کی آمد سے پہلے ایک دن تنہائی میں یکسوئی کے ساتھ بیٹھ کر اپنے نفس کا محاسبہ کریں،کہ ہم نے سال بھر کیا کھویا اور کیاپایا،اس دن کو یاد کریں جس دن اچانک موت کا فرشتہ بے دردی کے ساتھ روح نکال لے گا،لوگ غسل دیں گے ، کفن پہنائیں گے، تنگ وتاریک گھروندے میں اتار دیں گے،منوں مٹی تلے دبادیں گے، وہاں خوفناک اژدہے نکلیں گے،وہاں جہنم کی دہکتی ہوئی آگ ہوگی ، لاکھ چلائیں،آہیں بھریں، رحمت کے طلبگار ہوں لیکن کوئی سننے والا نہ ہوگا۔ یہ احساس خود میں پیدا کرکے روئیں، گڑگڑائیں ، پھرنئے عزم وحوصلہ کے ساتھ اپنے رب کی مرضیات کے لیے کمرکس لیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مبارک مہینہ کا اچھا استقبال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس میں ہمیں اپنی مغفرت کا سامان کر نے کی ہمت اور نصرت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online