Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

ملا اختر محمد منصور شہیدؒ کا ایک پیغام…ایمانی غیرت و بصیرت کا اعلی نمونہ

ملا اختر محمد منصور شہیدؒ کا ایک پیغام…ایمانی غیرت و بصیرت کا اعلی نمونہ

ملاقات……محمد فیض اللہ جاوید

امارت اسلامیہ افغانستان کے امیر المؤمنین حضرت ملا اختر محمدمنصور شہیدؒ جہاد افغانستان کے ایک عظیم کمانڈر اور بے حد قد آور شخصیت تھے۔ گزشتہ سال عید الاضحی کے موقع پر آپ نے تفصیلی بیان جاری فرمایا تھا۔ جو ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ افادہ قارئین کے لئے پیش خدمت ہے:

بِسْمِ للّٰہِ لرَّحْمٰنِ لرَّحِیمِ

اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لَا إلَہَ إلَّا اللَّہُ وَاَللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ

  إنَّ الْحَمْدَ لِلَّہِ, نَحْمَدُہُ ونَسْتَعِینُہُ وَنَسْتَغْفِرُہُ وَنَعُوذُ بِاللَّہِ مِنْ شُرُورِأَنْفُسِنَا وَسَیِّئَاتِ أَعْمَالِنَا, فَمَنْ یَہْدِہِ اللَّہُ فَلاَ مُضِلَّ لَہُ وَمَنْ یُضْلِلْ فَلاَ ہَادِیَلَہُ, وَأَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لا شَرِیْکَ لَہُ, وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ, إنَّ أصْدَقَ الحَدِیْثِ کِتابٌ اللہِ وخَیْرَ الہَدْیِ ہَدْیُ محمد صلی اللہ علیہ وسلم, وشَرَّ الأُمورِ مُحْدَثاتُہا وَ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ .

اما بعد: قال اللہ تبارک وتعالی: ( یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّہِ جَمِیعًا وَلاَتَفَرَّقُواْ وَاذْکُرُواْ نِعْمَۃَ اللّہِ عَلَیْکُمْ إِذْ کُنتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِہِ إِخْوَانًا وَکُنتُمْ عَلَیَ شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَکُم مِّنْہَا کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللّہُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُونَ )  ال عمران.

افغانستان کے مسلمان عوام ، جہاد کے محاذ پر سرگرم عمل مجاہدین اور پوری امت مسلمہ کو عیدالاضحی کی مناسبت سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ ان مبارک ایام میں مسلمانوں کی قربانیاں ، صدقات ، عبادات اور حج کے مناسک قبول فرمائے۔ خصوصا مکہ مکرمہ مسجد الحرام میں کرین کے گرنے کے المناک حادثے میں شہید ہونے والے تمام حجاج کرام کی شہادتیں قبول فرمائے اور زخمیوں کو شفاء کاملہ عاجلہ عطا فرمائے ۔

ــ امارت اسلامیہ کے مؤسس اور محترم سربراہ امیرالمومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی رحلت پر تمام مسلمانوں سے تعزیت کرتاہوں اور جس نے بھی اس عظیم سانحے پر ہم سے ہمدردی کا اظہار کیا اور امارت اسلامیہ کو متحد رکھنے میں ہم سے تعاون کیا میں ان سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ اللہ تعالی سب کو اجر عظیم عطا فرمائے ۔ عالیقدر امیرالمومنین رحمۃ اللہ علیہ کے لیے اللہ تعالی سے مغفرت اور رحمت کی امید رکھتا ہوں ۔ اللہ تعالی ان کی عظیم جہادی خدمات اور اس مقدس راہ میں ان کی تمام تکالیف اور صعوبتیں قبول فرمائے اور اعلی درجات نصیب فرمائے ۔ ان کے قابل قدر خاندان کو اللہ تعالی صبر جمیل اور اچھا بدلہ عطا فرمائے ۔ آمین یارب العالمین۔

ــ میں چاہتاہوں اس عظیم دینی مناسبت اور فرصت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان کے حالیہ جہادی اور سیاسی واقعات کے حوالے سے امارت اسلامیہ کے موقف کی وضاحت کردوں۔

مسلمان بھائیو!

14 سال سے افغانستان میں امریکا کی قیادت میں جارحیت پسندوں کے خلاف افغانستان کے مسلمان عوام کا جہاد  ایک جہادی قیادت کے تحت جاری ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ ان شدید حالات میں ملا محمد عمر مجاہد کی قیادت اور رہنمائی ، ان کا خلوص ، مضبوط عزم اور ان کا خاص روحانی مقام ہی اس اتحاد کی وجہ تھی۔ یہ انہیں کا کارنامہ تھا کہ امارت اسلامیہ کے عسکری ، سیاسی ، ثقافتی ، انتظامی اور دیگر مختلف معاملات بہت اچھے طریقے سے انہوں نے منظم رکھے اور ان کی رہنمائی کی ۔

ان کے علاوہ امارت اسلامیہ کی رہبری شوری کے ارکان ، بلند رتبہ قائدین ، جہادی کمانڈر ، ذمہ داران ، محاذوں کے مجاہدین اور افغان مجاہد عوام نے انتہائی خلوص ، صداقت ، وفاداری سے ان کا ساتھ دیا اور یوں سب کی مشترکہ محنت سے اللہ تعالی کی نصرت کی بدولت یا روشن کاروان کئی کھٹن منزلوں سے گذرا اور مسلمانوں کی مادی اور روحانی تعاون سے مکمل فتح کی منزل کے قریب پہنچا۔

ابھی جب امارت اسلامیہ کے زعیم کی حیثیت سے میرے کاندھوں پر بھاری بوجھ رکھا گیا ہے ، میں ایک بارپھر تکرار کے ساتھ کہتا ہوں کہ ان مشکل حالات اور حساس وقت میں اللہ تعالی کی نصرت اور ساتھیوں کے تعاون کے بغیر اس ذمہ داری کی انجام دہی اکیلے طورپر ممکن نہیں ہے ۔ اس لیے جس طرح امارت اسلامیہ منسوبین ، ذمہ داران اور مجاہدین سے تعاون اور دعاوں کی درخواست کرتا ہوں (اسی طرح امید کرتا ہوں کہ) تمام ہمدرد علماء کرام ، دانشوروں اور صاحب نظر لوگوں سے میری درخواست ہے کہ امارت اسلامیہ کی صحیح رہنمائی اور عسکری ، سیاسی ، تعلیمی ، تربیتی ، ثقافتی ، اقتصادی اور دیگر اجتماعی معاملات میں مثبت ، معیاری اور موثر خدمات انجام دینے ، منصوبوں کی تشکیل اور ان کو عملی شکل دینے میں مفید مشوروں اور عملی تعاون سے گریز نہیں کریں گے۔ امارت اسلامیہ نہ صرف ایک جہادی اور سیاسی تحریک ہے بلکہ مسلمان عوام کی بیداری ، تربیت اور ہمہ پہلو ترقی کا ضامن ایک نظام ہے ۔ اپنے عوام کی خوشحالی اور ترقی کے لیے اس کا تعاون کرنا چاہیے ۔ اس مشترکہ گھر میں تمام افراد اور طبقات خصوصا عصری اور دینی استعدادوں کے درمیان قربت، ہم آہنگی اور مضبوط تعاون کا رشتہ ہونا چاہیے ۔

میں اپنے تمام مجاہدین اور عوام کو اطمینان دلاتا ہوں کہ اللہ تعالی کی توفیق سے اپنی حد تک شریعت مقدسہ پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا۔ عالیقدر امیرالمومنین رحمہ اللہ کی راہ پر چلوں گا۔ اس صف کو جس طرح ماضی میں متحد تھا اسی طرح متحد رکھوں گا۔ علماء کرام کی اسلامی رہنمائی کی روشنی میں اپنے معاملات کو لے کر آگے بڑھوں گا۔

ــ چونکہ جارحیت کے خلاف ہمارا چودہ سالہ جہاد کامیابی سے ہم کنار ہونے کو ہے ۔ اور دشمن ہر میدان میں شکست کھاچکا ہے ۔ اب وہ اس کوشش میں ہے کہ پروپیگنڈے کے حربے آزما کر مجاہدین کے درمیان بے اتفاقی اور بداعتمادی کی فضا قائم کردے ۔ مجاہدین کی متحد صف میں تقسیم کی بے بنیاد افواہیں با قاعدہ یا بے قاعدہ طورپر پھیلائی جارہی ہیں ۔ عوام اور مجاہدین دشمن کے اس طرح کے پروپیگنڈوں کی طرف باقاعدگی سے متوجہ رہیں ۔ خصوصا وہ ساتھی جنہیں شکوے ہیں انہیں دعوت دیتا ہوں کہ دشمن کے اس طرح کے پروپیگنڈوں اور دیگر شیطانی چالوں کا راستہ روکیں ۔ کیوں کہ امارت اسلامیہ ہمارے اور آپ کی قربانیوں سے چلا ہوا ہم سب کا مشترکہ کاروان ہے ۔ آپ کی اور اس پریشان حال عوام کی عزت اور حیثیت اسی گھر کو متحد رکھنے میں ہے ۔ ان حساس مراحل میں اپنی صف متحد اور متفق رکھیں ۔ اپنے شہداء کے پاکیزہ خون اور ان کی آرزووں کا احترام سب سے زیادہ ضروری ہے ۔

مجاہدین کوچاہیے دشمن کے پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں اور بدگمانی سے بچیں ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

 یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آَمَنُوا اجْتَنِبُوا کَثِیراً مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ .

ترجمہ: اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچو ۔ کیوں کہ بے شک کچھ بدگمانیاں گناہ ہیں۔

مومنوں اور اللہ تعالی کے مکلف بندوں کی حیثیت سے یہ ہمارا فریضہ ہے کہ متحد اور متفق رہیں ۔ قومی ، علاقائی اور لسانی تعصبات سے انتہائی سختی سے خود کو بچائیں۔ اپنے عوام کا زیادہ خیال رہے ۔ اور ان کے سروں پر شفقت کا ہاتھ رکھیں ۔

ــ کابل انتظامیہ ، جارحیت پسند اور کچھ دیگر فسادی عناصر ملک کے مختلف حصوں میں ہمارے مظلوم ہم وطنوں کو مختلف بہانوں سے تشدد اور مظالم کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ عام شہریوں کو دشمن کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ ان سے زندگی کا حق چھین کر ناجائز الزامات لگاکر جیلوں میں ڈالا جارہا ہے ۔ جیلوں میں ان قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے ۔ حتی کہ مظلوم عوام کے بے گناہ قیدیوں کو بے رحمانہ اور وحشیانہ طریقے سے شہید کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح کچھ فسادی عناصر اور مخصوص انٹیلی جنس حلقے مجاہدین کو بدنام کرنے کیلیے بے گناہ لوگوں پر مظالم ڈھاتے ہیں ۔ ہم ان تمام ظالمانہ اقدامات کی نہ صرف شدید مذمت کرتے ہیں بلکہ ایسے جرائم کے مرتکبین کو اسلامی اصولوں کے مطابق سزا دیں گے ۔ انشاء اللہ ۔ اگر مجاہدین کی صف میں کوئی عوامی نقصانات کے حوالے سے بے پروائی کا مظاہرہ کرے یا قصدا ایسا کرے یا قیدیوں کے ساتھ غیر شرعی سلوک کرے ہم فوری طورپر اس کی پوچھ گچ کریں گے اور شریعت مقدسہ کی روشنی میں انہیں سزائیں دیں گے ۔ ہم اپنی صف پاک اور مخلص لوگوں کے ذریعے مضبوط بنانا چاہتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں جو غیر شرعی اعمال کا ارتکاب کرکے مجاہدین کو بدنام کرتے ہیں ۔ اور ایسے لوگوں کا راستہ روکیں گے ۔ انشاء اللہ۔

ــ مجاہدین اس بات کی جانب پوری شدت سے متوجہ رہیں کہ کارروائیوں کے دوران بے گناہ لوگوں کا خون نہ بہے ۔ امارت اسلامیہ اپنے عوام کے تحفظ کا ذمہ دارہے ۔ اور میں امارت اسلامیہ کے امیر کی حیثیت سے کبھی بھی یہ اجازت نہیں دیتا کہ بے احتیاطی کے باعث لوگوں کے جان یا مال کو نقصان پہنچایا جائے ۔

ــ مجاہدین کو کسی بھی معاملے میں اس بات کی اجازت نہیں کہ اپنی طرف سے ایسے احکامات جاری کریں جو شریعت سے متصادم ہوں ، یا ایسی کوئی مصلحت جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہواور تمھارے نفسوں کو اس سے خوشی ملے ۔ ایسا سلوک اپنے ساتھیوں سے آپس میں ہو یا عوام کے ساتھ ۔ حتی کہ دشمن سے بھی ایسا سلوک نہیں کرنا چاہیے جس سے اللہ تعالی کی ناراضگی کا اندیشہ ہو۔ نرمی کی جگہ نرمی اور سختی کی جگہ سختی کریں۔ ہر عمل اسلامی قانون اور نبوی اخلاق کی روشنی میں انجام دیا کریں۔

ــ جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے ۔ ہماری اسلامی حکومت اور قوم پر زیادتی ہوئی ہے ۔ ہماری سرزمین جارحیت کا شکار ہوئی ہے ۔ اس لیے ہر لحاظ سے اور ہر قانون کے مطابق  ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ اپنے عقیدے اور اپنی سرزمین کا دفاع کریں ، آزادی حاصل کریں اور شرعی نظام کی حاکمیت قائم کریں ۔افغانستان کے تمام طبقات کو شامل ایسا شرعی نظام قائم کریں جس کے سائے میں پوری قوم کے حقوق محفوظ ہوں ۔ اور ایک دوسرے کیساتھ محبت اور بھائی چارے کی فضا میں زندگی گذاریں ۔ جو ان کے عزائم کا مظہر ، استقلال اور زمینی آزادی کے لیے دفاعی حصار اور انکے تمام تر شرعی ، جہادی اور قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عالمی دنیا سے دوطرفہ مثبت معاملہ رکھے ۔

ــ جارحیت پسند اور ان کے داخلی معاونین جنہوں نے مجاہدین کے مقابلے میں شدید شکست کھائی ہے اب کوشش کررہے ہیں کہ شمالی علاقوں میں ہماری فتوحات کو شمالی پڑوسیوں کے سامنے خطرہ بناکر پیش کردیں ۔ اور اس طرح سے انہیں اپنا ساتھی بننے پر مجبور کریں ۔ مگر ہمارے پڑوسیوں کے لیے ہماری پالیسی واضح ہے ۔ ہمیں ہمارے دشمنوں کے کرائے ہوئے تعارف سے نہ پہچانا جائے۔

ــ ملک کی نئی نسل کے لیے دینی اور عصری تعلیم بڑی اور اہم ترین ضرورت ہے ۔ میں امارت اسلامیہ کے مجاہدین سے کہتا ہوں کہ اپنے اپنے علاقوں میں دینی اور عصری تعلیم کے لیے حالات سازگار بنائیں اور ان سے تعاون کریں ۔

ملک کا دانشور طبقہ ، دیندار تعلیم یافتہ طبقے ، قومی تاجر اور تمام ہنرمند اور تیکنیکی ماہرین ملک کے مستقبل کے معمار ہیں ۔ مجاہدین ان کے استعداد اور صلاحیت کی قدر کریں گے اور انہیں تحفظ فراہم کریں گے ۔ سب لوگ پورے اطمینان سے کام اور خدمت جاری رکھیں ۔ امارت اسلامیہ تمام عام المنفعت اور ذاتی تاسیسات اور خدمات عوام کا حق اور قومی دولت سمجھتی ہے ۔ اور کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ انہیں نقصان پہنچائیں ۔ بلا کسی مخصوص ایجنڈے کے محض خدمت پر یقین رکھنے والے اداروں اور اہل خیر کی وہ خدمات جو انہوں نے ہمارے عوام کی خیر خواہی اور خوشحالی کے لیے انجام دی ہیں قابل قدر ہیں ۔ کاموں میں سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہم ان سے تعاون کریں گے ۔

ــ ہم افغانستان میں جارحیت پسندوں کی ہر حوالے سے موجودگی افغانستان اور پورے خطے کے خلاف ایک جنگ کو جنم دینے اور اسے طول دینے والا ایک عامل سمجھتے ہیں ۔ کیوں کہ یہ خطے کے تحفظ کے لیے خطرہ اور یقینی نقصان ہے ۔ اس لیے ہر وہ شخص جو افغانستان اور خطے کی خوشحالی اور امن چاہتا ہے وہ افغان عوام کے ساتھ جارحیت کے خاتمے کے لیے  تعاون کرے ۔

ــ امارت اسلامیہ اپنی دیگر سرگرمیوں کے ساتھ سیاسی کوششیں بھی کررہی ہے ۔ اور اس راہ میں عملی اقدامات بھی کرچکی ہے ۔ اور اس مقصد کی خاطر امارت اسلامیہ کا خصوصی سیاسی دفتر بھی ہے جو گذشتہ چند سالوں سے سرگرم عمل ہے ۔ مختلف جہات سے روابط اور مذاکرات کا اختیار انہیں سونپ دیا گیا ہے ۔ سیاسی دفتر نے امارت اسلامیہ کا یہ پیغام ہر کسی کو پہنچادیا ہے کہ ہم پڑوسی ممالک ، خطے اور دنیا کے تمام ممالک خصوصا اسلامی ممالک سے اچھے اور قانونی روابط چاہتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے جنگ زدہ اور دکھی ملک سے جارحیت کے خاتمے میں دنیا کے آزاد ضمیر والے لوگ ہمارا تعاون کریں ۔

ــ ہم مذاکرات کے حوالے سے وقت کے تقاضے کے مطابق وہ پالیسی آگے بنائیں گے جو شریعت مقدسہ کے اصولوں ، جہادی آرزووں اور قومی مفادات کے مطابق ہو۔

امارت اسلامیہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ملک جارحیت کا شکار نہ ہو ۔ افغانوں کی آپس کی مشکلات آپس کی افہام تفہیم کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں ۔ مسئلہ افغانستان کے حل کے بہانے ہر طرح کا بیرونی دباو ، نہ صرف یہ کہ مسئلہ حل نہیں کرسکتا بلکہ مزید مسائل پیداکرنے کا باعث بنتا ہے ۔

کابل انتظامیہ اگر چاہتی ہے کہ ملک میں جنگ کا خاتمہ ہو اور امن قائم ہوجائے تو جارحیت کے مکمل خاتمہ اور جارحیت پسندوں سے ہونے والے تمام معاہدے فسخ کرکے ہی ایسا ممکن ہوگا۔

ــ یہ جو زبانی کلامی مصالحت اور امن کے نعرے لگتے ہیں مگر عملی طورپر جنگ کے محاذ علاقائی ، قومی ، مذہبی اور تنظیمی جھگڑوں سے گرم رکھے جاتے ہیں ۔ خود سر اور بدنام زمانہ جنگجووں کو بے مہار چھوڑ کر انہیں اختیارات اور وسائل دیے جاتے ہیں ، جو مظلوم عوام کو مظالم کا نشانہ بناتے ہیں یہ مصالحت اور امن کا مذاق اڑانے سے زیادہ کچھ نہیں ۔

ــ جارحیت کے سائے تلے مختلف گروپوں کو پیدا کرکے مجاہدین کے خلاف انہیں لڑانا افغانستان میں امریکا کی پراکسی جنگ کو جاری رکھنے کا تازہ ترین حربہ ہے ۔ جو افغانوں سے اپنا انتقام لینے کے لیے شروع کیا گیا۔ مگر ان شاء اللہ افغان مسلمان عوام اپنی وحدت مضبوط کرکے ان کی یہ سازش بھی اسی طرح ناکام بنائیں گے جس طرح امریکا کی دیگر تمام کوششیں ناکام ہوچکی ہیں ۔

ــ افغانوں کو بیدار رہنا چاہیے ۔ جارحیت پسند ممالک کے خفیہ حلقے ہماری قوم کو شعوری طورپر قوم ، قبیلے اور علاقہ پرستی کی بیماری میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں ۔ اور ہمارے  متحدہ ملک کی تقسیم کا راستہ ہموار کرنا چاہتے ہیں ۔ یہاں تک کہ اب ہمارے تاریخی اسلامی ملک کی اسلامی اور افغانی تشخص کو بھی متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی بہترین مثال حالیہ الیکٹرانک تذکرے ہیں ۔

ــ جارحیت پسندوں نے گذشتہ چودہ سالوں میں اربوں ڈالر کے امداد کے اعلان کے باوجود افغانستان میں کوئی ایسا بنیادی کام نہیں کیا جس کے ثمرات ہمیشہ افغانوں کو ملتے رہیں ۔ ہر اسکیم مختصر عرصے کے لیے ، مبہم اور فریب پر مبنی رہی ۔ البتہ فکری تخریب اور آپس کی دشمنی کے لیے زہر پوری طرح پھیلایا گیا ۔

ــ ہم امریکا سے کہتے ہیں کہ ستمبر کے واقعے کے بہانے تم نے افغانستان پر جارحیت کی ۔ آج اسی دن کو چودہ سال گذرے ہیں ۔ افغانستان پر جارحیت کر کے بجائے اس کے کہ تم مزید گیارہ ستمبر کے جیسے واقعات کی روک تھام کرتے آج تمھاری زندگی کا ہر لمحہ دنیا کے ہر کونے میں تمھارے لیے گیارہ ستمبر کا خوفناک حادثہ بن چکا ہے ۔ ہر جگہ تم حملے کا نشانہ ہو اور تمھاری زندگی کو خطرات لاحق ہیں ۔ آپ کو چاہیے کہ اس طرح کے حوادث کی روک تھام اور اپنے تحفظ کی خاطر اپنی استعمارانہ پالیسی پر پھر سے نظرثانی کریں ۔ نہ یہ کہ مزید عوام کو مار کر اور جارحیت کرکے اپنے تحفظ کے خواب دیکھنے لگو۔

ــ امارت اسلامیہ افغانستان اسلامی دنیا اور مسلمانوں کے ساتھ دینی ہمدردی کی بنیاد پر تعلق رکھتی ہے ۔ اور خود کو ان کے غموں میں شریک سمجھتی ہے ۔ اسی لیے فلسطینی عوام کے مطالبات اور دیگر کمزور مسلمانوں کے برحق مطالبات کے لیے ہر وقت آواز اٹھاتی ہے ۔

ــ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ للہ الحمد مجاہدین نے اللہ تعالی کی نصرت سے دشمن کو ہر میدان میں واضح شکست دی ہے ۔ افغانستان کے ہر گوشے میں مجاہدین نے بہت فتوحات حاصل کی ہیں ۔ دشمن کی تمام سازشیں ناکام کردیں ۔ مزید اللہ تعالی کی نصرت کا مستحق بننے کے لیے اپنا جہاد کلمہ الہی کی سربلندی اور اپنے دکھی عوام کی آسودگی اور ان کی خدمت کی نیت سے آگے لے کر چلیں ۔ عوام کے جان ، مال اور انسانی حیثیت کا تحفظ اپنی شرعی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھیں ۔ ان کے ساتھ معاملات کے وقت نرمی ، مہربانی اور ہمدردی سے کام لیں ۔ جہادی سرگرمیوں کی ادائیگی کے لیے عوامی حمایت حاصل کریں۔ عام مسلمانوں کے مسائل علماء کرام اور  قومی وسماجی رہنماوں کے مشورے اور تفاہم سے حل کریں ۔ عوام کے ساتھ حاکم نہیں بلکہ خادم کی حیثیت سے رویہ رکھیں ۔

ــ آخر میں ایک بارپھر افغانستان کے مجاہد عوام ، محاذوں کے مجاہدین ، دشمن کی جیلوں میں اسیر مجاہدین اور پوری امت مسلمہ کو عیدالاضحی کی مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ اللہ تعالی مجاہدین اور تمام مسلمانوں کی تمام وہ قربانیاں اور سرگرمیاں جو اللہ تعالی کی رضا کے لیے انجام دی ہیں قبول فرمائے ۔ اللہ تعالی پوری امت مسلمہ کو دشمن کی ہر طرح کی سازشوں سے محفوظ رکھے ۔ اور اللہ تعالی سب کو توفیق دے کہ عید کے خوشیوں بھرے لمحات میں شہداء ، قیدیوں ، مجاہدین ، مہاجرین اور تمام بے بس اور بے سہارا مسلمانوں کے خاندانوں کو بھی عید کی خوشیوں میں اپنے ساتھ شریک کریں ، اور اپنی بساط کے مطابق ان کی ضروریات پوری کریں ۔

اللہم حبب إلینا الإیمان وزینہ فی قلوبنا وکرہ إلینا الکفر والفسوق والعصیان، واجعلنا من الراشدین، اللہم انصرنا علی أعدائنا وأصلح أمورنا واہدنا لما فیہ الخیر والصلاح فی دیننا ودنیانا. آمین

والسلام

خادم اسلام امیرالمؤمنین ملا اخترمحمد منصور(شہیدرحمہ اللہ)

۸ ذی الحجہ۱۴۳۷؁ھ بمطابق۲۲ ستمبر ۲۰۱۵؁ء

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online