نفیس پھُول ۔ 668

نفیس پھُول

امام جمال الدین ابن الجوزیؒ

(شمارہ 668)

خواہشات میں ڈھیلا پن اختیار کرنا

میں نے خواہشات و شہوت میں نظر کی تو معلوم ہوا کہ وہ ہلاکت کے اسباب ہیں اور تباہی کے جال ہیں، لہٰذا جو شخص اپنی عقل کو طبیعت پر قوی اور غالب رکھتا ہے وہ سلامت رہتا ہے اور جس کی طبیعت غالب آگئی بس اس کی ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔ میں نے بعض اہل دنیا کو دیکھا کہ وہ باندیاں رکھنے کے بہت شوقین تھے پھر اس وجہ سے محرکات باہ اور تیز چیزوں کو استعمال کرنے لگے اور کچھ عرصہ بعد حرارت غریزیہ تحلیل ہو ہو کر ختم ہوگئی اور میں نے نفس کی شہوات و خواہشات میں اس شہوت و خواہش سے بڑھ کر جلدہلاک کرنے والی کوئی اور خواہش نہیں دیکھی کیونکہ انسان جب کسی حسین کی طرف مائل ہوتاہے تو اس سے قوت باہ میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر کسی حسین کو دیکھ لیا تو اور حرکت بڑھی اور پہلے سے بھی زائد منی کا خروج ہوا جس سے جوہر حیات بہت تیزی کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے اور اس کے برعکس عورت بدشکل ہو تو اس کے ساتھ نکاح کرنے سے زائد اور موذی مادہ پورا پورا خارج نہیں ہوتا بلکہ اس کے رکارہنے سے ایذاء بھی ہوتی ہے اور بیوی کا اشتیاق بھی قوت پکڑتا ہے، ایسے ہی کھانے میں بڑھ جانے والا اپنے اوپر بہت سے ظلم کرتا ہے اور کوتاہی اور کمی کرنے والا بھی، معلوم ہوا اوسط درجہ سب سے افضل ہے اور دنیا ایک میدان ہے جس میں عقل کو آگے بڑھانا چاہئے اور جس کسی نے اپنی سواری کی لگام اپنی طبیعت اور خواہش کے سپرد کر دی تو اس کی جلد ہلاکت کا کیا پوچھنا… یہ باتیں بدن اور دنیا کے تعلقات میں سے ہیں آخرت کا معاملہ بھی اسی پر قیاس کرلیا جائے۔

٭…٭…٭