Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ (۵) (روشن ماضی 530)

امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ (۵)

روشن ماضی ۔ ابو محمد (شمارہ 530)

امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ

خلیفہ منصور نے حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بیباکانہ اعتراضات اور ان کی اولادِ علی رضی اللہ عنہ سے محبت کو دیکھ کر یہ بہتر سمجھا کہ کوئی پھندا ان کے گلے میں ایسا ڈالے کہ ان کی زبان بند ہوجائے، چنانچہ اس نے انہیں قاضی بنانے کا فیصلہ کیا۔

پہلی مرتبہ جب انہیں قضاۃ کا عہدہ دینے کے لئے بلایا گیا تو انہوں نے نہایت صفائی سے اس عہد ہ کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے فرمایا:

’’ امیر المومنین!میں اس کا م کے لئے موزوں نہیں ہوں، یہ تو میں بھی جانتا ہوں کہ مدعی کا کام ہے کہ شہادت پیش کرے اور مدعا علیہ انکار کی صورت میں حلف اُٹھائے مگر ان کا فیصلہ کرنے کے لئے بڑے دل گردے کا آدمی چاہئے۔

قاضی ایسا جری ہونا چاہئے جو آپ کے، آپ کی اولاد کے اور آپ کے سپہ سالاروں کے خلاف فیصلہ دے سکے۔ اور مجھ میں یہ ہمت نہیں، میری تو یہ حالت ہے کہ آپ مجھے بلاتے ہیں تو میں آپ سے رخصت ہو کر ہی آرام کا سانس لیتا ہوں، مجھے دریائے فرات میں ڈوب جانا منظور ہے، مگر یہ عہدہ قبول کرنا گوارہ نہیں۔‘‘

منصور نے یہ سن کرکہا: اچھا جائیے! لیکن اگر ضرورت کے وقت قاضی آپ کی طرف رجوع کریں تو ان کی مشکلات دور کیجئے۔

 خلیفہ کی مراد تھی کہ وہ اپنے اعتراضات بند کرکے ایسے فیصلوں پر اپنی مہر تصدیق ثبت کردیا کریں جو حکومت کی منشاء کے موافق ہوں، لیکن انہوں نے خلیفہ کی اس ہدایت کی کوئی پرواہ نہیں کی بلکہ غلط فیصلوں کی سختی سے پکڑکرتے رہے۔( المناقب، علامہ موفق مکی)

 عباسی خلفاء نے علماء محدثین ائمہ اور فقہاء کو اپنی سیاست کا آلہ کار بنانے کی سب سے زیادہ کوشش کی اور ان کے انکار کرنے پر انہیں سخت مظالم کا نشانہ بنایا لیکن ان حق پر ستوں نے اعلانِ حق میں کبھی اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کی۔

خلیفہ ابو جعفر منصور عباسی نے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے دربار میں اس لئے طلب کیا کہ ان کو قاضی القضاۃ کاعہدہ دے لیکن وہ سمجھتے تھے کہ اس عہدے کو قبول کرنے کا مطلب ہے منصور کے غلط فیصلوں پر مہر تصدیق ثبت کرنا، چنانچہ انہوں نے اس سے کہا: امیر المومنین! میں اس لائق نہیں ہوں کہ قاضی القضاۃ بنایا جائوں۔ منصور نے کہا: ابو حنیفہ! تم جھوٹے ہو۔

امام صاحب نے فرمایا:سبحان اللہ! اب تو امیر المومنین نے بھی اس بات کی شہادت دیدی کہ میں اس عہدے کے لائق نہیں ہوں کیونکہ ایک جھوٹا شخص قاضی القضاۃ نہیں بنایا جا سکتا۔

خلیفہ منصور کو آپ کے ان بے باک جوابات پر بہت غصہ آیا۔ جھلا کر کہا: ابو حنیفہ! میں اپنے رب کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تمہیں یہ عہدہ قبول کرنا پڑے گا۔

امام صاحب نے فرمایا: امیر المومنین! میں اپنے پروردگار کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس عہدے کو کبھی قبول نہ کروں گا۔

درباریوں نے کہا: ابو حنیفہ یہ کیا کرتے ہو کہ امیر المومنین کے مقابلہ پر قسم کھاتے ہو۔ اب وہ قسم کھا چکے ہیں اس لئے تم اس عہدہ کو ضرور قبول کرلو۔

فرمایا: میرے مقابلہ میں امیر المومنین کو یہ بہت آسان ہے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کردیں۔ منصور نے غضبناک ہو کر کہا :امام ابوحنیفہ کو کوڑے لگائے جائیں اور جب تک یہ عہدہ کو قبول کرنے کا اقرار نہ کرلیں انہیں جیل میں بند رکھا جائے ۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا لیکن منصور کا ظلم وستم اس عزیمت کے مینار کو زندگی بھر نہ جھکا سکا۔(علامہ جمال الدین عبدالرحمن بن جوزیؒ)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor