Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

تحریک طالبان کا آغاز (مولانا محمد مقصود شہیدؒ)

تحریک طالبان کا آغاز

مولانا محمد مقصود شہیدؒ (شمارہ 506)

ملا محمد عمر مجاہد کا وہ شوق جنوں پرور اور جہد مسلسل کیسی تھی، جس نے تحریک طالبان کو جنم دیا؟ آئیے ابتدائی دنوں کی یہ کہانی خود انہیں کی زبانی سنتے ہیں۔ تحریک کے آغاز کی یہ داستان انہوں نے خود ۴ اپریل ۱۹۹۶؁ء کو قندھار میں افغان علماء کے ایک بہت بڑے مجمعے کو سنائی تھی:

’’ تحریک کا آغاز اس طرح ہوا کہ ایک دن میں مدرسے میں طلبہ کے درمیان بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا۔ اچانک میں نے کتاب بند کر دی، اپنے ساتھ ایک اور طالبعلم کو لیا اور ہم دونوں مدرسے سے نکل آئے۔ ہم سنگ حصار سے زنگاوات آ گئے۔ وہاں ہم نے ایک شخص سے موٹر سائیکل مانگی۔اس شخص کا نام سرور تھا اور وہ طالقان کا رہنے والا تھا۔ پھر میں نے اپنے دوست کو اپنے ساتھ موٹر سائیکل پر بٹھایا اور اسے بتایا کہ ہم مختلف مدارس کے طلبہ کے پاس جائیں گے۔چنانچہ شام کو ہم ترخو آ گئے، اس دوران میں نے اپنے رفیق سفر سے کہا کہ ہم گھومتے رہیں گے اور یہ راستے یاد رکھو کہ ان شاء اللہ ایک انقلاب اور تبدیلی ضررو آئے گی۔ اگلی صبح ہم پھر موٹر سائیکل پر سوار ہوئے اور ایک مدرسے میں جا پہنچے،جہاں چودہ طالب علم سبق پڑھ رہے تھے۔ ہم نے ان سب کو جمع کیا اور ان سے بات کی کہ آپ لوگ توکل محض کو ذہن سے نہ نکالیں۔ میں نے انہیں کہا کہ دیکھیں اللہ کا دین پامال ہو رہا ہے اور کچھ لوگوں نے ایسا بنا دیا ہے کہ دوسرے لوگ بھی برباد ہو رہے ہیں، برے بنتے جا رہے ہیں، ایک مخصوص طریقے سے مسلمان تباہ کیے جا رہے ہیں۔ یہ لوگ دوسرے مسلمانوں کو بھی فسق و فجور کا عادی بنا رہے ہیں اور اور فسق کا عام کر کے جاری رکھنا چاہتے ہیں،بدمعاش اور بدقماش لوگ تمام علاقوں پر قابض ہو چکے ہیں، راہزنی اور لوٹ مار جاری ہے، ہر راستے پر لوگوں کی عزتیں لوٹی جا رہی ہیں، لوگوں سے مال زبردستی چھین لیا جاتا ہے اور قتل ہو رہے ہیں۔ میں نے ان طلبہ سے کہا کہ ظلم و ستم کے ایسے ماحول میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ اس انداز سے یا زندہ باد، مردہ باد کے نعروں سے یہ مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ہم آپ سے یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ دین کا علم واقعی اللہ کی رضا کے لئے حاصل کر رہے ہیں تو اللہ کی رضاء ہی کے لئے اب آپ کو یہ سلسلہ چھوڑنا ہو گا اور اب یہ تعلیم جاری نہیں رہے گی۔ میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ ہم سے کسی نے پیسے کا وعدہ نہیں کیا ہے، ہم اپنے وطن کے مسلمانوں سے روٹی مانگیں گے،معلوم نہیں وہ روٹی دیں گے بھی یا نہیں؟ ہمیں پھر پڑھنے کا موقع بھی نہیں ملے گا کیونکہ یہ کام ایک دن یا ہفتے کا نہیں اور نہ مہینے یا سال کا ہے۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ تبدیلی کسی کے بس کی بات بھی ہے یا نہیں؟ میں نے ان طلبہ کو غیرت اور حوصلہ دلانے کے لئے بھی یہ کہا کہ جب یہ فاسق اور فاجر لوگ اس شدید گرمی میں ان گرم پتھروں پر بیٹھ کر اللہ کی نافرمانی اور اللہ کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں اور کھلے عام یہ کام کر رہے ہیں تو پھر ہم اور آپ تو اپنے آپ کو اللہ والے اور دین والے کہتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہم دین کی خدمت کرنا چاہتے ہیں  تو اعلانیہ نہیں کر سکتے۔ آپ لوگ اتنی غفلت نہ برتیں اور اتنی بے حمیتی کا مظاہرہ نہ کریں۔ پھر میں نے اپنے منصوبے کو ذرا مزید مشکل انداز میں پیش کرتے ہوئے ان طلبہ سے کہا کہ اگر ہم نے کسی جگہ پر قبضہ کر لیا تو وہاں بیٹھے رہیں گے لیکن یہ گلے شکوے نہیں شروع کر دی گے کہ جی ہماری تعلیم نہیں ہے، ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں ،اسلحہ نہیں ہے یا روٹی نہیں ہے۔ ان سب باتوں کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ بتائیے آپ لوگ یہ کام کر سکتے ہیں؟ یا نہیں؟ …

اللہ کی قسم! ان چودہ طلبہ میں سے ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں یا کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ان سب نے مجھے یہی کہا کہ اگر جمعہ کی رات ( جب مدارس میں چھٹی ہوتی ہے) آپ کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو ہم ساتھ دے سکتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جمعہ کے بعد یہ کام کون کرے گا؟ اللہ گواہ ہے بات بالکل اسی طرح ہی ہے۔ اگر یہ کام ہم اسلحہ یا دوسرے وسائل کے بھروسے پر کرنا چاہتے تو دوسرے مدارس کے طلبہ  کو بھی انہی کی طرح سمجھا کر واپس سیدھا اپنے مدرسہ میں آ جاتے، لیکن میں نے اللہ کے ساتھ عہد کیا تھا اور محض توکل اختیار کیا تھا، لہذا میں نے اپنے عہد کو پورا کیا۔ یہ سب توکل کی برکت ہے، اللہ تعالیٰ نے میری مدد فرمائی اور میرے ساتھ وہ معاملہ کیا جو آپ لوگ دیکھ رہے ہیں۔ بہرحال ان طلبہ سے رخصت ہو کر ہم دوسرے مدرسہ میں آ گئے۔ وہاں کے طلبہ سے بھی ہم انے اسی انداز میں بات کی، بلکہ ان کے سامنے کام کو مزید مشکل بنا کر پیش کیا اور انہیں باور کرایا کہ یہ کام آسان نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہاں کے سب طلبہ نے جو پانچ یا ساتھ تھے اپنے نام میرے پاس لکھوائے اور میرا ساتھ دینے کے لئے تیار ہو گئے۔ یہ اور پہلے مدرسے کے طلبہ سب ایک ہی امت اور قوم سے تعلق رکھتے تھے اور ایک ہی علاقے میں رہتے تھے۔ یہ نہیں تھا کہ یہ کسی دوسری امت کے تھے اور وہ دوسری امت کے۔ یہ بھی نہیں تھا کہ یہ مولوی تھے اور وہ جاہل، ایسا بھی نہیں تھا کہ یہ مرد تھے اور وہ عورتیں ،یہ سفید ریش تھے اور وہ بچے۔ ابتداء ہی میں یہ عجیب حکمت تھی کہ مجھے ایک زبردست آزمائش سے گزرنا پڑا۔ یہی نقطہ آغاز تھا اور یہیں سے ہم نے تحریک شروع کی۔ ہم اسی طرح موٹر سائیکل پر گھومتے رہے اور حتی کہ عصر تک ہم نے ۵۳ افراد کو اپنے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار کر لیا۔ صرف توکل کرنے والے افراد۔

میں نے ان سب سے کہا کہ آپ لوگ صبح سویرے ہمارے پاس آ جائیں اور پھر میں اپنے ٹھکانے پر چلا آیا۔ لیکن وہ سب طلبہ رات ہی کو ایک بجے ہمارے محلے میں آ گئے۔ حالانکہ ابھی چوبیس گھنٹے بھی پورے نہیں ہوئے تھے۔ ہمارے ایک مولانا صاحب صبح سویرے مسجد میں گئے تو دیکھا وہاں سب طلبہ پہنچے ہوئے ہیں۔ اسی دن صبح دس بجے ہم اپنے ساتھ دو ڈرائیور بھی لے آئے۔ پھر ہم نے اپنا ایک آدمی حاجی بشر نامی شخص کے پاس بھیجا اور اسے دو گاڑیاں مانگیں۔ اس نے گاڑیاں فراہم کر دیں۔ پھر ہم اپنے ان ساتھیوں کو ’’کشک نخود‘‘ لے آئے۔ کچھ اور افراد بھی ہمارے ساتھ ہو گئے، جب تعداد بڑھی تو ہم نے اپنے ٹھکانے سے پانچ میل کے فاصلے پر اسلحہ اکھٹا کیا اور کام شروع کر دیا۔‘‘

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online