Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ۔ ۲۲ (تابندہ ستارے۔530

سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ (۲۲)

تابندہ ستارے ۔ ابو حفصہ (شمارہ 530)

حوصلہ مندی

عمادالدین شہیدرحمہ اللہ بڑا باہمت اور بلند حوصلہ انسان تھا، وہ محض اپنی ذاتی صلاحیتوں کی بدولت بامِ عروج پر پہنچا۔ اس کی حوصلہ مندی کی یہ کیفیت تھی کہ بیک وقت چار چار محاذوں پر لڑنے سے بھی پس و پیش نہیں کرتا تھا۔ ایک طرف تووہ اپنے مسلمان دشمنوںکے جارحانہ حملوں کا جواب دیتا تھا اور دوسری طرف عیسائیوں پر بھی پے درپے ضر بیں لگاتا جاتا تھا، کیسے ہی نامساعد حالات کیوں نہ ہوں وہ خوف اور نا اُمیدی کو اپنے پاس بھی نہیں پھٹکنے دیتا تھا۔ یہ اس کی حوصلہ مندی ہی کا نتیجہ تھا کہ معمولی حیثیت سے اُٹھ کر ایسی عظیم مملکت کی بنیاد ڈالی جو فوجی قوت، کاروبار کی ترقی اور دوسرے وسائل کی فراوانی کے لحاظ سے خلیفۂ بغداد اور سلاطینِ سلجوقیہ کی حکومتوں سے لگا کھاتی تھی۔

 سخاوت

جو دوسخا اور غریب پر وری عمادالدین شہیدرحمہ اللہ کی گھٹی میں پڑی تھی۔ اس کے اسی وصف کی بدولت بعض مؤرخین نے اس کو’’ ابو الجود‘‘ کا خطاب دیا ہے۔

 اس کا معمول تھا کہ ہرجمعہ کو نماز سے قبل ایک سودینار سرخ خیرات کرتا تھا اور دوسرے دنوں میں اپنے معتمد ملازمین کے ذریعہ بڑی بڑی رقوم غرباء ومساکین اور دوسرے مستحقین میں تقسیم کرتا رہتا تھا۔ اس کے دسترخوان پر دونوں وقت علمائ،صلحائ، فضلاء اور قضاۃ کی ایک بہت بڑی تعداد ہوتی تھی۔ اس نے اپنے عمال کو بھی تاکید کر رکھی تھی کہ غرباء ومساکین کا خاص خیال رکھیںاور اپنے علاقے میں کسی کو بھوکا ننگانہ رہنے دیں۔ شہید اتا بک اگر کسی ناگہانی خطرہ یا حادثہ سے بچ جاتا تھا توفوراً غرباء و مساکین میں صدقہ تقسیم کرتا تھا۔ ایک دفعہ شہر سے باہر سیر کے لیے جا رہا تھا کہ راستے میں گھوڑے کاپائوں رپٹ گیا، شہید اتابک زمین پر سرکے بل گرنے سے بال بال بچ گیا۔ اسی وقت ایک امیر کو جو اس کے ہمرکاب تھا، بلایا اوراس کے کان میں کچھ کہا۔ وہ امیر گھوڑے کی باگ موڑ کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگیا اور اتابک شہید اپنے دربار میں چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہی امیر دربار میں حاضرہوا۔ اتابک شہید نے فوراً اس سے پوچھا: ’’امعک شیئ‘‘ (کیا تیرے پاس کچھ ہے) اس نے کہا کہ یہ ہزار دینار لایاہوں۔ اتابک شہید نے حکم دیا کہ ان کو اسی وقت مستحقین میں تقسیم کردو۔

واقعہ یہ تھا کہ اس وقت اتابک شہید کا ذاتی خزانہ بالکل خالی تھا۔ اس لیے وہ اپنے ماتحت امیر سے ہزار دینار قرض لینے پر مجبور ہوا لیکن ایسا قرض وہ بالعموم ایک یا دودن کے بعد اُتاردیا کرتا تھا۔

 امن عامہ

عماد الدین شہیدرحمہ اللہ کے برسرِ اقتدار آنے سے پہلے قزاقوں اور رہزنوں نے ہر طرف اودھم مچار رکھا تھا۔ ان کی غارت گری سے کوئی شخص نہ عام شاہراہوں پر محفوظ تھا اور نہ آباد شہروں کے اندر، مؤرخین نے صرف موصل کی مثال دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس شہر کے محلہ طیاطلین سے جامع عتیق تک کسی شخص کو تنہا جانے کی ہمت نہ پڑتی تھی کیونکہ راستے میں لٹیرے ہر وقت منڈلاتے رہتے تھے۔ ان غارت گروں کی سرگرمیوں کی وجہ سے امنِ عامہ بالکل تباہ ہو کر رہا گیا تھا اور کوئی شخص اپنی جان اور مال کو محفوظ نہیں سمجھتا تھا۔ عمادالدین رحمہ اللہ نے اپنے مقبوضہ اور زیر حمایت علاقوں میں امن و امان کی طرف خاص توجہ دی اور مضبوط فوجی دستے بھیج کر رہزنوں اورلٹیروں کا مکمل طور پر استیصال کردیا۔ تھوڑے ہی عرصہ میں اس کی سلطنت کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تجارتی قافلے اور اکا دکا مسافر بلاخوف و خطر آنے جانے لگے۔ سڑکوں پر رونق اور چہل پہل ہوگئی اور امن و امان کے لحاظ سے عمادالدین رحمہ اللہ کی سلطنت مثالی حیثیت اختیار کرگئی۔

زراعت و آبادی

 عمادالدین رحمہ اللہ کے عہد حکومت میں میسو پوٹیمیا اور شام کی تجارت زراعت اور صنعت و حرفت میں بڑی ترقی ہوئی۔ لوگ قرب و جوار سے اس کے مقبوضات میں آکر آباد ہونے لگے۔ زراعتی رقبہ میں اس قدر اضافہ ہوا کہ لوگ خوراک اور دوسری اشیائے ضروریہ کے معاملے میں خود کفیل ہوگئے۔ موصل اور دوسرے شہروں کی آبادی میں بھی زبردست اضافہ ہوا۔ ویران اور غیر آباد جگہوں میں نئے مکان تعمیر ہوگئے اور بازاروں میں کھوے سے کھوا چھلنے لگا۔

 صیغۂ رفاہِ عام

عمادالدین شہیدرحمہ اللہ کو رعایا کی فلاح اور علم و ہنر کی سرپرستی سے خاص شغف تھا۔ اس کا دربار اس زمانے کے علماء و فضلا کا مامن و مستقر تھا۔ اہم ملکی عہدوں پر اس نے ایسے قابل اشخاص کو مقرر کررکھا تھا کہ ا س کے حسن انتظام اور مردم شناسی کی داد دینی پڑتی تھی۔ مشہور مؤرخ ابن خلکان لکھتا ہے کہ عمادالدین رحمہ اللہ نے اپنا مشرف( یعنی وزیر اعظم اور مجلسِ شوریٰ کا میر مجلس) ابو جعفر محمد الجواد کو مقرر کیا تھا۔ وہ ایک انتہائی دردمند اور علم دوست انسان تھا۔ اس نے نہ صرف عمادالدین رحمہ اللہ کو علم وہنر کی سرپرستی اور سلطنت کی آراستگی میں قابلِ قدر مدد دی بلکہ ذاتی طور پر بھی رفاہِ عامہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس نے ایک نہر کھدوائی جو بڑی دور سے عرفات تک پانی پہنچاتی تھی۔ علاوہ ازیں مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں حاجیوں کی سہولت کے لیے کئی عمارات بنوائیں۔ مدینۃ النبیﷺ کی حفاظت کے لیے اس نے شہر کے اردگرد ایک مضبوط فصیل بھی بنوائی۔ وہ ہر سال مکمہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں اس قدر روپیہ، غلہ اور پارچا جات بھیجتا تھا جو ان مقدس شہروں کے غرباء و مساکین کے لیے سال بھر کے لیے کافی ہوتے تھے۔ اس نے ایک رجسٹر رکھا ہوا تھا جس میں بیوائوں ،یتیموں اور محتاجوں کے نام درج ہوتے تھے۔(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor