Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔668)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 668)

اللہ کے راستہ سے بھاگ جانے والے پر نکیر

حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت سلمہ بن ہشام بن مغیرہ کی بیوی سے کہا:

کیا ہوا حضرت سلمہ حضورﷺ اور عام مسلمانوں کے ساتھ نماز( باجماعت) میںشریک ہوتے ہوئے مجھے نظر نہیں آتے؟ان کی بیوی نے کہا: اللہ کی قسم!وہ(گھر سے) باہر نکل نہیں سکتے کیونکہ جب بھی وہ باہر نکلتے ہیں لوگ شور مچادیتے ہیں:اے بھگوڑے! کیا تم اللہ عزوجلّ کے راستے سے بھاگے تھے؟اس وجہ سے وہ اپنے گھر ہی میں بیٹھ گئے اور باہر نہیں نکلتے تھے۔ اور یہ غزوئہ موتہ میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔

 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے اور میرے چچازاد بھائی کے درمیان بات بڑھ گئی۔ اس نے کہا:کیا تم غزوئہ موتہ میں بھاگے نہیں تھے؟مجھے کچھ سمجھ نہ آیا میں اسے کیا جواب دوں؟

اللہ کے راستے سے بھاگنے پر ندامت اور گھبراہٹ

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے لڑنے کے لیے ایک جماعت بھیجی، میں بھی اس میں تھا۔ کچھ لوگ میدانِ جنگ سے پیچھے ہٹے میں بھی ان ہٹنے والوں میں تھا۔( واپسی پر) ہم نے کہا کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ہم تو دشمن کے مقابلہ سے بھاگے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو لے کر واپس لوٹ رہے ہیں۔ پھر ہم نے کہا کہ ہم لوگ مدینہ جا کر رات گزارلیں گے( پھر اس کے بعد حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے)پھر ہم نے کہا: (نہیں) ہم سیدھے جا کر حضورﷺ کی خدمت میں اپنے آپ کو پیش کریں گے، اگر ہماری توبہ قبول ہوگئی تو ٹھیک ہے ورنہ ہم (مدینہ چھوڑ کر کہیں اور) چلے جائیں گے۔ ہم فجرکی نماز سے پہلے آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (ہماری خبر ملنے پر) آپﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا:یہ لوگ کون ہیں؟ہم نے کہا کہ ہم تو میدانِ جنگ کے بھگوڑے ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا:نہیں، بلکہ تم تو پیچھے ہٹ کردوبارہ حملہ کرنے والوں میں سے ہو۔ میں تمہارا اور مسلمانوں کا مرکز ہوں( تم میرے پاس آگئے ہو اس لیے تم بھگوڑے نہیں ہو) پھر ہم نے آگے بڑھ کر حضورﷺ کے دستِ مبارک کو چوما۔

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا۔جب ہمارا دشمن سے مقابلہ ہوا تو ہمیں پہلے ہی حملہ میں شکست ہوگئی۔تو ہم چند ساتھی رات کے وقت مدینہ آکرچھپ گئے۔ پھر ہم نے کہا:بہتر یہ ہے کہ ہم لوگ حضورﷺ کی خدمت میں جاکر اپنا عذر پیش کردیں۔ چنانچہ ہم لوگ حضورﷺ کی خدمت میں گئے۔ جب ہماری آپ ﷺسے ملاقات ہوئی تو ہم نے عرض کیا:یارسول اللہ! ہم تو میدانِ جنگ کے بھگوڑے ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا :نہیں تم تو پیچھے ہٹ کر دوبارہ حملہ کرنے والے ہو اور میں تمہارا مرکز ہوں۔ اسودراوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں’’ اور میں ہر مسلمان کا مرکز ہوں‘‘

’’بیہقی‘‘میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے اور اس میں یہ مضمون بھی ہے کہ ہم نے کہا:یا رسو ل اللہ! ہم تو میدانِ جنگ کے بھگوڑے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا :نہیں، تم تو پیچھے ہٹ کر دوبارہ حملہ کرنے والے ہو۔ ہم نے کہا :یا نبی اللہ! ہم نے تو یہ ارادہ کرلیا تھا کہ ہم مدینہ نہ آئیں بلکہ سمندر کا سفر کرکے کہیں اور چلے جائیں ( ہم تو اپنے بھاگنے پر بڑے شرمندہ تھے)آپﷺنے فرمایا:ایسے نہ کرو، کیونکہ میں ہر مسلمان کا مرکز ہوں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ جب واپس آئے تو میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کوزور سے یہ فرماتے ہوئے سنا:اے عبداللہ بن زید! کیا خبر ہے؟اس وقت حضرت عمررضی اللہ عنہ مسجد کے اندر تھے اور حضرت عبداللہ بن زیدرضی اللہ عنہ میرے حجرے کے دروازے کے پاس سے گزررہے تھے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا:اے عبداللہ بن زید! تمہارے پاس کیا خبر ہے؟انہوں نے کہا: اے امیر المومنین! میں خبر لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہورہا ہوں۔

 جب وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے مسلمانوں کے سارے حالات سنائے۔ میں نے کسی واقعہ کی ان سے زیادہ اچھی اور زیادہ تفصیلی کا ر گزاری سنانے والا نہیں سنا۔ جب شکست کھائے ہوئے مسلمان آئے اور حضرت عمررضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ میدانِ جنگ سے بھاگ آنے کی وجہ سے مہاجرین اور انصار مسلمان گھبرائے ہوئے ہیں تو فرمایا: اے مسلمانوں کی جماعت! تم نہ گھبرائو، میں تمہارا مرکز ہوں تم میرے پاس بھاگ کر آئے ہو( یہ میدانِ جنگ سے بھاگنا نہیں ہے بلکہ یہ تو تیاری کر کے دوبارہ میدانِ جنگ میں جانے کے لیے ہے)

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor