Bismillah

660

۱۰تا۱۶محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۲۱تا۲۷ستمبر۲۰۱۸ء

پُراَسرار بندہ…(۱) (مفتی محمد اصغر خان کشمیری)

Pur Israr Banda mufti-asghar

پُراَسرار بندہ…(۱)

مفتی محمد اصغر خان کشمیری (شمارہ 625)

جوانسان دنیامیں آیا، اس نے آخریہاں سے چلے جانا ہے، یہ دنیا دارالفناء ہے ، دارالبقاء نہیں ۔ اسی لیے اس میں کوئی ہمیشہ کے لیے نہیں آیا، نہ بادشاہ ،نہ فقیر، نہ عالم ، نہ جاہل اور نہ ہی کوئی پیر، ولی ، غوث، قطب ، ابدال اور نہ ہی نبی ۔ دنیاکسی کا ابدی مکان نہیں بنی ۔یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ یہاں سے ہر کسی نے جانا ہوتاہے ۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ دنیامیں جووقت گزارناتھا، وہ کس نے کیسے گزار ا؟

کیازندگی صرف کمانے ، کھانے اور مزے اُڑانے تک محدود تھی یا زندگی کا کوئی اعلیٰ مقصد متعین کیاہواتھا؟ جس کے حصول کی خاطرزندگی کھپادی اور کمانے کھانے اور مزے اڑانے کاخیال تک نہیں آیا۔ بس جو ملاکھالیا، جو ملاپہن لیا،جہاں رات ہوگئی وہاں سولیا، مگرصلاحیتیںساری کی ساری صرف اپنے مقصد کے حصول کے لیے صرف کیں۔

 اس دنیامیں ہر دو قسم کے لوگ آئے ، پہلی قسم کے بھی کہ جنہوںنے زندگی صرف برائے زندگی گزاری اور پھردونوں جہانوں کاخسارہ دامن میں سمیٹ کرملک عدم کے راہی ہوگئے ۔ دوسری قسم کے بھی کہ جنہوںنے اپنے متعین کردہ اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے زندگی کھپادی۔ تکالیف جھیلیں، مصائب اٹھائے ، بھوک وننگ کو برداشت کیا، مگراپنے مقصدسے نہیں پھرے۔یہ لوگ بھی اپناوقت آنے پر دنیاسے چلے جاتے ہیں، مگران کے جانے کی شان ہی نرالی ہوتی ہے۔ ان کی دنیوی زندگی کااختتام دراصل ایک اور زندگی کاآغازہوتاہے، جوبہت بلند، بہت اعلیٰ اور بہت ارفع زندگی ہے۔ یہ فقیری سے بادشاہی کی طرف ترقی کرتے ہیں، یہ زمین کی پستیوں سے فلک کی بلندیوںکی طرف اڑان بھرتے ہیں۔ یہ ایک تنگ وتاریک جہان سے ایک وسیع ،روشن اور لامحدود جہان کی طرف کوچ کرتے ہیں۔ ان کی موت گویاان کو ملنے والی سلطنت عظیمہ کی تاج پوشی ہوتی ہے اور ایساکیوںنہ ہو، جبکہ انہوںنے ایک کمزور انسان ہوتے ہوئے بھی رب کی خاطر دنیاکی عیش وعشرت کوچھوڑکردنیاکواپنے لیے قیدخانہ اور آزمائش کاگھربنالیاتوان کا رب بھی دنیاسے ان کی رخصتی کے وقت ان کی اس عظیم قربانی کے بدلے اپنی جگمگاتی جنت کو لاکرحاضرکردیتاہے اور پھریہ فقیر ، یہ مسافر، یہ لٹے پٹے لوگ مسکراکررب کی میزبانی میں چلے جاتے ہیں۔ یہ دونوںمناظرحاضرہیں۔آگے ہرانسان کی مرضی کہ وہ کیاحاصل کرناچاہتاہے۔آیادنیاکے چندٹکڑے یاجنت کی بادشاہت؟ جو جس راہ پرچلے گا، وہ اس کوملے گا۔

مقام کرگس و شاہین ہے اپنے ظرف کی بازی

جو ٹھکرا دے صراحی کو اسے میخانہ ملتا ہے

اللہ تعالیٰ نے ان دونوں راستوںمیںسے کوئی راستہ کسی کے لیے ناممکن نہیں بنایابلکہ دونوں ممکن الحصول ہیں۔آپ چھوٹے ہوں ، بڑے ہوں، تواناہوں، ناتواںہوں، خوبصورت ہوں، بدصورت ہوں، گورے ہوں،کالے ہوں، آپ جوبھی ہوں اور جیسے بھی ہوں، رب کی جنتوں کی جانب سفرآپ کے لیے ناممکن نہیںہے۔بس صرف دیکھنایہ ہے کہ آپ چاہتے کیاہیں؟کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتاکہ میںتو بلندیوںکاسفرکرناچاہتاتھا، مگراللہ نے مجھے ایسی صلاحیتوںسے ہی نہیںنوازا،تومیں کیاکرتا؟نہیں میرے بھائی جوبلندیوں کاسفرکرناچاہتاہے اسے کسی صلاحیت کی ضرورت نہیں، صرف ضرورت اس چیزکی ہے کہ سچی نیت اور عزم کرکے چل پڑے ، پھر وصال محبوب کامقام مل ہی جاتاہے ۔

اس میںمیرے لیے ، آپ کے لیے بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے ہمارے چھوٹے مولوی صاحب کی زندگی مشعل راہ ہے۔ جسمانی لحاظ سے وہ کون سی کمزوری ہے جو ان میں بدرجہ اتم موجودنہیںتھی ۔ ان کے قدکاٹھ کے لوگ دنیامیںصرف دلچسپی اور دل لگی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔جی ہاں آپ نے دیکھا ہوگا کہ بونے قدکے لوگ بڑے ہوٹلوںپرگیٹ کھولنے ،بندکرنے اورمہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیںیا پٹرول پمپوں پر گاڑیوں والوں کو پمپ کی طرف متوجہ کرنے کے لیے کرتب دکھاتے ہیں،مگر اسی قد، بت کے ساتھ ’’نورمحمدتانترے صاحب ‘‘عرصہ پچیس سال تک ہندوستان کوتگنی کاناچ نچاتے رہے اور اپنے عزم وہمت کے ساتھ وادی کشمیرمیں ایسی تاریخ رقم کی کہ آج پورا ہندوستان اورکشمیران کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہے۔ ان کی شہادت کوآج پانچواں دن ہے ، مگرابھی تک ان کے گھرپرایک میلے کاسا سماں ہے اور پوری قوم ان کی عزم وہمت کی داددینے کے لیے ان کے گھر پرٹوٹی پڑی ہے۔

ذیل کی سطور میں ہم کشمیرکے اس عظیم سپوت اور جیش محمدﷺ کے اس مایہ ناز کمانڈرکی عزیمت بھری زندگی پر نظرڈالنے کی کوشش کریںگے جس سے ثابت ہوگاکہ اس ناتواں چھوٹے جسم میں کیابجلیاں بھری ہوئی تھیں۔ اس امیدکے ساتھ کہ مسلم نوجوان خصوصاً دھرتی کشمیرسے تعلق رکھنے والے مسلمان بھائی ان کی زندگی کو مشعل راہ بناکرآزادی کی حسین منزل کی طرف اپنا سفر تیز ترکردیںگے اور مایوسی ، لاچاری اور ناامیدی کی چادر کو پائوں تلے روند کراونچی اڑان بھریںگے۔

مولوی نورمحمدصاحب نے 1970میں وادی کشمیر کے انتہائی مردم خیز خطے پلوامہ کی تحصیل ترال میں آنکھ کھولی اور وہیں پلے بڑھے ۔ مشیت الہٰی سے نور محمدصاحب کا قد زیادہ نہ بڑھ سکا اس لیے بظاہر وہ اپنے دیگرہم عمروں کے ساتھ زندگی کی دوڑمیں شریک نہ ہوسکے ۔مگرانہوںنے ہمت نہ ہاری ، کسی کامحتاج بننے کے بجائے انہوںنے درزی کا کام سیکھ لیا جس سے ان کی گزر اوقات ہونے لگی ۔ اس کے ساتھ ماشاء اللہ طبیعت مکمل دینداری کی طرف مائل تھی ۔ نماز ، روزے ، ذکرواذکارکے بھی پابندتھے ۔ ساتھ ہی طبیعت کا میلان کچھ عملیات کی طرف بھی ہونے لگا ،قد بت تو اس فیلڈ کے لیے ویسے ہی معاون تھا تو جلد ہی یہ علاقے میں پیرباباکے طورپرمشہورہوگئے۔یہی وہ تعارف تھاجوآگے چل کر جہادی فیلڈمیں ان کابہت بڑا معاون بنا۔

کشمیرمیں عسکری تحریک شروع ہوتے ہی ’’نورمحمدصاحب ‘‘اس کی طرف مائل ہوگئے۔ مگرمختلف عوارض اور جسمانی ساخت میں کمزوری  وغیرہ کی وجہ سے مکمل منسلک نہ ہوسکے ۔کرتے کرتے 1992 ؁ ء کاسال آگیا۔ جب تحریک نے خوب زور پکڑلیاتو ’’نورمحمدصاحب ‘‘کے لیے تمام ترجسمانی اور مادی عوارض کے باوجود اس سے الگ رہناگوارہ نہ ہوسکا۔ وہ 1992؁ء میں ایک مقامی تنظیم کے ساتھ منسلک ہوکر عملاً جہاد میں شریک ہوگئے۔

1992 سے لے کر 1998کے اوائل تک ’’نورمحمدصاحب ‘‘وہیں کام کرتے رہے ،مگربے چین اور بے قرار طبیعت مطمئن نہ تھی ۔ کیونکہ بقول ان کے ’’میں کچھ زیادہ کرناچاہتاتھا، جس کے مواقع وہاں موجود نہ تھے ‘‘ گویاایک بڑے کھلاڑی کے لیے میدان چھوٹاتھا، چنانچہ وہ اس سے بہترکی تلاش میں لگے رہے ، پھر 1998کے اوائل میں ان کارابطہ ہمارے سیٹ اپ سے ہوگیا۔ ہوا یوں کہ اننت ناگ اسلام آبادمیں ہمارے ایک انتہائی فعال ،متحرک اور جنگجو ڈسٹرکٹ کمانڈرتھے ،جی ہاں شاہد گوریلا ، ہمارے باغ کے رہنے والے تھے اور اننت ناگ اسلام آبادمیں ان کاخوب چرچاتھا۔ ’’نورمحمدصاحب ‘‘تک بھی ان کاذکرپہنچ چکا تھا۔وہ اپنے آبائی علاقے ترال سے ملاقات کے لیے اسلام آبادپہنچ گئے۔ملاقات کے بعد اس بڑے کھلاڑی کواپنی حیثیت کامیدان نظرآگیاتوانہوںنے فوراً تنظیم میں شامل ہونے اور خدمات سرانجام دینے کی پیش کش کردی۔ شاہدگوریلا کے لیے یہ پیشکش بظاہر بڑی عجیب تھی کہ یہ شخص جس کو خود خدمت کی ضرورت ہے ،تنظیم میں شامل ہوکرکیاکرے گااور کیاخدمات سرانجام دے گا؟مگر ’’نورمحمدصاحب ‘‘کی گفتگوسے بہر حال متاثرہوچکے تھے، اس لیے فوراً حامی بھرلی اور ان کو کاروان میں شامل کرلیا۔

ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ ’’نورمحمدصاحب ‘‘نے اپنی صلاحیتوں کالوہا منوالیااور تنظیم کو پورے کشمیرمیں بلاروک ٹوک چلتاپھرتاایک ایسا مجاہد ہاتھ آگیا، جس کی شروع تحریک سے آج تک اشدضرورت تھی…

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online