Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ۔ ۳۸ (تابندہ ستارے۔546

سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ (۳۸)

تابندہ ستارے ۔ ابو حفصہ (شمارہ 546)

اس جنگ کے دوران کچھ ایسے واقعات پیش آئے کہ سلطان نور الدین قلیج ارسلان ثانی سے بدظن ہوگیا اور اس نے موخرالذ کر کے کئی سرحدی قلعوں پر قبضہ کرلیا۔ قلیج ارسلان نے گھبرا کر دانشمندیہ حکمرانوں کے خلاف جنگ و جدال کا سلسلہ بند کردیا اور حدود قونیہ پر پہنچ کر سلطان نورالدین کو پیغام بھیجا کہ میرے دل میں آپ کا بے حد احترام ہے اور میں آپ کی دوستی کو اپنے لیے باعثِ افتخار سمجھتا ہوں، ہم دونوں کا اتحاد مسلمانوں کو صلیبیوں کے پنجۂ ستم سے محفوظ رکھنے کا ضامن بن سکتا ہے۔ اس لیے میری درخواست ہے کہ آپ میرے قلعوں پر سے اپنا قبضہ اُٹھالیں۔ آپ کے اس اقدام سے میرے اور آپ کے درمیان کوئی وجہ مناقشت نہ رہے گی۔ سلطان نورالدین طبعاً صلح پسندتھا اس نے قلیج ارسلان کے پیغام کا ویسی ہی گرم جوشی اور محبت سے جواب دیا اور معذرت کے بعد تمام مفتوحہ قلعے اس کو واپس کردیئے۔

 قلعۂ حارم کی مہم

اسی سال سلطان نورالدین نے قلعہ حارم پر لشکر کشی کی۔ عیسائیوں کایہ مضبوط قلعہ حلب کے مغرب میں انطاکیہ کے قریب واقع تھا، اہل حارم قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے اور سلطان نے قلعہ کا محاصرہ کرلیا۔ بوہمنڈوالی انطاکیہ اہل حارم کی مدد کے لیے ایک جرار لشکر لے کر سلطان پر چڑھ دوڑا لیکن سلطانی فوج نے انطاکیہ کے لشکر کا منہ پھیر دیا اور بوہمنڈ کی تمام کوششیں حارم کا محاصرہ اٹھوانے میں ناکام ہوگئیں ۔ محصورین جب مایوس ہوگئے تو انہوں نے بوہمنڈ کو کہلا بھیجا کہ نور الدین کے مقابلہ میں تمہارا کامیاب ہونا محال ہے اس لیے بہتر یہی ہے کہ نور الدین کو نصف مضافاتِ حارم بطور تاوانِ جنگ دے کر اس سے صلح کرلی جائے۔ بوہمنڈ کو اہل حارم کی یہ رائے معقول نظر آئی اور اس نے بلا تامل اسی شرط پر سلطان سے صلح کرلی۔ اس مہم سے سلطان کی کامیاب واپسی پر مسلمانوں نے بڑی خوشی منائی اور شعراء نے تہنیتی قصیدے لکھے۔

رئیس ابو یعلی حمزہ مصنف’’حیاتِ نورالدین‘‘ کا بیان ہے کہ جس زمانہ میں سلطان نے قلعۂ حارم کا محاصرہ کررکھا تھا، کئی چھوٹے چھوٹے عیسائی امراء نے جمع ہو کر حلب پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ سلطان کے وقائع نگاروں نے اس کو عیسائیوں کی سازش سے مطلع کردیا۔ اس نے فوج کا ایک حصہ عیسائیوں کی سرکوبی کے لیے فوراً مضافاتِ حلب کی طرف روانہ کردیا۔ سلطانی فوج نے سازشی عیسائیوں کو چنددن کے اندر اندر کچل کر رکھ دیا اور ان کی ایک کثیر تعداد کو گرفتار کرلیا۔ مہم حارم سے فارغ ہو کر جب سلطان حلب کوواپس جارہا تھا تو فتحمند فوج راستے میں سلطان کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ سلطان نے ان کے کارنامے پر اظہار مسرت کیا اور تمام لشکریوں کو انعام و اکرام سے نوازا۔ اس کے بعد وہ حلب میں چند دن قیام کر کے دمشق چلا گیا۔

 شوال۵۵۱ھ/۱۱۵۶ء میں شاہ فرانس نے سلطان نورالدین کی خدمت میں صلح کی گفت و شنید کے لیے ایک سفارت بھیجی۔ بحث وتمحیص کے بعد قرار پایا کہ دونوں حکمران ایک برس تک جنگ سے محترزر ہیں گے۔ شاہِ فرانس نے اس معاہدئہ صلح کی پابندی نہ کی اور دوتین مہینہ کے بعد ایک حلبی قافلہ کو لوٹ لیا، تاہم سلطان نے اس واقعہ کو چنداں اہمیت نہ دی اور شاہِ فرانس سے نبٹنے کے لیے کسی مناسب موقع کا منتظر رہا ۔

سالِ حوادث

۵۵۲/۵۷۔۱۱۵۶ء کا سال شام کے باشندوں کے لیے ہولنا ک مصائب و آلام کا پیغام لایا۔ قیامت خیززلزلوں نے دور دور تک ایسی تباہی وبربادی پھیلائی کہ ملحدوں اور بے دینوں کو بھی خدایا دآگیا۔ کفر تاب، معرۃ النعمان اورافامیہ کے شہر پیوندزمین ہوگئے۔

 حلب اور حماۃ کے اکثردیہات کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ صرف شہر حماۃ میں مرنے والوں کی تعدا دس ہزار کے قریب تھی۔ حماۃ کے دارالعلوم کے ایک استاد نے جو حسن اتفاق سے اس آفتِ ناگہانی سے بچ گئے تھے ،بعد میں بیان کیا کہ میں طلبہ کو پڑھاتے پڑھاتے کسی ضرورت سے اٹھ کر مدرسہ سے باہر گیا۔ آناًفاناً زمین کو ایک زبردست جھٹکالگا اور مدرسہ کی عمارت کی اینٹ سے اینٹ بج گئی، تمام لڑکے اس کے ملبہ کے نیچے دب گئے لیکن ادھر شہر میں مرنے والوں کی یہ حالت تھی کہ کوئی متنفس اپنے جگر پارے کا حال دریافت کرنے نہ آیا کیونکہ سب لوگ عالم بقا کو سدھارچکے تھے۔

 شیزر میں ہزاروں لوگ عالم خواب میں گھروں کے اندر دب کر مر گئے۔ ان میں حاکم شیزرتاج الدولہ بن ابی العسا کر بن منقذ بھی تھا۔

 ۴ رجب ۵۵۲ھ کو خاص شہردمشق کو زلزلہ نے ہلا کررکھ دیااور کئی قدیم یادگاریں اور مضبوط عمارتیں زمیں بوس ہوگئیں۔ اہل دمشق دہشت زدہ ہوکر اپنے گھروں سے باہر نکل آئے اور کھلے میدانوں ،باغوں اور افتادہ زمینوں میں خیمے لگا لیے۔ شاید ہی کوئی شہر یا قلعہ ایسا بچا ہو جس کی شہر پناہ یا فصیل برباد نہ ہوگئی ہو۔

 سلطان نورالدین محمود نے آلام و مصائب کے اس دور میں ہر قسم کا آرام اپنے اوپرحرام کرلیا تھا۔ اس نے اپنی تمام فوج اور دوسرے حکام و ملازمین کو مصیبت زدہ لوگوں کی امداد کے لیے ہر طرف پھیلا یا ا ور خود شہر شہر، قصبہ قصبہ اور گائوں گائوں میں پھر کر حاجت مندوں کو مالی مدددے رہا تھا۔ وہ فوج کی مدد سے نہ صرف قلعوں اور شہروں کی منہدم فصیلیں دوبارہ بنوارہا تھا بلکہ لوگوں کے گرے ہوئے مکانات بھی سرکاری خرچ پرازسر نوتعمیر کرارہا تھا۔ اس زمانے میں اس کو بس ایک ہی دھن تھی کہ مصیبت زدہ لوگوں کی ہر طریقہ سے دلجوئی کی جائے اور ویران شہروں کو دوبارہ آباد کیا جائے۔

 ٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor