Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

پُراَسرار بندہ…(۵) (مفتی محمد اصغر خان کشمیری)

Pur Israr Banda mufti-asghar

پُراَسرار بندہ…(۵)

مفتی محمد اصغر خان کشمیری (شمارہ 629)

مگر فیصلہ تو یہ آیا کہ مولوی صاحب کو تاحیات جیل میں رہنا پڑے گا ۔اس فیصلے نے مولوی صاحب کو گہری اورلمبی سوچوں میں ڈال دیا ۔ظاہر ہے مولوی صاحب کے ساتھ معاملہ ہی کچھ ایسا ہوگیا تھا کہ

مستحقِ دار کو حکمِ نظر بندی  ملا

کیا کہوںکیسے رہائی ہوتے ہوتے رہ گئی

مولوی  صاحب اس فیصلے کیلئے تیار نہ تھے ۔ مولوی صاحب کا مسلک تو یہ تھا:

دنیا میںٹھکانے دو ہی ہیںآزاد منش انسانوں  کے

یا تخت جگہ آزادی کی یا تختہ مقام آزادی کا

 مولوی صاحب دو ہی باتیں جانتے تھے یا تو ہندوبنیے کی غلامی سے خود کو اور اپنی قوم کو آزاد کروانا ہے یا اس راہ میں اپنی جان کی بازی لگا دینی ہے۔ تیسری کوئی بات ہمارے مولوی صاحب کو سمجھ ہی نہیںآتی تھی ۔ ایسے حالات میںایسے متحرک شخص کویہ فیصلہ سنادیا جائے کہ آپ نے تا دم ِزیست دشمن کی کال کوٹھڑی میں بیٹھنا ہے اور اپنی قوم کی طویل ہوتی ہوئی غلامی کے مناظر دیکھنے ہیںتو اس کے دل کے احساسات کیا ہوںگے ؟ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیںہے۔

اور بقول مولوی صاحب ’’اب تو وہ عہد جو میں نے انٹروگیشن سینٹر میں باندھے تھے اوروہ قسمیںجو میں نے عقوبت خانوں میں کھائیںتھیںاب وہ بھی مجھے ستانے لگی تھیں‘‘

ہوا یوں تھا کہ انٹروگیشن سینٹرمیں ہمیں جو جسمانی سزائیں دی جاتیںان کی سختی تو اپنی جگہ پر تھی ہی ،ساتھ ہی وہ بدترین کافر اورمشرکین ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس ،حضور ﷺ کی شان عالی اور اسلام اور اکابرین اسلا م کے بارے میں بھی سخت ہرزہ سرائیاںکرتے تھے ۔ہم نے وہاںجا کر دیکھا کہ ہندوجو ہر دھر م کی عزت کا پرچار کرتے ہیںوہ اس دعوے میں کتنے جھوٹے ہیں ،وہ ہمیں مارتے اور کہتے اپنے اللہ کو مدد کیلئے بلاؤ ،کہاں ہے تمہارا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ؟؟اور ساتھ ہی بڑے بڑے صحابہ کرامؓ کے نام لے کر گالیاںدیتے اور ہمیںبھی مارمار کر ان ہستیوں کو گالیاں دینے پر مجبور کرتے۔ ان تمام چیزوں سے مجھے سخت ذہنی کرب اور اضطراب ہوتا میرے لئے جسمانی سزا قابلِ برداشت تھی مگر یہ بکواسات ناقابل برداشت تھیں ۔

چنانچہ میںنے وہیں قسمیں کھائیںتھیںاور بار بار یہ عہد کیا تھاکہ’’ اگر تو میں ادھر ہی مارا گیا پھرتو اللہ کے حوالے بصورت دیگر اگر میں یہاں سے چھوٹ کر آزادفضائوں میں پہنچ گیا تو ہند وبنیے سے وہ انتقام لوںگا کہ اس کو میر اماضی بھول جائے گا‘‘

یہ اور اس طرح کے کئی اورعزائم لیے میں جیل کاٹ رہا تھااور فیصلہ کا انتظارکر رہا تھا مگر فیصلہ یہ آگیا کہ تا حیات جیل میں رہنا ہے جو میرے لیے بالکل نئی صورت حال تھی اوراس فیصلے سے میرے شہادت پانے کے یاآزادہوکرانتقام لینے والے خواب اور عہد معاہدے بظاہربالکل چکناچورہوگئے۔

مگر فیصلہ تو بہرحال آگیا تھا اور اب تازہ صورت حال سے نمٹنے کی ترکیب سوچنی تھی اور بظاہر فوری طورپر قانونی چارہ جوئی کے علاوہ کوئی اور حل نہ تھا اگرچہ اس قانونی چارہ جوئی سے بھی کسی فائدے کی توقع نہ تھی مگر ایک آپشن تھا تو اس کو استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ، چنانچہ اولاًہائیکورٹ میں اپیل کی ،ہائیکورٹ نے مقدمہ سنا اورحسب توقع ذیلی عدالت کا تا حیات قید والا فیصلہ برقرار رکھا ۔پھر سپریم کورٹ میں اپیل کی تو سپریم کورٹ نے مقدمہ سننے سے ہی انکار کردیا اور ہائیکورٹ کے فیصلے کی توثیق کردی ۔اس طرح قانونی چارہ جوئی والے تمام راستے مسدود ہوگئے ۔

یہ بات بڑی حوصلہ شکن تھی مگر مولوی صاحب

 بھی صبر وہمت کے کوہ گراںتھے ،انہوںنے اس صدمے کو بھی مسکراکر سہہ لیا اور اگلی پلاننگ میں لگ گئے اور یہ سچ ہے کہ جو شخص ہر حال میں کچھ کرنا چاہتا ہو اللہ تعالیٰ ہر حال میں اس کے لیے کوئی راستہ نکال لیتے ہیں ۔یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے مولوی صاحب کو ان کے صبروہمت کا ایک نقد انعام دیا ۔جو آگے چل کر ان کی تمام زنجیروں کے ٹوٹنے کا سبب بن گیا اور فی الوقت بھی وہ مولوی صاحب کیلئے آزمائش کے اس طویل دورانیے میں پہلی بڑی خوشی تھی۔

ہو ایہ کہ جب مولوی صاحب کی تاحیات قید کی سپریم کورٹ سے بھی توثیق ہوگئی تو حکومت ہند نے فیصلہ کیا کہ یہ سزا مولوی نور محمد صاحب سرینگر کی سنٹرل جیل میں کاٹیں گے اور پھر ان کو سری نگر منتقل بھی کردیا گیا۔ اس طرح تقریباً آٹھ سال کے بعد مولوی صاحب تہاڑ جیل دہلی کے گھٹن زدہ اور اجنبی ماحول سے نکل کر واپس اپنے پیارے وطن سرینگر میں پہنچ گئے ۔

اگرچہ رہنا ادھر بھی جیل میں ہی تھا مگر وطن اپنا تھا ماحول مانوس تھا اور تہاڑجیل کی ہندوانتظامیہ کے بدصورت اور مکروہ چہروں سے بھی چھٹکارا مل گیاتھااور ساتھ ہی یہ بھی کہ سرینگر جیل پر مجاہدین کا تقریباً مکمل کنٹرول تھا ۔یہاں سرینگرجیل میں مجاہدین کا اپنا امیر زنداںہوتا ہے جس کو سب قیدی ملکر منتخب کرتے ہیں پھر سرکار کے ساتھ اسی امیر زنداںکی ڈیلنگ ہوتی ہے ہر قیدی مجاہد کے ساتھ انتظامیہ کو الگ الگ معاملہ کرنے کی اجازت نہیں ہوتی بلکہ انتظامیہ تمام کام امیر زنداںکے ذریعے ہی مشاورت سے کرواتی ہے بقول مولوی صاحب کے انہوں نے تہاڑجیل سے یہاں آکر بہت زیادہ آرام محسوس کیا ۔

پھر جلد ہی یہ ہوا کہ تمام مجاہدین نے مشاورت سے مولوی صاحب کو امیر زنداں منتخب کرلیا مولوی صاحب نے ان نئی ذمہ داریوں کو انتہائی احسن طریقے سے نبھایا اور ہمارے سابق اسیر ہند بھائی وسیم کے بقول مولوی صاحب نے جیل انتظامیہ سے قیدیوںکا ایک ایک حق لے کر ان تک پہنچایا اور قیدیوں کو بھی قانون کے دائرہ میں ہی رکھا اس طرح جیل کا ماحول انتہائی خوشگوار ہوگیا ۔

اسی کا نتیجہ تھا کہ مجاہدین نے ایک کے بعد دوسری اور تیسری مرتبہ بھی امیر زنداں کیلئے مولوی صاحب کا ہی انتخاب کیا اور مولوی صاحب بھی ہر مرتبہ پہلے سے بڑھ کر احسن انداز میں ذمہ داریاں نبھاتے رہے،یہ سب کچھ بہت اچھا اور مناسب ماحول میں چلنا شروع ہو گیا

تو کیا مولوی صاحب اس سہولت والی اورقدرے باعزت قید پر راضی ہو جاتے اور تحریک کو بھول جاتے یہ کیسے ممکن تھا؟

مولوی صاحب نے سرینگر منتقلی کے اللہ کے اس انعام کو اپنے لئے صرف آرام اور سکون کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ وہ اس مناسب ماحول سے استفادہ کرکے آگے کی راہوں کی تلاش میں لگ گئے ۔ اب مولوی صاحب سے ہمارا رابطہ بھی بہتر انداز میں استوار ہوچکا تھا اور سرینگر میںبیٹھ کر مولوی صاحب کے اپنے سورسزسے بھی رابطے بحال ہوچکے تھے ۔

ان چیزوںسے مولوی صاحب نے خوب فائدہ اُٹھایا اور وہاں بیٹھے ہوئے ہی عملاً تحریک میں شامل ہوگئے اور کبھی مشاورت کی حد تک اور کبھی اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنا حصہ ڈالنا شروع کر دیا۔(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online