Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

پُراَسرار بندہ…(۸) (مفتی محمد اصغر خان کشمیری)

Pur Israr Banda mufti-asghar

پُراَسرار بندہ…(۸)

مفتی محمد اصغر خان کشمیری (شمارہ 632)

واضح رہے کارگو سری نگر کا سب انسپکٹرونودپنڈت انتہائی متعصب آفیسر ہے اور مجاہدین کیلئے زہر قاتل ،مگر مولوی صاحب سے سب سے زیادہ دھوکے بھی اسی نے کھائے ہیں یہ بڑا اُچھلتا تھا کہ میں نے نور محمد جیسے بندے کو جیش کے خلاف استعمال کے لئے تیار کر لیا ہے اور مولوی صاحب نے اس کا یہ حشر کر رکھا تھا کہ جب بھی کسی تنظیمی کام پرنکلتے تو اس کو بتا دیتے کہ مجھے فلاںمسئلے کی تحقیق کیلئے فلاں طرف نکلنا پڑ رہا ہے ’’خیال رکھنا‘‘ تو وہ فوراََ شاباش دیتا کہ ضرور جائو اور اپنی تحقیقات سے آگاہ بھی کر دینا پھر اگر مولوی صاحب کہیں پھنستے تو اسی کو فون کرکے جان بھی چھڑواتے۔ مولوی صاحب نے اسی ونود پنڈت کے تعاون سے پسٹل ساتھ رکھنے کی اجازت بھی حاصل کر رکھی تھی وہ اس دورانیہ میں ہمیشہ پسٹل ہمراہ رکھتے اور دشمن کے کیمپوں میں جب میٹنگ کیلئے جاتے تب بھی پسٹل ہمراہ ہوتا اور عزم یہ تھا کہ اگر وہ اچانک کسی بات پہ بگڑ گئے اور گرفتار کرنا چاہا تو پسٹل سے مقابلہ کروں گا اور یوں گرفتاری کی بجائے شہادت حاصل کرلوں گا جبکہ ونود پنڈت اپنی جگہ خوش تھا کہ جیش سے حفاظت کیلئے اس نے نور محمد صاحب کو پسٹل تھما رکھا ہے ۔اس طرح یہ بڑا دشمن خوب استعمال ہوااور الحمدللہ حاصل کچھ بھی نہ کرسکا ۔بہرحال اس طرح مولوی صاحب نے ایک مرتبہ پھر دشمن کو مطمئن کردیااور نظام چل گیا ۔مگر دشمن کو شک ہو گیا تھا کہ مولوی صاحب ضرور کوئی گیم کررہے ہیں اور دوسری طرف مولوی صاحب کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اب یہ گیم زیادہ چلنے والی نہیں ہے ۔چنانچہ انہوں نے مجھ سے تفصیلی بات کی اور کہا ایسا نہ ہو کہ اچانک کوئی واقعہ ہوجائے ،کوئی اتفاقیہ جھڑپ ہوجائے یا کوئی کاروائی ہوجائے پھر میرے پا س مہلت نہ ہوگی اب وہ فوراََمجھے پکڑکر بٹھا دیں گے ۔ دوسری طرف میر ا مشن بھی مکمل ہوچکا ہے الحمد للہ نیٹ ورک بن چکا ہے اور ساتھی سنبھال بھی چکے ہیں ۔لہٰذا مجھے اجازت دے دیں گن اُٹھا کر روپوش ہوجائوں اور وقت آنے پر لڑ کر شہید ہوجائوں ۔

بندہ نے پہلے کچھ لیت ولعل سے کام لیا ،کیونکہ ہمیں ابھی تک آزادانہ چلتے پھرتے مولوی صاحب کی اشد ضرورت تھی، ظاہر ہے روپوشی کے بعدتو وہ سب کچھ نہیں ہوسکتا تھاجو ابھی ہو رہاتھا ،مگر مولوی صاحب نے مجھے تسلی دی کہ آپ بے فکر رہیں ، میرے روپوش ہونے سے کام پر فرق نہیں پڑے گا میں نے پورا سسٹم بنایا ہوا ہے آگے کام کرنے والے بندے ہیں ۔ان شاء اللہ روپوشی کے باوجود سب کچھ جاری رہے گا ۔بحث مباحثہ کے بعد فیصلہ اس پر ہو اکہ ابھی تو روپوش نہ ہوں سامنے ہی رہیں مگر چوکس رہیں اور کام کرتے رہیں ۔پھر اگر اچانک کوئی واقعہ ہوگیا تو آپ قبل اس کے کہ دشمن آپ کو طلب کرے یا آپ تک پہنچے آپ ہم سے رابطے کا انتظارکئے بغیر روپوش ہوجانا ۔ اس پر مولوی صاحب مطمئن ہوگئے اور کام جاری رکھا ۔پھر یہ 15جولائی 2017؁کا واقعہ ہے کہ ترال کے علاقے ستورہ

 کے جنگل میں موجود ہمارے ایک ہیڈآئوٹ کی دشمن کو خبر ہوگئی اور دشمن رات کے اندھیرے میںاس پر چڑھ دوڑا وہاں ہمارے مایہ ناز اوربہادر جانباز بھائی پرویز پلوامہ،بھائی مختارترال اور بھائی حبیب ڈیرہ غازی خان موجود تھے ۔انہوں نے دشمن کے لئے تر نوالہ ثابت ہونے کی بجائے فائرنگ میں پہل کردی اور اس طرح ایک بڑی جھڑپ شروع ہوگئی۔مولوی نور محمد صاحب کو جوںہی اس جھڑپ کی اطلاع ہوئی وہ بغیر کسی انتظار اور رابطے کے طے شدہ فیصلے کے مطابق فوراََ بھاگ کر پہلے سے تیار رکھے ہوئے اسلحے کے پاس پہنچ گئے اور اسلحہ اُٹھا کرروپوش ہوگئے ۔

دوسری طرف حسبِ سابق ایس ایس پی نے بھی مولوی صاحب کو فوراََ حاضری کا حکم نامہ بھیج دیا مگر اس وقت تک پیر بابا جسم پراسلحہ کا زیور سجا کر باربار کے اس جوابدہی والے امتحان سے ہمیشہ کیلئے آزاد ہوچکے تھے۔اس طرح ایک سال دس ماہ تک دشمن کو مسلسل دھوکے میں رکھ کر اپنا مشن پورا کرکے نور محمدصاحب آج اسلحہ اُٹھا کر یکسو ہوگئے اور دشمن ہاتھ ملتا رہ گیا ۔بعد میںہمیں دشمن کی صفوں میں موجود اپنے سورسز کے ذریعے پتہ چلاکہ ستورا ترال کی جھڑپ شروع ہوتے ہی پولیس نے طے کرلیا تھا کہ اب نور ترالی کونہیںچھوڑنا… بہت ہوگئی…یہ سب اسی شخص کا کیا دھرا ہے یہ ہمارے ساتھ ڈبل گیم کر رہا ہے ،مگر اب معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔

مولوی صاحب کا دشمن کے ہاتھوں سے بچ کرروپوش ہوجانا بھارت کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ تھا ،دشمن حیران تھا کہ یہ شخص تا حیات قید کی سزا کاٹتے ہوئے کیسے ہمارے ہاتھوں سے باہر آیا ،ہمیں کیسے کیسے چکمے دیئے ،جس جماعت کو ختم کرنے کیلئے ہم نے اس کو چھوڑا اس نے ہمیں پونے دو سال مطمئن رکھ کر اسی جماعت کی پنیری بوئی اور پھر فصل کاشت کی اور پھر اس کو اپنے تنے پر کھڑا مضبوط درخت بنا کر ہم سے بھاگ بھی گیا مگر اب ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہ تھا اب وہ اپنا غصہ پریس کانفرنسوںمیں اور میڈیا کے سامنے نکال رہے تھے اور دھکمیوں پردھمکیاں دے رہے تھے کہ ہم یہ کریں گے اور وہ کریں گے اور بہت جلد تین فٹ کے اس دھشت گرد کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیں گے ۔مجھے یقین ہے کہ کم ازکم ونودپنڈت ،آئی جی  منیر خان اور ایس پی وید جیسے افسروں نے تنہائی میں شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر ضروراپنے منہ پر طمانچے مارے ہوںگے ۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor