Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

لبرل پاکستان (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 530 (Talha-us-Saif) - liberal pakistan

لبرل پاکستان

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 530)

ایک مؤرخ نے لکھا ہے:

’’ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتا ‘‘

چلئے دوسروں کی تاریخ سے سبق حاصل نہ کرنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن المیہ تو یہ ہے کہ لوگ اب اپنی ذاتی زندگی سے بھی سبق حاصل نہیں کرتے۔

پاکستان کے موجودہ حکمران اپنی حماقتوں کی وجہ سے پہلے دوبار اقتدار سے محروم ہوئے، اس بار پہلے سے بڑھ کر انہیں دہرا رہے ہیں۔

دین دشمنی کا ایسا نمونہ کیا اس سے پہلے بھی کبھی پاکستان میں دیکھنے میں آیا؟…

یوں تو پاکستان کے تقریباً تمام حکمرانوں کی تاریخ ہماری بحیثیت قوم شرمندگی کے لئے کافی و وافی ہے۔ سلسلہ غلام محمد سے شروع ہوتا ہے اور اسے آج تک لے آئیے، قدم قدم شرمندگی ہے، لمحہ لمحہ خجالت ہے۔

رسوائی ہے، دین دشمنی ہے، بدکرداری ہے، وطن فروشی ہے، حماقت ہے، غیروں کی غلامی ہے، عوام کشی ہے، ظالمانہ آپریشن ہیں، تقسیم کی باتیں ہیں۔ پردیسی آقاؤں کے لئے پیکج ہیں، اڈے ہیں، معاہدے ہیں اور اپنوں کے لئے نفرت ہے، امتیازی سلوک ہے اور جدائی کے حیلے…

پاکستان کے ایک حصے کے لوگ ہمارے لئے کبھی پاکستانی نہ ہوئے تھے، وہ روز اول سے ہمارے لئے ’’بنگالی ‘‘ تھے اور حقارت کا نشان۔ وہ ہمیشہ امتیازی سلوک سے نوازے گئے اور تحقیر کا نشانہ بنائے گئے حتی کہ ان کا حق حکمرانی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا اور بالآخر وہ سچ مچ پاکستانی نہ رہے بلکہ بنگلہ دیشی ہو گئے۔ کیا یہ آگ ایک دن میں بھڑک اُٹھی تھی؟…

کیا جدائیوں کی یہ لکیر لمحوں میں کھنچ گئی تھی؟…

ہر گز نہیں…

یہ ایک ہولناک تاریخ ہے اور اس تاریخ کو ہر طرح سے چھپایا جاتا ہے…

ایک ایسی قوم جس نے ہزاروں میل مسافت اور سرحدی الحاق نہ ہونے کے باوجود اس ملک کا حصہ بننے کو اپنا فخر سمجھا اور ان سے ناطہ توڑا ،جو قومیت ،زبان اور سرحد میں ان کے ساتھ ملحق تھے یکایک اپنے فیصلے پر نادم نہیں ہوئی تھی بلکہ ہمارے حکمرانوں کے اس رویے نے انہیں اس حد تک پہنچایا اور اب یہ صورتحال ہے کہ ہم ان کے نزدیک دنیا کی نا پسندیدہ ترین قوم اور ملک ہیں۔

کیا ہم نے اس سانحے سے سوائے اس کے کوئی سبق حاصل کیا کہ اب سے دو سال پہلے تک ہم اس ’’روزِ سیاہ‘‘ کا تھوڑا سا سوگ منا لیتے تھے ۔اب اتنی یاد بھی باقی نہیں رہی۔ اگلی نسل کو شاید نصابی کتابوں میں یہ بھی پڑھنے کو نہ ملے کہ ایسا کوئی واقعہ بھی تاریخ میں ہوا تھا۔

 آج بھی صورتحال کیا ہے؟

بلوچ پاکستانی نہیں صرف بلوچ ہے…

پختون صرف پختون تھا اب دہشت گردبھی ہے … پاکستانی ہرگز نہیں…

قبائل تو ویسے ہی پاکستان سے باہر کی مخلوق ہیں…

تو پاکستانی کون ہے؟…

روز روز کیسے کیسے قوانین بن رہے ہیں؟

بندروں نے اپنا ملک جلانے کے لئے دُم سے آگ باندھ لی ہے اور نکل پڑے ہیں…

کوئی یہ کیوں نہیں سوچتا کہ سرکاری بیان محض ایک فرد کی بات کے تناظر میں نہیں دیکھا جاتا، ایک قومی پالیسی کے زُمرے میں آتا ہے اور ملک گیر اَثرات مرتب کرتا ہے…

’’پختون سیکورٹی گارڈز ہٹا دئیے جائیں‘‘

ایک بیمار ذہنیت کا فیصلہ ہے، جو نفرتوں کی آگ کو کہاں تک پھیلا دے گا، ان کی سمجھ میں کبھی نہیں آ سکتا جن کے ملک کے باہر محلات ہیں اور کاروباری مستقبل بھی سرحدوں کے پار محفوظ ہے۔ یہ ایک پاکستانی کو سوچنا ہے کہ کیا کوئی ملک و قوم ایسے قوانین کے ساتھ مستحکم و متحد رہ سکتے ہیں؟…

مجاہدین اس لئے کالعدم اور بین ہیں کہ وہ پاکستان کے استحکام و تکمیل کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

وہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت اور خود بنائے دشمن افغان حکومت سے لڑ رہے ہیں۔

وہ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی اپنی جانوں کی قیمت پر رَکھوالی کر رہے ہیں اور اُس کی نظریاتی سرحدوں کی اَساس بچانے کے لئے کوشاں ہیں۔

وہ پُر امن ہیں اور امن کے داعی ہیں۔

وہ ان محروموں کی خدمت کر رہے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔

وہ امت کی بات کرتے ہیں اور امت کے درد کو اپنا درد سمجھتے ہیں۔

اس لئے جہاں ملیں پکڑ لئے جائیں ، قید کر لئے جائیں اور پابندیوں میں جکڑ دئیے جائیں۔

مدارس پر شکنجہ کس کے رکھا جائے کیونکہ وہ اللہ و رسول کے احکام پڑھاتے ہیں اور معاشرے کو آگے بڑھانے کی بجائے پیچھے لے جا رہے ہیں۔

ان مدارس کا کیا فائدہ؟…

نہ یہاں گردے بیچنے والے اور غریبوں کو لوٹنے والے ڈاکٹر تیار ہوتے ہیں اور نہ تباہی و بربادی اور بے کاری عام کرنے والے آلات ایجاد کرنے والے سائنسدان، نہ یہ مدارس نقلی دوائیں بنانے والے فارمسٹ پیدا کر سکتے ہیں اور نہ بے راہ روی پھیلانے والے ماڈل اور فنکار۔ پھر ان کا کیا فائدہ؟ لہٰذا انہیں ختم کرنے کے لئے ہر آپشن استعمال کیا جائے۔ حتی کہ مدارس دشمنی میں ملک کی ایک چلتی صنعت برباد کرنا پڑے کر دی جائے۔

اور اب ان اقدامات کا دائرہ وہاں تک پہنچا دیا گیا جس کا کسی نے تصور بھی نہ کیا ہو گا۔

تبلیغی جماعت پر بتدریج پابندیوں کا آغاز…

ابھی حکومت کی طرف سے تعلیمی اداروں میں پابندی کا سفارش نامہ آیا۔ شاہ سے بڑھ کر شاہ کے وفاداربعض پولیس والوں نے اپنے اپنے علاقوں میں بورڈ لگاکر پابندی کے اعلانات شروع کردیئے۔ 

تعلیمی اداروں میں ڈانس اور میوزک کے کنسرٹ دن رات کا معمول ہیں۔

حیا باختہ فیشن شو آئے دن منعقد ہو رہے ہیں۔

کھیلوں کے نام پر بے لباسی اور بے حجابی کا بازار گرم ہے۔

خفت مآب ماڈلز لیکچر کے لئے جب چاہیں آ سکتی ہیں۔

مگر اب دین کی بات، نماز کی دعوت پر وہاں پابندی ہو گی۔ فیا للعجب

کیا اب بھی مسلم لیگ کا بیانیہ وہی ہے جو متحدہ ہندوستان میں گونجا تھا۔

پاکستان کا مطلب کیا:

لا الہ الا اللہ

یا وہ اس جدید بیانیے پر عمل پیرا ہو چکی ہے کہ جس کے اعلان کو قوم نے مذاق سمجھ کر نظر انداز کر دیاتھا؟…

وزیر اعظم نے کچھ عرصہ قبل ایک تقریب میں اعلان کیا تھا کہ حکومت پاکستان کو ایک لبرل ملک بنانا چاہتی ہے اور وہ پوری کوشش کر کے جلد از جلد منزل کو پانے کی کوشش کرے گی۔

اس کو ابتدائً مذاق سمجھ کر نظر انداز کیا گیا لیکن چند ہی دن میں سامنے آنے والے اقدامات نے اس بات پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ جس لبرل بیانیے کا شور ہے وہ محض ایک تجویز نہیں حقیقت بن کر سامنے آ رہا ہے اور اس کی طرف عملی قدم اٹھایا جا چکا ہے۔

یہ بیانیہ کن لوگوں کا مرتب کردہ ہے؟

یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کو دل سے تسلیم ہی نہیں کرتے…

جن کے خیال میں پاکستان کی نہ اساس درست ہے اور نہ اس کا نام…

انہیں اس کے اسلامی جمہوریہ کہلانے پر تحفظات ہیں اور یہ نام کا اسلام بھی انہیں گوارہ نہیں…

ان کے انڈیا سے رشتے ہیں، اسرائیل سے یارانے ہیں اور امریکہ و یورپ کے تو یہ زَرخرید غلام ہیں، ذہنی طور پر بھی اور جسمانی طور پر بھی۔

انہیں پاکستان کے آئین میں شامل چند اسلامی شقوں پر شدید تکلیف ہے۔

یہ پاکستان کے باغیوں اور غداروں کے بہی خواہ ہیں۔

یہ وہ چوہے ہیں جو اس ملک کی بنیادیں کھود کر اسے منہدم کر دینا چاہتے ہیں۔

یہ ملک میں آگ لگاتے ہیں، کبھی نقلی ویڈیوز بنا کر اور کبھی جعلی تصاویر نشر کر کے۔

ان کے زبان و قلم اس ملک پر بھونکنے اور اس کے خلاف لکھنے کے لئے وقف ہیں۔

یہ غیر ملکی مال پر ان کی پالیسیاں یہاں لاتے ہیں اور پھیلاتے ہیں۔

انہیں ہر اس چیز کو یہاں سے مٹانے کا ہدف ملا ہے جس کا تعلق اسلام سے ہو۔

یہ اسلام کا نام و نشان یہاں سے کھرچ دینا چاہتے ہیں۔

اور کلمہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر پاکستان بنانے کی دعویدار جماعت اب ان کے بیانیے پر بگٹٹ دوڑ رہی ہے۔

آپ ان لبرل شیطانوں کی پاکستان کے ساتھ وابستگی دیکھنا چاہتے ہیں تو آج سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ان کے ایک سرغنہ کی پاکستان کے جھنڈے مجمع عام میں جلانے اور قدموں تلے روندنے کی تصاویر دیکھ لیجئے۔ اب ہمیں اور ہماری آئندہ نسلوں کو وہ پاکستان دینے کی تیاری ہو رہی ہے جس کا نقشہ ان جھنڈنے جلانے والوں نے مرتب کیا ہے اور لاکھوں مسلمانوں کے خون سے کھینچا گیا نقشہ اب لبرل ازم کے پردے سے ڈھانک کر چھپایا جا رہا ہے۔

پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے۔ اس کی بقاء اپنی بنیاد پر قائم رہنے میں ہے۔ جو اسے بنیاد سے ہٹانا چاہتے ہیں وہ اسے منہدم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سب ناکام ہونگے اور اس ملک کو چھوڑ کر اپنے انڈین اور یورپی ٹھکانوں پر جا مریں گے۔ پاکستان مسلمانوں کا ہے، مسلمانوں کا رہے گا۔ حکمران نہ بھولیں کہ اوپر ایک رب بھی ہے اور ان سب حکمرانوں پر اس کی مرضی حاکم ہے۔ وقت بدلنے میں دیر نہیں لگتی اور تاریخ بھی زیادہ پرانی نہیں۔اسلام آباد سے اٹک ایک گھنٹے کی مسافت ہے، زیادہ نہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online