Bismillah

651

۲۷شوال المکرم تا۳ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۳تا۱۹جولائی۲۰۱۸ء

وہ پیکرِ اِستقامت۔۱ (مفتی محمد اصغر خان کشمیری)

Wo Paikar e Isteqamatmufti-asghar

وہ پیکرِ اِستقامت۔۱

مفتی محمد اصغر خان کشمیری (شمارہ 620)

آہ !6نومبر 2017؁کی رات کیا کیا قیامتیں ڈھاگئی ، اُمیدوں کا خرمن جل گیا،آرزوؤں کے محلات کرچی کرچی ہوگئے اور ہمارے تصورات کی جنت میں دھول اُڑنے لگی ۔جی ہاں !آج رات ہی پلوامہ میں ہمارے پیارے دوست اور ہر دلعزیز مجاہد کمانڈربھائی احسان اللہ فاروقی جن کو ہم محمد بھائی اور شاہ جی کے نام سے یاد کرتے تھے ۔ایک طویل معرکے کے دوران دیوانہ وار لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے۔ اناللہ واناالیہ راجعون

بھائی محمد مقبوضہ کشمیر میں ہمارے ڈویژنل کمانڈر تھے اورضلع پلوامہ، ضلع شوپیاں اور ضلع بڈگام ان کی جولان گاہ تھی، جہاں بہت قلیل عرصے میںانہوں نے بڑانام پید اکیااور انڈین آرمی کیلئے خوف و دہشت کا نشان بن گئے ۔بھائی محمد نے اس علاقے میں کتنے مضبوط پنجے گھاڑلئے تھے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پلوامہ پولیس لائن والی مشہورزمانہ فدائی کارروائی انہوں نے صرف ایک ہفتے کے نوٹس پہ تیار کر کے سرانجام بھی دے دی تھی اور اس کی ریکی بھی مقامی جانباز ساتھی کی مدد سے خود جاکر کی تھی اور ساتھیوں کو کیمپ کے اندر داخل کروانے کے عمل میں بھی خود قائدانہ کردار ادا کیا تھا ۔

یہی وجہ ہے کہ دشمن اس علاقے کے کوچہ وبازار اور گلی محلوں میں محمد بھائی کی بو سونگھتا پھرتا تھااور کئی بار ایساہوا کہ دشمن بالکل ان کے قریب بلکہ چند فٹ کے فاصلے پربھی پہنچ گیا ،مگر ہر مرتبہ اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور بھائی محمد دشمن کو چکمہ دے کر نکلنے میں کامیاب ہوتے رہے اور پھر بڑے مزے لے لے اس آنکھ مچولی کی کارگزاری بھی سناتے ۔

مقامی آبادی محمد بھائی کی مکمل گروید ہ تھی اور محمد بھائی بھی مقامی لوگوں کے گرویدہ تھے۔ محمد بھائی نے دل کھول کرلوگوں کو چاہا، توجواب میں لوگوں نے بھی اپنا سب کچھ نچھاور کردیا ۔میں نے ایک بار ان سے ان کی نقل وحرکت کی ضروریات کے حوالے سے پوچھا ؟تو انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے آپ بے فکر رہیں مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ،الحمد للہ تین گاڑیوں والے میرے فون کے انتظار میں ہوتے ہیں ،میں نے کہیں جانا ہو تو جس کو بھی کال کردوں وہ حاضر ہوجاتا ہے۔

 بھائی محمد کی مقامی آبادی سے اسی دوطرفہ محبت اور تعلق کا نتیجہ تھا کہ وہ وہاں ہمارے ایک طاقتور کمانڈر بن گئے تھے اور جو کام کسی اور کیلئے ایک قیامت ہوتے ،وہ ان کے لئے ہاتھوں کا کھیل ثابت ہوتے تھے۔

پھر کمال یہ کہ ان صلاحیتوں نے بھائی محمد میں خود سری اور من مرضی پید انہیں کی، بلکہ وہ پہلے سے بڑھ کراطاعت کرنے لگے اورہر بات پوچھ پوچھ کر کرنے کی عادت اور مضبوط کرلی۔انسانی فطرت کے ناطے اگر کہیں کوئی غلطی کربیٹھتے تو تنبہ ہونے پر بغیر کسی حیل وحجت کے اور بغیر تاخیر کئے فوراً واضح اورصاف الفاظ میں معافی مانگ لیتے۔ جس سے ان کی شخصیت کا حسن اور نکھر جاتا اور وہ اور زیادہ دل میں اُتر جاتے ۔ان کی انہیں صفات اور کمالات کانتیجہ تھا کہ ان سے بہت زیادہ اامیدیں وابستہ ہوگئی تھیں اور ہم بجا طور پر ان کو مستقبل قریب میں تحریک کشمیر کے چمکتے ستارے کے طورپر دیکھنے لگے تھے ۔

میں اسی وجہ سے ان کو ہر رابطہ پر اپنی حفاظت کے حوالے سے خصوصی تاکید کرتا اور ترکیبیں بھی بتاتا، مگر پھر میں ان نصیحتوں کو بے سود ہی پاتاکیونکہ محمد بھائی پھر ساتھیوں کے جھرمٹ میں ہی نظر آتے اوراپنے لئے الگ جگہ بنانے اورزیادہ وقت ادھرہی گزارنے والی بات ان کی طبیعت سے میل ہی نہیں کھاتی تھی ۔پھر میرے پوچھنے پر یکدم تسلی دینے لگتے ’’کہ بھائی جان بس تھوڑا ساکام رہ گیا وہ کرلوں پھر محفوظ ہو جاؤں گا۔‘‘

چنانچہ وہ تھوڑا تھوڑا کام توختم نہ ہوسکا البتہ 6نومبر کی شام ضرور آگئی۔ جب وہ پلوامہ کے اگلر گائوں کے ایک گھر سے جنت کی طرف اُڑان بھر گئے اور پھر واقعتا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوگئے جہاں سے اب نہ کوئی ان کو نکال سکے گا اور نہ وہاں جا کہ ستا سکے گا

اسے نہ جیت سکے گا غمِ زمانہ اب

جو کائنات تیرے درپر ہاردی ہم نے

وہ زندگی کہ جسے زندگی سے نسبت تھی  

تمہاری زلف پر یشاں پہ وار دی ہم نے

بھائی محمد آپ کو بہت بہت مبارک کہ آپ کی بے چین اور بے قرارروح کو چین وقرار مل گیا اورآپ کی عظمت کو لاکھوںکروڑوں سلام کہ آپ مجاہدین اور کمانڈروں کے لئے عزم اور حوصلے ،جرات اورشجاعت ،اطاعت ِامیراور فرمانبرداری کی عظیم مثال چھوڑ گئے ۔

اب ذیل کی سطورمیں ہم بھائی محمد کی پوری زندگی پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں گے تاکہ ہمیں سمجھ آسکے کہ بھائی محمد جس اُونچے مقام پر فائز تھے وہ وہاں جھٹ سے نہیں پہنچ گئے تھے یادوسرے الفاظ میں وہاں پہنچنے کا کوئی شارٹ کٹ راستہ نہیں ہے بلکہ پہلے رگڑے کھانے پڑتے ہیں ۔اوررگڑے کھا کھا کر بندہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ پھر میدان ِعمل اس کے لئے اپنا سینہ بھی کھول دیتا ہے اوردامن بھی پھیلادیتا ہے ۔تو آئیے بھائی محمد کی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔

بھائی محمد 1984؁میں وہاڑی کے ایک انتہائی دیندار گھرانے میں پید ا ہوئے ۔بھائی محمد کے والد گرامی جناب احمد اللہ صاحب دین سے گہری وابستگی رکھتے ہیں جس کی وجہ سے گھر پر دینداری کی مکمل چھاپ ہے اور اسی چھاپ میں محمد بھائی پروان چڑھے۔میٹرک تک سکول کی تعلیم کے بعد مدرسہ میں داخل کروادیا گیا ۔جہاں محمد بھائی نے درسِ نظامی کے ابتدائی درجات پڑھے ابھی وہ نصاب مکمل بھی نہیںکر پائے تھے کہ حاصل شدہ علم نے ہی ان کو جنت کا مختصرراستہ بتا دیا ۔

چنانچہ انہوں نے مزید تعلیم سمیت دنیاکی ہر چیزسے دل چر ا لیا اور عملی جہاد کی تربیت کیلئے شیروں کی کچھاروں کا رُخ کر لیا ۔پھر تربیت مکمل کرنے کے بعدکشمیر جانے کے لئے ہمارے پاس پہنچ گئے ۔یہ غالباً2005؁کا سال تھاجس وقت کشمیر جانا ابھی اتنا مشکل نہ ہوا تھا اور آئے روز ہمارے قافلے آتے جاتے رہتے تھے مگر محمد بھائی کی قسمت میںبہت آزمائشیںلکھیں تھیں۔ ہوتا یوںکہ بھائی محمدجس قافلے میں بھی شریک ہوتے وہ تمام تر کاوشوں اور محنتوں کے باوجود کراس نہ ہو پاتا اور واپس آجاتا ۔کئی مرتبہ دشمن سے آمنا سامنابھی ہوجاتا اور اچھی خاصی فائٹ ہوجاتی ۔پھر محمد بھائی کی یہ آزمائش طویل سے طویل ہوتی گئی ۔لوگ آجا رہے تھے مگر ا ن کو آگے سے ہمیشہ یہی آواز آتی۔

مل ہی جاے گی کبھی منزل لیلیٰ اقبال

کچھ دیر ا ورا بھی با دیہ پیمائی کر

انکو ہمیشہ ناکامی کا سا منا ہوتا مگر یہ اپنے اوپر مایوسی اور شکست وریخت جو ایسی ناکامیوں کا خاصہ ہوتا ہے کا سایہ بھی نہ پڑنے دیتے تھے اور ہر ناکامی کے بعد پہلے سے زیادہ شوق اور ولولے کے ساتھ دوبارہ تیار ہو جاتے ، کرتے کرتے ایک سال گزرگیا،دو سال گزر گئے ۔

یہ 2007؁کی بات ہے بھائی محمد کی قیادت میں ایک قافلہ روانہ ہوا اور کافی سفر طے کر گیا مگر پھر اچانک دشمن سے مڈبھیڑہوگئی اورخوب مقابلہ چلا، مجاہدین دشمن سے بچ نکلنے میں کامیاب توہوگئے مگر پہاڑوں سے پھسلنے اورلڑھکنے کے باعث بالکل ٹوٹ پھوٹ گئے ۔

یہ پہلا موقعہ تھا کہ بھائی محمد اس حال میںہمارے پاس واپس پہنچے کہ ان کا جسم چکنا چور تھا اور چہرہ بالکل خشک کھجور کی طرح بنا ہوا تھا، میں نے ان سے بے ساختہ کہہ دیا کہ محمد بھائی آپ نے کشمیر کیلئے اتنی زیادہ کوششیں کرلیں کہ اب ان شاء اللہ !اللہ آپ سے کم ازکم یہ سوال نہیں کرے گا کہ تم کشمیر کیوں نہیں گئے تھے ؟آپ کا دانہ پانی پار نہیں چڑھ رہا…

لہٰذامیری مانو ۔ہم کسی دوسرے شعبے میں آپ کی تشکیل کر دیتے ہیں ،وہاں کام کر و۔تووہ لبیک کہہ کر تیا رہوگئے ۔

پھرمشاورت سے ان کی تشکیل کشمیر کے ناظم مالیات کے طور پر کر دی گئی۔ چنانچہ اب سے وہ ہمارے ناظم مالیات تھے اور لمبے وقت تک اسی ذمہ داری پر فائز رہے اور مشکل اور دودھار ی شعبے کو ایسے نظم اور سلیقے سے چلایا کہ پورے عرصے میں نہ کسی مجاہد کو ان سے شکایت ہوئی اور نہ ہی مرکز کو …پھر 2009؁میں ہمیں اپنے کمنیوکیشن پوائنٹ’’طوبیٰ‘‘کیلئے کسی معقول اور قابلِ اعتماد ذمہ دار کی ضرورت پڑ گئی تو ہماری نظریں سیدھی بھائی محمد پہ جا ٹکیں ۔پھرجب اس حوالے سے ان سے بات کی تو وہ جھٹ سے لبیک کہہ کر تیار ہوگئے ،حالانکہ مالیات سے فوراً طوبیٰ کی تشکیل نرم وگذاربستر سے اُٹھا کر یکدم یخ بستہ گلیشئروں میں پھینکنے والی بات تھی، مگر محمد بھائی نے لمحہ بھر بھی نہ سوچا اورنئی تشکیل کیلئے تیار ہوگئے ۔چنانچہ اب وہ ہمارے مواصلات کے ذمہ دار تھے اور طوبیٰ کابرف پوش پہاڑان کا مسکن تھا مگر کیا مجال کہ ان کی چال ڈھال یا بول چال میں ذرہ بھر فرق آیا ہو… وہی ظرافت وہی بشاشت اوروہی پرسکون انداز۔یہاں بھی محمد بھائی نے دو سال کا عرصہ کام کیا اورماشاء اللہ شعبے کو جدید سے جدیدتر کردیا۔

پھر 2012؁کا سال آگیا ہمیں مواصلات کے شعبے میں بھائی محمد کی بدستور شدید ترین ضرورت تھی ۔مگر اس سے کہیں زیادہ کہیں اور ان کی ضرورت محسوس ہونے لگی ۔ہوا یوں تھا کہ 2007؁میں ہماری جماعت کاآزاد کشمیر کا شعبہ دعوت ایک فتنے کا شکار ہوگیا تھا ،جس کے بعد اس کو دوبارہ منظم کرنے کیلئے مختلف تشکیلات  ہوتی رہیں ۔مگر :

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

شعبہ سنبھل نہیں پا رہا تھا اور تشکیلوں پر تشکیلیں تبدیل ہو رہی تھیں، ہمیں یہ دیکھ کر شدید درد ہوتا کہ پاکستان کے چپے چپے سے جانبازاُٹھ اُٹھ کر کشمیر جانے کیلئے ہمارے پاس آرہے ہیں مگر خود آزاد کشمیر جس کا یہ اصل مسئلہ ہے وہاں سے مکمل خاموشی ہے اور اِدھر سے افراد کی آمد مکمل بند ہے خصوصاًباغ،پونچھ اورپلندری جیسے مردم خیزخطے سے جہاد کیلئے مجاہد میسر نہ آنا کسی سانحے سے کم نہ تھا۔چنانچہ ہم نے فیصلہ کیا کہ اس شعبہ کو مضبوط کرنا چاہئے اور بھائی محمد کی قربانی پیش کرنی چاہئے ،کہ اپنے شعبے میں ان کی شدید ضرورت کے باوجود انکو شعبہ دعوت کے صوبائی ذمہ دار کی معاونت کیلئے ان کے حوالے کرنا چاہئے ،اس پر شعبہ دعوت کے مرکزی اور صوبائی ذمہ دارسے مشاورت بھی مکمل ہوگئی ۔

اب مسئلہ تھا محمد بھائی کو عسکری شعبے سے تبدیل کرکے شعبہ دعوت میں لانے کا  ۔چنانچہ بند ہ نے ان سے بات کی اور مسئلے کی نزاکت سے آگاہ کیا تو انہوں نے حسب ِروایت ایک لمحہ بھی دیر نہیں کی اور فوراً ہاں کردی اور ساتھ ہی ایک خوبصورت شرط بھی لگا دی کہ ٹھیک ہے ضرورت کے تحت میں وہاں جانے کیلئے تیار ہوں مگر مجھے آپ اپنے لانچنگ والے ساتھیوں میں ہی شمار رکھنا ۔میں ان شاء اللہ بہت جلد کام کومضبوط بنیادوں پر کھڑا کرلوں گا پھر اس کے اہل افراد تیار کرکے ان حوالے بھی کردوں گا ۔پھر لانچنگ کیلئے حاضر ہوجائوں گا۔بندہ نے تمام باتوں پر ہاں کہہ کر انکو شعبہ دعوت کے حوالے کردیا ۔

بھائی محمد میں شعبہ دعوت چلانے کی تمام صلاحتیں بدرجہ اتم موجود تھیں ،اخلاق کے وہ اعلیٰ درجے پر فائز تھے ۔ملنساری ان پر ختم تھی، چہرے کی مسکراہٹ وہ چاہیں بھی تو چھپا نہیں سکتے تھے، اور خطابت کے میدان کے تو وہ ایسے شہسوارتھے کہ ایک حوالے سے وہ بالکل ہی بے مثال تھے ۔میرا مقصد یہ ہے کہ یہ بات میںنے صرف انہیں میں دیکھی ہے ’’کہ اگر سٹیج کے آگے ایک بندہ بھی نہ ہو اوران کو کہہ دیا جائے کہ آپ تقریر شروع فرما دیں تاکہ لوگ جمع ہوجائیں اور جلسہ شروع ہوسکے تو وہ خالی پنڈال میں تقریر شروع کردیتے‘‘۔اور تقریر اتنی پر درد اور ولولہ انگیز ہوتی کہ لوگ جوق در جوق پنڈال میں پہنچنا شروع ہوجاتے ،اوردیکھتے ہی دیکھتے پنڈال بھر جاتا ۔بھائی محمد نے ان تمام صفات کے ہمراہ شعبہ دعوت میں قدم رکھا اور پھر ایسی محنت کی، ایسی محنت کی کہ آزاد کشمیر خصوصاً مظفرآباد ڈویژن اور پونچھ ڈویژن کا شاید ہی کوئی کونہ کھدراایسا بچا ہو کہ جہاں وہ نہ پہنچے ہوں اورجاکر کشمیر کا درد نہ بانٹا ہو ۔

چنانچہ بہت جلد یہاں کی فضا بدلنا شروع ہوگئی اورملک کے دیگر حصوں کی طرح آزاد کشمیر کے نوجوان بھی مراکز سے لیکر محاذوں تک ہر جگہ نظر آنے لگے آج الحمدللہ ہمارے کشمیر میں یہ شعبہ جوانی کے عروج پر ہے تو بجا طوریہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ محمد بھائی کاہی صدقہ جاریہ ہے ۔

کلیوں کو میں خونِ جگر دے کے چلا ہوں

صدیوں مجھے گلشن کی فضا یا د کرے گی

محمد بھائی نے ہماری درخواست پراس شعبے میں قدم تو رکھ لیا مگر اب وہاں سے واپسی نہ انکے بس میں رہی نہ ہمارے بس میں، پر آئے دن انکا کشمیر جانے کا جذبہ اور تقاضہ بڑھتا رہا مگر شعبہ دعوت میں انکی ضرورت بھی کام بڑھنے کے ساتھ بڑھتی ہی رہی ۔نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں سے چھٹکارے کی کو ئی صورت نہ رہی اور دوسری طرف وہ مجھے بار بار اپنی شرط یاد دلا رہے تھے کہ میں نے کام منظم ہونے کے بعد واپس عسکری شعبے میں آنے کی اور کشمیر جانے کی شر ط رکھی تھی جو آپ نے مان بھی لی تھی۔بندہ کو اس مسئلے کا بظاہر کوئی حل نظر نہیں آرہا تھا۔

مگر پھر محمدبھائی نے خودہی اس کا حل تلاش کرلیا اور حضرت اقدس امیر محترم کو تفصیلی خط لکھ کر اپنے حالات بتلا کر کشمیر کیلئے اپنی تشکیل کروا لی ۔اس طرح وہ 2015؁ کے وسط میں دوبارہ ہمارے پاس تشریف لے آئے۔ مگر میںنے دیکھاکہ اب انکے حالات کافی بدل چکے ہیںاور انکی وہ پہلے والی فٹنس بھی نہیں رہی ہے اور ساتھ ہی گھٹنے میں شدید درد کی شکایت بھی ہے ۔تو ان سے عرض کیا کہ ماشاء اللہ تشکیل تو آپ کی عسکری شعبے میں ہوگئی مگر اندر کشمیر کیلئے آپ فٹ نظر نہیں آرہے دوسری طرف ہمیں اپنے کئی شعبوںمیں آپ کی ضرورت بھی ہے ۔لہٰذاادھر ہی کہیں آپ کی تشکیل کر دیتے ہیں ۔تو وہ کہنے لگے ۔

بھائی جان !یہ شعبے ادھر ہی ہیں، مجھے آپ خوشی سے اجازت دیں اور مجھے کشمیر کیلئے آخری زور لگانے دیں ،ابھی میں جوان ہوں ،تین چار سال لگا تار کشمیر جانے کی کوشش کروں گا، اگر پھر بھی نہ جا سکاتو جس شعبے میں چاہیں بٹھا دینا، پھر پڑے رہیں گے اور کام کرتے رہیں گے۔ مجھے بھائی محمد کا جواب سن کر بہت خوشی ہوئی ۔کیونکہ اندر کشمیر میں کام کو ازسرِنو منظم کرنے کیلئے ہمیں وہاںانکی شدید ضرورت بھی تھی، اور ان سے امیدیں بھی تھیں۔ انکے جواب سے ان کے حوصلوں کی جوانی کا اندازہ ہوگیا۔ تو میں نے ان سے عرض کردیا کہ جب عزم اتناپختہ ہے تو ہمت کرو اور جسمانی تیاری بھی شرع کرلو ۔

چنانچہ بھائی محمد نے اب سے خوب ورزش بھی شروع کرلی اور ڈاکٹروں اورحکیموں سے گھٹنے کا علاج بھی کرواتے رہے انکو جہاں کا پتہ چلتا کہ وہاں گھٹنے کا علاج ہو سکتا ہے وہاں پہنچ جاتے مگر گھٹنا تھا کہ ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔آخر میں تھک ہار کہ ایک دن حضرت امیر محترم کی کتاب الیٰ مغفرہ اُٹھا کر لے آئے اور اس میں سے آیت کریمہ کا بارہ دن والا وظیفہ نکالا اور کہا کہ میں اپنے گھٹنے کیلئے یہ وظیفہ کرتا ہوں اور ان شا ء اللہ اس کی برکت سے گھٹنا ضرور ٹھیک ہوگا۔ چنانچہ و ہ روز دوپہر کے وقت یہ وظیفہ کرتے اوردرد میں فرق محسوس کرتے، پھر ادھر وظیفہ مکمل ہوااور اِدھر گھٹنے سے درد غائب ہوگیا۔ انہوں نے آکر مجھے خوشخبری سنائی کہ میرا گھٹنا ٹھیک ہوگیا ہے۔ لہذااب کوئی رکاوٹ نہیں رہی، مجھے کشمیر روانہ کردیں ۔اس طرح انکا سفر ممکن ہوگیا اور وہ 12سال کا عرصہ ہمارے ساتھ گزارنے کے بعد مئی 2017؁ میں کشمیر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ۔

پہنچی وہاں پہ مٹی جہاں کا خمیر تھا

تو یہ تھا وہ طویل اور کٹھن سفر جو طے کرکے محمد بھائی کشمیر پہنچے تھے ۔کہتے ہیں سفر میں جتنی مشقت ہو منزل کی قدراسی قدرزیادہ ہوتی ہے ۔چنانچہ ہمارے محمد بھائی بھی اس قدر صعوبتیں جھیلنے کے بعد جب کشمیر پہنچے تو وہ کشمیر سے لپٹ گئے ،اور کشمیر ان سے ایسا لپٹ گیا، جیسے برسہابرس سے بچھڑے ہوئے عاشق ومعشوق کو منزل ِوصال مل گئی ہو ۔۔چنانچہ وہ بہت کم وقت میں ایسے ایسے کارہاے نمایاں انجام دے گئے جن کیلئے اک عمر درکار ہوتی ہے ۔

محمد بھائی کی ایک اورخوش قسمتی ایسی تھی جوکم ہی مجاہدین کو نصیب ہوتی ہے وہ یہ کہ بھائی محمد کو جہاد میں اپنے والدین کریمین کی مکمل حمایت اور دعائیں حاصل تھیں۔اور یہ معاملہ اس حد تک آگے بڑھا ہوا تھا کہ محمد بھائی جب مقبوضہ کشمیر میں برسرِپیکار تھے تو والدہ محترمہ الگ اور والد گرامی الگ رابطہ کرکر کے انکا حوصلہ بڑھاتے ۔والدہ کے ہمیشہ یہ الفاظ ہوتے ’’کہ بیٹا ڈٹ کے رہنا اور کمزوری نہ دکھانا‘‘اور والد محترم اپنے ہونہار بیٹے کو حوصلہ بھی دیتے اور تقویٰ کی بھی نصیحتیں کر تے۔اور یہ اجازت اور حمایت اس کے باوجود تھی کہ انکے ایک اور بیٹے اور محمد بھائی کے جڑواں بھائی حبیب اللہ فاروقی پہلے ہی افغانستان میں لڑتے ہوئے شہید ہوچکے تھے ۔

آج محمد بھائی ہم میں نہیں ہیں مگر انکی یادیں کشمیر کے آرپاردونوں طرف بکھری پڑی ہیں ۔ہماری شدید خواہش تھی کہ محمد بھائی آزاد کشمیر کی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی طویل وقت پاتے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کے ذریعے تحریک ِکشمیر کو بام ِعروج تک پہنچاتے مگر اس کو ہماری بد قسمتی یا انکی خوش قسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ اب ان کابلاواآچکا تھا ۔اور اب انہوں نے جانا ہی تھا، چنانچہ و ہ اس پر آشوب اور آزمائشوں بھری دنیاسے بہت دوراپنے رب کی میزبانی کے مزے لوٹنے اوپر کی طرف پرواز کرگئے۔ اب ہم اللہ سے دعا ہی کرسکتے ہیں کہ ! یا اللہ انکو شہادت کے تمام فضائل سے نواز دے اور ہمیں انکا صحیح نعم البدل عطا فرمادے۔

اور ہاں آخر میں ملک کے طول وعرض میں پھیلے اپنی جماعت کے ہزاروںلاکھوںکارکنوںکو یہ دعوت کہ بھائی محمد کے ادھورے مشن کی تکمیل کیلئے کمر بستہ ہوجائواور میدان ِجہاد کی بھٹی کو ٹھنڈا نہ پڑنے دو ،یقینا اس راہ میں تھوڑا وقفہ بھی منزل کو بہت دور کردیتا ہے ۔ہم نے اس جنگ کے تسلسل کو جاری رکھنا ہے اور اسی میں ہماری بقا ہے ۔

کفر سے جنگ ہے اس جنگ کو جاری ر کھنا

تجھ کو اسلام کی تابندہ روایت کی قسم

باندھ لے سر سے کفن پھر سے مجاہد بن جا

قوم ِ مسلم!تجھے اسلا م کی غیرت کی قسم

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online