Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مستدرک حاکم کی ایک حدیث۔۳

مستدرک حاکم کی ایک حدیث۔۳

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 677)

عیبش ہمہ گفتی ہنرنیزبگو

حضرات اہل بیت کے سید السادات سیدنا زین العابدینؓاور سید التابعین حضرت سعید بن مسیبؒ جو مروان سے بلا تکلف احادیث روایت کرتے ہیں، اس کی امانت و دیانت سے ملک غلام علی اور ان کے ممدوح کی یہ نسبت غالباً کچھ زیادہ ہی واقف ہوں گے،اگر مروان اسی قماش کاآدمی تھا جیسا کہ رافضی افسانوں کے سہارے محترم ملک صاحب باور کرانا چاہتے ہیں اور ان افسانوں کو وحی منزل من اللہ کی طرح قطعی سمجھتے ہیں تو وہ خود ہی بتائیں کہ اس صورت میں ان کے عطا کردہ خطابات کا مستحق کیاصرف مروان رہ جاتاہے؟ اور کیایہ صحابۂ و تابعین اور مؤطا و صحیح بخاری اس کی لپیٹ میں نہیں آجاتے؟

اگر مروان کاباپ اور اس کی ساری نسل … بقول ملک صاحب ملعون علی لسان نبوت تھی تو ملک صاحب اس کی کیا توجیہ کریں گے کہ معاذ اللہ اسی ملعون کے صلبی لڑکے عبد العزیز کو حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے خاندان نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کی پوتی بیاہ دی اور اسی کے بطن سے عمر بن عبدالعزیز بن مروان بن حکم پیدا ہوئے جنہیں مولانا مودوی خلیفہ راشد تسلیم کرتے ہوں گے۔کیافاروق گھرانے کو اس ملعونیت عامہ کا انکشاف نہیں ہوا تھا جو چودہ صدیوں بعد محترم ملک صاحب کو ہوا ہے؟ اگر کہیں ادھر ادھر گری پڑی کوئی مفید مطلب چیز مل جائے تو کائنات کے سارے حقائق سے آنکھیں بند کرکے اسے فوراً اُٹھالینا کوئی علمی تحقیق نہیں۔نظرت فی شییء وغابت عنک اشیاء

خوش قسمتی کہیے یابد قسمتی کہ مروان خلیفۂ راشد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قریبی رشتہ دار اور آپ کا معتمد علیہ رفیق( سیکرٹری) تھا۔ یہی وہ جرم عظیم ہے جس کی سزا اسے چودہ سو سال سے مسلسل دی جا رہی ہے اور محترم ملک صاحب کادل ابھی تک ٹھنڈا نہیں ہوا، عثمان مظلوم رضی اللہ عنہ سے خدا واسطے کابغض رکھنے والوں نے جنہیں اکذب خلق اللہ قرار دیا گیا ہے اور بقول ذہبی کذب و نفاق جن کااوڑھنابچھونا ہے،ان کے اور ان کے معتمدین کے بارے میں وہ طومار تیار کئے کہ پناہ بخدا قدرتی طور پر بغض عثمان کے بھیانک مظاہروں کے طوفان بدتمیزی کا سب سے بڑا نشانہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اورغریب مروان کوبنایاگیا۔

 محترم ملک صاحب کومعلوم ہے کہ ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میں بھی مروان کا ذکر خیر پہلی بار تنقیدعثمانؓ کے ضمن میں آیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں کیڑے نکالنے کے لیے مروان پر بحث ضروری سمجھی گئی اور اس کا حسن اختتام یہاں آکر ہوا کہ اسے پوری قطعیت سے ملعون قرار دے دیا گیا اور ظاہر ہے کہ جس خلافت کا رکن رکین بقول ملک صاحب ایساملعون ہو وہ یقینا بڑی بابرکت ہوگی اور اسے واقعتاً خلافتِ راشدہ ہی سمجھنا چاہئے،میں پوچھتاہوں کہ کیا یہ ٹھیک رافظی ٹیکنیک نہیں؟ اور جو لوگ مودودیت کو رافضیت ہی کا ’’جدید ایڈیشن‘‘ کہتے ہیں کیا وہ غلط کہتے ہیں۔

 ایک صاحب پر طنزکرتے ہوئے ملک صاحب فرماتے ہیں…’’ انہوں نے حال ہی میں خلافت و ملوکیت کے رد میں ایک کتاب لکھی ہے جس میں جابجا مروان کو حضرت مروان رضی اللہ عنہ لکھاہے۔‘‘

جہاں تک ہمارے اور ہمارے اکابر کے مسلک کا تعلق ہے وہ یہ ہے کہ ہم مروان کے بارے میں افراط وتفریط دونوں کومناسب نہیں سمجھتے ، جس شخصیت کے مناقب و مثالب دونوں تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہوں، اگر اس کی مدح و ثنا کو آپ کا جی نہیں چاہتا توآپ معذور ہیں، نہ کیجئے مگر اس کے حق میں لعن طعن کی زبان بھی مت کھولیے۔ اس سے منسوب تاریخی مواد کی توجیہ و تاویل اگر آپ نہیں کرتے تونہ کیجئے مگر اس کے کارناموں، اس کی خوبیوں اوراس کے ماحول کے الجھے ہوئے حالات سے بھی آنکھیں بندنہ کیجئے بلکہ اس کے مثالب و مناقب کے مجموعہ پر نظر کرتے ہوئے اس کامعاملہ خدا کے حوالے کر دیجئے۔ جسے اپنے رب سے ملے تیرہ صدیاں بیت گئی ہوں اور جس کا مقصد سب سے بڑی عدالت میں کبھی کا فیصل ہوچکا ہو، اب وہ نہ ہماری مدح و ستائش کا محتاج ہے نہ لعن و طعن کاطوفان اس کے لیے نقصان دہ ہے۔ ہم اس کے لیے دعائے مغفرت نہیں کرسکتے تواس پرسب وشتم اور لعن طعن کی بارش بھی کوئی مفیدمشغلہ نہیں ہے،آنحضرتﷺ کاارشاد ہے:

لاتسبواالاموات فانھم قد افضوا الی ماقدموا

اپنے مردوں کوبرا بلامت کہو انہوں نے جوکچھ آگے بھیجا تھا وہ اسے پاچکے ہیں۔(بخاری)

ہمارے بزرگوں کا ذوق یہی ہے کہ مروان کو نہ صحابۂ کرام کے مخصوص لقب رضی اللہ عنہ سے جابجایادکرتے ہیں اور نہ اس پر زبانِ طعن دراز کرتے ہیں، جو لوگ اسے صغیر السن صحابی سمجھ کر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم انہیں بھی معذور سمجھتے ہیں اور جو ان سے منسوب کوتاہیوں پر اعتمادکرتے ہوئے ان کے ذکر بالخیر سے منقبض ہیں انہیں بھی۔( اور ظاہر ہے کہ جو لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور دیگراکابر صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی ناراض ہوں ان سے مروان کو حضرت مروان کہلانا بڑی ستم ظریفی ہے)

تاہم ملک صاحب کو غالباً کسی دارالحدیث میں کتب حدیث کی سماعت کااتفاق ہوا ہوگا اور طلبۂ حدیث کی اس عادت کابھی علم ہوگاکہ وہ ہر حدیث کی سندپڑھنے کے بعدمتنِ حدیث شروع کرنے سے پہلے صحابی کے نام پر رضی اللہ عنہ و عنہم کہنے کا التزام کرتے ہیں۔ اب بخاری شریف کی قراء ت کرتے ہوئے جہاں مروان بن الحکم کے نام پر سند ختم ہوتی ہے، وہاں ملک صاحب رضی اللہ عنہ وعنہم کہنے کا فتویٰ دیں گے یا معاذ اللہ لعنت اللہ علیہ وعلیہم کا؟بینو اتو جروا

 ربنا اغفرلناولاخوانناالذین سبقونابالایمان ولا تجعل فی قلوبناغلاللذین امنوا ربنا انک رؤف رحیم

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor