Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ملا اختر منصور شہیدؒ کے وقتاً فوقتاً جاری کیے گئےبیانات و احکامات

 ملا اختر منصور شہیدؒ کے وقتاً فوقتاً جاری کیے گئےبیانات و احکامات

ترتیب:محمد جواد

امارت اسلامیہ افغانستان کے مجاہدین کو جاری کی گئی ایک نصیحت…

امیر المومنین ملا اختر محمد منصوردامت برکاتہم العالیہ

امارت اسلامیہ کے مجاہدین کا لائحہ جو کہ شریعت مطہرہ کی روشنی میں بنایا گیا ہے اور مجاہدین کوتمام مسائل کے متعلق وضاحت دے دی گئی ہے تو ضروری ہے کہ اس کی اہمیت کو سمجھ لیں، اور پوری دقت اور توجہ کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوں۔

ہماری طرف سے بہی آپ کو نصیحت ہے کہ پورے شوق و اخلاص کے ساتھ اس میں شرکت کریں۔ علمائے کرام اور مشائخ کے دراسات اور وعظ پر توجہ دیں۔ان کی گفتگو ، نصائح، ہدایات اور اہم شرعی مسائل کو ممکن حد تک یاد کر لیں ، خود اس پر عمل پیرا رہیں اور دوسرے مجاہدبہائیوں تک پہنچائیں تاکہ ہمارا مقدس جہاد اسلامی شعار کے مطابق اورسوفیصد شریعت مطہرہ کی حدود کا پابند رہیاور جہادی صفوف میں کوئی بھی عمل خلاف شریعت نظر نہ آئے۔

مجاہدین بہائیو!آپ کو بخوبی علم ہے کہ جہاد ایک عبادت ہے اور ہر عبادت میں اجر و ثواب مرتب کیا جاتا ہے تووہ نیت کیمطابق ہی کیا جاتا ہے۔تو اگر ہم چاہیں کہ ہمارا جہاد واقعی فی سبیل اللہ بن جائے ، دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نصرت ملے اور آخرت میں عظیم الشان درجات حاصل ہوں تو ہمیں چاہیے کہ ہر چیز سے پہلے اپنی نیتوں کی اصلاح کر لیں۔ہماری نیتوں سے تمام مادی،دنیوی اغراض جیسا کہ منصب ، شہرت،رعب و دبدبہ، حکمرانی کی آرزواور اسی طرح اور مقاصد نکل جانا چاہیے۔ بلکہ ہمارا ہدف صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور الہٰی نظام کی حاکمیت ہونی چاہیے۔نیت کی اصلاح کے بعد جب عملاًمحاذ پر جائیں اور جہاد شروع کریں تو اس بات پر توجہ رکھیں کہ ہر عمل شریعت اور فقہ حنفی کی حدود میں سرانجام دیں۔

الحمد للہ شریعت نے ہمارے لیے سب کچھ واضح کردیا ہے۔ہر کسی کے ساتھ تعامل کا شرعی طریقہ معلوم ہے۔ہم جو کہتے ہیں کہ ہمارے جہاد کا اصل مقصد اعلائے کلمۃ اللہ ہے۔تو سب سے پہلے ضروری ہے کہ سب سے پہلے خود پریہ قاعدہ نافذ کریں۔ہر عمل میں شریعت کے حکم کو مدنظر رکہیں۔جہاد میں شخصی اجتہاد، شخصی مزاجوں یا افراط و تفریط کو شامل نہ ہونے دیں۔بلکہ صرف اور صرف شریعت کے تابع رہیں۔اس بات پر بھرپور عقیدہ رکہیں کہ شریعت ہمیں جو حکم دیتی ہے ، اسی میں ہماری خیر ہے اگرچہ ظاہراً کسی کے مزاج پر بہاری گزرے۔

جہادی امور میں شریعت پر التزام ، اللہ تعالیٰ کا ڈر اور تقویٰ کو اپنا شعار بنا لیں۔تقویٰ ہی وہ صفت ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں انسانوں کے عزت کا معیار ٹھہرایا گیا ہے۔ جوجتنامتقی ہوگااللہ تعالیٰ کے ہاں عزت مندہوگا۔امراکی اطاعت، ماتحت دوستوں کے ساتھ شفقت، بڑی عمر والوںکا ادب و احترام، عام لوگوں کے ساتھ اچھا رویہ ، باہمی بھائی چارہ، ایثار، خدمت ، تواضع، حلم ، عفو، امانت داری،حسن تعامل ، اخلاق حسنہ اور مزید اچھی عادات سے ہر مجاہد بہائی خود کو مزین کرے۔

تاکہ مجاہد عام لوگوں کے لیے ایک نمونہ اور مثال رہے اورلوگ اس کی پیروی کریں اور اسی کی عالی شخصیت اور اخلاق حسنہ کی برکت سیلوگ اسلام اور جہاد کی طرف مائل ہوں۔اللہ تعالیٰ کے وہ بندے اور عام مسلمان جو ہمارے زیر حکومت علاقوں میں زندگی گزار رہے ہیں، ہمارے اداروں کی طرف رجوع کرتے ہیں یا ان کے ساتھ ہمارا کوئی تعامل آتا ہے۔تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ بے آسرا و کمزور لوگ ہمارے پاس امانت ہیں۔ان کو اللہ تعالیٰ نے ہمیں سونپا ہے اور ہم ان پر حاکم ہیں۔یہ ہمارے لیے ایک عظیم آزمائش ہے کہ ہم ان کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں؟اللہ نہ کرے ان کے ساتھ تکبر، غرور، بداخلاقی اور شدت کے ساتھ پیش آئیں تو ہم اللہ تعالیٰ کے قہر کا نشانہ بن جائیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کوئی بھی ظلم برداشت نہیں کر تے،اسی لیے متوجہ رہیں اور نبوی فرمان کے مطابق:

بشروا و لاتنفروا، یسروا و لا تعسروا

خوشی کی بات کرو اور نفرت نہ کرو، آسانی کرو اور سختی مت کرو۔

کے مطابق اپنے مسلمان بہائیوں کے ساتھ اخلاق حسنہ، عاطفت اور نرمی سے بھرپور رویہ اختیار کریں، تاکہ اللہ تعالیٰ بہی ہم سے راضی ہو جائیں اور عام المسلمین کی حمایت بہی حاصل ہو۔

موجودہ حالات کی بابت یہ کہنا ضروری سمجھوں گا کہ الحمد للہ ،اللہ تعالیٰ کے فضل و نصرت کے بدولت امارت اسلامیہ کے مجاہدین پہلے کی نسبت مزید اچھی حالت میں ہیں۔ملک کے مختلف صوبوں میں اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو عظیم فتوحات عطا فرمائی ہیں اور فتوحات کایہ سلسلہ بحمدللہ جاری ہے۔دشمن نے مختلف النوع چالوں کے ذریعے چاہا کہ مجاہدین کو ٹکڑوں میں تقسیم کرے، امارت اسلامیہ کی بنیادوں کو کمزور کرے، اور مجاہدین کے عزم کو کمزور کرے لیکن الحمد للہ دشمن کو اس طرح کی تمام سیاسی اور جنگی چالوں میں شکست کا سامنا کرنا۔

امارت اسلامیہ کی صف ایک صف ہے اور دن بدن اس کی بنیادیں مضبوطی اور استحکام کی جانب گامزن ہیں،اس لیے ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور گزرے لمحات سے سبق سیکھیں اور دشمن کی چالوں کے خلاف مزید چوکنا رہیں۔

گزشتہ سال میں اگر ہمارا کوئی بھائی ناراض ہو گیا ہو یا کچھ وقت کے لیے امارت اسلامیہ سے دور رہا ہو توہرممکن حد تک ہمیں چاہیے کہ اُسے مطمئن کرنے کی کوشش کریں اور ان کو خوش کریں اور امارت اسلامیہ کے صفوف سے جوڑ دیں۔ میں امارت اسلامیہ کے مؤسس اور محبوب رہبر امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی یہ بات ایک بار پھر زندہ کرتا ہوں اور کہتا ہوں ہم کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی یا تضاد نہیں رکھتے۔ہماری دوستی و دشمنی صرف اور صرف مقدس دین اسلام کے اساسوں پر ہے۔جیسا کہ امارت اسلامیہ کے مختلف کمیسون اور مختلف شعبے ہیں تو نظامی مجاہدین اور مسئولین امارت اسلامیہ کے تمام اداروں کے ساتھ تعاون کرتے رہیں۔مجاہدین عسکری آپریشنوں کے ساتھ ساتھ دعوت و ارشاد کے ساتھ بہی بہرپور تعاون کریں۔

معارف کے شعبے میں ملک کے بچوں اور جوانوں کو شریعت کے مطابق دینی اور عصری تعلیم دیں اور اسی طرح تمام کاموں میں حسب استطاعت جہادی امور کے پیشرفت اور بہبود میں حصہ لیں۔

آخر میں ایک بار پھر واضح کر دوں کہ ہمارا راستہ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور نبوی طریقہ کے مطابق ہے، وہی راستہ جس کی زندہ مثال ہمارے لیے امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ نے پیش کی اور ہمارے لیے اُن کابہترین دستور العمل مثال ہے۔اور ہمارا سوائے شریعت کے اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ہمارے مختلف دشمنان امارت اسلامیہ کو بدنام کرنے کے لیے طرح طرح کے پروپیگنڈے کرتے ہیں اور آئندہ بھی طرح طرح کے حربے استعمال کرتے رہیں گے۔ہمیں چاہیے کہ ہم صراط مستقیم پر برابر ، ہوشیار اور چوکنا رہیں۔دشمن کے وسوسوں اور افواہوں کی پرواہ نہ کریں اور صرف اور صرف اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھیں۔

اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ انشاء اللہ آنے والے مہینوں میں اچہی فتوحات دیکہیں گے،گزشتہ سال دشمن کے نقصانات، اُس کی مختلف النوع چالوں اور امارت اسلامیہ کی فتوحات نے دکہا دیا کہ الحمد للہ ،اللہ تعالیٰ کی بہرپور نصرت ہمارے ساتھ ہے۔ہم اسلامی نصرت پر بہرپور عقیدہ رکھتے اور ایمان رکھتے ہیں! ہم شریعت پر پابند اور محکم رہیں تو کوئی دشمن ہم پر غلبہ نہیں پا سکتا۔اور ہم ہمیشہ کامیاب رہیں گے کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَلا تَہِنُوا وَلا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الأَعْلَوْنَ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ ۔آل عمران (139)

پس آئیے الہٰی نصرت کے شامل ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط ایمان و عزم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت میں تجدید عہد کریں۔

اپنی نیتوں کی اصلاح کریں!اور صرف اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر قوی عزم کے ساتھ دشمن پر مزید کاری ضرب لگانے کی تیاری کریں۔آخر میں ایک بار پھر سلام اور نیک تمناؤں کے ساتھ دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمام امت کو درپیش مشکلات سے نکالے اور مجاہدین کو کامیابی نصیب فرمائے۔اللہ تعالیٰ ایک بار پھر پورے ملک میں اسلامی نظام کی بہاریں لائے۔اور مظلوم امت کو اسلامی نظام کے سائے میں آرام ، عزت مند اور پرامن زندگی نصیب فرمائے آمین یا رب العالمین

٭…٭…٭

حضرت ملا اختر محمد منصور شہیدؒ کا مجاہدین اسلام سے کیا گیا ایک وائرلیس خطاب

 2015-10-27  بروز منگل مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے امارت اسلامیہ کے زعیم  امیرالمؤمنین ملا اختر محمد منصور حفظہ اللہ نے ملک کے طول و عرض میں موجود  مجاہدین کو وائرلیس کے ذریعے خطاب فرمایا۔

موصوف نے خطاب کا آغاز حمد و صلوۃ کرتے ہوئے مجاہدین کو مسنون سلام، نیک خواہشات اور حالیہ فتوحات کی مبارک باد پیش کی۔

جناب منصور صاحب نے خطاب کے دوران مجاہدین کے لیے نصرت اور تکالیف جھیلنے کے مقابلے میں خصوصی دعائیں فرمائیں۔ اسی طرح جہادی میدان میں شہید ہونے والے شہداء کے روح ایصال کے لیے  دست بدعا  اور جنگ زدہ افراد کیساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالی کی دربار سے اجرعظیم کی التجاء کی۔

جناب امیرالمؤمنین حفظہ اللہ نے خطاب کے دوران مجاہدین کو عوام کیساتھ اچھے سلوک کی جانب مدعو کیا اور کہا کہ  یہی غیور، مجاہد اور متدین عوام ہیں، جنہوں نے دین کے لیے قربانیاں دی ہیں  اور عوام کا ہم پر حق  اور احسان ہے ، جو  درحقیقت ہماری تمام کامیابیاں انہی مجاہد عوام کے تعاون کا نتیجہ ہے ۔ عوامی عمائدین، بااثر اشخاص، علماء کرام اور قومی رہنماؤں کا احترام کرنا چاہیے۔ ان سے مشورے لینے چاہیے۔

عالی قدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ نے مجاہدین کو بتایا کہ عام المنفعہ تاسیسات (قومی تنصیبات) مثلا آبی ذخائر، مدارس، اسکولز، پل، کلینک وغیرہ کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاناچاہیے ، بلکہ ان کے لیے تحفظ کے لیے کمربستہ رہے۔ جہاں بھی عوام کو فائدہ پہنچے،اسی جگہ کا حفاظت ہونا چاہیے اور ان افراد کا روک تھام کیا جائے، جو اس نوعیت تخریبی اعمال انجام دینے سے مجاہدین کی بدنامی کرنا چاہتا ہے۔

جناب منصور صاحب مجاہدین کو بتاتے ہیں کہ فتوحات اور کامیابیوں کے سلسلے کو جاری رکھے۔ موصوف نے کہا کہ دشمن گھبراہٹ کی حالت میں ہے۔ان کے صفیں درہم برہم ہوچکی ہیں۔ اپنے آپ  پر اعتماد اور حوصلے کو کھوچکے ہیں۔ مجاہدین موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمن پر تابڑتوڑ حملوں میں تیزی لائے، تاکہ جہادی میدان میں مزید فتوحات حاصل اور ملک کو قبضے اور فساد سے نجات ملے۔

انہوں نے مجاہد رہنماؤں اور کمانڈروں کو خصوصی طور پر متنبہ کیا کہ اپنے ماتحت افراد( مجاہدین) کے اعمال پر توجہ دیں ۔ ان کے روزانہ اعمال اور عبادات، عوام کیساتھ سلوک، اخلاق اور تمام امور کی جانب متوجہ ہونے چاہیے ،تاکہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی تمام جہادی امور کو سرانجام دیں۔

امارت اسلامیہ کے زعیم نے خطاب کے آخر میں مجاہدین کو امارت اسلامیہ کے صف کو متحد رکھنے کا اطمینان دلایا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر بجالایا، جس نے امارت اسلامیہ کے صف کو متحد رکھا اور اس بابت دشمن کے پروپیگنڈے من گھڑت ہیں۔ للہ الحمد امارت اسلامیہ کا صف متحد ہے اور اس کے مزید استحکام اور اتحاد کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔

آخر میں امارت اسلامیہ کے زعیم نے مجاہدین کے دعائیں فرمائیں اور مجاہدین سے بھی دعاؤں کا مطالبہ کیا۔

٭…٭…٭

حضرت ملا اختر محمد منصور شہیدؒ کا قندوز کی فتح پر پیغام

حمد و شکر کا مقام ہے کہ آخرکار اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مرحمت سے ملک کے شمال میں اہم صوبے قندوز کا مرکزی شہر پہلا صوبائی مرکز کی حیثیت سے امارت اسلامیہ کے مجاہدین کی ہاتھوں فتح ہوا۔ الحمدللہ و المنۃ

امارت اسلامیہ  افغانستان کے قائد تمام مجاہدین اور مجاہد عوام کو اس عظیم کامیابی کی مبارکباد کہتے ہیں اور  گزارش کرتے ہیں کہ اس عظیم فتح کو اللہ تعالی کی ثناء و صفت ، شکرانے اور عبادات سے منائیں۔

قندوز واقعہ کے متعلق امارت اسلامیہ درج ذیل نکات کو قابل تذکر سمجھتی ہے، جن پر توجہ دی جائے۔

1 : مجاہدین کاروائی کو ختم کرنے اور فوجی تنصیبات کی استحکام کے بعد اپنی تمام تر  توجہ قندوز شہر کے معزز عوام کی جان، مال، املاک اور عزت کی  تحفظ کی جانب مبذول کروائیں۔ اکثر اوقات ایسی جنگی ماحول سے موقع پرست اور لوٹ مار افراد ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مجاہدین کو چوکس رہنا چاہیے اور کسی کو اجازت نہ دے کہ وہ شہریوں کی جان و مال اور یا بیت المال کے عام منافع کو نقصان پہنچائیں۔

2  : قندوز شہر کے باشندے اس بات سے بخوبی  آگاہ رہے کہ ذاتی اموال پر حملہ، جان بوجھ کر اورماورائے عدالت  قتل، لوٹ مار اور یا کسی کی چار دیواری کو پامال کرنے کی امارت اسلامیہ کی ارادہ اور نیت نہیں ہے، بلکہ ایسے اعمال اور انارشی کا سدباب کرتی ہے۔ جو افراد  جنگی حالت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے جرائم کی کوشش کرتاہو، وہ مجاہدین نہیں ہیں۔  شہری ایسے اعمال کی روک تھام اور عاملین کی گرفتاری میں امارت اسلامیہ کے مجاہدین سے تعاون کریں۔

3 : قندوز شہری اپنی جان و مال کی حفاظت کے متعلق تشویش نہ کریں، بے فکر رہے، معمول کے مطابق زندگی کے روزمرہ امور کو جاری رکھے۔ قومی تاجر، کاریگر، ہسپتال، اسکول، میونسپلٹی اور تمام خدمات کے  ارکان امن کی فضا میں اپنے روزمرہ امور کو شروع کریں اور کسی قسم کے خوف اور تشویش کا احساس نہ کریں۔  مجاہدین ان کے بھائی ہیں اور ان کے جان و مال کے تحفظ کے لیے وفادار ہیں۔ مجاہدین کسی کو تکلیف پہنچانے یا  توہین کرنے کی فکر میں نہیں ہے، بلکہ عوام کا سکون اور احترام   ان کا آرزو ہے۔

4 : سرکاری اداروں سے منسلک  وہ آفسرز یا سیکورٹی اہلکار جو بعض جنگی محاذوں میں لڑنے کا ارادہ رکھتا ہو اور یا انتقام کی خوف سے چھپے ہوئے ہیں، ان کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ  امارت اسلامیہ کے مجاہدین اس بارے میں دشمن کے پروپیگنڈے اور بدگمانی کو نظرانداز کرتی ہے۔

مجاہدین کو انتقام لینے کا فکر  نہیں ہے، بلکہ عام معافی کا پیغام ساتھ لایا ہے۔ ماضی میں جب وہ مجاہدین کے ٹارگٹ تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ استعمار اور مزدور رژیم کے صف میں عملی طور پر کھڑے تھے۔ اب اگر وہ اس کردار سے منصرف ہوتے ہیں، مخالف صف سے اپنا رابطہ منقطع کرتا ہے، امارت اسلامیہ کے عام معافی کے دروازے ان کے سامنے کھلے ہیں۔ وہ اطمینان سے دعوت و ارشاد پروگرام کے ذریعے مجاہدین سے رابطہ کرسکتے ہیں  ، تاکہ  اپنے جان و مال کا حفاظت کریں۔

5: یہ فتوحات اللہ تعالی کی نصرت اور مجاہد عوام کی قربانیوں کا نتیجہ ہے، لہذا کابل انتظامیہ کے عہدیدار جرائت سے اپنی شکست مان لے۔ مجاہدین کی کامیابیوں کو اجنبی خفیہ اداروں سے منسوب نہ کریں  اور نہ ہی اپنی شکست کا انتقام آندھی فضائی حملوں اور توپوں کے ذریعے عوام سے لے اور مجاہدین کی پیش قدمی کو ایک تلخ حقیقت کے طور پر تسلیم کرلے اور اپنے مستقبل اور ملک بھر کی مصلحت کا فکرآرام سے  کریں۔ اب وہ وقت گزر چکا ہے کہ  عوام کے اذہان کو دوستم کے ببانگ دہل دعوؤں، اشرف غنی کے ورغلانے والے  وعدوں  اور مغربی ذرائع ابلاغ کے  پروپیگنڈوں سے اغفال کریں۔

والسلام

خادم اسلام امیرالمؤمنین ملا اختر محمد منصور حفظہ اللہ

14/ ذی الحجہ 1436ھ بمطابق 28/ ستمبر 2015

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor