Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

زکوٰۃ عبادت ہے، ٹیکس نہیں!۔۱۶

زکوٰۃ عبادت ہے، ٹیکس نہیں!۔۱۶

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 674)

فقراء کے لئے مالداروں( کے مال) پر۔ جو حضرات اس کو نمازروزہ کی طرح عبادت سمجھتے ہیں وہ حضرات بلوغ کی شرط لگاتے ہیں اور جو حضرات اس کو حق مالی فقراء و مساکین کا سمجھتے ہیں وہ بلوغ کو ضروری قرار نہیں دیتے۔

عبارت بالا کا مفہوم بھی ٹھیک وہ ہی ہے جو علامہ سرخسیؒ اور شارحین ہدایہ کے کلام میں گزر چکا ہے، ابن رشد القرطبی کہہ رہے ہیںکہ اختلاف کا سبب یہ ہے کہ بعض حضرات نے زکوٰۃ کو نمازروزہ کی طرح مکلف کے ذمہ عبادت سمجھا ہے اس لئے وہ حضرات اہلیت و بلوغ کی شرط لگاتے ہیں اور بعض حضرات کے نزدیک عبادت بدنیہ کی طرح یہ عبادت براہِ راست مکلف کے ذمہ نہیں بلکہ بطورِ حق فقراء ہر صاحب ِ مال پر فرض ہے، خواہ وہ خود مکلف ہو یا نہ ہو، اس لئے وہ بلوغ کی شرط نہیں لگاتے۔

اس لئے ابن رشد کی عبارت سے وہ نتیجہ نکالنا جو مقالہ نگارنے نکالا ہے خود اپنے فہم پر ظلم ہے، امام شافعیؒ اور ان کے ہم مسلک حضرات کی واضح عبارتیں آپ پڑھ چکے ہیں جن میں زکوٰۃ کے خالص عبادت ہونے پر اصرار کیا گیا ہے ، اب اتنی عقل تو ہر شخص میں ہونی چاہئے کہ اگر زکوٰۃ امام شافعیؒ کے نزدیک عبادت نہیں ہوتی تو ان کو اس بار بار کی تصریح کی کیا ضرورت تھی۔

محقق مقالہ نگار کے بارے میں ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہیں عربی سے صحیح ترجمہ کرنا نہیں آتا یا وہ قصداً تحریف کے عادی ہیں۔

 ہدایہ کی عبارت میں الفاظ تھے ولنا انھا عبادۃ اس کا ترجمہ کیا گیا ہے’’ لیکن ہمارے نزدیک یہ عبادت ہے‘‘ حالانکہ ترجمہ یہ ہے کہ ’’ہماری دلیل یہ ہے کہ زکوٰۃ تو عبادت ہے‘‘ پھر عبارت پوری نقل نہیں کی ، صاحب ہدایہ نے زکوٰۃ کو جس طرح عبادت قرار دیا ہے وہ بعد کی عبارت سے واضح ہورہا تھا اس کو حذف کردیا۔ ولنا انھا عبادۃ کا غلط ترجمہ نقل کردیا تاکہ قارئین کو مغالطہ میں ڈالا جائے۔

 اسی طرح ہدایۃ المجتہد کی عبارت یہ تھی ھوا ختلاھم فی مفھوم لازکاۃ الشرعیہ میں لفظ الشرعیہ زکوٰۃ کی صفت ہے نہ کہ مفہوم کی۔ مقالہ نگار نے ترجمہ فرمایا کہ ’’فقہاء کے نزدیک زکوٰۃ کے شرعی مفہوم میں اختلاف ہے، حالانکہ ابن رشد کا مقصد یہ ہے کہ ’’زکوٰۃ جو فرض شرعی اور عبادت ہے اس کے مفہوم میں اختلاف ہے ‘‘ پھر ستم ظریفی ملا حظ ہو کہ صحابہ کے نام تحریر کئے ہیں کہ یہ حضرات زکوٰۃ کو عبادت نہیں سمجھتے تھے ۔جن صحابہ کے نام تحریر کئے ہیںیہ وہ حضرات ہیں جو نابالغ کے مال پر زکوٰۃ کے قائل ہیں اس سے فوراً نتیجہ نکال لیا گیا کہ یہ حضرات زکوٰۃ کو عبادت نہیں سمجھتے۔

 ہدایہ اور ہدایۃ المجتہد کی عبارتوں کے بعد مقالہ نگار نے حضرت شاہ ولی اللہ کی حجۃ اللہ البالغہ سے ایک دو عبارتیں پیش کی ہیں اور اپنے مدعا کو اس سے ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔

 حجۃ اللہ البالغہ کی محولہ بالا عبارت جہاں سے لی گئی ہے اس کے شروع میں یہ الفاظ ملتے ہیں:

اعلم ان عمدۃ ماروعی فی الزکاۃ مصلحتان

واضح ہو کہ زکوٰۃ میں سب سے زیادہ جس کی رعایت کی گئی ہے وہ دو مصلحتیں ہیں۔

 اس سے بلاشک و شبہ یہ واضح ہورہا ہے کہ شاہ صاحب کا مقصد زکوٰۃ کی مصالح کا بیان ہے، زکوٰۃ کی ماہیت اور حقیقت کا بیان اس سے مقصد نہیں ۔معلوم نہیں کہ مقالہ نگار ’’مصلحت‘‘ اور ’’ماہیت‘‘ کے فرق کو سمجھتے ہیں یا نہیں، اگر فرق سمجھتے ہیں تو ماہیت کی بحث میں اس سے استدلال بے معنی ہے اور اگر نہیں سمجھتے تو ہمیں بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ حضرات جب علوم کے مبادی تک سے واقف نہیں ہوتے تو ان کو اس میدان میں قدم رکھنے کی ضرورت کیا ہوتی ہے۔

مصلحت اور ماہیت میں نمایاں فرق ہے، مصلحت کے بیان کرنے سے لازم نہیں آتا کہ ماہیت بھی یہی ہو ، ایک شخص نماز یا روزہ کی بعض دنیاوی مصلحتیں شمار کرانے لگ جائے تو اس سے یہ لازم نہیں کہ یہ شخص نمازروزہ کو عبادت نہیں سمجھتا بلکہ ایک معاشرتی اور طبی چیز سمجھتا ہے، اس طرح محولہ بالا عبارتوں میں حضرت شاہ صاحب زکوٰۃ کی مصلحتیں دنیاوی ور تمدنی نقطہ نظر سے سمجھا رہے ہیں پھر ستم ظریفی یا صحیح تر لفظوں میں مقالہ نگار کی تحریف ملاحظہ ہو کہ حضرت شاہ صاحب نے زکوٰۃ کا اخلاقی و دینی پہلو جو بیان کیا ہے اس کو مقالہ نگار حذف کر گئے ، حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں:ـ

ان میں سے ایک مصلحت انجام کا ر تہذیب نفس کرنی ہے اور وہ یہ ہے کہ نفوس کے اندر بخل پایاجاتا ہے اور بخل اخلاق میں سے بدترین عادت ہے، جو آخرت کے اندر نہایت ضرررساں ہے اور جب بخیل شخص کا مال جاتا ہے تو اس کا دل مال کے ساتھ اُلجھا رہتا ہے اور اس وجہ سے وہ عذاب میں مبتلا رہتا ہے اور جو زکوٰۃادا کرتا ہے اور بخل کو اپنے نفس سے دور کردیتا ہے تو اس کے لئے نافع ہے اور آخرت میں خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کے بعد تمام اخلاق میں سب سے زیادہ نافع ہے اور آخرت میں خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کے بعد تمام اخلاق میں سب سے زیادہ نافع دل کی سخاوت ہے۔

 علاوہ ازیں حضرت شاہ صاحب اپنی دوسری کتاب ’’البدور البازغہ‘‘ میں زکوٰۃ کے عبادت ہونے کی تصریح فرماتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ساتھ حقیقت زکوٰۃ پر روشنی ڈالتے ہیں:

عبادات کی انواع اور تعظیم کی اقسام بہت ہیں ان ہی میں سے نماز ہے جس کی حقیقت یہ ہے اور ان عبادات میں سے زکوٰۃ ہے جس کی حقیقت یہ ہے کہ اپنے معبود کی رضا کے لئے مال خرچ کرنے کی تکلیف برداشت کرنا ۔

 حضرت شاہ صاحب نے زکوٰۃ کی جو حقیقت بیان فرمائی ہے اسی کے ساتھ علماء نے عبادت کی جو تعریف کی ہے اس کو بھی پیش نظررکھیں۔

’’عبادت ایسا فعل ہے جس کو ایک شخص اپنی خواہش کے خلاف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کرے، اس کی تین قسمیں ہیں:

۱)خالص بدنی جیسے نمازروزہ

۲)خالص مالی جیسے زکوٰۃ

۳)دونوں سے مرکب جیسے حج

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor