Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔669)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 669)

حضرت محمد بن عبدالرحمن بن حصین وغیرہ حضرات بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ بنو نجار کے حضرت معاذ قاری رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے تھے جو جسرابی عبید کی جنگ میں شریک ہوئے تھے۔ جب وہ یہ آیت پڑھا کرتے تو روپڑتے:

ومن یولہم یومئذ دبرہ الا متحرفا لقتال او متحیزا الی فئۃ فقد باء بغضب من اللّٰہ ومأویہ جہنم وبئس المصیر

اور جو کوئی ان سے پھیرے پیٹھ اس دن، مگر یہ کہ ہنر کرتا ہو لڑائی کا یا جاملتا ہو فوج میں، سو وہ پھراا للہ کا غضب لے کر، اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیا برا ٹھکانا ہے۔

 حضرت عمررضی اللہ عنہ ان سے فرماتے :اے معاذ! نہ روئو، میں تمہارا مرکز ہوں تم بھاگ کر میرے پاس آئے ہو۔

 حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبید رضی اللہ عنہ حضورﷺ کے صحابہ میں سے تھے اور جس دن حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے اس دن یہ میدانِ جنگ سے بھاگ گئے تھے اور ان کو قاری کہاجاتا ہے اور حضورﷺ کے صحابہ میں سے اور کسی کو قاری نہیں کہاجاتا تھا ۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن عبیدرضی اللہ عنہ سے فرمایا:کیا آپ شام جانا چاہتے ہیں؟کیونکہ وہاں مسلمان کمزور ہوگئے ہیں اور دشمن ان پر جری ہوگئے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ آپ شام جا کر اپنے بھاگنے کا گناہ دھولیں۔ حضرت سعد نے کہا:نہیں ، میں تو اسی علاقہ میں جائوں گا جہاں سے بھاگ کر آیا تھا اور اسی دشمن کے مقابلہ میں جائوں گا جس نے میرے ساتھ ایسا معاملہ کیا( جس سے میں بھاگنے پر مجبور ہوگیا) چنانچہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ قادسیہ چلے گئے اور وہاں جا کرشہید ہوگئے۔

 اللہ کے راستہ میں جانے والے لوگوں کو تیار کرنا اور ان کی مدد کرنا

حضرت جبلہ بن حارثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ خود غزوہ میں تشریف نہ لے جاتے تو اپنے ہتھیار حضرت علی رضی اللہ عنہ یا حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیتے۔

 حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کے ایک نوجوان نے عرض کیا:یا رسول اللہ ! میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں، لیکن تیاری کے لیے میرے پاس مال نہیں ہے۔ آپﷺنے فرمایا:فلاں انصاری کے پاس جائو، اس نے جہاد کی تیاری کی ہو ئی تھی اب وہ بیمار ہوگئے ہیں۔ اس سے کہنا کہ اللہ کے رسول تمہیں سلام کہہ رہے ہیں اور اس سے یہ بھی کہنا کہ تم نے جہاد کے لیے جو سامان تیار کیا تھا وہ مجھے دے دو۔ چنانچہ وہ نوجوان اس انصاری کے پاس گیا اور ساری بات اس سے کہہ دی تو اس انصاری نے اپنی بیوی سے کہا:اے فلانی! تم نے جو سامان میرے لیے تیار کیا تھا وہ ان کو دے دو اور اس سامان میں سے کوئی چیز نہ رکھنا ، کیونکہ اللہ کی قسم! تم اس میں سے جو چیز بھی رکھوگی اس میں اللہ برکت نہیں فرمائیں گے۔

 حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میری سواری ہلاک ہوگئی ہے، آپ مجھے سواری دے دیں، آپﷺنے فرمایا:اس وقت تو میرے پاس کوئی سواری نہیں ۔ اس پر ایک آدمی نے کہا کہ میں انہیں ایسا آدمی بتاتا ہوں جو ان کو سواری دے دے گا ۔ آپ ﷺنے فرمایا: جو آدمی کسی کو خیر کا راستہ بتائے تو بتانے والے کو کرنے والے کے برابراجر ملے گا۔

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے ایک مرتبہ غزوہ میں جانے کا ارادہ فرمایا تو آپﷺ نے فرمایا:اے مہاجرین اور انصار کی جماعت! تمہارے کچھ بھائی ایسے ہیں جن کے پاس نہ مال ہے اور نہ ان کا کوئی خاندان ہے( جو ان کو مال دے دے) لہٰذا تم میں سے ہر ایک اپنے ساتھ ایسے دویا تین آدمیوں کو ملالے۔( چنانچہ ہر سواری والے نے اپنے ساتھ ایسے ناداردو، تین ساتھ لے لیے) اور ہم سواریوں والے بھی ان ہی کی طرح صرف اپنی باری پر سوار ہوتے( یعنی سواری کے مالک اور دوسروں کے سوار ہونے کی باری برابر ہوتی تھی)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بھی اپنے ساتھ دو یا تین نادار ساتھی لے لیے اور ان میں سے ہر ایک کے سوار ہونے کی جتنی باری ہوتی تھی میر ی بھی اتنی ہی ہوتی تھی۔

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے غزوئہ تبوک کی تیاری کا اعلان فرمایا۔ میں اپنے گھر والوں کے پاس گیا اور وہاں سے واپس آیا تو حضورﷺ کے صحابہ کی پہلی جماعت جا چکی تھی، تو میں مدینہ میں یہ اعلان کرنے لگا کہ ہے کوئی جوایک آدمی کو سواری دے اور سواری والے کو اس آدمی کے مالِ غنیمت کا حصہ سارا مل جائے گا، تو ایک انصاری بڑے میاں نے کہا: ہم اس کے مالِ غنیمت کا حصہ اس شرط پر لیں گے( کہ اس کو مستقل سواری نہیں دیں گے بلکہ) باری پر ہم اس کو سوار کریں گے اور وہ کھانا بھی ہمارے ساتھ کھائے گا۔میں نے کہا :ٹھیک ہے۔ اس نے کہا:پھر اللہ کا نام لے کر چلو۔ میں اچھے ساتھی کے ساتھ چل پڑا۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor