مستدرک حاکم کی ایک حدیث۔۱

مستدرک حاکم کی ایک حدیث۔۱

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 675)

ماہنامہ’’البلاغ‘‘ بابت ذی الحجہ ۱۳۹۰ ھ میں ملک غلام علی صاحب کے جواب میں مولانا محمد تقی کا ایک گرانقد رمقالہ نظر افروز ہوا، مقالہ میں جمہور اہل سنت کے مسلک حق کو جس تحقیق اور کاوش سے پیش کیا گیا ہے۔ قابل تحسین ہے یہ وہی مسلکِ معتدل ہے جس کو امام غزالیؒ بیان فرماتے ہیں:

اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ تمام صحابہ کی پاکیزگی کا اظہار اور ان کی ستائش ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺنے فرمائی ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان جو کچھ ہوا وہ اجتہاد پر مبنی تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا خلافت کے معاملہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نزاع نہ تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ سمجھتے تھے کہ قاتلین عثمان کو قبائل کی کثرت تعداد اور لشکر میں پھیل جانے کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کرنے کا نتیجہ ان کی خلافت کے ابتداء ہی میں اضطراب کی شکل میں ظاہر ہوگا اس لیے مناسب ہے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سمجھتے تھے کہ جرم عظیم کے ارتکاب کے بعد ان کے معاملہ میں دیرکرنا خلفاء کی بے حرمتی اور خون ریزی پر آمادہ کرنے کا موجب ہوگا۔

مزنیۃ جمیع الصحابۃ کے ذیل میں علامہ مرتضیٰ الزبیدی لکھتے ہیں:

وجوبا باثبات العدالۃ لکل منھم والکف عن الطعن فیھم

تمام صحابہ کی پاکیزگی کا اظہار واجب ہے اس طرح کہ ہر ایک کے لئے عدالت ثابت کی جائے اور اُن پر اعتراض سے پرہیز کیا جائے۔

عدالتِ صحابہ پر اثر انداز ہونے والی روایات کے سلسلہ میں ایک اہم اصول کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے الزبیدی لکھتے ہیں:

جو شخص ذرا بھی دین ودیانت رکھتا ہو اس پر لازم ہے کہ صحابہ کے بارے میں یہ اعتقاد رکھے کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں جن صفات پر تھے، انہی صفات پر بعد کے زمانہ میں بھی رہے۔ اگر اُن کے بارے میں کوئی خلاف شان بات نقل ہوتو روایت اور اس کے طریقوں کو سامنے رکھ کر غور کرے کمزور ہونے کی صورت میں اس کو رد کردے اگر اس کا قوی ہونا معلوم ہو لیکن ہو خبر واحد! تب بھی جو بات تو اتر سے معلوم اور نصوص قطعیہ سے ثابت ہے اس خبر واحد سے اس پر کوئی آنچ نہیں آئے گی (اور نہ یہ خبر واحد بمقابلہ نصوص وتواتر کے قابلِ قبول ہوگی)

مولانا محمد تقی عثمانی نے اسی اصول کو سامنے رکھا اور حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ پر لگائے جانے والے مطاعن اوراعتراضات کو رد کردیا۔ جزاہ اللہ خیر الجزاء

البتہ مولانا تقی صاحب نے مروان بن حکم کے بارے میں ایک حدیث کے سلسلہ میں جو کچھ کہا ہے اس سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا، وہ فرماتے ہیں:

یہاں ایک بات کا اعتراف کرنا میں دیانتاً ضروری سمجھتا ہوں،اگرچہ براہ راست موضوع سے متعلق نہیں اور وہ یہ کہ میں نے مروان بن حکم کی مذکورہ روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے ضمناً یہ بھی لکھا تھا کہ اس روایت کے آخری الفاظ جن میں آنحضرتﷺ کا یہ ارشاد مذکور ہے کہ لعن الحکم وما ولد بہت مشکوک اور مشتبہ ہیں مجھے اُس وقت تک اس حدیث کی تحقیق نہیں تھی۔ ملک غلام علی صاحب کے توجہ دلانے پر میں نے مستدرک حاکم کی طرف رجوع کیا، ملک صاحب کے دیے ہوئے حوالہ کے مطابق اس کے صفحہ ۴۸۱ جلد ۴ پر مجھے یہ حدیث سند صحیح کے ساتھ مل گئی۔

محولہ بالا صفحہ پر مروان کے سلسلہ میں تین حدیثیں ہیں۔ پہلی حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی ہے اس پر حافظ ذہبیؒ نے انقطاع کا اعتراض کیا ہے، فرماتے ہیں:

فیہ انقطاع محمد لم یسمع من عائشۃ

اس حدیث میں انقطاع ہے، محمد بن زیاد کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے سماع حاصل نہیں ہے۔

دوسری حدیث عمرو بن مرۃ جہنی رضی اللہ عنہ کی ہے اس حدیث پر بھی ابو عبداللہ الحاکم نے صحیح الاسناد کا حکم لگایا ہے لیکن حافظ ذہبی ؒنے اس کے ذیل میں کہا ہے:

لاواللّٰہ فابوالحسن من المجاھیل

یہ حدیث بخدا صحیح الاسناد نہیں ہے کیونکہ ابو الحسن مجہول ہے۔

تیسری عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی ہے جو اس وقت ہمارے زیرنظر ہے اورجس کی صحت کو مولانا تقی عثمانی صاحب نے تسلیم کرلیا ہے، اس حدیث کو ابو عبداللہ الحکم نے اپنی حسب عادت صحیح کہا ہے اور ذہبی نے حاکم کے الفاظ ’’صحیح‘‘ نقل کرکے کہا ہے:

قلت:الرشدینی ضعفہ ابن عدی

میں کہتا ہوں رشدینی کو ابن عدی نے ضعیف کہا ہے۔

اس سے پہلے والی حدیث پر بھی حافظ ذہبی نے حاکم کے الفاظ صحیح نقل کئے اور ’’قلت‘‘ کہہ کر لاواللّٰہ فابو الحسن من المجاہیل کہے ہیں۔ تلخیص ذہبی میں ’’صحیح‘‘ نظر آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حافظ ذہبی نے اس کی صحت تسلیم کرلی، ہاں اگر صحیح کہیں اور پھر کوئی کلام نہ کریں تب مطلب یہی ہوگا کہ اس کی صحت تسلیم کرلی گئی۔

اس روایت کا مدار احمد بن محمد بن المجاج بن رشیدین بن سعد ابو جعفر المصری الرشدینی پر ہے جو علماء جرح وتعدیل کی زبان میں نہ صرف ضعیف بلکہ کذاب (پرلے درجے کا جھوٹا ہے)

(جاری ہے)

٭…٭…٭