Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

مغفرت بھرے اِجتماعات

مغفرت بھرے اِجتماعات

امیر المجاہدین حضرۃ مولانا محمد مسعود ازہرحفظہ اللہ تعالیٰ کے قلم کا شاہکار،مغفرت کے اہم ترین موضوع پر لکھی گئی
تالیف لطیف ’’اِلیٰ مغفرۃ !!‘‘کی تقریبِ رونمائی کے سلسلے میں منعقد ہونے والے مغفرت بھرے اِجتماعات کی روئیداد

رپورٹ: مدثر جمال تونسوی، مولانا مامون اقبال،  مولانا آصف ظہور

(شمارہ 499)

اللہ تعالیٰ اپنے جس بندے کو چاہتے ہیں ’’خیر‘‘ کی کنجی اور ’’شر‘‘ کے لیے تالا بنادیتے یعنی اس کی برکت سے لوگوں پر خیر کے دروازے کھلتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے لوگوں کو خیر کی طرف لے جانے والے اور خیر کی دعوت دینے والے بن جاتے ہیں اور ساتھ ہی انہیں ’’شر‘‘ کے لیے تالا بنادیتے ہیں یعنی ان کی کاوشوں سے لوگ جب خیر کی طرف آتے ہیں تو بہت سے ’’شرور‘‘ کو تالا لگ جاتا ہے اور شر کے بہت سے دروازے بند ہوجاتے ہیں اورجن بندوں کو اللہ تعالیٰ یہ صفت عطا فرماتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے مقبول اورمحبوب بندے ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے ایسے ہی محبوب اور مقبول بندوں میں عصرحاضر کے مجددِ جہاد، صاحب نسبت عالم دین، امیر المجاہدین حضرۃ مولانا محمد مسعودازہرحفظہ اللہ تعالیٰ بھی ہیں، جنہوں نے انتہائی محدود وقت اور انتہائی مشکل حالات کے باوجود امت مسلمہ اور مجاہدین اسلام کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کئی بیش بہاعلمی وروحانی اور جہادی خزانے پیش کیے۔

سچے مجاہدین ہمیشہ استغفار کے ساتھ مضبوطی سے جڑے رہتے ہیں اور اس پر قرآن کریم کے متعدد واقعات اور آیات بطور دلیل موجود ہیں۔

امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعودازہر حفظہ اللہ تعالیٰ نے اس ضرورت کو محسوس کیا اوراس خلاء کو پُرکرنے کے لیے اولاً متعدد اوقات میں جماعت سے وابستہ افراد اور عام مسلمانوں کو استغفار کی دعوت دی اوراس سلسلے میں ایک بار جماعت کے افراد کے درمیان ’’استغفار مہم‘‘ کے نام سے اس مبارک عمل کی مضبوط بنیاد بھی ڈالی جس سے مجاہدین کو اوران سے وابستہ افراد کو بے حد جسمانی اورروحانی فوائد حاصل ہوئے

 چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسی خیر کا داعیہ حضرت امیر المجاہدین حفظہ اللہ تعالیٰ کے دل میں ڈالا اورانہوں نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے انتہائی مختصر مدت میں پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل ایک کتاب ’’الیٰ مغفرۃ!!‘‘ کے نام سے اُمت کو پیش کردی جس میں سب سے خاص بات یہ ہے کہ قرآن کریم میں استغفار، مغفرت اور توبہ کے عنوان سے جس قدر آیات مبارکہ موجود ہیں ان سب کو جمع کیا گیا اوران کا جامع ترین سبق آموز خلاصہ تحریر کردیا گیا تاکہ قرآن کریم کا مغفرت ، استغفار اور توبہ والا پورا سبق ہمارے سامنے آجائے، یہ اس کتاب کا پہلا حصہ ہے جو بالکل ہی انفرادی شان کا حامل ہے جبکہ دوسرے حصے میں استغفار اور توبہ کے موضوع پر احادیث مبارکہ، استغفار کی دعائیں، اور دعوتِ استغفار ہے

اس کتاب کی تالیف کے بعد اسے عام طریقے سے بھی منظر عام پر لایا جاسکتاتھا مگر اس کتاب کا جو مقصد تھا کہ امت کو بڑی دردمندی اور قوت کے ساتھ استغفار کی طرف متوجہ کیا جائے تو وہ عام طریقے سے قطعاً حاصل نہیں ہوسکتا تھا اس لیے اس کتاب کی تقریبات رونمائی کی شکل میں چند بڑے شہروں میں اجتماعات منعقد کرنے کی ترتیب بنائی گئی تاکہ ان اجتماعات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں تک خالص توبہ اور استغفار کا پیغام پہنچایا جائے تاکہ ہرشخص خود بھی استغفار کی ضرورت کو محسوس کرلے اور دوسرے مسلمانوں کے لیے داعی بھی بن جائے چنانچہ ایسے ہی وسیع البنیاد اور کثیر المنافع مقاصد کو سامنے رکھ کر اس سلسلے میں چار اجتماعات کی ترتیب بنائی گئی:

(۱)جامع مسجد سنان بن سلمہؓ، پشاور،4 جون بروز جمعرات بوقت ظہر

(۲)جامع مسجد بطحا، کراچی، 4جون بروز جمعرات بعد نماز مغرب و عشاء

(۳)جامع مسجد عثمانؓ وعلیؓ، بہاولپور، 7 جون بروز اتوار بوقت ظہر

(۴)جامع مسجد النور، ڈسکہ،9جون بروز منگل بوقت ظہر

 اجتماع مرکز عثمانؓ وعلیؓ

مرکز شریف میں 7جون بروز اتوار دن ایک بجے اس اجتماع کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ یہ اجتماع دو حصوں پر مشتمل تھا۔ حصہ اول: ایک بجے سے ظہر کی نماز تک۔ حصہ دوم: تین بجے سے عصر کی نماز تک۔

حصہ اول: اس میں نقابت کے فرائض مولانا محمد خادم قاسمی صاحب نے نبھائے۔ آغاز مجلس حافظ محمد عمربن استاذالمجاہدین ابوبکر شہیدؒ کی تلاوت سے ہوا۔ بعد ازاں محترم قاری غلام عباس صاحب نے حمد ونعت اورنظم کے پرتاثیر اشعار کے ذریعے سامعین کے دلوں کو جِلابخشی۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں التجاء کرتے ہوئے جو کلام پیش کیااس کا ایک بند کچھ یوں ہے:

ہر سمت چھاگئے ہیں رنج و اَلم خدایا

ہم تجھ سے مانگتے ہیں تیرا کرم خدایا

اس کے بعد مجلس شوریٰ کے رکن جنوبی پنجاب کے ناظم غازیٔ ہند مولانا ابوجندل محمد شفیق صاحب کو بیان کی دعوت دی گئی۔انہوں نے اپنے بیان میں دعوت جہاد کو مرکزی حیثیت سے پیش کیا اور فرمایا کہ اس پُرفتن دور میں دعوت جہاد کے لیے خود کو وقف کرنے والے کارکنان ایک طرف بذات خود جرأت وعزیمت کے پیکر ہیں اور دوسری جانب امت مسلمہ کے محسن بھی ہیں کہ وہ ایک اہم ترین فرض کی یاددھانی کرانے کے لیے شہرشہر کی خاک چھانتے اوردربدر کی ٹھوکریں کھاتے ہیںاور ہرظلم وتشددسہہ کر بھی دعوت جہاد کا علم بلند کیے رہتے ہیں۔  اس کے بعد مولانا محمد خادم قاسمی صاحب نے جماعت کے تمام اہم شعبہ جات کا جامع تعارف پیش کیااوربتایا کہ جماعت کس طرح دین کے تمام شعبہ جات میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے اور جماعت کے کارکنان کس طرح میدان جہاد سے لے کر میدان خدمت تک اور تعلیم وتربیت سے لے کر شہداء واسیران کے پس ماندگان کی فلاح وبہبود تک اور مدارس کے قیام سے لے کر مساجد کی آبادی تک کی خدمات پیش کررہے ہیں۔

اس تعارف کے بعد نمازِ ظہر کا وقفہ ہوا ۔ ڈھائی بجے نماز ظہر اداء کی گئی۔

تین بجے کے قریب دوبارہ اجتماع شروع ہوا اور تقریب کے دوسرے حصہ کا باقاعدہ آغازغازی ہند مولانا محمد الیاس قاسمی صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ نقابت کے فرائض مولانا مجاہد عباس صاحب نے سنبھالے۔ تلاوت کے بعد مولانا محمد خادم قاسمی صاحب نے امیر المجاہدین مولانا محمد مسعودازہرحفظہ اللہ تعالیٰ کے کالم بعنوان ’’امید کی کرن‘‘ کی تعلیم کرائی جسے تمام سامعین نے نہایت رغبت اور دلجمعی سے سماعت کیا۔

دوسری نشست میں پہلا بیان جماعت کے شعبہ ہدایت کے مرکزی ناظم مولانا محمد اشفاق صاحب فرمایا۔ انہوں نے امیر محترم کی طرف سے جماعت میں جاری مختلف ترتیبات کی اہمیت اورضرورت پر روشنی ڈالی اور واضح کیا کہ امیر محترم کی طرف سے جو ہدایات کارکنوں کو دی جاتی ہیں وہ درحقیقت اسلام اورمسلمانوں کے نفع کے لیے بلکہ ہم سب کے نفع کے لیے ہوتی ہیں۔ چنانچہ مغفرت کے موضوع پر لکھی گئی یہ کتاب بھی امت کے لیے ایک پیغام ہے۔ ہم ان جماعتی ترتیبات سے کوئی ذاتی نفع نہیں لینا چاہتے بلکہ امت مسلمہ کو ایک مفید اور کارآمد جماعت اور مضبوط ومخلص دینی کارکنان دے کر جانا چاہتے ہیں جو دین کے لیے اپنی زندگیاں وقف کرچکے ہوں اور اپنے ہر قول وعمل سے اسلام کی آبیاری کرنا چاہتے ہوں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے جیش محمدﷺ کے کارکنان کو مشکل حالات میں دعوت جہاد سے وابستہ رکھا اور آج مغفرت کی طرف بلانے اور دعوت دینے کی بھرپور توفیق عطاء فرمائی، ایسے میں ہماری یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ جماعت کے تین نکاتی نصاب: کلمہ طیبہ، نماز اور جہاد کی دعوت کو پورے عالم میں پھیلانے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو وقف کردیں اوراللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگتے ہوئے آگے بڑھتے رہیں اگر یہ مغفرت اور استقامت مل گئی تو سمجھ لیں کہ ہم کامیاب ہوگئے! ان شاء اللہ

اُن کے بعد شعبہ اسیرانِ ہند کے مرکزی ناظم غازی ہند مولانا محمد الیاس قاسمی صاحب کو دعوت خطاب دی گئی۔ انہوں نے خطبہ عربیہ کے بعد نبی کریمﷺ کی شان اقدس میں چند اشعار اپنے مخصوص دلآویز انداز میں سناکر سامعین کی محبت رسولﷺ کو مہمیز دی ۔ ان اشعار کا مطلع یوں تھا:

حضور آئے سِرّ آفرینش پاگئی دنیا

اندھیروں سے نکل کرروشنی میں آگئی دنیا

سُتے چہروں کا زنگ اُترا، بُجھے چہروں پہ نور آیا

حضور آئے تواِنسانوں کو جینے کا شعور آیا

انہوں نے فرمایا کہ: حضرت امیر محترم نے کتاب کا نام ہی ایسا تجویز کیا ہے کہ جسے سننے سے، پڑھنے سے اور دیکھنے سے، غرض ہر حال میں بندوں کو اللہ تعالی کی مغفرت کی طرف صداسنائی دیتی ہے۔ ’’الیٰ مغفرۃ‘‘ کا لفظ کا مطلب ہے: مغفرت کی طرف!۔ اس نام سے امیر محترم نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی طرف متوجہ فرمایا اور اس کتاب میں توبہ ومغفرت کی تمام آیات کو جمع کرکے قرآنی سوغات کا ایک اور بہترین تحفہ امت کی خدمت میں پیش کیا ہے جس طرح اس سے پہلے فتح الجواد کی شکل میں ایک مثالی جہادی وقرآنی سوغات امت کو پیش کی تھی اورآپ کی جہادی خدمات کے پیش نظر اکابر نے آپ کو ’’مجدد جہاد‘‘ قراردیا۔ مغفرت کے عنوان سے مجاہدین کا یہ اجتماع بڑی خیر وبرکت کا سبب ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ مجاہدین کے حالات خراب ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ حالات تو دشمنان اسلام کے خراب ہیں۔ مجاہدین تو ہمیشہ رب کی رضا کے لیے جان قربان کرنے کا جذبہ لے کر مسکراتے رہتے ہیں اور مجاہدین کی یہی مسکراہٹ دشمنانِ اسلام کے لیے موت کا پیغام بن جاتی ہے اور وہ مجاہدین کی خوشیاں دیکھ کر غیط وغضب سے جلنے لگتے ہیں۔ ہم اس بات پر بھی اللہ تعالیٰ شکر اداء کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں مجدد جہاد کے دامن سے وابستہ کردیا جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے پناہ نعمتیں عطاء کی ہیں۔ اللہ تعالی نے انہیں اس دور میں جہاد کی نشانی بنادیا ہے اور جہاد بذات خود اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ حق اورباطل کی چھانٹی کردیا کرتے ہیں۔ یہ بات مجھے ایک بزرگ عالم دین شیخ الحدیث مولانا ارشاد صاحب (چیچہ وطنی) نے ارشاد فرمائی اور جب میں نے قرآن کریم میں غور کیا تو ان کی یہ بات سچ معلوم ہوئی کہ واقعی اللہ تعالی نے جہاد کو اپنی نشانی قراردیا ہے جو کہ مجاہدین کے لیے عظیم بشارت ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس کتاب کی قدر کریں اور اس میں استغفار کا جو پیغام دیا گیا ہے اور جس مغفرت کی طرف دوڑنے کی ترغیب دی گئی ہے ہم اس مغفرت کو پانے کے لیے اس کتاب سے روشنی لیں اوراللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط بنائیں۔

اس کے بعد امیر المجاہدین کے برادرصغیر مولانا محمد عمارصاحب نے پانچ منٹ کے لیے استغفار اورذکر کی مجلس کرائی ۔

اس کے بعد جامعۃ الصابرکے مہتمم واستاذ الحدیث امیرالمجاہدین کے برادرصغیر مولانا طلحہ السیف صاحب بیان کے لیے تشریف لائے، انہوںنے فرمایا:

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اپنی نعمتوں کو یاد کرنے، اس کے دوام کی فکر کرنے اور ان نعمتوں پر شکر کرنے کا موقع عنایت فرمایا اور توفیق عطاء فرمائی۔ انسان مختلف چیزوں پر خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ اکثر لوگ جن پر نفسانی خواہشات کا غلبہ رہتا ہے وہ دنیاوی چیزوں پر خوش ہوتے ہیں اور دنیا میں جو بھی بڑی کامیابی ملے اس پر بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہیں جبکہ قرآن مجید نے ہم مسلمانوں کو جو خوشی کا مقام بتایا ہے وہ ’’دینی نعمت‘‘ ہے۔ یعنی جب بھی کوئی دینی نعمت میسر آئے تو اس پر خوشی کا اظہار کیاجائے، اس پر خوشی محسوس کی جائے، اللہ تعالیٰ کا شکر کیا جائے ۔ خوشی اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ دین کی نعمت اسے عطا فرماتے ہیں جس سے وہ خوش ہوتے ہیں جس سے وہ راضی ہوتے ہیں اور جس سے اللہ تعالی خوش اور راضی ہوں تو لازم ہے کہ وہ بھی خوش ہو اوراللہ تعالیٰ سے راضی ہو۔ اسی لیے قرآن کریم نے صراحت کے ساتھ قرآن کی نعمت ملنے پر خوش ہونے اور اللہ تعالی کے فضل ورحمت پر فرحت محسوس کرنے کی ترغیب دی ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ فرحت کے قابل حقیقی چیزیں یہی ہیں کیوں کہ دنیا دار لوگ جس قدر بھی دنیا کما لیں لیکن بہر حال دینی نعمت ان دنیاوی مال ومتاع کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔ اس لیے آج اگر ہم ’’مغفرت‘‘ کی طرف بلانے والے ایک جامع تحفے کی مناسبت سے جمع ہوئے ہیں اور اس پر خوشی محسوس ہورہی ہے تو یہ بالکل بجا خوشی ہے اور ایسے ہی دینی مواقع خوشی کے قابل ہوتے ہیں

دوسری بات یہ ہے کہ ہم سب مسلمان ہیں اور کلمہ اسلام پڑھتے ہیں۔ ایسے میں یہ یاد رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ اسلام اورایمان کی صداقت جاننے کے لیے امتحان ناگزیر ہے جس کے بارے میں قرآن کریم نے تقریباً آٹھ مقامات پر صراحت کے ساتھ اس حقیقت کو بیان کیا ہے اورحقیقی ایمان کے لیے کچھ لوازمات بھی بیان کیے اورانہی لوازمات کو پورا کرنے والوں کے لیے ’’الصادقون‘‘ کا پروانہ دیا گیا ہے یعنی امتحان میں کامیاب ہونے والوں کو ’’سچے مومن‘‘قراردیا گیا ہے۔ یہ امتحان کسی ایک میدان میں، زندگی کے کسی ایک شعبے میں نہیں ہوتا بلکہ اس میں بہت سے پُرخطر مقامات سے بھی گزرنا پڑتا ہے، بھوک کی اذیت بھی برداشت کرنا پڑتی ہے، اپنااوراپنے دوست واحباب کا جانی ومالی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے، پھر سب سے پُرخطر امتحان ہوتا ہے منافقین کی سازشوں سے بچنا، کیوں کہ منافق یہ چاہتا ہے کہ مخلص مسلمانوں کو اپنا جیسا منافق بنادیں تاکہ مخلص مسلمان بھی انہی جیسے بن جائیں اور یوں اب کوئی بھی ان کے نفاق پر ان کو عار دِلانے والا باقی نہ رہے۔ اس لیے مسلمانوں کو بیدار کیا گیا کہ وہ منافقین جیسا طرز اختیار نہ کریں،منافق جہاد کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیتا ہے ایسے میں مخلص مسلمان کو چاہئے کہ وہ آخرت کی زندگی کو ترجیح دے اور اگر یہ دنیا رکاوٹ بنے تو اس دنیا کو ٹھکرادے کیوں کہ یہی عزت ہے ورنہ دنیا دار تو حکومت کی کرسیوں پر براجمان ہوکر بھی ذلیل ہوتے ہیں اور اپنی ہی رعایا کے ہاتھوں ان کی وہ ذلت ہوتی ہے کہ جس سے موت ہی بھلی محسوس ہوتی ہے مگر نفاق کی نحوست نے ان کو اندھا کررکھا ہوتا ہے جبکہ اس کے برعکس مخلص مسلمان اور مجاہدہر حال میں عزت مند رہتا ہے حتی کہ اگر وہ دشمن کے ہاتھوں قید ہو تب بھی اس کی شان نمایاں ہوتی ہے اور کافر اس سے خوف زدہ رہتے ہیں اور وہ قید میں رہ کر بھی باعزت بہادرمردوں والی زندگی گزارتا ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ یہ اجتماع اور وہ کتاب جس کی رونمائی کے لیے یہ اجتماع منعقد کیا گیا ہے مسلمانوں کو مغفرت کی طرف بلانے کے لیے ہے کیوں کہ مغفرت ایسی نعمت ہے جسے مل جائے بس وہی کامیاب ہے اور جو اس سے محروم رہ جائے وہ سب سے بڑا بدنصیب ہے۔ قرآن کریم نے مسلمانوں کو مغفرت کی طرف بلایا اوراس انداز سے بلایا ہے کہ کہیں کہا: مغفرت کی طرف تیز قدموں سے چلو، کہیں کہا: مغفرت کی طرف ایک دوسرے سے مقابلہ جیتنے کی کوشش کرو…مسلمان اگر صرف انہی قرآنی مضامین کو دل نشین کرلیں تو استغفار بہت آسان ہوجائے اور ہماری زندگی کے ہر لمحے میں استغفار آجائے جیسا کہ نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں میں ہر حال میں استغفار نظر آتا ہے چنانچہ وہ حالت صلح میں ہوتے یا جنگ میں ، فتح نصیب ہوتی یا شکست بہر حال وہ استغفار کی طرف متوجہ رہتے تھے

آج دنیاوالے مجاہدین کو دنیا کی طرف بلا رہے ہیں لیکن امیرالمجاہدین ان کو مغفرت کی طرف بلارہے ہیں…اس اجتماع کا پیغام فقط دوباتیں ہیں: آپ حضرات جہاد پر ڈٹ جائیں، اس راہ میں کسی رکاوٹ کی پروا نہ کریں اوراس کتاب کو اول تاآخر مکمل پڑھ کر ہر حالت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگتے جائیں بلکہ جو بھی جہاد کے دوران جس قدر زیادہ مغفرت مانگے گا اسی قدر اسے جہاد میں استقامت نصیب ہوگی۔ ان شاء اللہ

اسی دوران حضرت کے بیان کے آخر میں مجاہدین کے محبوب قائد حضرت مفتی عبدالرؤوف اصغرصاحب نے کتاب کی رونمائی کی اور اسٹیج پر موجود متعدد جماعتی اکابر، مقامی علماء کرام، مہمان حضرات اور شہداء کرام کے ورثاء کو اپنے ہاتھوں سے کتاب عنایت فرمائی جس پر تمام شرکاء نے حضرت امیر محترم حفظہ اللہ تعالیٰ اورجماعت کے دیگر تمام ذمہ داران اورخاص کر کتاب کی اشاعت میں تعاون کرنے والوں کا شکریہ بھی اداء کیا اورانہیں ڈھیروں دعائیں بھی دیں۔ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائیں اور اس کتاب کو سب کے لیے نفع مند بنائیں۔ آمین

آخر میں مولانا محمد خادم قاسمی صاحب نے محبوب المجاہدین، عظیم قائد، امیر المجاہدین کے برادر صغیر مفتی عبدالرؤوف اصغرصاحب کو خطاب کی دعوت دی اور ساتھ ہی تمام مجمع نعرہائے تکبیر سے گونج اٹھا۔

حضرت مفتی صاحب نے اپنے بیان کے آغاز میں بیعت علی الجہاد سے وابستگی کی تلقین درج ذیل اشعار کی صورت میں کی:

اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے

خاک ہوجاؤ گے، افسانوں میں کھو جاؤ گے

تم ہو اِک زندہ جاوید روایت کا چراغ

تم کوئی شام کا سورج ہو کہ ڈھل جاؤ گے؟

بعد ازاں انہوںنے فرمایا: میرے مسلمان بھائیو اورمجاہد عزیزو! اللہ تعالیٰ کے در پر جھک جانے اور گڑگڑانے کی ضرورت ہے۔ آج امت بہت دور نکل گئی ہے، اللہ تعالیٰ سے غفلت عام ہورہی ہے، گناہوں کی دلدل روزبروز گہری ہوتی چلی جارہی ہے، قبر کے ہولناک گڑھے اور آخرت کے ہیبت ناک مناظر ہم بھولتے جارہے ہیں، قیامت اورآخرت ایک مدھم سی یاد کی شکل میں ہمارے میں ذہنوں میں کہیں باقی ہے ورنہ ہمارے یہ ذہن ہر وقت دنیا میں ہی کھوئے رہتے ہیں، آج ہمیں مغفرت کی طرف آنے کی ضرورت ہے، اللہ تعالیٰ کے سامنے رونے اور توبہ کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ آخرت کی کامیابی اس مغفرت سے وابستہ ہے جسے مغفرت ملے گی اسی کو نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں ملے گا جس پر وہ خوشیاں مناتا ہوا سب گھروالوں کو دکھاتا پھرے گا، اسی کے لیے جنت کے دروازوں پر استقبال ہوگا، اسی کو فرشتے سلامی دیں گے اور جو اس دن مغفرت سے محروم رہا وہ بڑے خسارے میں جاپڑے گا، اسے نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں ملے گا تو وہ افسوس کے مارے اپنا ہاتھ ہی کاٹ کھائے گا، وہ تمنا کرے گا کہ کاش مجھے یہ نامہ اعمال دیا ہی نہ جاتا، لیکن وہاں یہ سب کچھ ہوکررہے گا اوراسے اس ذلت سے نہ اس کامال بچاسکے گا اورنہ ہی اس کی دنیوی حکومت وسلطنت، بلکہ انہیں بیڑیوں میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا… اس ناکامی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم آج ہی مغفرت کی طرف بھاگ پڑیں۔

امیر المجاہدین حفظہ اللہ تعالیٰ کی یہ کتاب ’’الیٰ مغفرۃ‘‘ اسی مغفرت والے پیغام کی یاددھانی کے لیے ہے۔ نبی کریمﷺ کے زمانے میں کچھ حضرات جہادکے محاذوں پر دشمنانِ اسلام سے نبرد آزما ہوا کرتے تھے اور کچھ صفہ کے چبوترے میں بیٹھ کر علم دین حاصل کیا کرتے تھے…نبی کریمﷺ کی سیرت طیبہ سے یہی سبق لے کر آج مولانا محمد مسعود ازہرحفظہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف آیات جہاد کو جمع فرمایااور فتح الجواد فی معارف آیات الجہاد کی شکل میں قرآن کی جہادی سوغات مرتب فرمائی جس کی بدولت آج فدائیانِ اسلام کے لشکر کہیں صلیبی سپاہیوں پر آگ بن کر برس رہے ہیں تو کہیں شرک کے پجاریوں کو خاک وخون میں تڑپا رہے ہیں… دوسری جانب یہی عظیم شخصیت مجاہدین جیش محمدﷺ کے امیردینی علوم کے ایک اہم جز’’مغفرت‘‘ کی طرف مسلمانوں کو متوجہ فرمارہے ہیں اور اس مقصد کے لیے ’’الیٰ مغفرۃ‘‘ کتاب کی شکل میں توبہ، مغفرت، استغفار اورمعافی والی تمام آیات جمع فرماکر مغفرت والی یہ قرآنی سوغات امت کے دامن میں ڈال رہے ہیں تاکہ امت گناہوں کی دلدل سے نکل عزت اورجہاد کی راہوں پر گامزن ہوسکے۔ جہاد اور مغفرت کا آپس میں عجیب رشتہ ہے۔ ایک طرف مغفرت کا یہ کرشمہ ہے کہ اس کی برکت سے جہاد کی راہیں آسان ہوتی ہیں اور دوسری طرف جہاد کی یہ برکت ہے کہ اس کی بدولت مغفرت کا اونچا مقام نصیب ہوتا ہے۔ جیش محمدﷺ ان دونوں چیزوں کو ساتھ لے کرچل رہی ہے اوراس کی دعوت بھی دے رہی ہے جس کی برکت یہ ہے کہ وہ طاقتورلوگ جو اس جماعت اوراس کی دعوت کو ختم کرنا چاہتے تھے آج وہ خود ایک بھولی بسری یاد بنتے جارہے ہیں جبکہ امیرالمجاہدین مولانا محمد مسعودازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کی زیرامارت وجود میں آنے والی جماعت بھی باقی ہے اوراس کاکام بھی ترقی پذیر ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سب جہاد میں اپنی جانیں قربان کرنے والے عظیم شہداء کے خون کی کرامت اور مجاہدین کے ذکر واستغفار کی برکت ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت متوجہ ہے، کیوں کہ کسی بھی کامیابی میں ہمارا کوئی کمال نہیں بلکہ محض اللہ تبارک وتعالیٰ کا فضل وکرم ہے۔

ہم آج کی اس مجلس ایک بار پھر یہ عزم کرتے ہیں کہ ہم جہاد کا جھنڈا موت تک تھامے رہیں گے، جہاں بھی کفار کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم وتشدد ہوااور جس نے بھی حرمین شریفین کی طرف غلط نگاہوں سے دیکھا اور اس کی طرف اپنے ناپاک قدم بڑھائے ہم اس کی راہ میں اپنی جانیں قربان کرکے بند باندھ دیں گے۔ اگر دنیاوی حکومتیں ہمارے راستے کی رکاوٹ بنیں گی تو ہم اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ کر اس کے سمندروں اور جنگلوں میں راستے مانگیں گے اور ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب ہمیں مایوس نہیں کرے گا، اس نے کل بھی مجاہدین کو سمندروں اور جنگلوں میں راستے دیے ہیں وہ آج بھی اس پر قادر ہے اور ہمیں بہت سے مقامات پر اس کھلی مدد کا مشاہدہ ہوبھی رہا ہے ۔ وہ مودی مشرک جو ہندستان کی مساجد سے’’اللہ اکبر‘‘ کی صدائیں ختم کرانا چاہتا تھا جو بابری مسجد کی جگہ مندر بنانا چاہتا تھا جو، ہندوستان کے مسلمانوں کاصفایا کرنا چاہتا تھا جو کشمیر کی تحریک کا گلا گھونٹنا چاہتا تھا مگر جیش محمدﷺ نے اس کے اس چیلنج کو قبول کیا اور ایک سال کی مدت میں مشرکین پر وہ کاری ضربیں لگائیں کہ تین تین دن تک جیش محمدﷺ کے خوف سے دہلی میں ایمرجنسی نافذ رہی اور مودی مشرک کے تمام عزائم ابھی تک ناکامی کامنہ چاٹ رہے ہیں اور کشمیر میں ہزاروں لاکھوں لوگ نعرہائے تکبیر بلند کرتے اور لاالہ الا اللہ کی صدائیں بلند کرکے مشرکین کو چیلنج کررہے ہیں اور مشرکین اپنی ناکامی اور رسوائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر حسرت کی آگ میں جل بھن رہے ہیں۔

مولانا محمد مسعود ازہرحفظہ اللہ تعالیٰ نے جہاد، مجاہدین اور امیر المومنین ملا محمد عمر حفظہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ وفا کی مثال قائم ہے اور یہ عزم کیا کہ اگر ملا عمر اپنی عمر پہاڑوں میں دربدر ی کی حالت میں گزار کر جہاد کی قیادت کر یں گے تو مسعود ازہر بھی آزادگھومنے پھرنے کو ٹھوکر مار کر جنگلوں میں دربدری کی زندگی گزار کر جہاداور دعوت جہاد کا علم تھامے رہے گا۔ اسی لیے مولانا مسعودازہر نے پرویزمشرف جیسے طاغوت کی بڑی سے بڑی پیشکش ٹھکرادی مگرنظریہ جہاد پر آنچ نہیں آنے دی۔ اس لیے ہم اللہ تعالیٰ کا شکر اداء کرتے ہیں جس نے ہمیں وقت کے ایسے ولی اور عالم ربانی کے دامن سے وابستہ فرمایاجس کی جبین صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکتی ہے اور وہ ہر طاغوت کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھ کر یہ اعلان کرتا ہے کہ:

لا الہ الا اللہ…لا الہ الا اللہ… لا الہ اللہ محمد رسول اللہ

آخر میں حضرت مفتی صاحب نے تمام شرکاء اجتماع کے ساتھ کھڑے ہوکر تمام ساتھیوں سے لبیک اللّٰھم لبیک اور لا الہ الا اللہ کے کلمات کے ورد کے ساتھ ساتھ تحفظ حرمین شریفین کی حفاظت کی خاطر تن من دھن قربان کرنے کا عہد لیا اور آپ ہی کی دعا سے مبارک اجتماع اختتام پذیر ہوااور ساتھ ہی نماز عصرباجماعت اداء کی گئی۔ الحمد للہ علی ذالک

 اجتماع پشاور

پشاور جامع مسجد سنان بن سلمہؓ، میں 4جون بروز جمعرات ظہر کے وقت ’’الی مغفرۃ‘‘ کتاب کی رونمائی کے سلسلے میں اجتماع منعقد ہوا ، اور چونکہ وہ دن دورہ تفسیر آیات جہاد کا بھی آخری دن تھااس لیے دورہ تفسیر کااختتامی اجتماع بھی اسی کے ساتھ منسلک ہوگیااور مدرسہ کے حفاظ طلبہ کی دستاربندی بھی اسی مجلس میں کی گئی یوں یہ اجتماع تین قسم کے انوارت کا مجموعہ بن گیا۔ الحمد للہ علی ذالک

اس طرح یہ اجتماع تین حصوں پر مشتمل تھا:

(۱)دورہ تفسیر کی اختتامی نشست

(۲)مدرسہ سنان بن سلمہؓ، کے حفاظ طلبہ کی دستاربندی

(۳)’’الی مغفرۃ‘‘ کتاب کی تقریبِ رونمائی

دن پونے ایک بجے دورہ تفسیر آیات جہاد کا آخری سبق ہوا جو استاذ التفسیر مولانا مامون اقبال صاحب نے پڑھایا، نماز ظہر کے بعد قاری شمس الدین صاحب کی تلاوت سے تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا، تلاوت کے بعد معروف جہادی نظم خواں محترم چچاغازی صاحب نے نعتیہ کلام اور جہادی نظمیں پیش کیں۔ بعد ازاں صوبہ سیداحمد شہیدؒ کے ناظم بھائی انورزادہ صاحب نے بیان فرمایا۔ ان کے بعد معروف جہادی نظم خواں جناب قاری غلام عباس صاحب نے ولولہ انگیز نظمیں پیش کیں جس سے مجمع میں جذبات کی ایک نئی لہر دوڑ گئی اور مسجد کی چار دیواری نعرہائے تکبیر سے گونج اٹھی۔

اس کے بعد شعبہ حجامہ کے منتظم بھائی محمد حذیفہ صاحب نے بیان کیا۔ بعد ازاں قاری مختار الملک صاحب نے پشتو نظم پیش کی۔ ان کی نظم کے بعد صوبہ سیدنا صدیق اکبرؓ کے منتظم بھائی علی محمد صاحب نے بیان کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ اب الحمد للہ مجاہدین کا جہاد دفاعی معرکوں کو فتح کرتا ہوا آہستہ آہستہ فتوحات اور اقدام کی طرف بڑھ رہا ہے اور بہت جلد اسلامی لشکر کفریہ ممالک پر اسلامی پرچم لہراتے ہوئے داخل ہوں گے، اس کے لیے ہمیں اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنی چاہئیں اور اپنے عزائم کر بلند کرنا چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس میں شرکت کے لیے قبول فرما لے۔

اس کے بعد مولانا محمد خادم قاسمی صاحب نے جماعت کے شعبہ مدارس ومکاتب کی مفصل کارگزاری سامعین کے سامنے پیش کی جس سے سامعین کو اندازہ ہوا کہ جماعت محض جہاد اور دعوت جہاد کے میدان میں سرگرم عمل نہیں بلکہ تعلیم وتربیت کے میدان میں بھی جماعت قابل قدر خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ امیر محترم حفظہ اللہ تعالیٰ جب رہا ہوکر آئے تو بظاہر اکیلے تھے، ان کا کوئی مدرسہ نہیں تھا مگر اس وقت تقریباً40کے قریب مدارس ان کی نگرانی میں دینی تعلیم دے رہے ہیں، اس سال ۴۱ مقامات پرامیر محترم حفظہ اللہ تعالی کے طرز پر اوران کی نگرانی میں آیات جہاد کا ترجمہ وتفسیر پڑھایا گیا۔

اس کے بعد مولانا خادم قاسمی صاحب نے مدرسہ سنان بن سلمہؓ، سے حفظ کی تکمیل کرنے والے طلبہ کی دستاربندی فرمائی جس میں ان کے ساتھ مولانا محمد الیاس قاسمی، مولانا محمد عمار، مولانا محمد اشفاق، بھائی قاضی حنیف اللہ جان، اور بھائی علی محمد صاحبان نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر حفاظ طلبہ کی دستاربندی کے ساتھ ساتھ انہیں ایک عدد قرآن پاک اور ایک عددتلوار بھی ہدیہ دی گئی جس کا پیغام یہ تھا کہ وہ آئندہ کی زندگی میں قرآن اور تلوار دونوں کو ساتھ لے کرچلیں کہ اسلام کے غلبے کا راز اسی میں پوشیدہ ہے۔

بعدازاں قاری مختارالملک صاحب کی نظم کے بعد مولانا محمد الیاس قاسمی صاحب نے بیان فرمایااور یہ واضح کیا کہ قرآن کریم ہر جہت سے ایک معجزہ ہے، اس کے الفاظ بھی معجزہ، اس کے معانی بھی معجزہ، اس کا حفظ بھی معجزہ، اس کی تفسیر بھی معجزہ، اور یہ ایسا یادگار معجزہ ہے جو قیامت تک باقی رہے گااور اس کی تعلیم وتعلم بھی اسی طرح قیامت تک چلتا رہے گا۔ آج کوئی سائنسی ترقیات پر فخر کرتا ہے اور کوئی اپنی حکومت وسلطنت کو قابل فخر شمار کرتا ہے مگر ہمیں اپنے نبی کریمﷺ کی طرف سے ملنے والے معجزہ قرآن پر فخر ہے اور یہی اس امت کے لیے شرف وامتیاز کی چیز ہے اور جو مسلمان ہونے کے باوجود اس شرف وا متیاز سے دور ہوجائے گا وہ ذلیل وخوار ہوگا۔

اسی بیان کے دوران جماعت کے شعبہ ہدایت کے مرکزی ناظم مولانا محمد اشفاق صاحب نے کتاب ’’الی مغفرۃ‘‘ کی رونمائی فرمائی اور اس دوران شرکاء تقریب نعرہائے تکبیر سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہے اور وہ کتاب اس وقت موجود علماء کرام اور دیگر معززین اور شہداء کرام کے ورثاء کو ہدیہ دی گئی۔

اس کے بعد محترم جناب قاضی حنیف اللہ جان صاحب بیان کے لیے تشریف لائے اور انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں نہایت ہی ولولہ انگیز اور ایمان پرور جہادی بیان فرمایاجس میں عصرحاضر میں جاری صلیبیوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے مجاہدین کے حیرت انگیز اور ایمان افروز واقعات سنا کر سامعین کے ایمان کو جلابخشی، انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے مجاہدین (اللہ تعالی کے فضل وکرم سے اور اسی ذکر واستغفار کی برکت سے) صلیبی لشکروں کے اُن ہیڈ کوارٹروں میں داخل ہوئے جہاں کوئی عام آدمی قریب بھی نہیں جانے دیا جاتا تھا مگر ہمارے مجاہدین وہ پہنچے اور صلیبی لشکر کے سپاہیوں پر موت بن کر مسلط ہوئے۔ الحمد للہ! جیش محمدﷺ کے مجاہدین نے صلیبی لشکروں پر وہ فدائی یلغار کی ہے جس نے جہاد کی تاریخ میں ایک نئی مثال رقم کی ہے جس سے ملا محمد عمر مجاہد حفظہ اللہ تعالیٰ اوران کے رفقاء کے دل خوش ہوئے اور انہوں نے ڈھیروں دعائیں کر ہمارے حوصلوں کو بلند کیا ہے۔ ساتھیوں کو اللہ تعالی کی طرف سے ملنے والی ایسی کامیابیوں پر شکر کی نماز اداء کرنی چاہئے کہ یہ سب اسی کی توفیق سے ممکن ہوا۔ الحمد للہ علی ذالک

اس کے بعد امیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالی کی طرف سے اجتماع کے لیے آنے والے خاص مکتوب کی تعلیم کرائی گئی۔ قاری غلام عباس صاحب نے ولولہ انگیز جہادی نظم پیش کی

اور اس کے بعد مجلس کے مہمان خصوصی امیر المجاہدین کے برادرصغیر مولانا محمد عمارصاحب نے مفصل بیان فرمایا۔ انہوں نے واضح کیا مغفرت کی طرف خود اللہ تعالی نے بھی بلایا ہے اور اس کے رسول نے بھی بلایا ہے اور جو بھی اللہ تعالیٰ کا محبوب اور رسول کریمﷺ کا سچا فرماں بردار بندہ ہوتا ہے وہ خود بھی استغفار کرتا ہے اوراللہ تعالی کے بندوں کو بھی استغفار کی طرف بلاتا ہے، انہیں مغفرت کی اہمیت یاد دلاتا ہے، انہیں آخرت کی کامیابی والی راہ دکھاتا ہے جبکہ مغفرت تو ایسی نعمت ہے کہ اگر وہ مل جائے تو دنیا بھی سنور جاتی ہے اور آخرت بھی، اور اگر مغفرت نہ ملے تو دنیا بھی کسی کام نہیں آتی اور آخرت بھی برباد ہوجاتی ہے۔ اور آخر میں عصر کے وقت دعا کے ساتھ یہ اجتماع خیر وعافیت سے اختتام کو پہنچ گیا۔

 اجتماع کراچی

4 جون کا دن تھا، کراچی شہر میں ہر طرف سناٹا پھیلا ہوا تھا، خوف و ہراس کی وجہ سے ہر فرد گھر میں دبکا بیٹھا تھا، لیکن شہر کے ایک گنجان اور بارونق علاقہ سخی حسن میں واقع اہل ایمان اور اہل عزیمت کا مرکز جامع مسجد بطحاء میں حالات کی شدت و حدت کو خاطر میں لائے بغیر فرزندان توحید کے قافلے جوق درجوق تشریف لارہے تھے، مسجد اپنی وسعت کے باوجود تنگ دامنی کا شکوہ کررہی تھی۔ اجتماع گاہ کے در و دیوار خوبصورت اور دل آویز چارٹز سے مزین و منور تھے۔

جی ہاں! یہ پر رونق، باوقار اور جذبات سے لبریز اجتماع حضرت امیر المجاہدین کے شاہکار قلم سے منصہ شہود پر آنے والی ایک تازہ علمی اور رسیلی سوغات ’’الیٰ مغفرۃ‘‘ کی تقریب رونمائی میں منعقد ہورہا تھا۔

پروگرام دو حصوں میں ترتیب دیا گیا تھا، پہلے حصے کا دورانیہ مغرب سے عشاء جبکہ دوسری نشست عشاء کے بعد سے رات گئے تک جاری رہی۔ شروع سے آخر تک میزبانی اور نقابت کے فرائض حضرت مولانا خالد الاسلام شاہین صاحب نے بحسن و خوبی سرانجام دیئے۔ پہلی نشست کا باقاعدہ آغاز قاری رفیع اللہ صاحب کی پرسوز آواز میں تلاوت کلام پاک سے ہوا، بعدازاں حمد و نعت کیلئے قاری فیاض الرحمن صاحب کو مدعو کیا گیا جنہوں نے انتہائی خوش کن اور دلسوز آواز میں تمام شرکاء کو یک و ہم زبان کرکے ان منظوم الفاظ میں ذکرِ الٰہی سے گرمایا۔۔۔۔

حسبی ربی جل اللہ …لا الہ الا اللہ

جونہی حمد و نعت کا معطر سلسلہ ٹوٹا تو نقیب محفل کی آواز گونجی اور ان الفاظ میں گویا ہوئے: ’’اب میں خطاب کے لئے ایسی شخصیت کو دعوت دینے جارہا ہوں، جن کا نام بھی مجاہد، جن کا کام بھی مجاہد، جو صبح بھی مجاہد، جو شام بھی مجاہد خطاب کیلئے تشریف لاتے ہیں۔۔۔ حضرت مولانا مجاہد عباس صاحب۔۔۔۔

مولانا مجاہد عباس صاحب اسٹیج پر موجود نشست پر براجمان ہوئے، خطبہ مسنونہ اور چند اشعار کے بعد اپنی گفتگو کا آغاز فرمایا۔ جس میں سرزمین افغانستان میں امریکہ کی عبرتناک شکست، کشمیر میں مجاہدین کے تازہ معرکوں سے بھارت کی بوکھلاہٹ اور ان کے ایوانوں میں مچی کھلبلی پر ایک نظر ڈالتے ہوئے شہداء کرام کے ایمان افروز حالات و کرامات اور ان کے والہانہ تذکرے سے ہر آنکھ کو اشکبار کردیا۔آخر میں جماعت کی مختصر کارگزاری عرض کرکے حضرت امیر محترم کو اس عظیم خدمت کی تکمیل پر خراج تحسین پیش کیا اور فرمایا فتوحات کے اس موسم بہار میں حضرت امیر صاحب نے اس موضوع پر کتاب لکھ کر اس بات کی طرف متوجہ کیا ہے کہ مجاہدین فتوحات کے نشے اور گھمنڈ کا شکار ہونے کی بجائے توبہ و استغفار کی طرف رجوع کریں۔ آپ کے  بیان کے اختتام کے ساتھ ہی پروگرام کو نماز عشاء کیلئے موقوف کر دیا گیا۔

نماز عشاء کی ادائیگی کے متصل بعد اجتماع کی دوسری نشست کا آغاز کیا گیا، نعت و نظم کے مختصر سلسلے کے بعد نقیب محفل نے حضرت امیر المجاہدین کے برادر صغیر، صاحب القلم السیف، گفتار و کردار کے غازی حضرت مولانا طلحہ السیف صاحب کو دعوتِ سخن دی۔ شاندار نعروں سے آپ کا استقبال کیا گیا۔

آپ نے خطبہ مسنونہ کے بعد اس مبارک اجتماع میں شرکت پر اور ’’الیٰ مغفرۃ‘‘جیسی عظیم نعمت کے حضور رب تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور شرکاء سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا:

’’ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو آسمانوں سے زمین پر نازل فرمایا تاکہ زمین پر پھیلے دیگر تمام ادیان، مذاہب اور نظاموں پر قرآن اور اسلام کا نظام غالب آجائے یہاں تک کہ اگر کوئی کافر اپنے کفر پر زندہ رہنا چاہے تو ’’حتی یعطوا الجزیۃ عن ید وھم صاغرون‘‘ اپنی ہر ہر سانس کا جزیہ و ٹیکس مسلمانوں کو ادا کرکے ذلت و رسوائی کی زندگی بسر کرے۔

اب اللہ تعالیٰ نے اس دستور و قانون کے دنیا میں عملی نفاذ کیلئے کچھ افراد پر اپنی محبت کی خاص نظر ڈالتے ہوئے اس عظیم مقصد کی تکمیل کیلئے منتخب فرمادیا پھر اس جماعت کے کچھ افراد تو ’’فمنھم من قضٰی نحبہ‘‘ کا مصداق بن کر دشمنانِ دین سے جا ٹکرائے اور کچھ ’’فمنھم من ینتظر‘‘ میں اپنے برسرپیشکار ساتھیوں کے پیغام کو امت کے دیگر افراد تک پہنچاتے ہیں۔ ان کے مشن و کاز کو زندہ رکھتے ہیں اور ’’وما بدلوا تبدیلاً‘‘ اللہ سے کئے عہد کو پورا کرتے ہیں اور ہاں! جس نے اللہ سے کئے عہد کو پورا کردیا، اپنے عہد سے نہ ہٹا، اپنا نظریہ، سوچ اور فکر کو نہ بدلا تو وہ لیلائے شہادت کی آغوش کی شہادت میں چلا جائے تب بھی کامیاب اور دنیا میں رہے تب بھی کامیاب۔۔۔۔

آپ نے مزید فرمایا! بھائیو! یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم سب بہت ناتواں و کمزور ہیں، ہم سے سرزد ہونے والے گناہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے بہت دور لے جاتے ہیں، ہماری منزل کے فاصلوں میں اضافہ پیدا کردیتے ہیں لیکن مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، اللہ نے اہل ایمان کے لئے راستہ واضح فرمادیا ہے کہ اے ایمان والو! کبھی افراد کی قلت ہوگی۔۔۔۔ کبھی مال کی کمی ہوگی۔۔۔ کبھی اسباب تھوڑے ہوں گے۔۔۔ کبھی بدر جیسے حالات آئیں گے۔۔۔ کبھی احد جیسے دل دہلا دینے والے لمحات کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔۔ کبھی خندق، احزاب، فتح مکہ اور تبوک جیسے مراحل سے گزرنا ہوگا، ایسے وقت میں شیطان طرح طرح کے خیالات و وساوس کے جال تمہارے ذہنوں کے گرد تنے گا، تم کمزور ہو، اب تمہارے بس کی بات نہیں، اس لئے گھروں کو واپس پلٹ جائو، تب جذبات ٹھنڈے پڑنے لگے گے۔۔۔ طبیعت میں کمزوری آئے گی۔۔۔ ایمان، ضعف اور وہن کا شکار ہونے لگے گا تو رب نے فرمایا! میرے بندو! ایسے حالات میں دل برداشتہ مت ہونا۔۔۔ لڑکھڑا کر راستہ مت بدل دینا۔۔۔ بلکہ میرے حضور کھڑے ہوکر کہنا ۔۔۔ ربنا اغفرلنا ذنوبنا واسرافنا۔۔۔ ربا ہم سے غلطی ہوگئی۔۔۔ یہ سارے حالات ہمارے گناہوں اور بداعمالیوں کی وجہ سے ہیں۔ ہم جھولی پھیلا کر تیرے سامنے معافی مانگتے ہیں ہمیں بخش دے۔۔۔

اور ہاں دیکھو! احد والوں نے رب سے معافی مانگی، رب نے صرف 5 سالوں میں احد کی شکست کو فتح مکہ سے بدل دیا، اگر آج بھی مسلمان اس طریقہ پر رہیں تو رب کا وعدہ  ’’وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین‘‘ اپنی حقانیت کا نظارہ دکھانے کیلئے بے تاب ہے۔۔۔

آپ نے فرمایا! بھائیو آج احد کی حالت ہے، امت مسلمہ زخموں سے چور چور ہے۔۔۔۔ جہاد کے نام لیوائوں کے گرد شکنجہ کسا جارہا ہے، یہ سب ہمارے اعمال کی وجہ سے ہے۔ آئو آج سے ہم سب اپنے رب سے معافی مانگیں۔۔۔ توبہ کریں۔۔۔ اپنے گناہوں پر روئیں اور استغفار کریں۔ قبل اس کے کہ آپ بیان ختم فرماتے آپ نے ’’الیٰ مغفرۃ‘‘ کی رونمائی کیلئے حضرت مفتی عبدالرئوف صاحب کو اسٹیج پر آمد کی دعوت دی اور وہ لمحہ آن پہنچا جس کیلئے آج کی یہ خوبصورت محفل سجائی گئی تھی، جن ساعات کا ہر ایک کو شدت سے انتظار تھا۔۔۔ جس منظر کا نظارہ کرنے کیلئے آنکھیں مچل رہی تھی۔۔۔ مفتی صاحب تشریف لائے اور اہل ایمان کے تلاطم خیز جذبات اور فلک بوس نعروں کی گونج میں ’’الیٰ مغفرۃ‘‘ کا نسخہ اسٹیج پر موجود علماء کرام اور قائدین جماعت کی خدمت میں پیش کیا، دوران تقریب مولانا طلحہ السیف صاحب نے اجتماع میں شریک ہر فرد سے عہد لیا کہ وہ اس کتاب کو حاصل کرکے اس کا پورا مطالعے کرے گا، اسے دیگر افراد تک پہنچانے کی محنت کرے گا اور گھر میں یومیہ اس کی تعلیم کا معمول بنائے گا۔

حضرت مولانا طلحہ السیف صاحب کے بیان اور کتاب کی رونمائی کے بعد ترانۂ جیش محمدؐ پیش کرنے کے لئے قاری محمد فیاض الرحمن کو دعوت دی گئی، جنہوں نے نہایت ہی پُرسرور اور دلکش آواز میں ان اشعار کے ساتھ ایک سماں باندھ دیا:

ہم جیش محمد ہیں دنیا کو بتادیں گے

ہر ظالم و جابر کے ہوش اڑا دیں گے

نقیب محفل نے حضرت امیر محترم کی خدمت میں درج ذیل اشعار پیش کئے:

ہم تیری یاد سے اب بھی کلام کرتے ہیں

دل کی دھڑکنوں کو تیرے نام کرتے ہیں

نہ جانے کس طرح کرتا تھا تو مسیحائی

زمانہ آج بھی تجھ کو سلام کرتا ہے

انہی اشعار کے ساتھ آپ نے آج کے پررونق اجتماع کے روح رواں حضرت امیر المجاہدین کے برادر صغیر، جیش محمدﷺ کے عظیم قائد حضرت مفتی عبدالرئوف اصغر صاحب کو نہایت ہی پرجوش الفاظ و القاب کے ساتھ دعوت خطاب دی، پورا مجمع جذبات سے بے قابو ہوکر اٹھ کھڑا ہوا اور فلک شگاف نعروں سے دیر تک امت کے ایک عظیم اور بے باک قائد کا استقبال کرتا رہا۔۔۔۔۔

حضرت مفتی صاحب نے خطبہ مسنونہ کے بعد ان اشعار سے آغاز سخن فرمایا:

سامان تجارت میری پہچان نہیں ہے

ہر در پہ جھکے سر یہ میری شان نہیں ہے

ہم نے تو بنائے ہیں سمندر میں بھی رستے

یوں ہم کو مٹانا کوئی آسان نہیں ہے

حضرت مفتی صاحب نے سب سے پہلے تشریف لانے والے معزز مہمانوں اور شرکاء کو خوش آمدید کہا، حضرت امیر محترم کو اس عظیم دینی کاوش پر دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کیا اور مبارک باد دی اور توبہ و استغفار کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:

آج ہر طرف بداعمالیوں کا دور دورہ ہے، گناہوں کی کثافتوں سے زمین آلودہ اور متعفن ہوچکی ہے، پہاڑوں سے بڑے گناہ دل کھول کر برسر عام کئے جارہے ہیں۔ دوستو! آج ضرورت ہے توبہ اور استغفار کی، اپنے گناہوں پر سچے دل سے ندامت کرنے کی۔۔۔ آئو استغفار کے ذریعے اپنے رب کو منالو اور توبہ و استغفار کے توشے کے ساتھ ساتھ استقامت، ثابت قدمی اور جہد مسلسل سے جہاد اور جماعت کے ساتھ مخلص ہوکر وفاداری کا حق ادا کرو۔

آپ نے نپے تلے آواز میں دعوت جہاد۔۔۔ تحریض علی القتال۔۔۔ قیدیوں کا درد۔۔۔ مقبوضہ خطوں کی آزادی اور کشمیر میں جیش محمد کے تازہ معرکوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب انڈیا کی پارلیمنٹ پر اسلام کا پرچم لہرائے گا اور ہندوستان کے حکمران ہمارے آقا ﷺ کی پیشنگوئی کے مطابق زنجیروں میں جکڑے ہمارے قدموں میں ہونگے۔ آپ نے آخر میں اُمت مسلمہ پر ٹوٹنے والی خونچکاں داستانوں کو چھیڑا اور خاک و خون اور بھوک و افلاس کے سائے میں بھٹکتے برما کے مقہور مسلمانوں پر بیتنے والے لرزہ خیز حالات کا تذکرہ کرکے ہر آنکھ کو آنسوؤں سے تر کردیا۔۔۔۔

مفتی صاحب نے کھڑے ہوکر تمام ساتھیوں سے لبیک اللّٰھم لبیک اور لا الہ الا اللہ کے کلمات کے ورد کے ساتھ ساتھ تحفظ حرمین شریفین کی حفاظت کی خاطر تن من دھن قربان کرنے کا عہد لیا اور آپ ہی کی رقت انگیز اور پرتاثیر دعا سے مبارک اجتماع اختتام پذیر ہوا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online