Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

پُراَسرار بندہ…(۹) (مفتی محمد اصغر خان کشمیری)

Pur Israr Banda mufti-asghar

پُراَسرار بندہ…(۹)

مفتی محمد اصغر خان کشمیری (شمارہ 633)

بہرحال دشمن کا غیض وغضب دیدنی تھا اوروہ بہر صورت مولوی صاحب کو زندہ پکڑکر فتح کا علم لہرانا اور اپنی خفت مٹانا چاہ رہے تھے اور یہ سب کچھ ان کے بیانات سے عیاں تھا ۔ادھر مولوی صاحب کو بھی حالات کا مکمل ادراک تھااس لئے وہ ہر وقت مکمل چوکس رہتے تھے ۔ اور حتی الامکان سفر کرنے سے بھی گریز کرتے تھے ،مگر جب کوئی کام پیش آجاتاتو پھر کسی کی نہ سنتے اور سفر پر نکل پڑتے ۔وادی میں موجود تنظیم کے ذمہ داروں نے مولوی صاحب کو بہت مرتبہ کہا کہ حالات آپ کیلئے سازگار نہیں ہیں اور مخصوص جسامت کے باعث آپ کیلئے چھپنا بھی آسان نہیں ہے ۔لہذاآپ سفر نہ کریں اور مکمل بیٹھنے کی ترتیب بنائیں مگر مولوی صاحب صرف اپنی حفاظت کی خاطرکام چھوڑ کر مستقل بیٹھنے کیلئے قطعاََ تیار نہ ہوئے ۔ان کا کہنا یہ تھا کہ’’ آخر کب تک جینے کے جتن کریںگے اس سے بہتر یہ نہیںہے کہ اللہ نے جو صلاحیت دی ہے اس کے مطابق کام کرتے رہیں پھر جب وقت برابر آجائے شہید ہوجائیں ۔‘‘ہاں!وہ دوبارہ گرفتاری کیلئے قطعاََ تیار نہ تھے اور اس سے بچنے کیلئے تما م انتظا مات مکمل رکھتے تھے ۔

روپوشی کے بعد انہوںنے ہم سے جو پہلی پرزورڈیمانڈ کی تھی وہ اسی سلسلے کی کڑی تھی ،انہوں نے ڈیمانڈکی کہ میرے لئے میرے سائز کی فدائی جیکٹ بنوا کر بھیج دیں ،میں وہ مستقل پہن کر رکھا کروں گا تاکہ گرفتاری کا کوئی چانس بھی باقی نہ رہے ۔بندہ نے ان سے وعدہ کرلیا اورپھر جلد ہی وعدہ پورا بھی ہوگیا ،جس سے وہ بہت خوش اور مطمئن ہوگئے اور کہنے لگے اب کوئی فکر نہیں ،اب جس نے مجھے پکڑنے آنا ہے آجائے ۔میں نے ان عرض کی کہ آپ نے ہم سے جیکٹ کی ڈیمانڈ کی جو پوری کرنا ہماری ذمہ داری تھی سو وہ پوری کردی ہے مگر ہماری خواہش یہ ہے کہ آپ احتیاط کریںاور اس کے استعمال کاموقع نہ آنے دیں ،ہمیں ابھی مستقبل میں بھی آپ کی شدیدضرورت ہے ۔اس پر مولوی صاحب نے دل کے اندر کی بات کہہ دی کہنے لگے  ’’دیکھو میں1992؁میں گھر سے نکلا تھا پچیس سال ہوگئے اس کام میں ،جس دوران بہت اتار چڑائوبھی دیکھے ہیں ،آزادیاں بھی بہت دیکھیں اور جیلیں بھی بہت کاٹیں ۔زندگی کی آخری حسرت یہ تھی کہ کام کو سمٹتے ہوئے دیکھ کر گھٹ گھٹ کر جیل میں نہ مر جائوں ،بلکہ اللہ آزادی دے کرکام کو اُٹھا نے کا ذریعہ بنا دے ۔ بظاہر یہ ناممکن تمنا تھی مگر اللہ نے ایسا کردیا کہ میں جیل سے نکل آیا اور الحمدللہ کام کی بہاریں بھی دیکھ لیں ۔ اب مزید دنیا میں کوئی حسرت نہیں ہے ،اب اللہ کے پاس جانے کو دل کرتا ہے ،اب وہاں جا کر مزے کریں گے ۔دشمن مجھے پھر جیل میں دیکھنا چاہتا ہے اور میں اپنے آپ کو جنت میں دیکھنا چاہتا ہوں ۔‘‘

مجھے مولوی صاحب سے اسی جواب کی توقع تھی سو وہ مل گیا اور اس سے یہ بھی طے ہوگیا کہ دشمن کی طرف سے شدید ترین دھمکیوں اور خطرات کے باوجود مولوی صاحب بیٹھنے والے نہیں ہیں ،البتہ انہوں نے ہمارے کہنے پر اتناضرور کرلیا کہ عام ساتھیوں کے ساتھ رہنے کی بجائے اپنے لئے پہلے سے تیار کردہ محفوظ ٹھکانوں پر رہنے لگے ،دشمن پلوامہ ،ترال ،اورشوپیاںمیں ان کی بو سونگھتا پھر رہا تھا اور مولوی صاحب آرام کے ساتھ سرینگر میں یا بعض اوقات اس سے بھی اگلے علاقوں میں اپنی محفوظ جگہوں پربیٹھ کر اس کی تباہی کے منصوبے جوڑ رہے ہوتے تھے ،دشمن حیران اور پریشان تھا کہ مولوی صاحب کہاں چلے گئے ہیں ؟ادھر مولوی صاحب کا بندوبست اتنا اعلیٰ تھا کہ اگر صرف وقت گذارنے کی بات ہوتی اورصرف اپنی حفاظت مقصودہوتی توسالوں تک دشمن کو مولوی صاحب کی ہوا بھی نہ لگتی مگر مولوی صاحب پر توکام کا جنون سوار تھا۔ چنانچہ انکو اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے باہر سفر کی جب بھی ضرورت پڑتی تو ذرا بھی دیر نہ کرتے اور تمام خطرات کے باوجود بلاخوف وخطر ہر مطلوبہ علاقے کے سفر پر نکل کھڑے ہوتے۔

اسی روپوشی کے دوران مولوی صاحب نے سرینگر ھمھامہ انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے متصل بی ایس ایف کے ہیڈکواٹر پربڑا فدائی حملہ کروانے کا پروگرام بنایا ،وا ضح رہے کہ انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے متصل یہ پورا علاقہ ہائی سیکورٹی زون ہے اور مختلف فورسزکے بڑے بڑے کیمپوںپر مشتمل ہے اور ایک ایک کیمپ کئی کئی کلو میٹروں پر محیط ہے۔انہی کیمپوں میں سے ایک بی ایس ایف کی 182بٹالین کا ہیڈکواٹر بھی ہے، جس کے ذمہ ائیرپورٹ کی سیکورٹی ہے اوریہی مولوی صاحب کا ہدف تھا ۔اس علاقے کے انتخاب کا مقصد بھارت کویہ بتلانا تھا کہ تم کہیں بھی محفوظ نہیں ہو اور مجاہدین ہر جگہ تمہاری گردن دبوچ سکتے ہیں ۔مولوی صاحب نے اس پوری کاروائی کا بندوبست خود کیا،کیمپ کے اند رجا کر ریکی کی ،ہاں!بھارتی سن اور پڑھ لیں پوری ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں کہ مولوی صاحب نے خود کیمپ کے اندر جا کر ریکی کی اور  کیمپ کے باہر تو مولوی صاحب نے کئی دنوں میں کئی چکر کاٹے اورپھر اس جگہ کا انتخاب کیا جہاں سے فدایئوں کو اندر داخل کرنا تھا ،پھر اس کا باربارجائزہ بھی لیا ،کوئی مہینے بھر کی محنت کے بعد جب سو فیصداطمنان ہوگیا کہ انشاء اللہ فدائی ساتھی مع سازوسامان اس جگہ تک پہنچ جائیں گے اوربسہولت اندربھی داخل ہوجائیں گے تو انہوں نے مرکز کو آگاہ کیاکہ میری طرف سے تیاری مکمل ہے ۔

چنانچہ مشاورت سے 3اکتوبر 2017؁کا دن طے ہوگیا اور وقت سے پہلے ہی فدائی مولوی صاحب کے حوالے بھی کردیئے گئے ۔آخری ایام فدائیوں نے مولوی صاحب کی صحبت میں انہی کے ٹھکانے پر گذارے اور پھر 2اکتوبر 2017؁ کا دن آگیا جس کے بعد والی رات مولوی صاحب نے فدائیوںکو کیمپ میں داخل کروانا تھا ۔الحمدللہ ہمارے مرکز شریف سے لیکر سرینگر اور پلوامہ تک دعائوں کیلئے ہاتھ اُٹھے ہوئے تھے ۔پھر دعائوں کی اسی فضا میں ہمارے تین فدائی جانباز اور اللہ کے سچے عاشق حافظ ساجد احسن شہیدؒ،حافظ بلال کبیرشہیدؒاور عارف خان شہیدؒرات کے 2بجے تہجد کے بابرکت وقت میں انڈیا کے تمام حفاظتی انتظامات کو پائوں تلے روندتے ہوئے کیمپ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے اور پھر اسی قبولیت کے وقت میں قہر الٰہی بن کر دشمن پر ٹوٹ پڑے ۔ انتہائی گھمسان کا معرکہ ہوا ،کاروائی شروع ہوتے ہی سرینگر ائیرپورٹ ہر قسم کی پروازوں کیلئے بند کردیا گیا اور پورے علاقے کو سیل کردیا گیا ۔جبکہ اس کیمپ کی مدد کیلئے اردگرد کے تمام کیمپوں سے اضافی نفری بھی پہنچا دی گئی مگر اللہ کی شان کہ جدید اسلحہ سے لیس ان ہزاروں فوجیوں سے تین مجاہد کنٹرول نہیں ہورہے تھے اور وہ طلوع آفتاب تک پورے کیمپ پر مکمل طور پر چھائے رہے ۔بلال شہیدؒنے ایک بڑی عمارت کی تیسری منزل پر پہنچ کر مورچہ سنبھال لیا تھا اور ساجد شہیدؒ اور عارف شہیدؒنے اندھا دھند گولیوں کی بوچھاڑ میں ان کے اسلحہ کوٹ کی طرف پیش قدمی جاری رکھی ہوئی تھی ، یہ معرکہ رات 2بجے سے اگلے دن 3بجے تک جاری رہا اور مصدقہ اطلاع کے مطابق اس میں بی ایس ایف انسپکٹربی کے یادیو سمیت 20اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے جبکہ ہمارے تینوں فدائی جانباز جام ِشہادت نوش فرماگئے ۔

خدا رحمت  کند  ایں  عاشقانِ  پاک طینت را

اسی دن ایک انڈین چینل نے ایک مقامی لیڈر کا انٹرویوشائع کیا تھا جس میں وہ کہہ رہاتھا کہ میں نے شروع تحریک سے اب تک بہت کچھ سنا ہے بہت معرکے دیکھے ہیں مگر آج صبح بی ایس ایف کیمپ ہیڈ کواٹر میں جو کچھ ہو ااورجس قدر زور دار دھماکے اور فائرنگ ہوئی یہ میری زندگی کاپہلا تجربہ تھا اور اس سے پہلے اتنی شدید جنگ میں نے کبھی نہیں دیکھی ۔بحرحال یہ دشمن کی گواہی تھی اس لئے میں نے تحریر کردی ۔باقی اس کاروائی سے دشمن کو کتنا گہرازخم پہنچا اس کا اندازہ اس چیخ و پکاراور واویلے سے ہو رہا تھا جو بھارت کے اعلیٰ افسروں نے میڈیا پرجیش محمد ﷺاورمولوی نور محمد تانترے کے خلاف مچا رکھا تھا۔ آئی جی کشمیرمنیر خان ،ایس پی وید وغیرہ نے میڈیا کے سامنے لٹکے ہوئے چہروں کے ساتھ صبح سے ہی کہنا شروع کردیاتھا کہ یہ جیش محمد ﷺکی کاراوئی ہے اوراس کا ماسٹر مائنڈتین فٹ کا دہشت گرد نور محمد تانترے ہے ۔اس سے پہلے پلوامہ پولیس لائن والا حملہ بھی اسی نے کروایا تھا ،یہ جیش کا آپریشنل کمانڈر ہے ،ہم نے اس گردگھیرہ تنگ کردیا ہے یہ بچ کر نہیں جا سکتا اور ہم عنقریب اسکو پکڑ کر سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیںگے وغیرہ وغیرہ ۔یہ تودشمن کاواویلہ اور عزائم تھے مگردوسری طرف اس کاروائی کی کامیابی کے بعد مولوی صاحب کے حوصلے تو آسمانوں کو چھونے لگے تھے اور انہوں نے اسی طرح کی مزیدکئی کاروائیوں کے منصوبے ہمارے سامنے رکھ دیئے …

جاری ہے

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor