Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

تحفظ ناموس رسالت (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 529 - Naveed Masood Hashmi - Maulana Masood Azhar aur Parvez Musharraf

تحفظ ناموس رسالت

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 530)

دنیا جانتی ہے کہ ناموس رسالت قوانین کوختم کروانے کیلئے امریکہ، برطانیہ،اقوام متحدہ، قادیانی اورپوپ پال سمیت دنیا بھر کے صلیبی اور یہودی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔۔۔ پاکستان میں موجود سیکولر لادین لابی، اور دجالی میڈیا نہ صرف یہ کہ قانون توہین رسالت کو ختم کروانے کے در پئے ہے بلکہ وہ تو پاکستان کی اصل اسلامی شناخت ہی ختم کروادیناچاہتا ہے۔۔۔ پھر مولانا محمد خان شیرانی کو کیا سوجھی کہ انہوں نے فرما دیا کہ’’اسلامی نظریاتی کونسل توہین رسالت قانون پر نظر ثانی کیلئے تیار ہے۔۔۔ مگراس کیلئے حکومت یہ مسئلہ باقاعدہ طور پر کونسل کو بھجوائے‘‘۔۔۔

قانون توہین رسالت کے حوالے سے جیسے ہی مولانا شیرانی کا یہ بیان منظر عام پرآیا تواس خاکسار نے مختلف مسالک کے بعض اکابر علماء اور نامور وکلاء سے رابطہ کر کے مولانا شیرانی کی اس آئیڈیالوجی پر گفتگو کی، ان علماء اور نامور وکلاء کا کہنا تھا کہ مولانا محمد خان شیرانی نے ناموس رسالت قوانین پر نظر ثانی کی بات کر کے ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی کہ جو اس قانون کوختم کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ اسلامی نظریاتی کونسل کو یہ حق نہیں کہ وہ توہین رسالت قانون پر نظر ثانی کرے، کیونکہ قانون توہین رسالت۔۔۔ قرآن وسنت اور آئین میں طے شدہ اور متفقہ قانون ہے۔۔۔

علماء کرام کے مطابق۔۔۔ مولانا شیرانی نے پہلے قادیانیوں کے معاملے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے اور اب مسلمہ قانون کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، بعض علماء کرام نے تو مولانا شیرانی کے حوالے سے بہت سے تحفظات اور خدشات پر مبنی سخت باتیں بھی مجھ سے کہیں لیکن میں وہ ساری باتیں حذف کرتے ہوئے صرف اپنی گزارش کروں گا کہ جہاں تک توہین رسالت پر موت کی سزا کا قانون ہے، تو یہ کوئی سیاسی نہیں بلکہ مسلمانوں کے دین اور ایمان کا مسئلہ ہے۔۔ کوئی بھی مسلمان خواہ کتنا بڑا گناہ گار بھی کیوں نہ ہو۔۔۔ پیارے پیغمبرﷺ کی شان اقدس میںگستاخی کرنے والے کو زندہ رہنے کا حق دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔۔۔

گستاخ رسول کی سزا۔۔۔ سرتن سے جدا۔۔ قطعی طور پر غیر متنازعہ ہے، اور پاکستان کے عوام خواہ ان کا تعلق کسی بھی مسلک یا مکتبِ فکر سے کیوں نہ ہو سب کے سب اس بات پر متفق ہیں، قانون توہین رسالت کوختم کروانے کیلئے اس سے قبل بھی یورپی یونین اور دیگرغیر مسلم قوتوں کے اشارے پر بہت سی کوششیں ہوئیں، دجالی میڈیا نے اس مقدس قانون کے خلاف جی بھرکر کمپیئن بھی چلائی، مگر مسلمانان پاکستان نے کفریہ طاقتوں کی ان ناپاک کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔۔۔

یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ قانون توہین رسالت کا بعض موقعوں پر ناجائز استعمال بھی ہوا۔۔۔ محض مخالفین کو پھنسانے کیلئے اس قانون کا ناجائز استعمال کیاجاتا ہے، مولانا شیرانی سمیت حکمرانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ قانون توہین رسالت کے ناجائز استعمال کو روکنے کی تدابیرتوضرور اختیار کی جائیں، اور ایسے لوگوں کو نشان عبرت بنا دیا جائے کہ جواس قانون کا غلط استعمال کرتے یاکروانے کا سبب بنتے ہیں۔۔۔

مگرقانون توہین رسالت میں ترمیم یا اسے ختم کرنے کی کوئی بھی کوشش پاکستان کے عوام کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ان شاء اللہ۔۔۔ اس بات کا خیال رہے کہ ہمارے نزدیک ناموس رسالت کے تحفظ سے بڑھ کر نہ کسی کا تقدس ہے اور نہ احترام۔۔۔ حضرات! آپ ہی اپنی اداؤں پر غور کریں۔۔۔ ورنہ ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گئی۔۔۔

اب آتے ہیں ایک دوسرے موضوع کی جانب۔۔۔ آصف علی زرداری کی جس طوطے میں جان تھی، وہ ’’طوطا‘‘ بالآخر پکڑا گیا۔۔۔ پکڑا تو وہ پہلے ہی گیا تھا، مگر اب اس کی گرفتاری ظاہر کر کے رینجرز نے اس کا90دن کا عدالتی ریمانڈ بھی حاصل کر لیا ہے،جرم کبھی چھپتا نہیں ہے، ایک نہ ایک دن مجرم بے نقاب ہو کر رہتے ہیں۔۔۔ فرعون، ہامان، نمرود، شداد، ابوجہل، ابو لہب صدیوں پرانے مجرم ہیں، حکمرانی ان کے گھر کی لونڈی رہی ، حکمرانی اور سرداری کے تخت پر بیٹھ کر انہوں نے جو جرائم کئے چھپ وہ بھی نہ سکے۔۔۔ہر مجرم جرم کرتے ہوئے یہی سوچتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا۔۔ حالانکہ اس کی یہ سوچ انتہائی غلط ہوتی ہے بظاہر اسے کوئی فرد دیکھے نہ یا دیکھے لیکن رب کی ذات تو اسے دیکھ رہی ہوتی ہے۔۔۔

مجرم وہی بنتا ہے جس کے دل سے خوف خدا نکل جاتا ہے۔۔۔ اگر اللہ پاک کا خوف دلوں میں رہے تو انسان جرم کرنے سے ہر وقت ڈرتا ہے، لیاری گینگ وار کے ڈان عزیر بلوچ نے رٹے رٹائے طوطے کی طرح فرفر بولنا شروع کر دیا ہے۔۔۔ اوردوسری طرف مرد آہن ذوالفقار علی بھٹو شہید کی پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی بے بسی اور بے چارگی دیکھ کر ترس آتا ہے، اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے لیکر سائیں قائم علی شاہ تک لڑکھڑاتی زبانوں کے ساتھ تاویلیں گھڑ گھڑ کر پیش کر رہے ہیں، پوچھا گیا کہ عزیر بلوچ سے پیپلز پارٹی کا کوئی تعلق اور رشتہ ناتا نہ تھا تو پیپلز پارٹی کے قائدین کی تصویریں۔۔۔ عزیر بلوچ کے ساتھ کیسے بن گئیں؟ سینئے ذرا خورشید شاہ کی سنیئے کہا کہ’’سیلفیوں کا دور ہے جرائم پیشہ لوگ تصویریں بنا لیتے ہیں‘‘۔۔۔

پیپلز پارٹی کے بقیہ لیڈروں کی بھی سنیئے، وہ کمال تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے اک انوکھی تاویل گھڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’عزیربلوچ کی تو شاہد آفریدی اور مولانا طارق جمیل کے ساتھ بھی تصویریں ہیں‘‘۔۔ کبھی کہتے ہیں کہ عزیربلوچ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ(ن) والوں کے ساتھ بھی ملا کرتا تھا۔۔۔ افسوس صد افسوس دلیلوں کا زمانہ چلا گیا۔۔۔ اب تاویلوں پر گزارہ کرنا پڑے گا اور تاویلیں بھی ایسی کہ انسان سرپیٹ کر رہ جائے، غلطی تسلیم کرنا بڑے پن کی علامت ہوتی ہے لیکن یہاں تو غلطیوں کے قطب مینار تعمیر کر کے بھی’’شرمندگی‘‘ کو قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا جاتا۔۔۔ پاکستانی قوم دَم بخود ہو کر یہ سب کچھ دیکھ اور سن کر سوچ رہی ہے کہ کیسے کیسے مجرم ان کے سروں پر حکمران بن کر بیٹھے رہے؟ کیا یہ وہی پیپلز پارٹی ہے کہ جس نے اس ملک کو ایک متفقہ آئین دیاتھا؟ کیا یہ وہی پیپلز پارٹی ہے کہ جس کے بانی نے گستاخان رسول قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا؟ کیا وہی پیپلز پارٹی ہے کہ جس کے بانی نے کشمیرکی آزادی کیلئے سو سال تک جنگ لڑنے کے عزم کا اظہار کیا تھا؟

کوئی مجرم اگر کسی پارٹی میں شامل ہو جائے تو اصلاح ہو سکتی ہے۔۔۔ لیکن اگر پوری پارٹی ہی مجرموں کی بن جائے تو تباہی نازل ہوتی ہے، ہے کوئی ذوالفقار علی بھٹو کا اصلی اور سچا وارث!کہ جو خم ٹھونک کر میدان میں آئے، آگے بڑھے اور اعلان کرے کہ جس جس کا نام عزیر بلوچ اگل رہا ہے، اس کا آج کے بعد پیپلز پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے، کیا ’’پیپلز پارٹی‘‘ مجرموں کے سروں پر وار دی جائے گی؟ وہ سیکولر دانش فروش اور امریکی پٹاری کے خرکار کہ جو مدارس کو جرائم کی نرسریاں قرار دیا کرتے تھے۔۔ اب کہاں ہیں؟ خاموش کیوں ہیں؟

قوم کو بتائیں ذرا کہ جن نرسریوں سے لیاری گینگ وار کے دہشت گردوں نے تربیت حاصل کی تھی وہ کہاں واقع ہیں؟ پوری دنیا میں چراغ لیکر تلاش کرنے سے بھی تمہیں کوئی ایک بھی ایسا مولوی یا جہادی نہیں ملے گا کہ جو عزیر بلوچ کا حلف یافتہ ہو۔۔۔ ہاں البتہ پیپلز پارٹی کے وہ ایم این اے اور ایم پی اے میں آپ کو دکھاتا ہوں کہ جو عزیر بلوچ کے حلف یافتہ ہیں ، وہ ایم این اے اور ایم پی اے تو پیپلز پارٹی کے ہیں مگر انہوں نے حلف عزیربلوچ کی وفاداری کا اٹھا رکھا ہے۔۔۔

عزیر بلوچ کے دسترخوان پر مرغ مسلّم کی دعوتیں اڑانے والے اتنے بودے نکلے کہ آج اس کے ساتھ تعلق سے ہی انکاری ہیں، سیکولر ایم کیو ایم کے بعد سیکولر پیپلز پارٹی کا یہ انداز دیکھا نہیں جاتا، ماتم کس کس کا کیاجائے؟ عزیر بلوچ کو جرائم کی نگری کا بادشاہ بنانے والوں کا ، یا پھر اس میڈیاکا۔۔۔ کہ جس کا مذہبی اور جہادی تنظیموں کیلئے پیمانہ اور ہے۔۔۔ اور سیکولر سیاسی اور سیکولر عسکری جماعتوں کیلئے پیمانہ اور۔ مجرم اگر داڑھی والا ہو تویہ سارے مدارس اور اس کے نصاب تعلیم کی ایسی تیسی پھیرنا شروع کر دیتے ہیں، لیکن مجرم اگر کلین شیو اور سیاسی چھتری والا ہو تو پھر یہ نہ تو کسی کالج کو زیر بحث لاتے ہیں اور نہ ہی کالجز اور یونیورسٹیوں کے نصابِ تعلیم کو ،سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی جعلی ویڈیو کو بنیادبنا کر میڈیا،اسلامی احکامات کے خلاف بھی دشنام طرازی سے باز نہیں آتا، اور اگر عزیر بلوچ اور صولت مرزا کی اصلی ویڈیو بھی منظر عام پرآجائیں تو اس کے باوجود یہ ملک کو سیکولر بنانے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔۔۔

اُف اللہ!اس دھرتی پر یہ کیسا ظلم تھا کہ آصف علی زرداری کے راج میں جن حکمرانوں کی کراچی اور سندھ پر حکومت تھی۔۔۔ وہ حکمران بذات خودکراچی میں ہونے والی قتل و غارت گری کی سرپرستی کرتے رہے۔۔۔ چاہے وہ قتل سندھیوں کا ہو، مہاجروںکا ہو، پٹھانوں کا ہو، قتل تو قتل ہے، بھتہ خوروں کی سرپرستی، قبضہ مافیا اور ڈرگ مافیا کی سرپرستی حکومت خود کرتی رہی۔۔۔یہی کچھ پرویزمشرف نے اپنے دور حکومت میں این آر او کے ذریعے ایم کیو ایم کے ہزاروں دہشتگردوں کو رہا کر کے کیا، اگر میں یہ لکھ دوںتو یقینا غلط نہ ہوگا کہ پرویز مشرف دور ہو یا زرداری دور۔۔۔ ان دونوں ادوار میں کراچی اور سندھ میں ہونے والی قتل و غارت گری کہ جس قتل و غارت گری میں کم از کم15ہزار سے زائد بے گناہ لوگ شہید ہو ئے، کی سرپرستی کسی نہ کسی درجے میں حکمران خود کرتے رہے۔۔۔کاش کہ پاکستان کی عدالتوں میں انصاف ہوتا۔۔۔ کاش کہ پاکستان کے حکمرانوں میں انصاف کی رمق ہوتی تو سیاست کاچولا پہننے والے ان مکروہ وحشیوں کو چوکوں پر لٹکادیا جاتا۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online