Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

کفریاتِ پرویز (۷)

کفریاتِ پرویز (۷)

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 618)

رافضی کی نماز جنازہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

شیعہ کی نماز جنازہ میں سنی کی شرکت ازروئے شرع کیسی ہے؟جبکہ ۲۱ دسمبر ۱۹۷۳ء کو اخبار ’’روزنامہ جنگ کراچی‘‘ میں ہمارے علماء کرام کی شرکت کی خبر شائع ہوچکی ہے۔ لہٰذا اگر شیعہ کی نماز جنازہ میں شرکت کرنا شرعاً جائز ہے تو خیر ،ورنہ ان علماء کرام کی شرکت کیا معنی ہے؟ امیدہے کہ جواب باصواب سے ہماری تشفی فرمائیں گے۔

الجواب باسمہٖ تعالیٰ

روافض جن کے عقائد کفر کی حدتک پہنچ چکے ہوں، آج کل اس قسم کے روافض بکثرت موجود ہیں، یہ لوگ معاذ اللہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اُلوہیت کے قائل ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر اتہام لگاتے ہیں، قرآن کریم کو محرف کہتے ہیں، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکارکرتے ہیں، جبکہ قرآن کے نصوص قطعیہ ان کے عقائد کے خلاف شاہد عدل ہیں۔ ایسے شخص کی نماز جنازہ پڑھنا درست نہیں کیونکہ شرائط صلوٰۃ جنازہ میں سے اسلام میت بھی ہے۔

 علاوہ ازیں نماز جنازہ دعاء ہے اور کافر کے لئے دعاء بنص قرآنی حرام ہے۔ علمائے امت نے ان کے نماز جنازہ پڑھنے کو صراحۃً منع فرمایا ہے۔

حضرت علامہ کشمیریؒ نے اپنی بے نظیر کتاب’’اکفار الملحدین‘‘ میںحضرات عبداللہ بن عمر، جابر بن عبداللہ، ابو ہریرہ، ابن عباس، انس بن مالک ،عبداللہ بن ابی اوفی، عقبہ بن عامر الجہنی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کا فتویٰ قدریہ کے بارے میں یہ نقل کیا ہے:

۱:لایسلموا علی القدریۃ ولا یصلوا علی جنائزھم ولا یعود مرضاھم ( بحولہ الفرق بین الفرق)

’’کہ قدریوں کو نہ سلام کرے نہ ان کا جنازہ پڑھایا جائے، نہ ان کے بیماروں کی عیادت کی جائے۔‘‘

صحابہ کرام کا یہ فتویٰ حضور اکرمﷺ کی حدیث کے عین مطابق ہے:

کماروی احمد وابوداؤد عن ابن عمر قال رسول اللّٰہﷺ القدریۃ مجوس ھذہ الامۃ ان مرضوا فلاتعودوا وان ماتوافلا نشھدوھم (کذافی المشکوٰۃ)

’’یعنی ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:منکرین تقدیر اس امت کے مجوسی ہیں، وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور وہ مریں تو ان کے جنازوں میں شرکت نہ کرو۔

 روافض قدریہ سے کم نہیں بلکہ اپنے عقائد کفریہ اور خبث باطنی میں ان سے کہیں زیاد ہ ہیں ،امام دارالہجرۃ مالک بن انس نے ان کے حق میں فرمایا ہے کہ:’’الروافض مجوس ھذہ الامۃ ‘‘( روافض اس امت کے مجوسی ہیں)

اسی طرح ایک اور موقع پر فرمایا کہ’’اکذب الطواف‘‘(گمراہ فرقوں میں سب سے جھوٹے ہیں) (بحوالہ اختصار منہاج السنہ ازامام ذہبی طبع جدید)

اگر کسی رافضی کے مندرجہ بالا کفریہ عقائد نہ بھی ہو ں تب بھی علماء دین کے لئے ان کی نماز جنازہ پڑھنا مداہنت ہے اور قطعاً جائز نہیں، حضرت تھانوی قدس سرہ العزیز اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں:

’’روافض دوقسم کے ہیں: ایک وہ جن کے عقائد حد کفر تک پہنچ گئے ہوں ایسے شخص کے جنازہ کی نماز اصلاً درست نہیں کیونکہ شرائط صلوۃ جنازہ میں اسلامیت بھی ہے اور دوسرا وہ جس کے عقائد صرف بدعت تک ہوں، اس کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کے جنازہ کی نماز کسی نے نہ پڑھی ہو تب تو پڑھ لینا چاہئے کیونکہ جنازہ مسلم کی نماز فرض علی الکفایہ ہے اور کسی نے پڑھ لی ہو مثلاً اس کے ہم مذہب لوگ موجود ہیں وہ پڑھ لیں گے تو اس صورت میں اہل سنت ہر گز نہ پڑھیں۔

’’فرمان مصطفوی‘‘کے نام سے شائع شدہ اشتہار کا حکم

 مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیوٹائون کراچی کے دارالافتاء میں پاکستان اور بیرونی ممالک سے استفتاء موصول ہوتے رہتے ہیں جن میں مسلمانوں کے معاشرتی مسائل میں شریعت اسلامی کی رہنمائی حاصل کی جاتی ہے ان فتاویٰ اور فقہی احکام کی افادیت کو عام کرنے کی غرض سے’’بیناب‘‘ میں ان کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے تاکہ قارئین بہ سہولت ان احکام سے واقفیت اور رہنمائی حاصل کر سکیں ۔ اس سلسلہ کا پہلا استفتاء ایک ایسے فتنہ سے متعلق ہے جو ایک عرصہ سے مسلمانوں میں پھیلایا جارہا اور ہر شہر وقصبہ میںتقریباً ہر پڑھے لکھے مسلمان کو اس سے سابقہ پڑتا رہا ہے۔

خلاصہ استفتاء

وصیت نامہ’’ فرمان مصطفوی‘‘ کے عنوان سے ایک اشتہار مدینہ منورہ کے کسی شیخ احمد کی طرف سے اس کے حلفیہ بیان کے ساتھ وقتاً فوقتا شائع ہوتا رہا ہے کہ رسول اللہﷺ نے خواب میں شیخ احمد کو ہدایت فرمائی ہے:

۱)میری امت کو نیک اعمال کی تلقین کرو( وصیت نامہ میں کچھ نیک اعمال کا ذکر کیا گیا ہے۔

 ۲)آثار قیامت کے تذکرہ اور ان سے خوف دلانے کے بعد رسول اللہﷺ سے یہ قول منسوب کیا گیا ہے کہ جو کوئی اس وصیت نامہ پر ایمان لائے گا اور نقل کرکے یا چھپوا کر اس کو پھیلائے گا اس کو حضورﷺ کی شفاعت، جنت اور دنیا میں مال ودولت کی فراوانی، مرادوں میں کامیابی اور قرض ادا ہونے کی نعمتیں حاصل ہوں گی اور حضور ان باتوں کے ذمہ دار ہوں گے اور جو اس پر ایمان نہیں لائے گا وہ آخرت میں شفاعت رسول اور رحمت الہٰی سے محروم رہے گا اور دنیا میں بھی وبال و عذاب میں گرفتار ہوگا۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس وصیت نامہ کے متعلق شرعی نقطہ نظر کیا ہے؟

۱)کیا اس وصیت نامہ پر ایمان لانا ضروری ہے؟ اور اس کو فرمان مصطفوی کی اہمیت دی جا سکتی ہے؟

۲)کیا اس پر ایمان موجب شفاعت اور باعث رحمت الہٰی ہے اور اس کو نہ ماننا و بال و آفات کا سبب ہو سکتا ہے؟

الجواب باسمہٖ تعالیٰ

یہ وصیت نامہ جناب رسول اللہﷺکی ذات گرامی پر سراسر بہتان اور افتراء ہے۔ جناب رسول اللہﷺ کی طرف کسی ایسی بات کو منسوب کرنا جس کو آپﷺ نے نہ کہا ہو سخت گنا ہ ہے۔

 اس پر شدید وعید بیان کی گئی ہے، ارشاد ہے:

من کذب علی متعمدافلیتبوأمقعدہ من النار

’’جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔‘‘

اس حدیث کو تقریباً تیس صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بیان فرمایا ہے۔ اس لئے علماء نے اس کو اسناداً( باعتبار سند) متواتر کہا ہے…

یہ وصیت نامہ عرصہ پچاس سال سے مختلف عنوانوں کے ساتھ شہروں، قصبوں اوردیہاتوں میں تقسیم ہوتارہا ہے اور علماء حق نے ہمیشہ اس کے خلاف فتویٰ دیا اور اس کو دجل وتلبیس اور افتراء کا نمونہ قرار دیا،چنانچہ اس سلسلہ میںمفتی اعظم حضرت مولاناکفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ اور مفتی دارالعلوم دیوبند مولاناعزیزالرحمن صاحبؒ کے فتاویٰ موجود ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اس میں جوکچھ لکھا گیا ہے،اکثر وبیشتر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں غلط ہے۔اس میں کہاگیا ہے کہ توبہ کادروازہ بند ہونے والا ہے، جو شخص اس وصیت نامے کو ایک شہر سے دوسرے شہر بھیجے وہ دولت سے مالامال ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔مسلمانوں کے پاس بحمد اللہ جناب رسول اللہﷺ کی واضح ہدایات موجود ہیں اوردین بصورت قرآن وحدیث موجود اورمحفوظ ہے۔ پھر ان کو کیا پڑی کہ اس قسم کے مجہول وصیت ناموں پر عمل کریں۔ جناب رسول اللہﷺ کا صحیح وصیت نامہ آپﷺ کی حدیث مبارکہ ہیں۔اُنہیں پر عمل کرنے میں دین ودنیا کی سعادتیں مضمر ہیں۔

علاوہ ازیں یہ وصیت شیخ احمد خادم کے نام سے چھپوایا جاتا ہے۔ حضرات علمائے کرام کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ پچاس سال کے عرصہ میں اس نام کا کوئی شخص مسجد نبوی میں نہیں رہا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں عیسائی مشنریز کی شرارت ہے۔ عیسائی مشنریز اسلام کی شدید ترین دشمن ہیں۔ مسلمانوں کو اسلام سے منحرف کرنے میں انہوں نے کوئی دقیقہ اُٹھانہیں رکھا۔اُمراء وحکام اور تعلیم یافتہ حضرات کو دوسرے راستوں سے گمراہ کرتے ہیں اور عوام اورناخواندہ طبقہ کو فرقہ ورانہ آویزش اور اس قسم کے نام نہاد وصیت ناموں سے گمراہ کرتے ہیں اور اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان دین اسلام سے مایوس ہوجائیں اور سمجھ لیں کہ اب تو توبہ کادروازہ بھی بند ہونے والا ہے ،لہٰذا اب ہمارے لیے (العیاذ باللہ) اسلام میں کیا رکھاہے۔ اس کے بعد عیسائیوں کو موقع مل جائے گا کہ عیسائیت میں نجات ہے ہمارے یہاں توبہ کادروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ہمارے یہاں گناہ معاف کرانے کا سستا نسخہ موجود ہے وہ یہ کہ مرتے وقت پادری کے کان میں اپنے سب گناہ کہہ دیئے جائیں، سب گناہ معاف ہوجائیں گے۔

اسی طرح اس وصیت نامہ میں جو کہا گیا ہے کہ ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک ساٹھ ہزار آدمی مرے جن میں سے کوئی ایماندار نہ تھا،یہ بھی سراسر جھوٹ ہے۔ اس میں بھی مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ (العیاذ باللہ) اسلام اب ایماندار ہونے کا ضامن نہیں ہے۔ اگر تم ایماندار ہونا چاہتے ہو تو عیسائیت کے تثلیثی دامن میں پناہ لو۔

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ مسلمانوں میں بدعملی عام ہے اور اس کے اسباب ظاہر وباہرہیں لیکن بایں بدعملی اب بھی مسلمان ہیں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی بنسبت بہت زیادہ مذہب پرست ہیں۔ ان میں آج بھی عقائد صحیحہ،عمل صالح سے آراستہ لوگ بڑی کثرت سے موجود ہیں۔ایسے نفوس قدسیہ اب بھی موجود ہیں جو اسوۂ رسول اللہﷺ پر ٹھیک ٹھیک عمل پیرا ہیں۔ عیسائیوں میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں جو صحیح معنی میں عیسائی ہو۔ مسخ شدہ عقائد، شراب وخنزیر وبدکاری کی کثرت ان کی خصوصیات ہیں بلکہ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ مسلمان قوم کا وجود باعث بقائے عالم ہے تو وہ اسلامی تعلیمات کے پش نظر غلط نہ ہوگا،کیونکہ احادیث میں بتلایا گیا ہے کہ دنیا کی روح ذکر الٰہی ہے ظاہر ہے کہ صحیح معنی میں ذکرالٰہی کرنے والے مسلمان اور صرف مسلمان ہیں۔

باقی رہا یہ امر کہ اس وصیت نامہ میں کچھ ایسی باتیں شامل کردی گئیں ہیں مثلاً نماز پڑھو، عورتیں بے پردہ ہوگئی ہیںوغیرہ تو ان باتوں کو مسلمان اس وصیت نامے کے بغیر بھی جانتے ہیں۔ ان (عیسائی مشنریز) کا  مقصد یہ ہے کہ کچھ صحیح باتیں بھی اس میں شامل کی جائیں تاکہ دجل وفریب میں آسانی ہو۔

الغرض سراسر جھوٹ لغو اور بے اصل ہے۔ اس کی اشاعت ہرگز نہ کرنا چاہیے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online