Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

تاریخ مثال پیش کرے (مفتی محمد اصغر خان کشمیری)

Tareek misal paish karegi mufti asghar 553

 تاریخ مثال پیش کرے

مفتی محمد اصغر خان کشمیری (شمارہ 553)

یوں تو کشمیر پر ڈوگرہ حکومت کو کشمیریوں نے ایک لمحہ کے لیے بھی تسلیم نہیں کیا تھا اور روز اول سے ہی کشمیری مسلمان ڈوگرہ راج کے خلاف جنگ آزما رہے مگر آج سے کوئی 85برس قبل ڈوگروں کے ہاتھوں مسلمانوں کی مذہبی آزادی میں مداخلت کا ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ڈوگروں کے خلاف کشمیریوں کے دل و دماغ میں ایک آگ بھر دی اور پھر ایک ایسی تحریک آزادی نے جنم لیا جس کے شعلے ابھی تک قابض حکمرانوں کو  جھلسا رہے ہیں۔

یہ29اپریل1931ء کا واقعہ ہے۔ جموں کے میونسپل باغ میں امام اور خطیب مفتی محمد اسحاق عیدالاضحی کی نماز سے پہلے قرآن پاک ہاتھ میں لے کر بیان کرنے کے لیے ممبر پر بیٹھے ہیں کہ اسی دوران ڈوگرہ پولیس نے دھاوا بول دیا اور آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ سے قرآن پاک بھی چھین لیا اورانہیں عید پڑھانے اور خطبہ دینے سے بھی روک دیا ۔مذہبی معاملات میں اس قدر کھلی اور جارحانہ مداخلت کے واقعہ کی خبر پورے جموںوکشمیر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ۔جس کی وجہ سے ریاست کے مسلمان ڈوگرہ راج کے خلاف سیخ پا ہوگئے اور آناً فاناً مذہبی آزادی اور تحفظ قرآن کے حوالے سے ڈوگروں کے خلاف ایک ریاست گیر تحریک شروع ہوگئی۔لوگ لاکھوں کی تعداد میں روڈوں پر نکل کراپنی آزادی کا مطالبہ کرنے لگے ۔اسی سلسلے میں 25جون1931ء کو ڈوگرہ راج کے خلاف سرینگر میں ایک بہت بڑا جلسہ منعقد ہوا ۔اس جلسے میں کشمیری مقررین کے علاوہ سرحد کا رہنے والا ایک پشتون جوان بھی آیا ۔جس کا نام عبدالقدیر خان تھا اس نے قرآن پاک کے تحفظ، ڈوگرہ راج سے بغاوت اور کشمیریوں کی آزادی کے حق میں انتہائی ولولہ انگیز تقریر کی ۔جس نے آزادی کے متوالوں کے دلوں کو گرما دیا ۔مگر پھر ہوا یوں کہ اسی شام ڈوگرہ فورسز نے عبدالقدیر خان کو اس کے گھر سے گرفتار کر کے اس پر بغاوت کا مقدمہ درج کر کے اسے سرینگر سنٹر جیل پہنچا دیا اور عوام کے خوف سے جیل کے اندر ہی اس کے خلاف مقدمہ کی کارروائی چلانے کا فیصلہ کیا جبکہ عوام کا مطالبہ تھا کہ مقدمہ کھلی عدالت میں چلایا جائے تاکہ وہ بھی کارروائی دیکھ سکیں ۔حکومت مسلمانوں کا یہ جائز مطالبہ ماننے کو تیار نہ ہوئی جسکی وجہ سے حالات آئے روز خراب سے خراب تر ہوتے گئے اور تحریک میں شدت آتی گئی ۔

یہ13جولائی1931ء کا دن تھا سرینگر مرکزی جیل کے اندر مقدمہ کی کارروائی جاری تھی اور باہر لاکھوں لوگ جمع تھے اور مطالبہ کررہے تھے کہ کارروائی کھلی عدالت میں چلائی جائے۔ تاکہ وہ دیکھ سکیں اور سماعت کرسکیں کہ انصاف ہورہاہے یاکہ نہیں ۔اس شور و غوغا اور احتجاج کے دوران نماز ظہر کا وقت آن پہنچا میر واعظ حضرت مولنا یوسف ؒ (جو موجودہ میر واعظ مولوی عمر فاروق کے دادا تھے) جو اس احتجاج کی قیادت کررہے تھے ۔انہوں نے لوگوں سے ولولہ انگیز خطاب کیا اور اس کے بعد ایک کشمیری مسلمان اذان دینے کے لیے آگے بڑھا تاکہ اذان کے بعد نماز ظہر باجماعت ادا کی جاسکے ۔مگر اسی دوران تاریخ اسلام کا ایک انوکھا اور نادر واقعہ رونما ہوا جس کی مثال نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ انسانیت میں بھی شاید نہ مل سکے ۔ہوا یوں کہ جونہی موذن نے اللہ اکبر کی صدا بلند کی تو ڈوگرہ سپاہی سے یوں عدالت کے روبرو اذان کا گونجنابرداشت نہ ہوسکا اور اس نے گولی مار کر موذن کو شہید کردیا اور شاید وہ خوش ہوگیا تھا کہ اپنے تئیں اس نے اذان کا گلہ گھونٹ دیا ہے ۔مگر یہاں معاملہ تو اللہ کے ساتھ عشق و جنون کا تھا ۔موذن کے شہید ہوتے ہی دوسرا مسلمان آگے بڑھا اور اس نے دوبارہ اللہ اکبر کی صدا بلند کی۔درندوں نے اس کو بھی گولی مار دی تو تیسرا مسلمان آگے نکل آیا اور اذان کو آگے چلایا مگر اسے بھی شہید کردیاگیا۔پھر کیا تھا لگا تار گولیاں چلنے لگیں اور اِدھر اللہ کے عاشق آگے بڑھ بڑھ کر اذان کو آگے بڑھانے لگے ۔اس طرح 22مسلمان جام شہادت نوش کر گے مگر انہوں نے اذان کو ادھورا نہ چھوڑا اور بائیسواں مسلمان اذان کا آخری کلمہ لا الہ اللہ کہہ کر اذان مکمل کر کے گولی کھا کر لیلائے شہادت سے ہم آغوش ہوگیا۔

بنا کر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

بندہ عرض کرتا ہے کہ یہ تو اذان کے کلمات ہی ختم ہوگئے تھے جس کی وجہ سے شہادت کا سلسلہ 22کی تعداد پر آکر تھم گیا وگرنہ اگر اذان کے کلمات لاکھوں کے تعداد میں ہوتے تو آج لاکھوں مسلمان اللہ کی عظمت بیان کرتے کرتے شہادت کو گلے لگا لیتے ۔

کشمیر کے مسلمان ہر سال 13جولائی کو ان ہی شہدا ء کی یاد میں" یوم شہدا ئِ کشمیر"مناتے ہیں اور شہداء کے کارنامے بیان کر کے اپنے ولولوں اور عزم کو تازہ کر کے آگے چلتے ہیں ۔ہم بے شک کسی دن کو بطور خاص نہیں بناتے مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اپنی تابناک تاریخ کے ان عظیم واقعات کو ہی بھول جائیں۔ اللہ رب العزت نے اپنی کتاب مقدس میں جابجا ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم گزشتہ واقعات سے روشنی اور عبرت حاصل کر کے اپنی اگلی زندگی کا راستہ متعین کریں جو قومیں ماضی بھول جاتی ہیں وہ مستقبل کو سنوارنے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتیں۔

آج کیا وجہ ہے کہ لوگ جہاد کشمیر پر طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں اور ایک ایسا طبقہ بھی ہے کہ وہ کسی صورت جہاد کشمیر پر مطمئن ہونے کے لیے تیار ہی نہیں۔وجہ صرف یہ ہے کہ تاریخ سے مکمل ناواقفیت ہے ۔اور یہ عقلمند لوگ تحریک کشمیر کو اس آئی ایس آئی کی پیداوار قرار دیتے ہیں کہ تحریک کشمیر شروع ہوتے وقت جس آئی ایس آئی کی پردادی اور پرنانی بھی پیدا نہیں ہوئی تھی ۔

اس سال 13جولائی ایسے وقت میں آیا ہے کہ پوری کشمیری قوم کمانڈر برہان وانی کی عظیم شہادت کے بعدبے سروسامانی کے عالم میں بھارتی فورسز سے بر سر پیکار ہے اور صحیح معنوں میں 13جولائی 1931ء کے شہداء کی یادمنا رہی ہے اور ان شاء اللہ ثم ان شاء اللہ یہ سلسلہ تھمے اور رکے کا نہیں تا آنکہ کشمیر کے مسلمانوں کو مکمل اسلامی آزادی نہ مل جائے اور اس منزل کے حصول کے لیے کشمیر کے مسلمان نے ہر قسم کی قربانی دی بھی ہے اور آئندہ بھی دینے کے لیے تیار ہے ۔

مذہب کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online