Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

غوطہ اور دوما پر بمباری کے ساتھ کیمیائی گیس کی بارش،مزید140 افراد شہید

(شمارہ 636)

غوطہ اور دوما پر بمباری کے ساتھ کیمیائی گیس کی بارش،مزید140 افراد شہید

غوطہ سے انخلا کیلئے جمع شہریوں پربمباری ،بشار فوج کی وحشیانہ کارروائیوں سے مزید ہزاروں افراد بے گھر، علاقہ چھوڑنے والوں کی تعداد68 ہزار ہو گئی
روسی اور بشار فورسز کے جنگی طیاروں نے قصبہ بطنہ القفراور ساقبہ کو نیپام اور کلسٹربموں کانشان بنایا، چار لاکھ شہری اب بھی غوطہ میں محصور ہیں،اقوام متحدہ
غوطہ میں بچوں سمیت ایک ہزار زخمیوں کی حالت تشویشناک،کھنڈرات میں تبدیل غوطہ شہر کے 70 فیصد علاقے پر بشار فورسز نے کنٹرول حاصل کرلیا
 2011ء کے بعد اب تک سب سے زیادہ شہادتیں2017ء میں ہوئیں،33 لاکھ شامی بچوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں،عالمی ادارہ برائے اطفال

دمشق(نیٹ نیوز)شام میں بشارالاسد کے مخالفین پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا،روسی اور بشار فورسز کی غوطہ اور دوما پر وحشیانہ بمباری کے ساتھ کیمیائی گیس کی بارش، مزید140 شہری شہید اور سینکڑوں زخمی ہوگئے،فورسز نے انخلاء کے لئے جمع لوگوں کو بمباری کا نشانہ بنایا،غوطہ  چھوڑنے والوں کی تعداد68 ہزار ہو گئی ،اب بھی 4 لاکھ افراد محصور ہیں، 70 فیصد علاقے پر بشار فورسز نے کنٹرول حاصل کرلیا۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2011 ء سے جاری خانہ جنگی کے دورا ن اب تک 15 لاکھ افراد معذور ہوچکے جبکہ33 لاکھ بچوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔تفصیلات کے مطابق  غوطہ میں انخلا کے دوران بشار اور روسی فضائیہ کی بمباری سے مزید72 شہری شہید اور100 زخمی ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق بشار اور روسی فضائیہ نے غوطہ کے قصبے بطنہ القفر اور ساقبہ پر نیپام اور کلسٹر بموں کی بارش کر دی۔ امدادی تنظیم وائٹ ہیلمٹ کے مطابق بطنہ القفر میں 64 افراد شہید ہوئے۔ علاقے میں جلی ہوئی لاشیں بکھری پڑی ہیں اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ قصبہ ساقبہ میں 12 افراد کی شہادت کی اطلاع ہے۔ بشار فوج کی وحشیانہ بمباری کے بعد بمباری کے بعد غوطہ سے نکلنے کی کوشش کرنے والے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق جمعہ کو5 ہزار   شہریوں کا انخلا ہوا ہے۔ یونیسف نے کہا ہے کہ وہ غوطہ سے تقریبا50 ہزار افراد کا انخلا متوقع ہے جن کی ہنگامی امداد اور پناہ کیلئے کام شروع کر دیا گیا۔ دوسری جانب بشار فوج نے قصبے حموریہ پر بھی قبضہ کر لیا ہے ۔طانوی میڈیا کے مطابق دوما سے شدید زخمی اور بیمار شہریوں کے انخلا کا آغاز ہوگیا جبکہ شامی فوج آبادیوں پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوئے۔ بدھ کوتقریباً ڈیڑھ سو افراد کو نکالا گیا ان میں بچے، خواتین اور بوڑھے شامل ہیں۔ پہلا گروپ اقوام متحدہ کی مرتب کردہ ایک ہزار افراد کی فہرست میں شامل تھا۔ نیم مردہ حالت میں ان افراد کو دمشق کے نواح میں ایک شیلٹر میں منتقل کیا گیا ہے۔اس دوران غوطہ میں واقع مختلف قصبوں اور دیہات پر بشار فوج کے فضائی حملے جاری رہے۔ شام کے علاقے مشرقی غوطہ میں روسی اور بشار فوج کی وحشیانہ بمباری سے زخمی ہونے والے ایک ہزار افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔ مغربی میڈیا کے مطابق مشرقی غوطہ میں بشار فوج اور جنگجوئوں کے درمیان شدید زخمیوں کو محفوظ طبی سینٹرز تک منتقل کرنے کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے۔ بشار اور روسی فضائی نے شامی قصبہ دوما میں زہریلی گیس سے حملہ کر دیا جبکہ بمباری سے مزید18 افراد شہید ہو گئے۔الجزیرہ ٹی وی نے مقامی امدادی اداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ زہریلی گیس حملے سے متعدد شہادتوں کی اطلاع ہے۔ ان کے جسموں پر زخم کے نشان نہیں۔اس کے علاوہ عمارتوں پر بھی بم برسائے گئے۔ ملبے سے متعدد افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ شہید ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔دوسری جانب غوطہ سے مزید 6 ہزار افراد کا انخلا ہوا ہے جس کے بعد علاقے سے نکلنے والوں کی تعداد73 ہزار ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حکومتی فورسز نے تین ہفتوں کی شدید لڑائی کے بعد تقریباً 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ عالمی ادارہ برائے اطفال ’یونیسیف‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام میں سنہ 2011ء کے بعد سے اسد رجیم کے خلاف جاری بغاوت کے دوران اب تک کم سے کم 15 لاکھ افراد معذور ہوچکے ہیں۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے بین الاقوامی برادری سے شام میں جنگ فوری ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق شام میں 2011ء کے بعد اب تک سب سے زیادہ ہلاکتیں 2017ء میں ہوئیں۔ گذشتہ برس 2016ء کی نسبت بچوں کی ہلاکتوں میں 50 فی صد اضافہ ہوا۔ان کاکہنا تھا کہ شام میں اس وقت 33 لاکھ بچوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ گذشتہ سات سال سے جاری خانہ جنگ میں 15 لاکھ افراد معذور ہوچکے ہیں جب کہ 86 ہزار افراد اپنے ہاتھوں یا پاؤں سے محروم کردیے گئے ہیں۔کالا باری نے شام میں پرتشدد کاررائیوں، بالخصوص بچوں پر تشدد کی روک تھام، اسپتالوں پر بمباری اور اسکولوں کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ بند کرنے پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اورعالمی برادری شامی بچوں کی چیخوں کو سن رہی ہے مگر ان کے دفاع کے لیے موثر حکمت عملی وضع نہیں کی جا سکی۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor