Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

شوپیاں میںقابض فورسزنے مظاہرین پر سیدھی گولیاں چلا دیں،5 کشمیری شہید

(شمارہ 629)

 شوپیاں میں قابض فورسزنے مظاہرین پر سیدھی گولیاں چلا دیں،5 کشمیری شہید

شہادتوں کیخلاف مکمل ہڑتال،نظام زندگی درہم برہم،جنازہ میں ہزاروں افرادکی شرکت،بھارت مخالف نعرے بازی،قابض فورسز سے جھڑپوں میں متعدد کشمیری زخمی،اضافی نفری تعینات،عوام گھروں میں محصور
بھارت کے یوم جمہوریہ کیخلاف لندن میں مودی سرکار کے مظالم پر مشتمل تصاویر ٹرک پر لگا کر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا،مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں انتہائی تشویشناک ہیں،ہیومن رائٹس
سرچ آپریشن کے دوران کشمیرکا فورسز پر پتھراؤ،بھارتی فوجی افسر کیخلاف 2کشمیریوں کے قتل کا مقدمہ درج،ماضی میں بھی مقدمات بنے،اہلکار نہیں پکڑے گئے،حالیہ اقدام بھی احتجاج دبانے کا روایتی حربہ قرار

سرینگر(نیٹ نیوز)مقبوضہ کشمیر میں قابض فورسز کی ریاستی دہشت گردی جاری، شوپیاں میں آپریشن کے دوران احتجاج کرنے والے کشمیریوں پر سیدھی گولیاں چلا دیں جس کے نتیجے میں5 کشمیری شہید اور متعدد زخمی ہوگئے، شہادتوں کے خلاف پوری مقبوضہ وادی سراپا احتجاج بن گئی، ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی کی، شہداء کے نماز جنازہ میں سخت کرفیو ، رکاوٹوں کے باوجود ہزاروں افراد نے شرکت کی جبکہ دوسری جانب بھارتی یوم جمہوریہ پر مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنماؤں کی کال پر مکمل ہڑتال کی گئی، یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا، یوم جمہوریہ پر دنیا بھر میں کشمیریوں کا احتجاج،کٹھ پتلی انتظامیہ نے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر انٹرنیٹ،موبائل سروس بند رکھی،حریت رہنماوں کو نظر بند کر دیا جبکہ بھارت کے یوم جمہوریہ کیخلاف لندن میں مودی سرکار کے مظالم پر مشتمل تصاویر ٹرک پر لگا کر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق  مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کو برقرار رکھتے ہوئے مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا جبکہ 2لڑکیاں زخمی ہوگئیں،مجاہدین سے جھڑپیں بھی جاری ہیں ،سرچ آپریشن کے خلاف ہزاروں کشمیریوں نے بھارتی فوج پر پتھرائو کیا۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے شوپیاں میں بھارتی فوج اور کشمیری مجاہدین کے مابین شدید جھڑپ ہوئی۔چائے گنڈ ڈائرونامی گاؤںمیں قابض   فوج نے گھر گھر آپریشن کی آڑ میں چادر اور چار دیواری کی پامالی کی تو اہل علاقہ مشتعل ہوکر احتجاجاً محاصرہ توڑ کر باہر نکل آئے اور بھارت کے خلاف او ر آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔بھارتی فوج نے محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کیا تو ہزاروں کشمیریوں نے سڑکوں پر نکل کر بھارتی فوجی اہلکاروں پرزبردست پتھراؤ کیا مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے قابض فوج نے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور پیلٹ گن سے چھرے فائرکیے جب کہ ربڑ کی گولیوں بھی ماریں،مظاہرین منتشر نہ ہوئے تو بھارتی فوج نے مظاہرین پر سیدھی گولیاں چلادیں جس کے نتیجے میں 3 کشمیری شہید اور 2 لڑکیاں زخمی ہوگئیں جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ شہید ہونے والوں میں ایک کی شناخت 17سالہ شاکر احمد میر کے نام سے ہوئی جو کلام پورہ کا رہائشی تھا۔آخری اطلاعات آنے تک جھڑپ کا سلسلہ جاری تھا۔ مذکورہ علاقہ میں کشمیری سرچ آپریشن کیخلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔دوسری جانب حریت قیادت سیدعلی گیلانی،میرواعظ عمر فاروق اور دیگر رہنماؤں نے 26 جنوری کو بھارتی یومِ جمہوریہ کو بطوریومِ سیاہ منانے کا اعلان کرتے ہوئے جمعے کے روز شٹر ڈاون ہڑتال کرنے کی ہدایت کی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کیخلاف زبردست احتجاجی مظاہروں کے بعد 2کشمیریوں کو شہید کرنے والے اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ،ایف آئی آر میں بھارتی فوج کے میجر آدتیہ اور اس کی یونٹ 10 گروال رائفل بٹالین کو نامزد کیا گیا ہے تاہم کشمیریوں نے اس اقدام کو مستردکردیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر پولیس کی طرف سے یہ اقدام احتجاجی مظاہرین کے غم و غصہ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے کیا گیا ہے۔ ماضی میں کئی مرتبہ بھارتی فورسز اہلکاروں کیخلاف مقدمات درج کئے گئے لیکن آج تک کسی اہلکار کو گرفتار کر کے سزا نہیں دی گئی۔  نام نہاد بھارتی یوم جمہوریہ کیخلاف تاریخی ہڑتال کی گئی اور زبردست احتجاجی مظا ہرے کئے گئے۔ بھارتی فوج نے پورے کشمیر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کئے رکھا اور اضافی نفری تعینات کر کے سری نگر سمیت دیگر علاقوں میں بھی گلی کوچوں کو سیل کئے رکھا۔ اس دوران کشمیریوں کے گھروں اور ہوٹلوں پر بھی چھاپے مارے گئے۔ بزرگ کشمیری قائد سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، محمد یٰسین ملک،سیدہ آسیہ اندرابی، محمد اشرف صحرائی،مختار احمد وازہ اور انجینئر ہلا ل احمد وار کو گھروں میں نظربند رکھا گیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یوم سیاہ منانے کی کال سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے دی۔ مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال رہی اور دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں بھارت مخالف مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر پورے مقبوضہ کشمیر خاص طورپر سرینگر اور جموں کا محاصرہ کر لیا۔ ہزاروں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔ کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد ورفت معطل رہی۔ سڑکوں پر بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار گشت کرتے رہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online