Bismillah

599

۲۷رمضان المبارک تا۳شوال المکرم ۱۴۳۸ھ        بمطابق      ۲۳تا۲۹جون۲۰۱۷ء

محبت کا زمانہ آگیا ہے (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 530 - Saadi kay Qalam Say -Muhabbat ka zamana aa gia

محبت کا زمانہ آگیا ہے

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 530)

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ’’شفاء ‘‘ رکھی ہے… مگر کس کے لئے؟ فرمایا: ایمان والوں کے لئے…قرآن مجید شفاء بھی ہے اور رحمت بھی…

آج روزانہ کی تلاوت کے دوران سورہ ’’الفتح ‘‘ آ گئی… سبحان اللہ! پوری سورت بشارتوں سے بھری ہوئی ہے…اچانک خیال آیا کہ یہ سورت کس ماحول میں نازل ہوئی تھی؟… کیا غزوہ بدر کے وقت؟ جب مسلمان ایک واضح فتح سے سرشار تھے…مشرکین مکہ کے ستّر نامور سردار…مردار ہوئے پڑے تھے…اور ستّر افراد مسلمانوں کی قید میں تھے… نہیں اس موقع پر یہ سورہ فتح نازل نہیں ہوئی… تو کیا یہ فتح مکہ کے شاندار موقع پر نازل ہوئی؟… جب مسلمانوں کا عظیم لشکر مکہ مکرمہ میں فاتحانہ داخل ہو رہا تھا اور مشرکین کو لڑنے کی تاب تک نہ تھی… جواب یہ ہے کہ فتح مکہ کے پُر مسرت موقع پر بھی یہ سورت نازل نہیں ہوئی…پھر یہ کونسی فتح کا موقع تھا؟… فرمایا گیا کہ ہم نے آپ کو بڑی واضح فتح دی ہے…اور آپ کو مغفرت کاملہ کا وہ مقام دے دیا ہے جو آپ سے پہلے کسی کو نہیں ملا… اور نہ آپ کے بعد کسی کو ملے گا…اور آپ کے رفقاء کے لئے بھی بڑے بڑے انعامات کا اعلان ہے…اللہ تعالیٰ کی رضا ، نصرت ، فتوحات کے وعدے، مغفرت کے وعدے… اور فوز عظیم یعنی بڑی کامیابی…

 

تلاوت کے دوران ہی میرے دل و دماغ پر وہ ماحول چھانے لگا…جس ماحول میں یہ سورت مبارکہ نازل ہوئی تھی… ایک تھکا ماندہ خاموش لشکر جو واپس جا رہا تھا… ٹوٹے دل، زخمی کلیجے اور غموں کے بادل…عمرہ کرنے نکلے تھے وہ ہو نہ سکا… قربانی کے جانور ساتھ لے کر گئے تھے وہ راستے میں ذبح کرنے پڑے… آنکھیں کعبہ شریف کے دیدار کو لپکتی تھیں مگر دیدار ہو نہ پایا…قدم طواف کو مچلتے تھے ان کی امنگ پوری نہ ہوئی… منافقین کو بتا کر نکلے تھے کہ عمرہ کر کے ہی آئیں گے…حضرت آقا مدنی ﷺ کا خواب مبارک سچا ہے…مگر اب منافقین کی تیز نگاہوں اور گندی زبانوں کا سامنا کیسے کریں گے؟… وہاں حدیبیہ کے قیام کے دوران کچھ مسلمان قیدی بھاگ کر آ گئے تھے…مگر معاہدہ کی وجہ سے ان کو بھی اپنے ساتھ نہ لا سکے … وہ روتے، آہیں بھرتے واپس بھیج دئیے گئے… اندازہ لگائیں اس ماحول میں یہ لشکر واپس آ رہا تھا کہ عرش سے آواز آئی…

اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحاً مُّبِیْناً

مبارک ہو…فتح مبارک ہو…معمولی فتح نہیں، فتوحات کی چابی مبارک ہو… مغفرت مبارک ہو …معمولی مغفرت نہیں… مغفرت کاملہ مبارک ہو… نصرت مبارک ہو…معمولی نصرت نہیں غلبے سے بھرپور نصرت مبارک ہو… صرف آپ کو نہیں آپ کے تمام رفقاء کو…بڑی کامیابی مبارک ہو…اور جنہوں نے موت کی بیعت کی تھی ان کو اللہ تعالیٰ کی رضا مبارک ہو… ان کو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ مبارک ہو… اس پورے لشکر کو بار بار ’’سکینہ ‘‘ مبارک ہو…

اللہ تعالیٰ کے پاس بے شمار لشکر ہیں…اسے نہ کسی کے ایمان کی ضرورت ، نہ کسی کے جہاد کی حاجت… وہ چاہے تو سارے کافروں کو ایک لمحے میں خود مٹا دے…

اس لئے فتح وہ نہیں ہوتی جسے تم فتح سمجھو… فتح وہ ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ فتح قرار دے… کامیابی وہ نہیں جسے تم کامیابی سمجھو، کامیابی وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ کامیابی قرار دے…اس سفر میں تم اپنے ایمان پر قائم رہے…تم اپنے جہاد پر ڈٹے رہے…اور تم حضرت آقا مدنیﷺکی اطاعت پر قائم رہے…

بس یہ ہے فتح…بلکہ فتوحات کی چابی… اور یہ ہے کامیابی بلکہ بڑی کامیابی… تمہیں چلنے کے لئے کہا گیا تم چل پڑے… تمہیں رکنے کے لئے کہا گیا تم رک گئے…تمہیں ہاتھ روکنے کا فرمایا گیا تم نے ہاتھ روک لئے… تمہیں جان دینے کے لئے بلایا گیا تم نے موت کی گردن میں ہاتھ ڈال دئیے… پھر تمہیں دوبارہ لڑنے سے روکا گیا تم رک گئے…ریس بھی طوفانی اور بریکیں بھی سلامت… اے نبی…آپ کی تربیت نے ایسا لشکر کھڑا کر دیا ہے…یہ آپ کی عظیم فتح ہے اب یہ لشکر کہیں رکنے کا نہیں… اب مشرق تا مغرب فتوحات ہی فتوحات ہوں گی… یہ بیج جو آپ نے بویا تھا آج اس کا پودا اپنی پنڈلی پر کھڑا ہو گیا ہے … اب یہ ایسا مضبوط تنا بنے گا…جسے صدیاں بھی پرانا اور کمزور نہیں کر سکیں گی… اس سفر میں بار بار منزل بدلی گئی… بار بار فیصلے تبدیل ہوئے… بار بار جذبات کچلے گئے…بار بار آزمائش آئی… مگر آفرین اس لشکر پر کہ ایک فرد بھی نہیں ٹوٹا… ایک فرد بھی نہیں بپھرا… ایک فرد بھی نہیں کٹا… طبعی غم اپنی جگہ وہ انسان ہونے کے ناطے معاف ہے… چپکے چپکے آنسو اپنی جگہ وہ ان کے زندہ دلوں کی شبنم تھی… مگر مجال ہے کہ کوئی قدم اطاعت سے ڈگمگایا ہو؟… کسی کی آواز آپ ﷺ کی آوازسے بلند ہوئی ہو… یہ ہر بات مانتے گئے اور رب مہربان ہوتا گیا… ان کے دل اس بھاری اطاعت سے زخمی ہوتے گئے اور ان دلوں میں اللہ کا نور بستا گیا… رات کا سناٹا تھا…خاموش تھکا ماندہ لشکر آہستہ آہستہ مدینہ منورہ کی طرف بڑھ رہا تھا… ٹوٹے دلوں کے رِستے زخم آہستہ آہستہ بہہ رہے تھے کہ …حضرت جبرائیل امین علیہ السلام آ گئے… اور ’’سورۃ الفتح ‘‘ سنا دی… پورا لشکر خوشی کے نور میں ڈوب گیا… سواریاں ناز سے دوڑنے لگیں… دل مسرت میں جھوم جھوم کر عرش کے نیچے سجدے کرنے لگے…اللہ تعالیٰ نے محبت ، رحمت اور فضل کی ایسی بارش برسائی کہ اس لشکر سے پہلے…شائد کسی پر برسی ہو… حضرت آقا مدنی ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ سورت ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے… سورت کے آخر میں وعدہ فرمایا گیا کہ… حضرت محمد ﷺ کا خواب بے شک سچا ہے تم ضرور عمرہ کرو گے…اور فرمایا گیا کہ …یہ دین دنیا میں غالب ہونے کے لئے آیا ہے… اور سورت کے آخر میں… حضرات صحابہ کرام کی بھرپور تعریف کی گئی اور ان سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ فرمایا گیا…

ایمان پر رہو، جہاد پر رہو…اطاعت پر رہو …یہی فتح ہے اور یہی کامیابی …وقتی اور فوری نتائج کو نہ دیکھو… یہ دنیا کی زندگی ایک صبح یا ایک شام کے برابر ہے…اس میں کبھی دن آتا ہے اور کبھی رات… کبھی گرمی کبھی سردی…کامیابی ایمان میں ہے اور جہاد میں… وہ جو صحیح بخاری شریف کا ایک کامیاب کردار ہے…ایمان لایا …اور فوراً جہاد میں شہید ہو گیا…نہ ایک نماز ملی نہ ایک سجدہ… نہ کوئی ظاہری فتوحات دیکھیں …اور نہ زمین پر اسلام کا غلبہ…مگر کیسی زبردست کامیابی پائی…ہاں اس کی کامیابی پر واقعی رشک آتا ہے…

آج پاکستان میں حکومت جو کچھ کر رہی ہے…اس کی وجہ سے بہت سے دل ٹوٹے ہوئے ہیں، کچھ کلیجے زخمی بھی ہیں…جہاد کا نام لینے والوںکو یوں پکڑا جا رہا ہے جیسے یہ حکومت قرآن مجید کو مانتی ہی نہ ہو… معلوم نہیں یہ انڈیا کو اس کے کس احسان کا بدلہ دینا چاہتے ہیں؟…اس نے پاکستان توڑ ڈالا… دریاؤں پر قبضہ کر لیا…شہ رگ پر اپنے پنجے گاڑ لئے… شاید ہمارے حکمران انڈیا کے ان تمام اقدامات کو اس کا احسان مانتے ہیں… ہم جموں کی ایک جیل میں تھے… ایک بار تشدد کا بازار گرم کیا گیا… انڈین اہلکار ہم پر لاٹھیاں، مکے اور لاتیں برسا رہے تھے…اور بار بار یہی مطالبہ کر رہے تھے کہ پاکستان کو گالی دو… پاکستان کی ماں کو گالی دو… وہ پاکستان کو غلیظ گالیاں بکتے اور پھر قیدیوں سے مطالبہ کرتے کہ وہ بھی یہی گالیاں دہرائیں… ہمارے حکمرانوں کی بزدلی نے انڈیا کو شیر بنایا ہوا ہے ورنہ تو… اس کے فوجی لڑنے کے قابل بھی نہیں…

بہرحال جو کچھ بھی ہو جائے… ایمان نہیں چھوڑا جا سکتا… جہاد نہیں چھوڑا جا سکتا… اللہ تعالیٰ حالات بدلنے پر قادر ہے…ایک وہ دن تھا کہ ہم چند ساتھیوں کو کوٹ بھلوال جیل کے ایک کھلے کمرے میں بند کر دیا گیا تھا…ہمارے کپڑے ہمارے لہو سے بھیگے ہوئے تھے… چہرے زخمی اور جسم نیل آلود تھے… سلاخوں سے بنا ہوا یہ کمرہ جیل کے اندر جیل خانہ تھا…چوبیس گھنٹے ہتھکڑی لگی رہتی اور اس کی زنجیر کمرے کی سلاخ سے باندھ دی جاتی…نماز بھی اسی حالت میں جھک کر پڑھتے تھے…وہاں میں نے ساتھیوں کی دلجوئی کے لئے کچھ اشعار بھی کہے تھے…ایک شعر یہ بھی تھا :

بدن زخمی کڑی ہاتھوں میں ہر دم

محبت کا زمانہ آگیا ہے

دین، ایمان اور جہاد کے راستے میں … محبت کے یہ زمانے آتے رہتے ہیں… پھر اللہ تعالیٰ نے نصرت فرمائی… اور آج وہی مارنے والے خود چیخ رہے ہیں اور رو رہے ہیں… اس لئے موجودہ حالات میں مایوس نہ ہوں بلکہ …سورہ الفتح اور اس کے ماحول پر غور کریں… اور پھر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں… کیسا عظیم راستہ عطاء فرمایا ہے…والحمد للہ رب العالمین

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online