Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔666)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 666)

اس طرح آپ اس کی قسم پوری کرلیں گے اور پھر آپ کی اس سے صلح ہوجائے گی اور اس سے صلح کرلینا ہی آپ کے شان کے زیادہ مناسب ہے۔

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں فرمایا:اللہ اس کی قسم کبھی پوری نہ کرے۔ اور یہ شعر پڑھا:

ترجمہ: اور جس ناحق بات کا مجھ سے مطالبہ کیا جارہا ہے میں اس کے لیے اس وقت تک نرم نہیں ہو سکتا ہوں جب تک چبانے والے کی ڈاڑھ کے لیے پتھر نرم نہ ہوجائے یعنی میرانرم پڑجانا محال ہے۔

پھر فرمایا کہ اللہ کی قسم! عزت کے ساتھ تلوار کی مار مجھے ذلت کے ساتھ کوڑے کی مار سے زیادہ پسند ہے۔پھر انہوں نے مسلمانوں کو اپنی خلافت پر بیعت کرنے کی دعوت دیدی اور یزیدبن معاویہ کی مخالفت کا اظہار کیا۔اس پر یزید بن معاویہ نے اہل شام کا لشکر دے کر مسلم بن عقبہ مری کو بھیجا اور اسے اہل مدینہ سے جنگ کرنے کا حکم دیا اور یہ بھی کہا کہ مسلم جب اہل مدینہ سے جنگ سے فارغ ہوجائے تو مکہ کی طرف روانہ ہوجائے۔ چنانچہ مسلم بن عقبہ لشکر لے کر مدینہ داخل ہو ا اور حضورﷺ کے جتنے صحابہ وہاں باقی تھے وہ سب مدینہ سے چلے گئے۔مسلم نے مدینہ والوں کی توہین کی اور انہیں خوب قتل کیا۔وہاں سے مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ ابھی راستہ میں ہی تھا کہ مسلم مر گیا۔ مسلم نے حصین بن نمیر کندی کو مرنے سے پہلے اپنا نائب مقرر کیا اور کہا:اے گدھے کی پالان والے! قریش کی مکاریوں سے بچ کررہنا اور پہلے ان سے لڑنا اور پھر انہیں چن چن کر قتل کرنا۔ چنانچہ وہاں سے حصین چلا اور مکہ پہنچ گیا اور کئی دن تک حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے مکہ میں لڑتا رہا۔

آگے مزید حدیث بھی ہے جس میں یہ مضمون بھی ہے کہ حصین بن نمیر کو یزید بن معاویہ کے مرنے کی خبر ملی تو حصین بن نمیر بھاگ گیا۔ جب یز ید بن معاویہ کا انتقال ہوگیا تو مروان بن حکم خلیفہ بن گیا اور اس نے لوگوں کو اپنی خلافت کی اور اپنے سے بیعت ہونے کی دعوت دی۔

 آگے حدیث اور ہے جس میں یہ مضمون بھی ہے کہ پھر مروان بھی مرگیا اور عبدالملک خلیفہ بن گیا اور اس نے اپنے سے بیعت ہونے کی دعوت دی۔ اس کی دعوت کو شام والوں نے قبول کر لیا اور اس نے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور اس نے کہا:تم میں سے کون ابن زبیر کو ختم کرنے کے لیے تیار ہے؟حجاج نے کہا:اے امیر المومنین! میں۔ عبدالملک نے اسے خاموش کردیا۔

پھر حجاج کھڑا ہو تو اسے عبدالملک نے پھر خاموش کر دیا۔ پھر تیسری مرتبہ حجاج نے کھڑے ہو کر کہا:اے امیر المومنین! میں تیار ہوں، کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں نے عبداللہ بن زبیر سے جبہ چھین کر پہن لیا ہے۔ اس پر عبدالملک نے حجاج کو لشکر کا سپہ سالار مقرر کیا اور اسے لشکر دے کر مکہ بھیجا۔ اس نے مکہ پہنچ کر حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ سے جنگ شروع کردی۔

حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ والوں کو ہدایت کی اور ان سے فرمایا: ان دوپہاڑوں کو اپنی حفاظت میں رکھو، کیونکہ جب تک وہ ان دوپہاڑوں پر چڑھ نہیں جاتے اس وقت تک تم خیریت کے ساتھ غالب رہو گے۔ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد حجاج اور اس کے ساتھی ابو قبیس پہاڑ پر چڑھ گئے اور اس پر انہوں نے منجنیق نصب کردی اور اس سے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں پر مسجدِ حرام میں پتھر پھینکنے لگے۔ جس دن حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اس دن صبح کو وہ اپنی والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہماکے پاس گئے۔ اس وقت حضرت اسماء   رضی اللہ عنہاکی عمر سو سال تھی لیکن نہ ان کا کوئی دانت گراتھا نہ ان کی نگاہ کمزور ہوئی تھی ۔ انہوں نے اپنے بیٹے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو یہ نصیحت فرمائی کہ اے عبداللہ! تمہاری جنگ کا کیا بنا ہے؟انہوں نے بتایا کہ وہ فلاں فلاں جگہ پہنچ چکے ہیں اور وہ ہنس کر کہنے لگے کہ موت سے راحت ملتی ہے۔

حضرت اسماء رضی اللہ عنہانے کہا:اے بیٹے!ہو سکتا ہے کہ تم میرے لیے موت کی تمنا کررہے ہو؟لیکن میں چاہتی ہوں کہ مرنے سے پہلے تمہاری محنت کا نتیجہ دیکھ لوں کہ یا تو تم بادشاہ بن جائو اور اس سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں یا تمہیں قتل کردیا جائے اور میں اس پر صبر کرکے اللہ سے ثواب کی امید رکھوں۔

 پھر حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ اپنی والدہ سے رخصت ہونے لگے تو ان کو والدہ نے یہ وصیت کی کہ قتل کے ڈر سے کسی دینی معاملہ کو ہاتھ سے نہ جانے دینا۔پھر حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ مسجدِ حرام تشریف لے گئے اور منجنیق سے بچنے کے لیے انہوں نے حجراسود پر دو کواڑ لگالیے، وہ حجراسود کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے آکر ان سے عرض کیا:کیا ہم آپ کے لیے کعبہ کا دروازہ نہ کھول دیں تاکہ آپ( سیڑھی کے ذریعہ) چڑھ کر اس کے اندر داخل ہوجائیں( اور یوں منجنیق کے پتھروںسے بچ جائیں) حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس پر ایک نگاہ ڈال کر فرمایا:تم اپنے بھائی کو موت کے علاوہ ہر چیز سے بچا سکتے ہو( اگر اس کی موت کا وقت آگیا ہے تو کعبہ کے اندر بھی آجائے گی)اور کیا کعبہ کی حرمت اس جگہ سے زیادہ ہے؟(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor