Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

کمسن مگرمثالی جانباز (مفتی محمداصغرخان کشمیری)

548 - Kamsin magar misali janbaz Mufti Asghar Kashmiri

کمسن مگرمثالی جانباز

فتی محمداصغرخان کشمیری (شمارہ 548)

’’الحمدللہ، الحمدللہ ،الحمدللہ، الحمدللہ۔شیخ بہت بہت ،بہت بہت،بہت بہت ،بہت بہت ، مبارک ہو کہ اللہ نے ہمارے پیارے بیٹے کوقبول فرما لیا اور آپ کا بہت بہت،بہت بہت،بہت بہت احسان اور شکریہ کہ آپ لوگوں اور جماعت کے توسط سے ہمارا بیٹا یہاں تک پہنچا۔بیشک ہم اس قابل نہ تھے مگر اللہ نے احسان فرمایا۔سیف اللہ کی شہادت سے جماعت کے کام کا بے شک نقصان ہوا ہو گا مگر آپ پریشان نہ ہونا، اللہ اس کا نعم البدل دے گا،میرے چھوٹے دو شیر محمداوراحمدبھی تیار ہو رہے ہیں اگر چاہیں تو ان کو ابھی سے وصول کر لیں۔‘‘

یہ تما م اور ان جیسی اوربہت سی ایمان افروز باتیں سیف اللہ شہیدکے ابو نے مجھ سے اس وقت برجستہ اور بلاتوقف کہہ ڈالیں جب سیف اللہ کی شہادت کی خبر آنے کے بعدمیں نے حالات و جذبات کا اندازہ لگانے کیلئے ویسے ہی ان کو فون کر دیا۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ ان کو خبر ہو چکی ہے۔والد محترم کا یہ ایمان افروز اور وجد آفریں انداز ملاحظہ کیا ،تو اسے بشری کمزوری کہیں یا کوئی اور نام دیں، ایک لمحے کیلئے بلا اختیار میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ یہ تو والد ہیں اور والد کا دل مشہور ہے کہ ویسے بھی تھوڑامضبوط ہوتا ہے ،خصوصاً جب والد بھی ......والد ہو۔نامعلوم والدہ کا کیا حال ہو گا؟تو میںذہن میں اٹھنے والے اس سوال کو چھپا نہ سکا اور ان سے پوچھ ہی لیا کہ اللہ آپ کے جذبات کو سلامت رکھے مگر امی جان کا کیا حال ہے؟اس پر انہوں نے ادھر کی صورت حال کھول دی تو وھاں میں نے ایمانی جذبات کا وہ سمندر موجزن دیکھا جس نے میری آنکھوں کو خیرہ کر دیا ۔ اس سمندر سے شکرگزاری ،مبارکبادی اور دعائوں کی لہریں اٹھ رہیں تھیں۔

واہ واہ ایمان کی کیا بلندی ہے جسکی چوٹیوں پر یہ لوگ پرواز کررہے ہیں۔یہی مناظر ہم نے بھائی عدیل شہیدــکی شہادت پر ان کے والد ین کے دیکھے تھے، جن کے گھر آنیوالا ہر شخص وہاں پہنچتے ہی یہ بھول جاتا تھا کہ وہ تعزیت کرنے ان کے گھر آیا ہے یا ان کے بیٹے کی شادی میں شرکت کیلئے آیا ہے۔

یہ ایمان کی وہ بہاریں ہیں جن کی سیرابی اس دور میں پھوٹنے والے جہادی چشموں سے ہوئی ہے ورنہ انسانی فطرت تو یہ ہے کہ اسکو اگر یہ خبر ملے کے اس کی پالتو مرغی یا بلی کسی نے مار دی ہے تو اس پر بھی انسان پر تھوڑی دیر کیلئے سکتہ طاری ہو جاتا ہے ۔مگر یہاں تو لخت جگر کے بچھڑ جانے کی خبر ہے مگر سکتہ تو دور کی بات ہے، وہ تو الٹا ہمیں تسلیاں دینے پر اتر آئے، کہ آپ کا پیارا دوست آپ سے بچھڑ گیا ۔ آپ کا اور جماعت کا بہت نقصان ہو گیا مگر پریشان نہ ہونا اللہ مدد کرے گا،اللہ کا کام ہے یہ چلتا رہے گا۔ ان شاء اللہ۔

ایک طرف سیف اللہ شہیدؒ کے والدین کے یہ جذبات رکھیں اور دوسری طرف سیف اللہ کے تین سالہ برق رفتار جہادی کارنامے دیکھیں تو سمجھ آجاتی ہے کہ سیف اللہ کی ننھی جان میں یہ بجلیاں کیسے اور کس نے بھری ہوئیں تھیں۔بیشک ایسی گودوں میں ایسے بچے ہی پلتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ کو ایسی ہزاروں مائیں اور لاکھوں بچے عطا فرمائے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے جب سیف اللہ کے کشمیر جانے کے بعد میں نے پہلا رابطہ ان کے گھر کروایا ،تو اس  کے والدین نے الگ الگ اس کو ایک اور صرف ایک نصیحت کی اور وہ یہ تھی کہ بیٹا شیر بن کے رھنا شیر،ہم نے آج کے دن کیلئے ہی آپ کو پالا تھا اور اب آپ وہاں پہنچ گئے ہو،اب ڈٹ جائو اور دشمن سے گھمسان کی جنگ لڑو اور گولی صرف سینے پر کھانا،پشت پر گولی نہیں لگنی چاہیے ہم محمد اور احمدکو تیار کر رہے ہیں اور آپکے بعد ان کو بھی اسی میدان میں اتاریں گے۔بیٹے نے کہا امی بے فکر رہوان شاء اللہ آپ کا بیٹا پیٹھ نہیں دکھائے گااور سینے پر گولی کھائے گا‘‘۔

 24 مئی کو جب نیٹ پر سیف اللہ کی شہادت کے بعد والی تصویر چڑھی، جس میں سیف اللہ کا سینہ خون شہادت سے سرخ نظرآرہا تھا،تو میں نے کہا واہ سبحان اللہ کیا سچے والدین اور کیا سچا بیٹا تھا۔جی ہاں اُس رات کو سیف اللہ اپنی تاک میں آنے والے پولیس آفیسر کو موت کے گھاٹ اتار کر خود سینے پر گولی کھا کر اونچی پرواز پر روانہ ہو گیا تھا۔

بنا کر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن

 خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

بھائی سیف اللہ 1993ء کو پنجاب کی مردم خیز زمین میں پیدا ہوئے۔ ابھی سوا سال کے تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔یتیمی کی حالت میں پرورش پائی ۔ سکول کی ابتدائی تعلیم کے بعد ہی اصرار شروع کردیا کہ میں جہاد میں جائوں گا مگر گھروالوں نے کم سنی کی وجہ سے اجازت نہ دی اور قرآن پاک حفظ کرنے کا کہا۔ سیف اللہ نے اس وعدہ پر حفظ کرنے کی حامی بھر لی کہ آگے کتابیں پڑھنے کا نہ کہنا بس حفظ کر کے جہاد پر چلا جائوں گا۔ چنانچہ اس نے فیصل آباد کے ایک مشہور مدرسے میں قرآن پاک حفظ کیا اور بعد ازاں 2010؁ء میں جہاد میں شرکت کا پروگرام بنا لیا ۔سعادت مند والدین نے وعدہ پوراکیا، پھولوں کے ہار گلے میں ڈالے اور محبت کے بوسے نچھاورکرکے جہادپرروانہ کردیا۔بھائی سیف اللہ نے جہاد میںشرکت کے لیے لازمی کوائف نہایت خوش اسلوبی سے مکمل کیے اور اس مقصد کے لیے جہاں جہاںاورجن جن شخصیات کے پاس قیام ضروری ہوتا ہے ،ان سب کے ہاںاس والہانہ پن سے قیام کیا…

 اور خدمات سرانجام دیںکہ وہ ان سب کے ہاں دل عزیز بن گئے اور سب ہی سے خوب خوب دعائیںسمیٹیں۔کوائف مکمل ہونے کے بعد2011؁ کے شروع میں کشمیرجانے کی غرض سے وہ ہمارے پاس آئے۔اس وقت وہ صرف 16سال کے بچے تھے۔یعنی انتہائی لاپرواہی ، کھیل تماشے اوراچھل کود والی عمر، مگربھائی سیف اللہ میں اسی عمرمیںانتہاء درجے کی متانت، سنجیدگی ، سمجھداری اور مقصد کی بے انتہاء لگن اپنی آخری حدوں کو چھو رہی تھی اور ان کے ذمے جو مشکل سے مشکل کام لگایاجاتا وہ اسے انتہائی آسانی سے لیتے اور ہنستے مسکراتے مکمل کرکے آ جاتے۔زبان ہر وقت جہادی ترانوں، نعتوںاور تلاوت قرآن کریم کے ترنم سے تررہتی۔ ان کے مرکز میںہوتے ہوئے مرکز کے کسی ناکسی کونے سے ان کی آواز ضرور آرہی ہوتی تھی۔وہ ہروقت ذمہ داروں کے سامنے رہتے ،جہاںدیکھتے ، کوئی ایک یادو ذمہ دار کھڑے ہیں توفوراً ذرافاصلے پرآکر کھڑے ہوجاتے،حالانکہ کام چور قسم کے ساتھیوںکی صفوں میں یہ جملہ عام مشہور ہے ’’کہ گدھے کے پیچھے اور کمانڈرکے سامنے سے نہ گزرو‘‘کیونکہ گدھا دولتی مارے گااور کمانڈرکوئی کام بتادے گا مگرسیف اللہ اس کے بالکل برخلاف ہمیشہ نظروں کے سامنے رہتا۔ میںنے اسی تناظرمیںاس سے پوچھا ’’ہم جہاںبھی کھڑے ہوں، آپ وہاںسے کچھ فاصلے پرمگرنظروںکے سامنے ضرور موجود رہتے ہیں ، اس کی کیاوجہ ہے ‘‘تووہ کہنے لگے ’’بھائی جان بات یہ ہے کہ ذمہ داروں کو کوئی ناکوئی کام لڑکوںسے ضرور پڑتاہے اورانہیںبندہ بلانا پڑتاہے،میں ان کو یہی سہولت دینے کی خاطر کھڑا ہوتا ہوں، تاکہ کوئی کام پڑے تو وہ کسی کوبلانے کے بجائے مجھے ہی کہیں اوریوںیہ سعادت مجھے نصیب ہو‘‘یعنی کام سے فرارکے بجائے کام کی تلاش ، ہے ناسعادت کی بات ؟

یہ 2011ء کی ہی بات ہے کہ ہمارے کچھ بدخواہوںنے برساتی نالے کا رخ ہمارے مرکز کی طرف موڑدیا۔ موسم برسات کاتھا اورکشمیرمیں ظاہرہے اس موسم میںبارشیںبہت زیادہ ہوتی ہیں۔برساتی نالے کی وجہ سے ہروقت ہماری بلڈنگ کوخطرہ رہتاتھا، چنانچہ ہم بارش کے وقت کدالیں اور بیلچے لیکرنالے کارخ موڑنے میں لگے رہتے تھے۔ ایک رات سخت بارش تھی ، ہم سب جاگ رہے تھے، جب وقفہ ہوتا، اندرآجاتے،پھر بارش شروع ہوتی توباہر نکل آتے۔ تقریباًرات بارہ بجے بارش تھمی ، توہم سیف اللہ سمیت تین چار ساتھیوںکی ذمہ داری لگا کرسوگئے کہ اگرنالہ چڑھ گیاتو ہمیں جگادینا۔پھرہوا یوں کہ کہیں سخت بارش شروع ہوگئی اور تیز نالہ آگیا۔ سیف اللہ کو یہ محسوس ہواکہ اگرہم ساتھیوں کو جگانے چلے گئے، تب تک نالہ کام کرجائے گا۔چنانچہ انھوںنے یہ کام کیا کہ نالے کا بلڈنگ سے رخ دوسری طرف موڑنے کے لیے تہہ بہ تہہ نالے کے آگے لیٹ گئے۔ نالہ اس انسانی دیوار سے ٹکریںمارکردوسری طرف مڑگیا۔ ایک ساتھی نے موقع پاکر دوڑکرہمیںجگایا، توجاکرکیادیکھاکہ سیف اللہ کی پوری ٹیم ریت اور ملبے میں ڈوبی ہوئی ہے۔ہم نے جلدی سے کام ہاتھ میں لیااوران سے اس حرکت کی وجہ پوچھی، توسیف اللہ کہنے لگا: نالہ یک دم آگیاتھافوری حل اس کے علاوہ کوئی نہ تھاکہ ہم تین ساتھی اسکے آگے دیوار بن جائیں۔ چنانچہ ہم دیوار بن  گئے اوراس کوپلٹ دیا۔ جی ہاں ! ایسے بھی انسان ہوتے ہیں ۔

جوپہاڑوںسے ٹکرائے ، اسے طوفان کہتے ہیں

جو طوفانوںسے ٹکرائے اسے انسان کہتے ہیں

بھائی سیف اللہ نے 2011سے 2013 کے وسط تک کاوقت ہمارے پاس لانچنگ کی کوششوں میں گزار ا اور اس دوران کم وبیش سبھی گروپوں میں شامل رہے۔ یہ لانچنگ کے حوالے سے سخت وقت تھا، اکثر ناکامیاں ہی دیکھناپڑتیں،سیف اللہ سخت بے چین ہوتا، اس دوران اس نے ہم سے اجازت لیکردوسرے سیکٹر وں پر جاکر تقریباً دو یا تین مرتبہ فدائی تشکیلات میںبھی خود کوشامل کروایا،مگرقسمت سے وہ بھی انجام پذیرنہ ہوسکیں ، وہ پھرہمارے پاس آجاتا۔ 2013کے اوائل میںجب گھرسے واپس آیا، تو سنجیدگی زیادہ طاری تھی ، ہروقت سرشاری اور سرمستی کی کیفیات طاری تھیں، میں نے پوچھا کہ تمہاری نعتیں ، نظمیں اور اشعار جو تم ہروقت گنگناتے رہتے تھے، کدھر غائب ہوگئے ہیں اور یہ چپ سی کیوں لگی ہے؟۔ کہنے لگا! بھائی جان بات یہ ہے کہ جوں جو ں کشمیرجانے سے مایوسی بڑھتی جارہی ہے ،طبیعت بھی بجھتی جارہی ہے، اب کچھ کہنے یاسننے کودل نہیں کرتا۔ میں نے کہا ’’پرواہ نہ کرو، اس سال آپ ضرور کشمیرجائیںگے‘‘۔ چنانچہ ایساہی ہوا، 2013کے رمضان کی آمدآمدتھی ، توبارڈرسے بھی کچھ ٹھنڈی ہوئیںآناشرو ع ہوگئیں ، ہمیں کہیںسے راستہ مل گیا۔ میںنے سیف اللہ کوکہا ’’تیاری پکڑو ‘‘۔  چنانچہ ہم یکم رمضان المبارک کو مطلوبہ جگہ پہنچ آئے۔اس وقت کے سب سے اچھے اور چنیدہ ساتھیوں پر مشتمل گروپ تیار ہوا اور تین رمضان کو نکلناطے پایا۔ اس طرح دوسری اور تیسری تراویح ہم نے ادھرہی پڑھی ۔ عجیب منظرتھا، سیف اللہ کی آواز بہت اونچی اور خوبصورت تھی ،اوپر سے کشمیرروانگی کی حسرت بھی پوری ہو رہی تھی ، اس لیے وہ عجیب کیف ومستی میںتھا۔ چنانچہ وہ دو راتیں اس نے عجیب مستی میں تراویح پڑھائی ، دور دور تک آوازجاتی تھی ۔ مجھے اپنی پوری زندگی میں ان دنوں جیسی تراویح کا کہیں اور مزہ نہیں آیا، تین رمضان المبارک کو بوقت تہجد یہ قافلہ عشق ووفا ہم سے الوداع ہوگیا۔ پھرآگے فلک بوس پہاڑی چٹانیں ،خوفناک ندی نالے اور گھاٹیاں اورقطار اندر قطار دشمن کی پوسٹیں تھیں اورہمارا یہ قافلہ عشق ووفاتھا۔ یہ لوگ راستے کی ہرمشکل کوروندتے ہوئے بارہ دن اورراتوں کا مسلسل سفرکرکے وادی لولاب پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ آگے رابطہ بھی ہوگیا۔ اب خوشیاں منانے ہی والے تھے کہ ابھی وصولی ہوگی اور امیدیں بھر آئیںگی۔مگران بڑے لوگوں کے لیے بارہ دن کے سفرکی آزمائش کے بعد ایک دوسری آزمائش منتظرکھڑی تھی ۔ ہوا یوں کہ ان کو وصول کرنے کے لیے آنے والے ہمارے عظیم کمانڈرقاری یاسر (ان کا روح پرورتذکرہ پھرکبھی)کی ان تک پہنچنے سے پہلے دشمن سے مڈبھیڑہوگئی اور وہ سخت زخمی ہونے کے بعد شہید ہوگئے۔ قاری صاحب کی شہادت کا سانحہ ہی کچھ کم نہ تھا،مگراسکے ساتھ یہ بھی ہوا کہ اس جھڑپ کی وجہ سے نئے جانے والے ساتھیوں کو جاتے ہی سخت حالات اور آرمی آپریشنز کاسامناکر ناپڑ گیا۔اللہ اللہ کر کے گروپ وصول توہوگیا، مگر دوسری رات ہی دشمن بھی پہنچ آیا، جس سے ان کا پہلامعرکہ ہوا۔سخت تھکاوٹ اوربھوک کے باوجود دشمن کو دیکھتے ہی یہ لشکراس پر ٹوٹ پڑا، اور ان کو تین چار لاشوںکاتحفہ دیکرخود بچ نکلا۔اب لولاب کے جنگلات تھے،ہمارا یہ قافلہ تھااور انڈین آرمی تھی ۔ایک مہینے سے زائد عرصہ گزر گیا، دشمن نے ان نئے ساتھیوں کوکہیں ٹکنے نہ دیا۔ ایسے میں ان ساتھیوں کااکھٹے چلنابھی مشکل ہوگیا اور کھانے پینے کابندوبست تومشکل ترین ہوگیا۔ چنانچہ انھوںنے تقسیم ہونے کافیصلہ کرلیا۔ایک بڑا گروپ پلوامہ کی طرف روانہ ہوگیا،جوالگ ایک عظیم داستان ہے، اوردوگروپ لولاب ٹھہر گئے۔جن میںسے ایک کی قیادت سیف اللہ بھائی کے پاس تھی۔ ان تینوں گروپوںنے اپنے اپنے حصے کاکام کیااور خوب کیا،کوئی کسرنہ چھوڑی۔ مگرسیف اللہ نے اپنی ننھی سی جان لیکر ان تین سالوں میں جو تاریخ رقم کی ، وہ ایک الگ ہی داستان ہے۔

جی ہاں!اس نے کشمیرکے اس مشکل ترین میدان جنگ کو ایک کھیل تماشابناکررکھ دیا، اب بانڈی پورہ ،سوپور ،کپواڑہ ،لولاب، بارہ مولہ اور سری نگر سیف اللہ کی جولان گاہ تھی۔ جو لوگ کشمیرکے میدان کو تھوڑا سا بھی جانتے ہیں ،ان کو معلوم ہے کہ ایک مجاہد کے لیے ان تمام علاقوں میں ایک ایک مرتبہ جاناہی کیامعنیٰ رکھتاہے۔ مگرسیف اللہ نے تو بلامبالغہ ان تین سالوں میںان سب علاقوں کے بیسیوں بار اسفار کیے اور کام کومنظم کیا، نئے آنے والے ساتھیوں کو وصول کیااور ایساسنبھالاکہ ان کو گرم ٹھنڈی ہواتک نہ لگنے دی۔ میں اس موضوع پر مزید تفصیل میں نہیں جاسکتا، چونکہ کشمیرکی تحریک چل رہی ہے اور ہم نے سیف اللہ کی ایجادات کو ابھی اور بھی استعمال کرناہے۔ ورنہ ایک دو واقعات سے ہی اندازہ ہوجاتاکہ یہ کم سن فاتح اپنے اندر کیسی آگ رکھتاتھا؟۔ اب سیف اللہ جوبن پر تھا، کشمیرکووہ مکمل سمجھ چکاتھا، اوراس کے ذمے ہم نے جو کام لگائے تھے ، ان کا مکمل انتظام کرکے اس نے ہمیں ’’اوکے‘‘ کا سگنل بھی دے دیاتھااور اب ہم اپنی خوابوں میں مرضی کارنگ بھرنے ہی والے تھے، کہ سیف اللہ کو اوپر سے بلاوا آگیا۔

جی ہاں 23اور 24 مئی کی درمیانی شب سرائے بالا مہاراج بازار سرینگر میں واقع سیف اللہ کے ٹھکانے کی انڈین فورسز کو بھنک پڑگئی ۔ چنانچہ انھوںنے گھرکامحاصرہ کرکے سیف اللہ اور وقاص کو سرنڈرکرنے کے لیے کہا۔شیروں کاجواب ظاہرہے گولیوں کی شکل میںآیا، انڈین پولیس کاافسر دوساتھیوںسمیت ڈھیرہوگیا۔ پھرمعرکہ آرائی کے بعد بھائی سیف اللہ بھی ساتھی سمیت سینے پر گولی کھاکر سرائے بالا سے رفیق اعلیٰ کیطرف پرواز کرگئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ ان کی شہادت قبول فرمائے اور ان کو اعلیٰ درجات عطا فرمائے۔

سیف اللہ کی اچانک شہادت سے بظاہر ہمارے کام کو سخت دھچکا لگا ہے اور ہمارے خوابوں کی دنیا چکنا چورہو گئی ہے۔دشمن کو بھی خوب خوشیاں منانے اور اچھل کود کا موقع ملا ہے مگر ہمیں یقین ہے کہ نہ ہمارا یہ غم دائمی رہے گا اور نہ دشمن کی خوشیاں لمبی عمر پائیں گی بلکہ

 وہاں سے اُبھریں گے لاکھ سورج

جہاں ہمارا لہو گرا ہے

سیف اللہ کا خون ان شاء اللہ رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ اس کے خون کے ایک ایک چھینٹے سے سینکڑوں مجاہد اٹھیں گے جو اس کے مشن کو آگے بڑھائیں گے اور دشمن کی خوشیوں کے محلات میں آگ لگا دیں گے۔دشمن اس سے پہلے بھی ہمیں کئی مرتبہ ختم کرنے کے جشن منا چکا ہے مگر انجام اس کو یاد ہی ہو گا۔ہماری کشمیر اور پاکستان کے غیور مسلم نوجوانوں سے بھرپور گزارش ہے کہ آپ کے کندھوں پر سیف اللہ جیسے شہداء ایک بڑا بوجھ اور قرض چھوڑ کر گئے ہیں اور وہ بوجھ ہے مشن اور کاز کو آگے بڑھانے کا ،لہٰذا اس بوجھ اور قرض کو محسوس کریں، سمجھیں اور اس کو اتارنے کیلئے ہمت کر کے آگے بڑھیں۔ کشمیر کے میدان آپ کو پکار رہے ہیں

شہداء نے پکارا  ہے تم کو

فردوس کے بالا خانوں سے

ہم راہ وفا میں کٹ آئے

تمہیں پیار ابھی تک جانوں سے

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online