افادات اکابر۔ 676

 افادات اکابر

(شمارہ 676)

قرآن کریم کا منصب

قرآنِ کریم اور وحی الہٰی کا منصب ان حقائق کو بیان کرنا ہے جہاں عقل کی رسائی نہیں ہوتی، عقل کی سرحد جہاں ختم ہوجاتی ہے وہاں سے نبوت اور وحی کی حدشروع ہوتی ہے، قرآنِ کریم اگر ان حقائق کائنات کی طرف کبھی کبھی اشارہ کرتا ہے تو اس کا مقصد محض تذکیر وموعظت ہے یا صرف ان عقدوں کی گرہ کشائی ہے جہاں عقلِ انسانی کوٹھو کر لگتی ہے۔

اسی لئے وہ سلسلۂ بیان میں ضرورت اور موقع کی نسبت سے ان اسرار و حقائق کے تذکرہ اور ان کی طرف اشارہ میں بھی کسی تکوینی حقیقت کی پوری تفصیل پیش کرنے کے بجائے ان کے صرف ان ہی پہلوئوں کونمایاں کرتاہے جہاں سے تذکیرو موعظت اور انسان کو عبرت پذیری اور بصیرت اندوزی کا مقصد حاصل ہو، ذاتِ الہٰی کا عرفان اور اس کی صفات و کمال کی معرفت حاصل کرنے کے لئے عقل و فکر کی راہ ہموار ہوجائے۔

(بصائر وعبر:ص ۴۳۵،۴۳۶)