Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 530)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 530)

غافل کی دعاء بے ادبی سے

 آج کل ہم لوگ دعائیں کرتے ہیں ان میں دونوں طرح کی کوتاہیاں ہوتی ہیں اور ان میں سب سے بڑی کوتاہی یہ ہے کہ دعاء کرتے وقت دل حاضر نہیں ہوتا۔ دل کہاں سے کہاں پہنچا ہوا ہوتا ہے، کیسے کیسے خیالات میں گم رہتا ہے اور زبان سے دعاء کے الفاظ نکلتے رہتے ہیں۔ یہ ہماری عجیب حالت ہے اگر کوئی شخص کسی معمولی افسر کو کوئی درخواست پیش کرتا ہے تو بہت باادب کھڑا ہوتا ہے اور خوب سوچ سمجھ کر بات کرتا ہے اور پوری طرح اپنے ظاہر اور باطن سے اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اگر زبان سے درخواست کرے یا لکھی ہوئی درخواست ہاتھ میں تھما دے اور حاکم کی طرف پیٹھ پھیر کر کھڑا ہوجائے یا اس موقع پر کمرہ کی چیزوں کو شمار کرنے لگے یا اور کوئی ایسا کام کرنے لگے جس سے یہ واضح ہوجائے کہ یہ شخص اپنے دل سے درخواست پیش نہیں کررہا ہے تو اس کو بڑا بے ادب سمجھاجائے گا اور اس کی درخواست پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دی جائے گی اور اوپر سے سزا بھی ملے گی۔

اللہ جلّ شانہٗ احکم الحاکمین ہیں بارگاہ خداوندی میں درخواست پیش کرتے ہوئے دل کا غافل رہنا اور دنیاوی دھندوں کے خیالات دل میں بساتے ہوئے زبان سے دعاء کے الفاظ نکالنا بہت بڑی بے ادبی ہے،بندوں کی یہ حرکت ہے تو قابل سزا لیکن اللہ جلّ شانہٗ رحیم وکریم ہیں اس پر سزا نہیں دیتے، البتہ نبی کریمﷺ کی زبان سے یہ اعلان فرمادیا ہے کہ ایسی غفلت والی دعاء قبول نہ ہوگی، بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہماری دعاء قبول نہیں ہوتی، اتنے برس دعاء کرتے ہوگئے ان کو چاہئے کہ اپنی حالت پر غور کریں اور دیکھیں کہ دعاء کے وقت دل کہاں ہوتا ہے ذرا دعاء کی طرح دعاء کرو، پھر اس کے ثمرات دیکھو۔ دعاء مانگی اور پتہ نہیں کہ کیا مانگا ایسی دعاء کیونکر قبول ہو، خوب سوچ لو۔

 اللہ جلّ شانہٗ ہم کو ہمیشہ خلوص دل سے دعاء کرنے کی توفیق دے اور ہماری دعائیں قبول فرمائے:

انہ بالاجابۃ جدیروعلی کل شیء قدیر
سختی کے زمانہ میں دعاء کیسے قبول ہو

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور فخر عالمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کو یہ خوشی ہو کہ اس کی دعاء اللہ تعالیٰ سختیوں کے زمانہ میں قبول فرمائے اس کوچاہیے کہ خوشحالی کے زمانہ میں کثرت سے دعاء کیا کرے۔( مشکوٰۃ  المصابیح: ص ۱۵۵ بحوالہ ترمذی)

تشریح: اس حدیث پاک میں دعاء قبول ہونے کا ایک بہت بڑاگر بتایا ہے اور وہ یہ کہ آرام و راحت اور مال و دولت اور صحت و تندرستی کے زمانہ میںبرابر دعاء کرتے رہنا چاہئے جو شخص ا س پر عمل پیرا ہوگا اس کے لیے اللہ جلّ شانہٗ کی طرف سے یہ انعام ہوگا کہ جب کبھی کسی پریشانی میں مبتلایا کسی مصیبت سے دوچار ہوگا یاکسی مرض میںگرفتار ہوگا اور اس وقت دعاء کرے گا تو اللہ جلّ شانہٗ ضرور اس دعاء کو قبول فرمائیں گے۔ اس میں ان لوگوں کو تنبیہ ہے جو آرام و راحت مال و دولت یا عہدہ کی برتری کی وجہ سے خدائے پاک کی یاد سے غافل ہوتے ہیں اوردعاء کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور جب مصیبت آگھیرتی ہے تو دعاء کرنی شروع کردیتے ہیں پھر جب دعاء قبول ہونے میں دیر لگتی ہے تو نااُمید ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارہ دعاء قبول نہیں ہوئی،حالانکہ اُس وقت بھی دعاء کرتے جبکہ خوشی میں مست تھے اور دولت کا گھمنڈ تھا تو ان کااس زمانہ کا دعاء کرنا آج کی دعاء مقبول ہونے کا ذریعہ بن جاتا، غفلت اور دنیاوی مستی کے سبب اللہ کو بھول جانے کی وجہ سے بہت سخت حاجت مندی کے وقت دعاء کی قبولیت سے محروم رہ جاتے ہیں۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor