Bismillah

586

۲۴تا۳۰جمادی الثانی۱۴۳۸ھ       بمطابق  ۲۴تا۳۰مارچ۲۰۱۷ء

آدھا تیتر…آدھا بٹیر (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 530 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - aadha teetar aadha batair

آدھا تیتر…آدھا بٹیر

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 530)

آپ نے دیکھا ہو گا کہ کچھ لوگوں کو اپنے جسم پر مختلف نام اور شکلیں بنوانے کا شوق ہوتا ہے ۔ اس کام کیلئے لوہے کی کیل یا سوئی کو گرم کر کے جسم پر بار بار لگایا جاتا ہے جو ایک بہت تکلیف دہ عمل ہوتا ہے ۔اسی کام کو جسم گدوانا کہتے ہیں۔ حدیث شریف میں اس کام کی بہت سختی سے ممانعت آئی ہے ۔ بہر حال ایک شخص تھا ، جسے شوق ہوا کہ وہ اپنی پشت پر شیر کی تصویر بنوائے ۔ اس مقصد سے وہ ایک ماہر فن کے پاس گیا اور اپنی یہ خواہش پیش کی ۔

جب وہ کار یگر اپنے خونخوار اوزار اور خوفناک آلات لے کر اُس کی طرف بڑھا تو اسے اندازہ ہوا کہ یہ اتنا آسان کام نہیں ہے ۔ جب کاریگر نے اپنی ہتھوڑی سے ایک ضرب لگائی تو درد کی شدت سے اس کی آنکھیں باہر نکل آئیں اور یہ چیخا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو؟

کاریگر نے بڑے اطمینان سے جواب دیا :

 جناب ! میں شیر کی دم بنا رہا ہوں۔

اُس شخص نے کہا :

 دم چھوڑ دو ۔ کسی کسی شیر کی دم کٹی ہوئی بھی تو ہوتی ہے ۔ شیر کے باقی اعضاء بنا دو  ۔

اب کاریگر نے دوبارہ اپنے اوزار سنبھالے اور پھر ایک زور دار ضرب لگائی تو یہ پھر چیخا کہ اب کیا بناتے ہو ؟

کاریگر نے اب کہا :

 جناب  شیر کا پائوں بنا رہا ہوں ۔

اُس شوقین صاحب نے کہا :

پائوں بھی چھوڑ دو ۔ آخر جنگل میں کوئی لنگڑا شیر بھی تو ہو گا ۔

اب کاریگر جب بھی کوئی عضو بنانے لگتا ، یہ شخص فوراً پکار اٹھتا کہ یہ چھوڑ دو  باقی سارا شیر بنا دو ۔

کاریگر نے جب یہ حالت دیکھی تو غصہ سے اپنے اوزار ایک طرف پھینکے اور کہا :

محترم! ایسا شیر جس کا سر ہو  نہ پائوں ۔ آنکھ ہو نہ کان ۔ ایسا شیر تو اللہ تعالیٰ نے نہیں بنایا ،پھر میں کیسے بنا سکتا ہوں ؟

بعض لوگ دین اسلام کے ساتھ بھی وہ ہی کچھ کرتے ہیں ، جو اس شوقین شخص نے شیر کے ساتھ کیا تھا ۔ یہ لوگ اپنے آپ کو صرف مسلمان ہی نہیں ، مفکرِ اسلام ، دانشور اور اسکالر بھی کہلانے کا شوق رکھتے ہیں لیکن جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ ایک مسلمان کیلئے تو لازم ہے کہ وہ روزانہ پانچ وقت پابندی کے ساتھ نماز با جماعت ادا کرے تو وہ فرماتے ہیں کہ نماز تو ہمارا پرسنل  معاملہ ہے ۔

جب اُنہیں بتایا جاتا ہے کہ بڑا مسلمان نہیں  صرف مسلمان بننے کیلئے بھی لازمی ہے کہ آپ قرآن و حدیث میں بیان کیے گئے غیبی حقائق پر ایمان لائیں ۔ ایمانِ مجمل اور ایمان مفصل پر دل سے یقین رکھیں اور تمام کفریہ عقائد اور افکار سے اظہارِ برات کریں تو وہ کہتے ہیں یہ تو اسلام کی (نعوذ باللہ)دقیانوسی تعبیر ہے ، ہم تو روشن خیال لوگ ہیں ۔

جب اُن سے عرض کیا جاتا ہے کہ جس طرح دنیا کی معمولی معمولی ریاستوں اور چھوٹے چھوٹے ممالک کے بھی کچھ قوانین ہوتے ہیں  جن پر وہ سختی سے  بزورِ بازو عمل کرواتے ہیں ، اسی طرح اسلام جو ایک عالمگیر دین ہے اور زمان و مکان کی تمام حدود سے زیادہ وسیع ہے  اس کے بھی کچھ لازمی قوانین اور احکامات ہیں ۔ جو شخص بھی اپنے آپ کو مسلمان کہے گا اور کہلوائے گا  اُس سے ان قوانین پر عمل در آمد کروایا جائے گا اور اس سلسلے میں اُسے من مانی نہیں کرنے دی جائے گی تو وہ حضرات کہتے ہیں کہ یہ تو شدت پسندی ہے ۔ ہم تو اسلام کا  سوفٹ امیج  چاہتے ہیں ۔

جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ اسلام میں شراب نوشی ، جو ا بازی ، بد کاری اور فحاشی پھیلانے والے تمام کام ممنوع ہیں ۔ ایک اسلامی معاشرے اور مسلمانوں کے ملک میں ان کاموں کا تصور بھی ممکن نہیں تو وہ یوں گویا ہوتے ہیں کہ جناب ! جدید دور کے جدید تقاضے ہیں  اب بھلا اکیسویں صدی میں یہ کام کیسے ممنوع قرار پا سکتے ہیں ۔ آپ تو فنون لطیفہ کا گلا گھونٹ کر فنکار کو زندہ درگور کر نا چاہتے ہیں ۔

ایسے لوگوں کو جب یہ بتایا جاتا ہے کہ کفار جب مسلمانوں پر حملہ آور ہو جائیں تو جہاد فرض ہو جاتا ہے اور پھر اسلام کے اس عظیم فریضے سے پہلو تہی کرنا سنگین جرم شمار ہوتا ہے ۔ ظالم کے مقابلے میں مظلوم کیلئے دفاع کے حق کو تو دنیا کا ہر قانون اور ہر معاشرہ تسلیم کرتا ہے لیکن یہ الٹے دماغ والی مخلوق کہے گی کہ مسلمانوں کا بھلا اسلحہ سے کیا کام؟ کفار اگر مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھاتے ہیں تو ڈھاتے رہیں۔مسلمانوں کو مقابلہ اور مزاحمت کا خیال بھی نہیں لانا چاہیے کہ یہ تمام انتہاء پسندی کی باتیں ہیں

ایسے مفکرین اور دانشوروں کی نظر میں ہر وہ مسئلہ ، جس پر کفار اعتراض کریں یا وہ خود ان کی نفس پر ستی کے خلا ف ہو  بالکل غلط ہے ۔ کسی مسئلہ کے بارے میں یہ کہہ دیں گے کہ دقیانوسی بات ہے ، کسی مسئلہ پر انتہا پسندی کا لیبل چسپاں کر دیں گے اور کسی کو شدت پسندی سے تعبیر کریں گے ۔

داڑھی اور پردے کو حکمِ الٰہی اور سنت ِ رسول ﷺماننے کے بجائے عرب معاشرے کی روایات قرار دیں گے ۔ چودہ سو سال کے مفسرین ، محدثین اور فقہاء کی واضح تصریحات بھی ان کے سامنے پیش کردیں تو وہ اس کو یہ کہہ کر مستر د کر دیں گے کہ یہ  اُن کا فہمِ اسلام  ہے ، جو ہمارے لیے حجت نہیں ہے ۔

پھر دوغلی پالیسی دیکھیں کہ جوں ہی ایسے دانشوروں کو ان نامور ہستیوں میں سے کسی کا کوئی ایسا شاذ قول یا خلافِ جمہور رائے نظر آجائے گی ، جس سے ان کے باطل خیالات کی معمولی تائید بھی ہوتی ہو ،چاہے وہ کتنی ہی بے بنیاد یا ضعیف روایت کیوں نہ ہو، تو یہ بڑے فخر سے اُسے ایسے بیان کرتے پھریں گے جیسے کوئی بیش بہا خزانہ اُن کے ہاتھ لگ گیا ہو ۔ حالانکہ ایسی شاذاور نادر اقوال و روایات سے استدلال کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے ۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  رسول کریمﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں:

ان اللّٰہ لا یجمع امتی اوقال:امۃ محمدﷺ علی ضلالۃ وید اللّٰہ علی الجماعۃ ،ومن شذ شذ الی النار(سنن الترمذی ،کتاب الفتن،باب ماجاء فی لزوم الجماعۃ )

( بے شک اللہ تعالیٰ میری امت کو  یا یہ الفاظ فرمائے کہ اللہ تعالیٰ ، محمدﷺکی امت کو گمراہی پر جمع نہیں کریں گے ۔ اور اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے اور جو اکیلا کسی راہ پر چلے گا  وہ اکیلا ہی آگ میں جائے گا ) ۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺکا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں: ان امتی لا تجتمع علی ضلالۃ ، فاذارأیتم اختلافاً،فعلیکم بالسواد الاعظم(سنن ابن ماجۃ،کتاب الفتن ،باب السواد الاعظم)

(بے شک میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہو گی، لہٰذا جب تم کوئی اختلاف دیکھو تو بڑے گروہ کو لازم پکڑو )

بعض فقہاء نے ایسے تفردات ( یعنی سب سے الگ موقف والے مسائل) اختیار کئے جنہیں جمہور اہل علم نے نہیں لیا بلکہ اُن سے صاف طور پر روکا،ایسے تفردات کو آسانی حاصل کرنے اور رخصتیں تلاش کرنے کیلئے اختیار کر لینا ایسا کام ہے جسے قدیم اور جدید تمام علماء نے ہی برا کہا ہے ۔

امام اوزاعی ؒفرماتے ہیں :

 جس شخص نے علماء کے صرف نادر اقوال لے لیے  وہ اسلام سے نکل گیا۔(تذکرۃ الحفاظ ۔الذھبی ،ترجمۃ الامام ابی عمروعبد الرحمن بن عمروالاوزاعی)

حضرت عبدالرحمن بن مہدیؒفرماتے ہیں:

 جو شخص شاذ اقوال کو اختیار کرے  وہ علم میں امامت کے مرتبے پر فائز نہیں ہو سکتا  نہ ہی وہ شخص علم میں امام بن سکتا ہے جو ہر ایک سے حدیث روایت کر لے  اسی طرح وہ شخص بھی علم میں مقتداء اور راہنما نہیں بن سکتا جو ہر سنی سنائی بات نقل کر دے  ۔(جامع بیان العلم وفضلہ ۔ابن عبد البر ،باب من یستحق ان یسمی فقیہا او عالما حقیقۃ لامجازا)

آپ نے یہ محاورہ تو سن رکھا ہو گا آدھا تیتر، آدھا بٹیر یہ جدید دور کے ملحدین اسی کی عملی تصویر ہوتے ہیں ۔ یہ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہلانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ روپ دھارے بغیر کسی مسلمان کو گمراہ کرنا آسان نہیں ہے ، لیکن ساتھ ہی یہ اسلام کو موم کی ایسی ناک بنانا چاہتے ہیں جسے جب چاہیں ، جدھر چاہیں موڑ لیں ۔ یہ لوگ جس طرح خود گمراہ ہوئے ہیں چاہتے ہیں کہ سب ہی ان کی طرح گمراہی کے راستے پر چل پڑیں ۔

یاد رکھیں جس طرح ہاتھ پائوں،ناک کان اور منہ کے بغیر شیر نہیں بن سکتا ویسے ہی اسلام کی بنیادی تعلیمات جنہیں ضروریاتِ دین کہا جاتا ہے،اُن کو مانے بغیر کوئی مسلمان نہیں بن سکتا،مفکرِ اسلام ہونا توبہت دور کی بات ہے۔

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کی ہر قسم کی فکری اور عملی گمراہیوں سے حفاظت فرمائے ۔آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online