Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت قاضی اسد بن فرات رحمہ اللہ (روشن ماضی 546)

حضرت قاضی اسد بن فرات رحمہ اللہ

روشن ماضی ۔ ابو محمد (شمارہ 546)

ایک مرتبہ ہارون رشید تقریر کر رہا تھا، مجمع میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس کو مخاطب کر کے کہا:امیر المومنین! اللہ کی قسم نہ تو تم نے مال کی تقسیم برابر برابر کی اور نہ عدل و انصاف سے کام کیا بلکہ تم بہت سی برائیوں کے مرتکب ہوئے۔

اس کے بعد اُس نے بادشاہ کی بہت سی برائیاں گنوائیں۔ہارون رشید کو اس بات پر سخت غصہ آیا۔اس نے حکم دیا :

 اس کو گرفتار کر کے قید کرلیا جائے، نماز کے بعد اس کو ہمارے سامنے پیش کیا جائے اور اس گستاخ کی سزامعین کرنے کے لئے قاضی ابو یوسف کو بلوایا جائے۔

قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں:میں دربار میں پہنچا تو میں نے اس کو دوعقابوں کے بیچ کھڑے دیکھا۔ اس کے دونوں طرف دو جلاد کوڑے لئے کھڑے تھے۔

 ہارون نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا:اس شخص نے آج مجھ سے ایسی گفتگو کی ہے کہ اس سے پہلے کسی نے نہیں کی۔

یہ موقع بڑانازک تھا اس شخص کی آزمائش کے ساتھ ساتھ امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کی بھی آزمائش تھی لیکن انہوں نے بادشاہ کے خوف سے بالاتر ہو کر اس کا فیصلہ نہایت جرأت کے ساتھ اسوۂ رسول اللہﷺ کی روشنی میں کیا، انہوں نے فرمایا:امیر المومنین! بالکل ایسا ہی واقعہ اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ پیش آیا۔ آپﷺ نے ایک مرتبہ مال غنیمت تقسیم کیا تو ایک شخص نے کہا تھاکہ غنیمت کی تقسیم مرضی الہٰی کے خلاف ہوئی ہے۔ یہ کتنی سخت بات تھی مگر رسول اللہﷺ نے اس کو معاف کردیا۔ ایک مرتبہ کسی نے کہا آپﷺ نے عدل سے کام نہیں لیا تو آپﷺنے فرمایا: میں عدل سے کام نہیں کروں گا تو کون کرے گا( ہارون نے اسوئہ رسول اکرمﷺ کی یہ مثالیں سنیں تو اس کا غصہ ختم ہوگیا اور اس شخص کو آزاد کرنے کا حکم دیدیا۔

 ایک مرتبہ ہارو ن رشید نے امام ابویوسف رحمہ اللہ سے کہا:ابو یوسف ! آپ میرے پاس بہت کم آتے ہیں، میں آپ کی صحبت و زیارت کا مشتاق رہتا ہوں۔

امام صاحب نے فرمایا:امیر المومنین ! آپ کا یہ اشتیاق اسی وقت تک ہے جب تک میں آپ کے پاس کم آتا ہوں۔ جب زیادہ آنے لگوں تو یہ اشتیاق و اعزاز باقی نہیں رہے گا۔( کتاب الخراج ،تبع تابعین جلد اول)

حضرت قاضی اسد بن فرات رحمہ اللہ

قاتح صقلیہ حضرت قاضی اسد بن فرات رحمہ اللہ نے حضرت امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمد بن حسن رحمہ اللہ سے درس حاصل کیا تھا۔ یہ ایک مفلس اور غریب الدیار طالب علم کی حیثیت سے محمد بن حسن رحمہ اللہ کے حلقہ درس میں شامل تھے۔

 حنفی مکتب فکر میں کامل ہوجانے کے بعد انہوں نے بغداد سے باہر جانے کا ارادہ کیا لیکن مفلس اور ناداری دامن گیر تھی۔ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلاناننگ و عار کی بات سمجھتے تھے ان کے مرشد کو اس پریشانی کا علم ہوا تو تسلی دی اور فرمایا:ابھی کچھ دن اور بغداد میں قیام کرو۔ انشاء اللہ کوئی بندوبست ہوجائے گا۔

یہ خلیفہ ہارون رشید کا زمانہ تھا جب امام محمد بن حسن ولی عہد شہزادہ امین کے پاس تشریف لے گئے تو یہ بات اس کے سامنے رکھی اور اسدبن فرات کی ذہانت و طباعی وعلمی شغف کو بیان کیا اور جملہ اوصاف و محاسن سے اس طرح آگاہ کیا کہ شہزادے کو اس نوجوان سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوگیا، اس نے ایک دن اپنے ایک خادم کے ذریعہ اسد بن فرات رحمہ اللہ کو بلوابھیجا۔ یہ محل میں پہنچے تو شہزادے کے خادمِ خاص نے ان کا استقبال کیا۔ احترام سے ایک کمرہ میں بٹھایا ،کچھ دیر بعد اس کے سامنے دستر خوان بچھایااور عمدہ کھانے کا ایک خوان لا کر سامنے رکھ دیا۔

 لیکن اسدبن فرات رحمہ اللہ کی خودداری اور استغنا نے یہ گوارہ نہ کیا کہ میزبان کے بغیر صرف خادم کے ساتھ کھانا کھانا شروع کردے۔

 یہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کو

 تجھے بھی چاہئے مثل حباب ِ آب جو رہنا  ( اقبالؒ)

انہوں نے خادم سے پوچھا:یہ دعوت تمہاری جانب سے ہے یا شہزادے امین کی جانب سے ؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor