ہمیں ہیں وہ (نظم ۔ پروفیسر انور جمیل)

ہمیں ہیں وہ

ہمیں ہیں وہ جو ہواؤں کے رُخ بدلتے ہیں

پیام جن کا یہ جھونکے اُٹھا کے چلتے ہیں

ہمیں ہی راستے جن کو سمندروں نے دیے

ہمارے حکم پہ دریا اُمنڈ کے چلتے ہیں

ہمیں توحید کے صدقے ملا جلال ایسا

ہمارے خوف سے شیطان راہ بدلتے ہیں

ہمیں سے تازہ ہے شوقِ جہاد و شانِ وفا

ہمارے سینوں میں بدر و اُحد مچلتے ہیں

ہے اب ہماری ہی یلغار سب محاذوں پر

لو تیغیں آگ اور نیزے شرر اگلتے ہیں

ملائک دیکھنے آئیں ہماری سج دھج کو

نرالی شان سے میداں میں جب نکلتے ہیں

ہماری کوئی بھی نسبت نہیں ہے ایسوں سے

جو اپنے قبلوں کو شام و سحر بدلتے ہیں

خدا نے بخشی ہیں وہ نعمتیں ہمیں انور

حسد کی آگ میں دشمن ہمارے جلتے ہیں

٭…٭…٭

(پروفیسر انور جمیل)