Bismillah

591

۳۰رجب تا۶شعبان ۱۴۳۸ھ        بمطابق       ۲۸اپریل تا۴مئی۲۰۱۷ء

اعتدال پسند اسلام اور امریکہ(۲) (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 530 - Mudassir Jamal Taunsavi - aitedal pasand america 1

اعتدال پسند اسلام اور امریکہ(۲)

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 530)

علاوہ ازیں وہ ’’رپورٹ‘‘ عالم اسلام میں پائے جانے والے اعتدال پسند مسلمانوں کی مندرجہ ذیل تین قسمیں بیان کررہی ہے:

۱- اشتراکی ذہن رکھنے والے لبرل مسلمان جو مذہب کو سیاست سے جدا تصور کرتے ہیں۔

۲- علمائے دین سے عداوت رکھنے والے جن کے لئے اس رپورٹ میں ’’اتاترکیین‘‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور تونسیا کی حکومت کو اس کا ہم نوا شمار کیاگیا ہے۔

۳- وہ اسلام پسند جو مغربی جمہوریت اوراسلام کے مابین تصادم کو جائز تصور کرتے ہیں۔

اس ساری وضاحت کے بعد رپورٹ ہذا امریکہ کی نگاہ میں اعتدال پسند مسلمان کی تعریف کچھ اس طرح کرتی ہے ’’یعنی وہ مسلمان جو مزاروں کی زیارت کرتے ہیں، تصوف کے قائل ہیں اور دین میں اجتہاد کو ناجائز تصور کرتے ہیں۔‘‘

رپورٹ کا ایک بڑا حصہ یعنی دس ابواب میں سے دو ابواب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عالم اسلام میں پائے جانے والے مختلف گروہوں کی دامے درمے سخنے مدد کی جائے، اوراسلامی مراکز کو نظر انداز کیا جائے، اور ان مراکز کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ امریکہ کی جانب سے مراعات یافتہ مغرب نواز اسلامی گروپ ایشیا اور یورپ میں پروان چڑھ سکیں، اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ نام نہاد امریکا کے ہمنوا خود ساختہ اسلامی گروپ اس قدر مضبوط ہوجائیں کہ پورا عالم اسلام معروف اسلامی مراکز اور اداروں کے بجائے انہیں گروہوں سے دین اسلام کے بارے میں رہنمائی حاصل کرنے لگے اور نتیجہ امریکہ کی جانب سے پیش کردہ نام نہاد اعتدال پسند اسلام کو خوب پھلنے پھولنے کا موقع مل سکے۔

رپورٹ کا چھٹا باب اس بات پر زور دیتا ہے کہ ایشیا اور یورپ میں پھیلے ان گروہوں کا تجربہ کیا جائے، اس ضمن میں ان افراد اور جماعتوں کی فہرست پیش کی گئی ہے جن کے ساتھ مل کر کام کیا جاسکتا ہے اور انہیں ہرطرح کا مالی تعاون دیا جاسکتا ہے تاکہ وہ اسلام کی تصویرکو بگاڑ کر پیش کرسکیں، جس کی واضح مثال سعودی عرب کی ایک ویب سائٹ ہے جو اس بات کی تبلیغ کرتی ہے کہ کلمہ ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے بارے میں وارد احادیث ثابت شدہ نہیں ہیں۔ اس ویب سائٹ کو امریکہ بھرپور مالی تعاون دیتا ہے۔

مساجد کے کردار سے خوف:

رپورٹ کا پہلا باب یعنی مقدمہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ مسلمانوں کو مسجد سے دور رکھاجائے کیونکہ مسجد ہی وہ منبر ہے جس سے مسلم امہ اپنے دینی معاملات میں رہنمائی حاصل کرتی ہے۔ اور اگر مسجد کے کردار کو مسخ کردیاگیاتو گویا اسلامی شریعت کا دائرہ کار ازخود محدود ہوکر رہ جائیگا۔ لہٰذا اس مقصد کے حصول کے لئے ان مبلغین کی مدد کرنا ضروری ہے جو مسجد کے باہر سے اپنی نام نہاد مذہبی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں، اسی کے ساتھ ساتھ اسلامی جماعتوں کو فراہم کی جانے والی مالی امداد کی روک تھام ضروری ہے تاکہ ان کی سرگرمیاں محدود ہوکر رہ جائیں اور امریکہ کی جانب سے مراعات یافتہ اعتدال پسند یاتقلیدی اسلام کو ماننے والا گروپ پروان چڑھ سکے۔ واضح لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی بیخ کنی کے لئے ضروری ہے کہ خود مسلمانوں کے اندر اسلام دشمنی کی تخم ریزی کی جائے اور عام مسلمانوں کو اعتدال پسندی کے نام پر دین اسلام سے متنفر کیا جائے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ رپورٹ کا دوسرا باب سرد جنگ کے فلسفہ کو اپنانے پر زور دیتا ہے جیساکہ اس کا کامیاب تجربہ امریکہ نے اشتراکیت کو زیرکرنے کیلئے سابقہ سویت یونین میں کیا، بایں طور کہ کمیونسٹوں کے ایک گروہ کے اندر اس اشتراکی فکرکے خلاف نفرت کی آگ بھڑکائی اور انہیں باہم دگر برسرپیکار کرکے اشتراکیت کے چڑھتے سورج کو ہمیشہ کے لئے روبہ زوال کردیا۔

رپورٹ کا تیسرا باب اس امر کو زیر بحث لاتا ہے کہ اشتراکیت کے خلاف سرد جنگ میں استعمال کئے گئے حربے اور وہ حربے جو آج اسلامی فکر کو - نعوذ باللہ - صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے استعمال ہورہے ہیں کے مابین کیا بنیادی فرق یا یکسانیت ہے؟ رپورٹ اس نتیجہ پر پہنچتی ہے کہ جس طرح سے اشتراکیت کے ساتھ تصادم کی نوعیت فکری تھی بالکل اسی طرح آج مغرب اور اسلام کے مابین محاذ آرائی اسی فکری انداز کی ہے، اور جب تک مسلمانوں کو فکری طور پر زیر نہیں کیا گیا، انھیں سیاسی وعسکری میدان میں شکست دینا امر محال ہوگا۔

رپورٹ کی روشنی میں جہاں تک اشتراکی نظام اور اسلامی فکر کے مابین اختلاف کی بات ہے وہ یہ کہ اشتراکیت کے مقاصد واضح تھے جس کی بیخ کنی قدرے آسان تھی، اس کے برخلاف اسلامی فکر کسی ایک گروہ یاجماعت تک محدود نہیں کہ ان کو ہدف بناکر ان کے خلاف محاذ آرائی کی جاسکے۔ رپورٹ کی سب سے اہم سفارش یہ ہے کہ ان اسلامی ممالک کے ساتھ براہ راست تصادم نہ کیا جائے جن کے ساتھ امریکہ کے سیاسی اوراقتصادی مفادات وابستہ ہوں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ باوجودیکہ سعودی عرب میں پائی جانے والی وہابی یا سلفی فکر کو امریکہ مغربی افکار کے خلاف سب سے زیادہ خطرناک تصور کرتا ہے، لیکن چونکہ سعودی عرب اور پڑوسی دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ پٹرول کی صورت میں امریکہ کا بہت بڑا مفاد وابستہ ہے، لہٰذا ان ممالک کے ساتھ براہ راست تصادم امریکی حکومت کے مفاد میں نہیں؛ بلکہ ان ممالک پر فکری یلغار ہی کے ذریعہ امریکی اثر و رسوخ کو باقی رکھا جاسکتا ہے۔ شاید یہی بنیادی سبب ہے کہ رپورٹ ہذا صراحت کے ساتھ ذکر کرتی ہے کہ عالم عرب میں جمہوریت کے فروغ کے لئے امریکہ کو خاصی دشواریوں کا سامنا ہے، یا صحیح معنوں میں ان ممالک میں جمہوریت کا قیام امریکی مفاد کے ساتھ براہ راست متصادم ہے۔

پانچویں باب میں امریکہ بہ صراحت یہ اعتراف کرتا ہے کہ ماضی میں اس نے اردن اور مغرب (مراکش) کی اعتدال پسند قوتوں کی تائید وحمایت کی (جن میں حزب العدالۃ والتنمیۃ جیسی سیاسی پارٹیاں سرفہرست ہیں)، لیکن بقول رپورٹ ’’افسوس اس بات کا ہے کہ جنہیں اعتدال پسند سمجھا گیا وہ کچھ اور نکلے‘‘۔ اسی کے ساتھ یہ تحقیقی رپورٹ اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ تیل کی دولت سے مالامال خلیجی ممالک پر کس انداز سے دباؤ ڈالا جائے کہ فکری اعتبار سے وہ امریکی اعتدال پسندی کو گلے لگالیں۔

علاوہ ازیں رپورٹ ہذا میں بعض عرب اور خلیجی ممالک میں پائے جانے والے اعتدال پسندوں کی ایک فہرست پیش کی گئی ہے جن کو امریکہ کی ایجنٹی پر آمادہ کرنا آسان ہوگا، اس مقصد کے حصول کے لئے ایسے نام نہاد اعتدال پسند ٹی وی چینل کا اجرا از حد ضروری ہے جو مغرب کے ساتھ تعایش (Co-exixtence) کی ترویج و تبلیغ کے فریضے کو بخوبی انجام دے سکے۔

خلاصہ کلام یہ کہ یہ رپورٹ اسلام اورمسلمانوں کے تعلق سے بہت خطرناک اغراض ومقاصد کی حامل ہے جس میں صحیح اسلامی افکار کی جس جارحانہ انداز میں مذمت کی گئی ہے کسی صاحب غیرت مسلمان کے ضمیر کو جھنجوڑنے کے لئے کافی ہے۔ اس رپورٹ کا لب لباب ان وسائل کو زیر بحث لانا ہے جن کے ذریعہ مسلمانوں کو سوشل ازم یا الحاد کے راستے پر گامزن کرنا ہے۔ اس چھوٹے سے مضمون میں اس خطرناک رپورٹ کے اندر جس انداز سے اسلام اورمسلمانوں کے تعلق سے زہر افشانی کی گئی ہے کو سمونا دشوار گذار ہے، مگر اس رپورٹ کے مرتب کا یہ قول ’’اس کا مقصد اسلام اورمغرب کے مابین براہ راست تصادم نہیں، بلکہ عالم اسلام کو آپس میں برسرپیکار کرنا ہے‘‘ ہمیں خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے کافی ہے۔‘‘

یہ مفصل رپورٹ کا خلاصہ اور خلاصہ پیش کرنے والے صاحب علم کی طرف سے اس پر ہلکا پھلکا تبصرہ آپ نے ملاحظہ فرما لیا۔

اس سے بالکل عیاں ہے کہ یورپ اوراس کے ساتھ اشتراک کی ہوئی حکومتیں ’’اسلام دشمنی‘‘ کے مشن کے معاملے میں ایک ہی پچ پر ہیں، سب کا مقصد ایک ہے، سب کی کوششوں کا محور ایک ہے، سب کا دشمن ایک ہے اور سب ایک ہی دین کو مٹانے، کمزور کرنے، بدنام کرنے اور بے وقعت بنا کر اپنی برتری جتلانے کے لیے سرگرم ہیں۔

مسلمانوں کے بنیادی اور مسلمہ عقائد پر شکوک و شبہات کی بارش، مسلمانوں کے بنیادی اسلامی ارکان اور فرائض دینیہ کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کے حربے، دعوت دین کو محدود سے محدود ترکرنے کے قوانین، جذبہ جہاد کو سرد کرنے کے لیے عسکری جنگ اور فکری یلغار ، یہ سب کچھ اسی نکتے کے گرد گھوم رہا ہے کہ : مسلمان کو مسلمان نہ رہنا دیاجائے اور اور مسلمانوں میں وہ قوت پیدا نہ ہونے دی جائے جس کی وجہ سے وہ عالم کفر سے ٹکرائیں ‘‘

وہ چاہتے ہیں کہ برتری انہی کی رہے، حکم انہیں کا چلتا رہے، وہ اپنی خواہشات کو ہر سطح پر پوراکرنے اور نافذ کرنے میں مکمل آزاد ہوں، وہ ہم جنس پرستی کو قانون کا درجہ دینا چاہئیں تو کوئی انہیں روکنے ٹوکنے والا نہ ہو، وہ اللہ تعالی پر ایمان کو فضول سی بات کہیں تو کوئی انہیں اس پر آنکھیں دکھانے والا نہ ہو، وہ اللہ تعالی کے مقدس رسولوں پر زبان درازی کریں تو وہ کوئی جرم شمار نہ ہو، کوئی کسی عمل کو برائی سمجھتا ہے تو وہ یہ حق نہ رکھے کہ اس برائی سے دوسروں کو رکنے کی بات کرے، کوئی خود نیک ہے تو اسے یہ حق نہ دیاجائے کہ وہ دوسروں کو اس نیکی کی ترغیب دے سکے، حکمران اچھائی کا حکم دیں یا برائی کا بہر حال لوگوں کو ان کی اطاعت کرنی ہوگی ، الغرض ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے جس میں نیکی اور برائی کا کوئی حقیقی تصور نہ ہو، انسان جانوروں کی طرح آزاد ہوں، جو جو برائی بھی کھلے عام ہو تو کوئی اس پر روکنے والا نہ ہو، قرآن اور سنت کو بالادستی حاصل نہ ہو بلکہ انسان خود اپنے لیے جو اچھا چاہئیں اس کا قانون بنادیں اور جس چیز کو برا سمجھیں اسے ممنوع قراردیدیں چاہے وہ عمل اور فکر قانون و سنت کی نظر میں کتنی ہی مستحسن کیوں نہ ہو!!

عالم اسلام میں الحاد اور ایمان کے درمیان ایسی لڑائی چھیڑی جائے کہ خود عالم اسلام اپنی لڑائی میں پھنس جائے تاکہ اسلام کی آفاقی دعوت اور اس دعوت کا پشتی بان عمل جہاد فی سبیل اللہ معطل ہو کر رہ جائے ۔یہی عالمی کفریہ طاقتوں کی خواہش ہے اور ہم دیکھیں مسلمان ملکوں میں کون لوگ ایسے ہیں جو اس راہ میں ان کی معاونت کررہے ہیں ؟ آخر کون ہیں وہ لوگ جس مسلمانوں کے معاشرے سے دعوت دین اور جہاد فی سبیل اللہ کے راستے بند کر رہے ہیں؟ غور کیجئے تب بہت کچھ واضح ہو جائے گا!

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online